پیراماؤنٹ چیف ناصرالدین گامانگا صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍جنوری 1998ء میں مکرم مولانا محمد صدیق شاہد گورداسپوری صاحب مربی سلسلہ اپنے سیرالیون میں قیام کا ذکر کرتے ہوئے پیراماؤنٹ چیف ناصرالدین گامانگا صاحب کا بھی ذکرِ خیر کرتے ہیں جو سیرالیون کی ریاست سمبارو کے پیرامونٹ چیف تھے۔ اگرچہ آپ کے والد پیراماؤنٹ چیف عثمان گامانگا مسلمان تھے لیکن ایک عیسائی سکول میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے ناصرالدین صاحب کٹر کیتھولک عیسائی ہوگئے تھے اور آپ کے والد کی وفات کے بعد آپ کے چچا خلیلوگامانگا پیراماؤنٹ چیف بنے جن کو خدا تعالیٰ نے محترم مولوی نذیر احمد صاحب علی کے ذریعے قبول احمدیت کی سعادت عطا فرمادی۔ انہی دنوں (1939ء میں) محترم مولوی صاحب کی ملاقات ناصرالدین صاحب سے ہوگئی اور آپ بھی جلد ہی احمدیت کی آغوش میں آگئے۔ پھر اپنے چچا کی وفات کے بعد آپ پیراماؤنٹ چیف کے انتخاب کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ کے رشتے داروں اور بعض دوسرے لوگوں نے بہت مخالفت کی۔ اس پر محترم مولوی محمد صدیق امرتسری صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں درخواست دعا بھجوائی تو حضوررضی اللہ عنہ نے جواب دیا ’’ہم نے دعا کی ہے، گامانگا صاحب انشاء اللہ کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور محترم ناصرالدین گامانگا صاحب کامیاب ہوئے اور ہمیشہ اس امر کو احمدیت کی صداقت کے نشان کے طور پر پیش کیا کرتے تھے۔
مکرم المامی سوری صاحب کی وفات کے بعد مکرم گامانگا صاحب جماعت احمدیہ سیرالیون کے صدر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ اگرچہ آپ کا تعلق ہنڈے قبیلہ سے تھا لیکن آپ ٹمنی اور بعض دیگر لوکل زبانیں بڑی روانی سے بولتے تھے اس وجہ سے بڑے ہردلعزیز اور مقبول شخصیت کے مالک تھے۔ سیرالیون کے مختلف قبائل میں بٹے ہوئے احمدیوں کے لئے آپ کی حیثیت ہمیشہ مرکزی رہی۔ آپ حکومت سیرالیون کے ممبر آف پارلیمنٹ بھی منتخب ہوئے اور کچھ عرصہ وزیر بھی رہے۔ برٹش حکومت کے دور میں آپ کو جسٹس آف پیس کا خطاب ملا اور پھر ممبر آف دی برٹش امپائر (M.B.E) کا خطا ب بھی ملا، حکومت سیرالیون کے محکمہ پروڈیوس مارکیٹنگ بورڈ کے ڈائریکٹر بھی رہے اور ڈائمنڈ کارپوریشن کے چیئرمین بھی۔
محترم گامانگا صاحب بہت مہمان نواز تھے اور آپ نے اپنے کمپاؤنڈ میں مہمانوں کے لئے ایک الگ پختہ عمارت تعمیر کر رکھی تھی۔ کھانے کے وقت جتنے دوست موجود ہوتے ، سب کو شامل کرلیتے۔ آپ خلافت اور نظام جماعت کا بے حد احترام کرتے تھے۔ دو دفعہ ربوہ آکر جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے۔ قادیان کی بھی زیارت کی۔ 1970ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ جب سیرالیون تشریف لائے تو آپ سیرالیون میں جماعت احمدیہ کے نیشنل پریذیڈنٹ تھے۔ آپ کے بھرپور تعاون اور مدد سے تمام انتظامات شایانِ شان طریق پر انجام پائے۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ سیرالیون میں میری پہلی تقرری محترم گامانگا صاحب کے گاؤں میں ہوئی۔ میرا قیام آپ ہی کے ہاں تھا جہاں میرے لئے کم مرچ والا الگ کھانا تیار کیا جاتا اور ہر طرح سے میرے آرام کا خیال رکھا جاتا۔
محترم ناصرالدین گامانگا صاحب مارچ 1978ء میں وفات پاگئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں