پاکیزہ بچپن

ماہنامہ’’ تشحیذالاذہان ‘‘ربوہ کا دسمبر 1996ء کا شمارہ ’’بچپن نمبر‘‘ کے حوالہ سے خصوصی اشاعت ہے۔ اس شمارہ سے بعض دلچسپ واقعات ہدیۂ قارئین ہیں:-

آنحضرتﷺکا پاکیزہ بچپن

زمانہ جاہلیت میں عربوں کو ایسی مجالس منعقد کرنے کا شوق تھا جن میں شراب نوشی ہو اور لغو شعر و شاعری سنی اور سنائی جائے۔ خداتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کوبچپن سے ہی لغواور فضول کاموں سے بچانے کا اہتمام کررکھا تھا۔ایک روزننھے محمدؐ کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ دیکھا جائے کہ ایسی مجلسوں میں کیا ہوتا ہے۔چنانچہ آپ اپنی بکریاں اپنے ایک ساتھی کے سپرد کرکے روانہ ہوئے۔ لیکن راستہ میں ایک جگہ سستانے کے لئے بیٹھے تو نیند آگئی۔آنکھ کھلی تو شام ہو چکی تھی اس لئے جلدی جلدی بکریوں کی طرف واپس لوٹ آئے۔
ایک دفعہ دوبارہ آپؐ نے ایسی ہی ایک مجلس میں شرکت کا ارادہ کیا لیکن اس وقت بھی اتفاق ایسا ہوا کہ آپؐ شریک نہ ہوسکے۔ لیکن اس دن کے بعد آپ کو ایسی مجلسوں سے ہی نفرت ہوگئی اور ان میں کبھی شمولیت کا ارادہ نہ فرمایا۔
آپؐ بچپن سے ہی مشرکانہ رسوم سے نفرت کرتے تھے۔حضرت ابوطالب کا خاندان ایک بت کی زیارت کے لئے جایا کرتا تھا۔ خاندان والوں کے شدید اصرار کے باوجود آپؐ اُن کے ساتھ نہیں گئے۔ایک دفعہ مجبور کرکے لے جائے گئے تو وہاں جاکر آپؐ الگ ہوکر کھڑے رہے اور آپؐ کی طبیعت اس قدر خراب ہوئی کہ اس کے بعد آپ کو کسی نے وہاں چلنے کے لئے نہیں کہا۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت مسیح موعودؑ کا بچپن

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے والدین کی سب سے چھوٹی اولاد تھے۔جب ایام شیرخوارگی سے نکل کر آپؑ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو آپؑ کے والد صاحب نے آپ کو بہلانے کے لئے خاص طور پر کھلونے فراہم کئے اور قصبہ کے بچوں کو گھر لاکر رکھا تاکہ آپ ان سے مل کر کھیلیں اور خوش رہیں۔ لیکن آپؑ کا مزاج بالکل منفرد تھا اور آپؑ چھوٹی عمر میں ہی اپنی ایک ہمعصر سے فرمایا کرتے تھے:- ’’دعا کروکہ خدا میرے نمازنصیب کرے‘‘۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت علیؓ کے ایام طفولیت

حضرت علیؓ کو بچوں میں سب سے پہلے قبولِ اسلام کی توفیق ملی۔آپؓ کو آنحضورﷺ سے والہانہ عشق تھا۔آپؓ فرماتے تھے کہ میں رسول اللہﷺ کے پیچھے یوں رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اس کے پیچھے رہتا ہے۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کا بچپن

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اپنے بچپن سے ہی ایسے بااخلاق وجود تھے کہ آپ کے احترام میں آپ کی موجودگی میں دوست بھی محتاط رہا کرتے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ میرے سامنے میرے ساتھ کھیلنے والے لڑکوں نے بھی کبھی کوئی گالی نہیں دی بلکہ مجھ کو دُور سے آتا دیکھ کر آپس میں کہا کرتے کہ یارو!سنبھل کر بولنا۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت مصلح موعودؓ کا بچپن

حضرت مصلح موعودؓ کی عمر قریباً چار برس تھی جب آپؓ اپنے دوستوں کے ہمراہ کھیل رہے تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ تشریف لائے اورآپ کے قریب اکڑوں بیٹھ کر آپؓ کو اپنے ہاتھوں کے حلقہ میں لے کر بڑی محبت سے فرمایا: میاں!آپ کھیل رہے ہیں؟ اس پر آپؓ نے معصومیت سے حضرت مولوی صاحبؓ کو دیکھا اور کہا: بڑے ہوں گے تو ہم بھی کام کریں گے۔
1900ء میں جب حضرت میاں محمود احمد صاحبؓ کی عمرصرف 11برس تھی تو آپؓ نے ایک انجمن کی بنیاد رکھی جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’تشحیذالاذہان‘‘ رکھا۔ 17؍برس کی عمر میں آپؓ کی زیرادارت اسی نام سے ایک رسالہ بھی شائع ہونے لگا۔
بچپن میں ہی آپؓ کو اللہ تعالیٰ کی رؤیت نصیب ہوئی۔آپؓ فرماتے ہیں: ’’اس وقت مجھے خدا نظرآیا اور مجھے تمام نظارہ حشرونشر کا دکھایا گیا۔ یہ میری زندگی میں بہت بڑا انقلاب تھا۔
ایک انقلاب آپؓ نے اُس وقت محسوس کیا جب حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے وقت 19؍برس کی عمر میں آپؓ نے خداتعالیٰ سے پیغامِ احمدیت کو زمین کے کناروں تک پہنچانے کا تاریخ ساز عہد کیا۔
حضرت مرزا محموداحمد صاحبؓ کا بچپن کا زمانہ تھا جب حضرت اقدسؑ کے خلاف ڈاکٹر مارٹن نے مقدمہ قتل درج کروایا تو اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو بھی بذریعہ خواب دشمن کی ناکامی کی خبر دی۔ اسی طرح مقدمہ دیوار کے متعلق بھی آپ کی خواب جو قبل از وقت دوسروں کو بتلا دی گئی تھی حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئی۔
15 سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو پہلے الہام سے سرفراز فرمایا۔اس الہام کا تعلق خلافت اور مصلح موعود کے منصب سے تھا جو آپؓکو آئندہ ملنے والا تھا۔ 28؍اپریل1905ء کو آپؓ کوخواب میں بتایاگیاکہ آج حضرت مسیح موعودؑکو الہام ہوا ہے:

’’انی مع الافواج اتیک بغتہ‘‘

صبح آپؓ کی خواب کی تصدیق حضر ت اقدس علیہ السلام نے فرمائی۔
حضرت مصلح موعودؓنے اپنے بچپن میں بارہا یہ خواب دیکھا کہ آپؓ ایک فوج کی کمان کررہے ہیں اوربعض اوقات سمندر کے پار جاکر بھی حریف کا مقابلہ کرتے ہیں۔
آپؓ کی عمر سترہ یا اٹھارہ سال تھی جب ایک فرشتہ نے آپؓ کو خواب میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھائی۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ کا بچپن

حضرت مرزاناصراحمدصاحبؒ نے 13؍سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اور 1922ء کے رمضان میں قادیان میں تراویح پڑھاتے ہوئے قرآن کریم کا دَور مکمل کیا۔
آپؒ بچپن ہی سے خدمت دین کے لئے مستعد تھے۔ 1927ء کے جلسہ گاہ کی توسیع پرکام کرنے والوں میں بھی آپؒ شامل تھے۔
آپؒ کے ساتھ خدا کا بچپن سے ہی امتیازی سلوک نظر آتا ہے۔ ایک بار کشتی کی سیر کرتے ہوئے آپؒ نے مچھلی کی خواہش کی ہی تھی کہ ایک لہر اٹھی اور ایک بڑی سی مچھلی کشتی میں آن گری۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا بچپن

حضرت مرزا طاہراحمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے بچپن میں بچوں کی سی معصوم ادائیں بھی ہیں اور ایک بہادر بچے کے عزم وہمت اوربلند حوصلگی کا عکس بھی۔ یعنی ایک طرف تو ہرآن اپنے ہمعصروں سے فٹ بال پر کمربستہ اورمقابلہ کا چیلنج دینے کے لئے بے قرار، درختوں سے پھل اتارنے کے شوقین اورچھلانگوں کے مقابلہ کے لئے مستعد۔ گھوڑسواری بھی خوب کی۔ لیکن بچپن میں ہی مطالعہ کا ایساشوق تھا کہ متفرق موضوعات پر بیسیوں کتب کا مطالعہ کرلیا۔ بچپن میں ہی بہت عمدہ اشعار بھی کہنے شروع کردئیے۔
حضورانور کی عمر قریباًدس سال تھی جب حضرت مولاناعبدالرحیم صاحب نیرؓ نے آپؒ کی کسی بات پر خوش ہو کر آپؒ کو انعام دینا چاہا اورپوچھا:آپ کو کیا چیز پسند ہے؟ برجستہ جواب ملا’’اللہ‘‘۔ یہ جواب کوئی اتفاق نہ تھا اور نہ ہی رٹارٹایا جملہ تھا بلکہ حقیقت یہی تھی کہ آپؒ ہوش سنبھالتے ہی اپنے ربّ کی تلاش میں دیوانہ وار مصروف تھے اورکئی بارساری ساری رات بھی عبادت میں گزاردیا کرتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ کشف آپؒ کی تشفّی کا سامان پیدافرمایا۔
حضور انور کی والدہ محترمہ نے آپؒ سے بے انتہا محبت کی اور اس محبت نے آپ کے اندر نہایت اعلیٰ اوصاف پیدا کردئیے۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کا بچپن

حضرت مرزابشیراحمد صاحبؓ بچپن میں چھلانگیں مارنے اورقلابازیاں کھانے کے بہت شوقین تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو ایسا کرتے دیکھ کر بہت محظوظ ہوا کرتے۔ ایک روز ایسے ہی موقعہ پر حضرت اقدسؑ نے حضرت اماں جانؓ سے فرمایا: ’’اسے M.A کرانا‘‘۔ چنانچہ آپؓ کو M.A کرنے کی توفیق ملی۔
شرارتوں کی وجہ سے آپؓ کو اکثر محبت بھری ڈانٹ بھی ملتی تھی لیکن آپؓ کوئی ایسی بات کہہ دیتے تھے جو دوسروں کے غصہ کو ہنسی میں بدل دیا کرتی تھی۔ حضرت اماں جانؓ جوآپؓ کو پیار سے ’’بشری‘‘ کہا کرتی تھیں، فرماتی ہیں کہ مَیں نے ایک دفعہ کپڑے بھگولینے پر ہاتھ اٹھا کر مارنے کی دھمکی دی تو آپؓ فوراً کہنے لگے: ’’نہ اماں! کہیں چوڑیاں نہ ٹوٹ جائیں‘‘۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کا بچپن

حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کا جسمانی لحاظ سے نقشہ، خدوخال اور رنگ ڈھنگ باقی بھائیوں کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے زیادہ ملتا جلتا تھا۔ آپؓ بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔ بارہ یا تیرہ سال کی آپؓ کی عمر تھی کہ ایک مرتبہ پریس کی مشین خراب ہوگئی اور کارکنان باوجود کوشش کے نقص معلوم نہ کرسکے۔ آپؓ اتفاقاً وہاں سے گزرے اور ماجرا معلوم ہوا تو کچھ دیر معائنہ کرکے ہدایات دیں کہ اس طرح درست کرو۔ آپ کی ہدایت پر عمل کیا گیا تو مشین دوبارہ ٹھیک کام کرنے لگی۔
ایک روز چند آدمی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ حضرت مرزا شریف احمدصاحبؓ کسی ضرورت سے اجازت لے کر چلے گئے۔ اسی دوران حضورؓ پر ایک خاص حالت وارد ہوئی، جسم پر کپکپی سی طاری ہوجاتی اور چہرہ سرخ ہو جاتا۔ آپؓ نے پوچھا: ’’کیا تمام لوگ مجلس میں موجود ہیں؟‘‘ عرض کیاگیا:’’حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ ابھی گئے ہیں‘‘۔ فرمایا: انہیں بلاؤ۔ آپؓ آگئے تو حضورؓنے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے، بہت تضرع سے دعا مانگی اور فارغ ہو کر فرمایا: خدانے مجھے بتلایا ہے کہ اس مجلس میں جو احباب موجود ہیں، وہ سب جنتی ہیں۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت مرزا مبارک احمد صاحبؓ کا بچپن

حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحبؓ نہایت پاک صورت اور پاکیزہ سیرت تھے۔ کم عمری کے باوجود دینی اور روحانی باتوں میں اتنا شغف اور لگاؤ تھا کہ اکثر لوگ انہیں ولی قرار دیتے تھے۔ اپنی وفات سے ایک رات قبل آپؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بلایا اور ایسے مصافحہ کیا جیسے کوئی رخصت ہونے والا مصافحہ اور آخری ملاقات کرتا ہے۔ 4؍اپریل 1905ء کو آنے والے خوفناک زلزلہ سے قبل آپؓ کی زبان پر اکثر یہ الفاظ جاری رہتے: ’’زمین ہل گئی‘‘۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کا بچپن

حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کی بچپن کی پاکیزگی اور عبادت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آپؓ کے ساتھ محبت اور توجہ میں مزید اضافہ کردیا۔ حضورؑآپؓ سے اکثر پوچھتے کہ کوئی خواب آئی اور دعا کرنے کے لئے بھی فرماتے تھے۔
ایک مرتبہ آپؓ نے حضورؑکی وفات کے متعلق خواب دیکھی اور وہ حضورؑ کو سنادی۔ حضورؑخواب سن کر خاموش ہوگئے اور صرف اتنا فرمایا:’’اپنی اماں کونہ بتانا‘‘۔ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کو اپنا پہلا خواب یوں یاد تھا کہ چاند نے آپؓ سے یہ کہا: ’’اللہ پرتوکل کرو…‘‘۔
– … ٭ … ٭ … ٭ … –

حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ اورمحترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا بچپن

حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ کے بارہ میں حضرت مصلح موعودؓنے فرمایا تھا:
’’ایک ہزارسال تک لوگ آپ کے مقام پر رشک کریں گے‘‘۔
حضرت چودھری صاحب ؓبچپن سے ہی والدین کے بے حد فرمانبردارتھے۔ دس سال کی عمر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی اور فرمایا کرتے تھے کہ اس دن سے حضورؑکے جملہ دعاوی پر پختہ ایمان ہے اور ان کی نسبت کبھی کوئی الجھن دل میں پیدا نہیں ہوئی۔
محترم ڈاکٹرعبدالسلام صاحب مرحوم کی قابلیت ایسی تھی کہ چھ سال کی عمر میں چوتھی جماعت میں داخل ہوئے۔ شاندار نصابی کامیابیوں کے علاوہ بھی کئی میدانوں میں نمایاں اعزاز حاصل کیا۔ اور سب کچھ ایسے گھر میں رہ کر حاصل کیا جو نہ صرف بہت چھوٹا تھا اور اس میں بجلی بھی نہیں تھی بلکہ بہت سے چھوٹے بہن بھائی بھی ساتھ رہتے تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں