’پَین افریقن احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن یوکے‘ کا نیوز لیٹر

’پَین افریقن احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن یوکے‘ کے نیوز لیٹر کا تعارف
“Pan-African News”

(تعارف : ناصر محمود پاشا)

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 3 اپریل 2015ء)

برّاعظم افریقہ میں احمدیت کا سورج طلوع ہوئے قریباً ایک صدی بیت جانے کو ہے۔احمدیت کا بیج افریقی ممالک میں جس سرعت سے پھیلا اور نہ صرف مشرقی افریقہ کے تمام ممالک اور مغربی افریقہ کے متعدد ممالک میں جلد ہی ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرگیا بلکہ جب افریقن احمدی مختلف وجوہات کی بِنا پر دنیا کے دیگر خطّوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تو بھی وہ اپنے روایتی سادہ، پُرخلوص اور شیریں احساسات اور دین سے عقیدت کے جذبات کو اپنے ہمراہ لائے۔ یہ بھی امر واقعہ ہے کہ افریقہ سے ہجرت کرکے ترقی یافتہ ممالک میں بسنے والے افریقی احمدیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ چنانچہ یورپ میں بھی کثرت سے ایسے احمدی ملتے ہیں جو کسی زمانہ میں افریقہ سے ہجرت کرکے یہاں آبسے تھے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ یہاں پر ہی اُن کی نسلیں پروان چڑھیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان احمدیوں کے سینوں میں ایمان کی شمع نہ صرف جلتی رہی بلکہ وہ اس روشنی کے مزید پھیلانے اور اسلام احمدیت کی اشاعت کے لئے بھی ہر پہلو سے سرگرم عمل رہے اور اس مقصد کے لئے ہر قسم کی قربانیاں بھی پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ اس کی ایک مثال Pan-African Ahmadiyya Muslim Association UK کی ہے۔
پَین افریقن احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن یوکے کی بنیاد حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی دُوررَس نگاہ نے اپنے دورِ ہجرت کے آغاز میں ہی یعنی 15 اگست 1984ء کو رکھی تھی۔ قواعد کے مطابق برطانیہ میں رہنے والا ہر احمدی اس ایسوسی ایشن کی رُکنیت حاصل کرسکتا ہے۔ اس تنظیم کے قیام کا پہلا مقصد یہی تھا کہ برطانیہ میں آباد افریقن نسل سے تعلق رکھنے والے تمام احمدیوں کی تعلیمی، اقتصادی، اخلاقی اور معاشرتی بہبود کے لئے کام کیا جائے۔ دوسرا مقصد اس تنظیم کے قیام سے یہ تھا کہ ایسے احمدیوں کو جماعتی نظام کے قریب لایا جائے جو افریقہ سے اپنی ہجرت کے بعد سے احمدیت کے ساتھ مضبوط تعلق قائم نہیں رکھ سکے تھے اور یہ سعی کی جائے کہ اُن کے دلوں میں روشن دین اسلام کی شمع پر جمنے والی گرد کی تہہ کو اُتار کر انہیں اُن کے مخلص آباء کے رنگ میں رنگین بنایا جاسکے۔ اسی طرح اس تنظیم کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی قرار پایا کہ افریقہ کے نامور دانشور طبقہ سے رابطہ کرکے افریقی عوام کی ترقی اور بہبود کے منصوبوں پر کام کرنے کے لئے مشاورتی طرز پر اقدام کئے جائیں۔
’پَین افریقن احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن یوکے‘ کے ابتدائی ممبران میں مکرم الحاج اسماعیل بی کے آڈو صاحب شامل تھے جنہیں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایسوسی ایشن کی صدارت کی ذمہ داری بھی سپرد کی۔ اُن کے علاوہ مکرم الحاج حمزہ Adesanu صاحب نائب صدر، مکرم الحاج Ataoppau صاحب ایڈیشنل نائب صدر اور مکرم مشہود Arthur صاحب جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ ان سب مخلصین نے کئی سال تک ایسوسی ایشن کے کام کو مثبت انداز میں کامیابی سے آگے بڑھانے کی توفیق پائی۔ جزاھم اللہ احسن الجزاء۔
آغاز میں ہی اس تنظیم کے زیراہتمام جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر پَین افریقن سالانہ ڈنر بھی باقاعدگی سے منعقد ہونے لگا جس میں حضرت خلیفۃالمسیح کی موجودگی میں افریقن نمائندگان اپنے ممالک میں ہونے والے بعض اہم ترقیاتی امور کو پیش کرتے اور اس طرح مختلف ممالک کے افریقن احمدیوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے، شناسائی حاصل کرنے اور ایک دوسرے سے رابطہ میں رہ کر افریقی ممالک کی بہبود کے لئے اکٹھے کام کرنے کے مواقع ملنے لگے۔ اس تنظیم کے زیرانتظام حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے ساتھ کئی مجالس سوال و جواب بھی منعقد کی گئیں۔
2009ء میں مکرم الحاج اسماعیل بی کے آڈو صاحب کے مستقل طور پر غانا واپس چلے جانے کے بعد ایسوسی ایشن کے انتخابات منعقد ہوئے اور حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مکرم عیسیٰ احمد Wemah صاحب کی منظوری بطور صدر عطا فرمائی۔ آپ کے دَور میں ہونے والے نمایاں کاموں میں افریقی ممالک کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ منانے کی تقریبات شامل ہیں جنہیں “Africa at 50” کا نام دیا گیا۔
19 اپریل 2014ء کو ایسوسی ایشن کے انتخابات کے بعد سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مکرم ٹومی کالون (Tommy Kallon) صاحب کی منظوری بطور صدر عطا فرمائی۔ اس دَور کے ابتداء میں ہی برطانیہ میں مقیم افریقن احمدیوں کے مشورے سے متعدد نئی انتظامی اصلاحات کی طرف توجہ دی گئی اور مزید احباب کو متفرق ذمہ داریاں سپرد کی گئی ہیں۔ ایک اہم کامیابی “Pan-African News” کے نام سے ایک نیوزلیٹر کا اجراء بھی ہے۔ 2014ء میں ہی یہ نیوزلیٹر منظرعام پر آیا ہے جس میں گنتی کے چند صفحات میں گویا دریا کو کوزہ میں بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے سرورق کی زینت سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ممبرانِ ایسوسی ایشن کے نام ایک مختصر خصوصی پیغام ہے۔ سرورق پر ہی آئندہ آنے والی اہم جماعتی تقاریب کی فہرست دی گئی ہے۔ اندرونی صفحات میں قرآن کریم، حدیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے مختصر نکات کے انتخاب کو پیش کرنے کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ایک خطبہ جمعہ کا خلاصہ ہے۔ اسی طرح حضور انور کی بیان فرمودہ خصوصی دعاؤں کی تحریک ہے۔ پھر گزشتہ سال یوم خلافت کے موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس خصوصی پیغام کا احوال ہے جو حضور انور نے مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ انٹرنیشنل کے سٹوڈیو میں جاری عرب بھائیوں کے پروگرام کے دوران تشریف لاکر ارشاد فرمایا تھا۔ اگلے صفحہ پر صدر ایسوسی ایشن مکرم ٹومی کالون صاحب کا پیغام ہے۔ اس کے بعد ایسوسی ایشن کی مختصر تاریخ کا بیان ہے۔اگلے دو صفحات میں (برّاعظم افریقہ کے نہایت قابل قدر وجود) محترم عبدالوہاب بن آدم صاحب کی وفات پر تعزیتی پیغام کے علاوہ مرحوم کی یادوں کی چند جھلکیاں بھی پیش کی گئی ہیں۔ پھر ایسوسی ایشن کے موجودہ عہدیداران کی تفصیل ہے اور اس کے بعد مکرم ٹومی کالون صاحب کے زیرصدارت منعقد ہونے والی پہلی جنرل میٹنگ کی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ اس کے بعد لجنہ سیکشن کے نام سے چند مفید ہدایات درج ہیں۔ اور آخر میں برطانیہ کے تعلیمی نظام کا تعارف پیش کیا گیا ہے جو خصوصاً ایسے والدین کے لئے نہایت فائدہ مند ہے جنہوں نے خود تو اِس ملک میں تعلیم حاصل نہیں کی لیکن اُن کے بچے برطانوی نظامِ تعلیم سے استفادہ کررہے ہیں۔
’پَین افریقن احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن یوکے‘ نے اپنے اراکین سے فوری رابطہ رکھنے اور مختلف پروگراموں سے متعلق تفاصیل بہم پہنچانے کے لئے ایک ویب سائٹ بھی تیار کی ہے جس کا پتہ یہ ہے:
www.paama.org.uk
حال ہی میں نیوزلیٹر “Pan-African News” کا دوسرا پرچہ (یعنی نمبر 1 برائے 2015ء) بھی طبع ہوا ہے۔ اس نیوز لیٹر میں دلچسپی کے متفرق امور کے علاوہ ایسوسی ایشن کی کارکردگی کے حوالہ سے چند رپورٹس بھی شامل اشاعت ہیں۔ چنانچہ میڈلینڈ ریجن کے زیرانتظام ہونے والی مذاہبِ عالَم کی ایک کانفرنس کی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ نیز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ایک مجلس سوال و جواب کا احوال بھی بیان کیا گیا ہے۔ لیکن سب سے اہم رپورٹ اُس خصوصی تقریب کے انعقاد کی ہے جس میں سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے چند ایسے افریقن مبلغین کو ’’مولانا عبدالوہاب آدم یادگار ایوارڈ‘‘ سے نوازا ہے جنہوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں اسلام احمدیت کی ترویج و اشاعت اور انسانیت کی بہبود کے لئے مؤثر خدمات سرانجام دینے کی توفیق پائی تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ خصوصی تقریب 7 ستمبر 2014ء کو مسجد فضل لندن کے احاطہ میں منعقد ہوئی تھی اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دست مبارک سے ایوارڈ حاصل کرنے والے خوش نصیب مبلغین میں مکرم مولانا محمد بن صالح صاحب (امیر و مبلغ انچارج گھانا)، مکرم مولانا اظہر حنیف صاحب (نائب امیر امریکہ)، مکرم مولانا ابراہیم بن یعقوب صاحب (امیر و مبلغ انچارج ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو)، مکرم مولانا بکری عبیدی کالوٹا صاحب (انچارج سواحیلی ڈیسک تنزانیہ) اور مکرم مولانا عبدالغفار صاحب (ریجنل مبلغ یوکے) شامل تھے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ اعزاز ان احباب کے لئے مبارک فرمائے اور آئندہ صدیوں میں ارض بلال سے ایسی ہزاروں سعید روحیں میدانِ عمل میں اُتریں جو اپنے پاکیزہ قول اور حسنِ عمل سے بنی نوع انسان کو صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والی ہوں ۔ آمین
توقع ہے کہ یہ ’سہ ماہی‘ نیوزلیٹر باقاعدگی سے شائع ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی اشاعت ہر پہلو سے بابرکت فرمائے۔ برطانیہ میں مقیم افریقی بھائیوں کو اس سے استفادہ کی بھرپور توفیق عطا ہو اور وہ اپنے اُن عالی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے منظم جدوجہد کرنے کی توفیق پائیں جو آج ہم سب کا مطمح نظر ہیں اور جن کے حصول کے لئے ہم نے امامِ وقت سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی آواز پر آج پھر لبّیک کہنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ آمین

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں