ڈاکٹر بلائیڈن آف لائبیریا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍جون 1995ء میں ڈاکٹر بلائیڈن آف لائبیریا کو مکرم سعود احمد خان صاحب نے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر بلائیڈن کو غانا کے پہلے وزیر اعظم کوامی انکروما نے جدید افریقہ کی دانشوری کا باپ قرار دیا تھا۔ ان کی کتاب Christianity, Islam and Race کے بارے میں مسٹر کروما نے کہا تھا کہ باوجود عیسائی ہونے کے بلائیڈن یہ سمجھتے تھے کہ افریقیوں کو عیسائیت سے زیادہ اسلام کا ممنون ہونا چاہئے اور یہ کتاب اگر نہ لکھی جاتی تو افریقیوں میں نہ علم و دانش کا احساس پیدا ہوتا اور نہ ان میں قومیت کا احساس جاگزیں ہوتا۔
ڈاکٹر بلائیڈن 1832ء میں برٹش کالونی سینٹ تھامس میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد امریکہ گئے لیکن سیاہ فام ہونے کے باعث کسی اعلیٰ تعلیمی ادارہ میں داخلہ نہ لے سکے چنانچہ لائبیریا چلے گئے جو ایسے غلاموں کی آبادکاری کی جگہ تھی جو امریکہ سے واپس بھجوائے جاتے تھے۔ ایسی ہی ایک کالونی ’’فری ٹاؤن‘‘ کے نام سے سیرالیون میں بھی قائم کی گئی تھی۔ بلائیڈن صرف 20 سال کی عمر میں ’’لائبیرین ہیرلڈ‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے۔ ساتھ ساتھ انہوںنے ایک ادارہ میں اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور بعد میں اسی ادارہ میں استاد مقرر ہوئے اور پھرمنتظم اعلیٰ بنائے گئے۔ وہ اپنے ملک کی طرف سے برطانیہ سمیت کئی ممالک میں سفیر بھی رہے اور لائبیریا میں کئی محکموں کے وزیر بھی مقرر ہوئے۔ اسی دوران انہیں احساس ہوا کہ یورپ و امریکہ کا یہ پراپیگنڈہ کہ افریقہ کا کوئی تاریخی ورثہ نہیں ہے، خودغرضانہ ہے۔ عربی زبان سے شناسائی کے ساتھ انہیں اس بات کا احساس مزید شدت سے ہوا چنانچہ انہوں نے مصر، شام اور دیگر عرب ممالک کے کئی دورے کئے اور لائبیریا کالج میں عربی زبان کی تعلیم کا آغاز کیا۔ ان کے اس ذوق کی وجہ سے ان کے مسلمان دوستوں نے ان کو باوجود عیسائی ہونے کے ’’عبدالکریم‘‘ کے نام سے مشہور کردیا۔
ڈاکٹر بلائیڈن نے اسلام اور عیسائیت کے تقابلی جائزہ سے یہ محسوس کیا کہ عیسائیت کی تعلیم انسانوں میں محبت اور مساوات کی فضا پیدا نہیں کرسکی جبکہ اسلام جہاں بھی گیا وہاں عدل و انصاف پر زور دیا گیا۔ ڈاکٹر بلائیڈن کی مذکورہ کتاب دراصل انکے بعض خطابات کا مجموعہ ہے جن میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ عیسائیت نے افریقیوں کو غلام بنائے رکھنے کے لئے یورپ کے مفادات کا تحفظ کیا جبکہ اسلام نے اس کے برعکس انسانی وقار کا احساس پیدا کیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں