پھر فروزاں ہوا مشہد میں شہیدوں کا لہو – نظم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اکتوبر ، نومبر 2008ء میں محترم عبدالمنان صدیقی شہید کے بارہ میں مکرم صادق باجوہ صاحب کی کہی ہوئی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اِس نظم سے انتخاب پیش ہے:

پھر فروزاں ہوا مشہد میں شہیدوں کا لہو
چار سو پھیل گئی باغِ جناں کی خوشبو
قتل محسن کا کیا جس نے مسیحائی کی
رات دن شفقت والفت سے پذیرائی کی
کتنے مکروہ عزائم ہوئے شیطانی کے
چشمِ حیرت بھی اٹھی دیدۂِ حیرانی سے
ننگِ انسان ہیں ، وحشی ہیں ، درندوں جیسے
رُخِ اسلام پہ دھبے ہیں یہ کیسے کیسے
ظلم بڑھ جائے تو ہوجاتی ہے اُلٹی تدبیر
ہاں! مکافاتِ عمل کی بھی یہی ہے تعبیر

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں