ٹورانٹو (کینیڈا)

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 14؍اکتوبر 2022ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍دسمبر 2014ء میں کینیڈا کے صوبے ٹورانٹو کے صدرمقام ٹورانٹو کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون (مرسلہ:مکرم امان اللہ امجد صاحب) شامل اشاعت ہے۔ ٹورانٹو کا شہر امریکاکو کینیڈا سے جدا کرنے والی جھیل انٹاریو کے کنارے پر واقع ہے۔نیاگرا آبشار سے ٹورانٹو کا فاصلہ 120کلومیٹر ہے۔
ٹورانٹو کی آبادی (بشمول میٹروپولیٹن علاقہ) 43لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس کا رقبہ 398مربع کلومیٹر ہے۔ یہ کینیڈا کا سب سے بڑ ااور اہم تجارتی، ثقافتی اور صنعتی شہر بھی ہے۔غذاؤں کو ڈبوں میں بند کرنے، پرنٹنگ مشینوں کی تیاری اور دھاتی اشیاء تیار کرنے کے کارخانے یہاں واقع ہیں۔ اگرچہ یہ صنعت وحرفت کا بڑا مرکزہے تاہم یہاں آلودگی کانام ونشان نہیں ملتا۔
فرانسیسیوں نے یہاں 1749ء میں ایک قلعہ روئیلی (ROUILLE)تعمیرکروایا تھا جو 1759ء میں تباہ ہوگیا جس کے بعد انگریزوں نے ٹورانٹو پر قبضہ کرلیا۔ اُس وقت اس کا نام یارک (YORK)تھا۔ 1796ء میں یہ بالائی کینیڈا کا دارالحکومت بنا۔ 1812ء کی جنگ میں امریکیوں نے اس پرقبضہ کرلیا۔1834ء میں اسے ٹورانٹو کانام دیا۔1837ء میں ڈبلیو ایل میکنزی کی بغاوت کے دنوں میں یہ شہر باغیوں کا مرکز بن گیا۔ چنانچہ 1840ء کے ایکٹ آف یونین کے تحت کینیڈا کا دارالحکومت کنگسٹن میں منتقل کردیاگیا لیکن 1849ء میں ٹورانٹو کو ازسر نو دارالحکومت کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
ٹورانٹو شہر ایک اہم تعلیمی مرکز بھی ہے۔یہاں دو یونیورسٹیاں ہیں۔ پہلی یونیورسٹی 1827ء میں جبکہ دوسری کا قیام 1959ء میں عمل میں آیا تھا۔ یہ شہر انگریزی ابلاغیات اور چھپائی کی صنعت کا بڑا مرکز ہے۔ نیز دانشوروں ، آرٹسٹوں اور اہل علم کی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہاہے۔ایک پُر امن اور صاف ستھرا شہر ہے۔ بہت سی اقوام کامسکن ہے جن میں یونانی، چینی، اطالوی، ہنگروی اور پرتگیزی شامل ہیں۔
ٹورانٹو کا سی این ٹاورجدید طرز تعمیر کا ایک نادرنمونہ ہے۔ 552میٹربلند اس مینار کی بالائی منزل میں ایک ریستوران قائم ہے۔ ٹورانٹو میں دو انٹرنیشنل ہوائی اڈے ہیں۔ شہر میں زیر زمین ریلوے بھی چلتی ہے۔ متعددریڈیو اور ٹی وی سٹیشن ہیں۔ یہاں کے مقبول کھیلوں میں آئس ہاکی اور Baseball شامل ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X