چیونٹیاں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍اگست 2006ء میں ایک مضمون میں چیونٹیوں کے حوالہ سے دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں۔
چیونٹی کی 8800 اقسام ہیں۔ یہ قریباً دس کروڑ سال پہلے کرۂ ارض پر نمودار ہوئیں۔ خیال ہے کہ ان کی جدامجد بھڑ ہے جو ان سے بھی چند کروڑ سال پہلے پیدا ہوئی تھی۔ دونوں کے جبڑے کی ساخت ایک جیسی ہے تاہم بھڑ کے جبڑے چھوٹے اور کم دانت رکھتے ہیں۔
چیونٹی کبھی تنہا نہیں رہتی بلکہ کالونیوں میں رہتی ہے اور کوئی چیونٹی کبھی اپنے کام میں کوتاہی نہیں کرتی۔ ہر چیونٹی کے دو کام ہیں یعنی غذا جمع کرنا اور اپنے بِل کی حفاظت کرنا۔ غذا سب چیونٹیاں مل جُل کر کھاتی ہیں اور اسی کے سہارے اُن کی ملکہ پلتی ہے۔
شمالی افریقہ کی صحرائی چیونٹی اوسطاً چھ دن زندہ رہتی ہے تاہم وہ اس عرصہ میں اپنے وزن سے پندرہ تا بیس گنا زیادہ غذا اپنی کالونی میں پہنچا دیتی ہے۔ چیونٹی اپنی کالونی کی حفاظت کی خاطر بھی ہر وقت خودکُشی کے لئے تیار رہتی ہے۔ ملائشیا میں پائی جانے والی ترکھان چیونٹیوں میں قدرت نے زہریلے غدود رکھے ہیں جنہیں وہ لڑائی کے دوران پھاڑ کر منہ کے ذریعہ زہر دشمن پر پھینکتی ہیں اور کیمیائی پیغام اپنی کالونی میں بھیج کر مزید مدد منگواتی ہیں۔
مواصلاتی نظام میں برازیل کی آتشی چیونٹی سب سے آگے ہے۔ ان کی ایک کالونی میں قریباً ایک لاکھ چیونٹیاں ہوتی ہیں۔ جب یہ کسی غذا کو پاتی ہیں تو اُس جگہ سے واپس اپنے بِل کی طرف آتے ہوئے ایک کیمیائی مادہ چھوڑتی آتی ہیں اور اُسی مادے کے ذریعہ بعد میں دیگر چیونٹیاں غذا تک پہنچ جاتی ہیں۔ ایشیا اور آسٹریلیا کے گھنے جنگلوں میں پائی جانے والی جولاہا چیونٹیاں ایک وقت میں کئی درختوں پر قبضہ کرکے دشمن کیڑے ہلاک کرکے اُن کا گوشت کھاجاتی ہیں۔ اگر ان کی کالونی پر حملہ ہو تو سرحد پر تعینات چیونٹیاں (جو ہمیشہ بوڑھی ہوتی ہیں) ایک خاص مادہ زمین پر گرا کر مخصوص ناچ شروع کردیتی ہیں جس سے سب کو حملے کا علم ہوجاتا ہے۔ یہ بوڑھی چیونٹیاں حملے کے نتیجے میں ہلاک بھی ہوجاتی ہیں۔
ملائشیا کے جنگل میں چیونٹی کی ایک قسم Hypoclinea پائی جاتی ہے جو خانہ بدوش ہے اور انسانوں کی طرح ڈھورڈنگر پالتی ہے۔ ان کا ڈھورڈنگر آٹے کا کیڑا Mealybugs ہے جو پودوں کے رس پر پلتا ہے۔ کیڑا اس رس کا مواد اپنے فضلے کے ذریعے چیونٹیوں میں منتقل کرتا ہے اور اس کے بدلہ میں چیونٹیاں اس کیڑے کو دشمن سے بچاتی ہیں اور انہیں ریوڑ کی شکل میں اپنے ساتھ ساتھ نقل مکانی کرواتی ہیں۔ یہ کیڑے ملکہ اور اُس کے انڈوں کے ساتھ کالونی کے مرکز میں چیونٹیوں کی حفاظت میں رہتے ہیں۔
امریکہ کی چیونٹی کی ایک قسم Army Ant کہلاتی ہے جو سائز میں خاصی بڑی ہیں۔ بڑی تعداد میں مل کر شکار کرتی ہیں اور پڑاؤ بدلتی رہتی ہیں۔ ان کا حملہ صبح کے وقت شروع ہوتا ہے جب ہزاروں چیونٹیاں صف بناکر بڑھنے لگتی ہیں۔ یہ قافلہ 45فٹ لمبا اور تین سے چھ فٹ چوڑا ہوسکتا ہے۔ ان کے راستہ میں آنے والی ہرچیز مکڑیاں، بچھو، کن کھجورے اور دیگر کیڑے ان کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں بلکہ سانپ اور چھپکلیاں بھی بچ نہیںپاتے۔ سہ پہر کو اس لشکر کا مارچ پاسٹ رُک جاتا ہے اور یہ دوبارہ پڑاؤ کا رُخ کرتی ہیں۔
امریکی ریاست لوزیانا سے ارجنٹائن تک پائی جانے والی پتاتوڑ (Leaf Cutting Ant) چیونٹی وہ واحد حیوان ہے جو تازہ سبزے پر کھمبیاں اگاتی ہے۔ چیونٹیوں کی بعض دیگر اقسام، دیمک اور بھونرے بھی کھمبیاں اگاتے ہیں مگر وہ اس کے لئے گلی سڑی لکڑی یا کیڑے مکوڑوں کی لاشوں کو بطور وسیلہ استعمال کرتے ہیں۔ صرف ’’پتا توڑ چیونٹی‘‘ ہی اس مقصد کے لئے پتے اور پھول جمع کرتی ہے۔ یہ پودے زہریلے بھی ہوتے ہیں اور انہیں براہ راست کھانے سے چیونٹی ہلاک ہوسکتی ہے۔ لیکن وہ بغیر کھائے منہ میں پکڑ کر انہیں اپنے بِل کے نچلے حصہ میں لے جاتی ہے تاکہ کھمبی کو اُگنے کے لئے نمی اور تاریکی کا جو ماحول درکار ہو، وہ میسر آجائے۔ ان کے بلوں میں گہرائی بیس فٹ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ycwJZ]

اپنا تبصرہ بھیجیں