ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی کی ہلاکت

ڈوئی، سکاٹ لینڈ کا رہنے والا تھا۔ 1847ء میں پیدا ہوا اور بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ آسٹریلیا چلا گیا جہاں 1872ء میں ایک کامیاب مقرر اور پادری کے طور پر پبلک کے سامنے آیا۔ کچھ عرصہ بعد اُس نے اعلان کیا کہ یسوع مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے سے بیماروں کو شفا دینے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور یہ قوت اُسے بھی عطا کی گئی ہے۔ 1888ء میں وہ سان فرانسسکو چلا گیا اور قریبی ریاستوں میں اپنے خیالات پھیلا نے کے لئے کامیاب جلسے کئے۔ 1893ء میں شکاگو سے اخبار ’’لیوز آف ہیلنگ‘‘ شروع کیا۔ 22؍ فروری 1896ء کو ایک نئے فرقہ ’’کرسچین کیتھولک چرچ‘‘ کی بنیاد رکھی اور 1899ء یا 1900ء میں پیغمبر ہونے کا دعویٰ کردیا اور اپنے فرقہ کو ’’کرسچین کیتھولک سپاسٹلک چرچ‘‘ کا نام دیدیا۔ پھر صیحون نامی شہر کی بنیاد رکھی اور ظاہر کیا کہ مسیح اس شہر میں نازل ہوگا۔ اس سے اُس کے متبعین کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا اور مالی امداد کے طور پر تیس لاکھ سے زائد روپیہ ملنے لگا۔ اُس نے یہ اظہار بھی کیاکہ اگر یہ ترقی اسی طرح جاری رہی تو ہم بیس سال میں ساری دنیا کو فتح کرلیں گے۔
ڈوئی شروع سے ہی آنحضرتﷺ کے بارہ میں نازیبا کلمات استعمال کرتا تھا۔ 25؍اگست 1900ء کو اپنے اخبار میں اُس نے اسلام کی تباہی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور یورپ کی عیسائی اقوام کو متنبہ کیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کو اس کا علم ہوا تو آپؑ نے 8؍اگست 1902ء کو ایک چٹھی لکھی جس میں حضرت مسیحؑ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے ڈوئی کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ 1903ء میں حضورؑ نے اپنی چیلنج کو دہراتے ہوئے لکھا: ’’مَیں ستر سال کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے پچاس برس کا جوان ہے لیکن مَیں نے اپنی عمر کی کچھ پرواہ نہیں کی کیونکہ مباہلہ کا فیصلہ عمروں کی حکومت سے نہیں ہوگا بلکہ خدا جو احکم الحاکمین ہے وہ اس کا فیصلہ کرے گا۔ اور اگر ڈوئی مقابلے سے بھاگ گیا تب بھی سمجھو کہ صیحون پر جلد آفت آنے والی ہے‘‘۔
اگرچہ ڈوئی نے اس چیلنج کا جواب نہ دیا لیکن کئی امریکی اخبارات نے اس کی تشہیر کی جن میں سے 32 اخبارات کے مضامین کا خلاصہ حضورؑ نے تتمہ حقیقۃالوحی میں درج فرمایا ہے۔ آخر جب ڈوئی کو جواب دینے پر مجبور کیا گیا تو اُس نے اپنے اخبار میں لکھا: ’’ہندوستان کا ایک بے وقوف محمدی مسیح مجھے بار بار لکھتا ہے کہ یسوع مسیح کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تُو کیوں اس شخص کو جواب نہیں دیتا۔ مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ مَیں ان مچھروں اور مکھیوں کو جواب دوں گا۔ اگر مَیں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو مَیں ان کو کچل کر مار ڈالوں گا‘‘۔
حضورؑ کو جب ڈوئی کی اس گستاخی کی اطلاع ملی تو آپؑ نے اللہ کے حضور اس فیصلے میں کامیابی کے لئے زیادہ توجہ اور الحاح سے دعائیں شروع کردیں۔
ڈوئی کی اخلاقی موت اس طرح ہوئی کہ کچھ ہی عرصہ بعد ایک شخص نے خود کو ڈوئی کے بیٹے کے طور پر پیش کردیا۔ 25؍ستمبر 1904ء کو ڈوئی نے اس کا انکار کیا۔ قریباً ایک سال بعد یکم اکتوبر 1905ء کو ڈوئی پر فالج کا شدید حملہ ہوا۔ 19؍دسمبر کو دوسرا شدید حملہ ہوا اور وہ بیماری سے لاچار ہوکر صیحون سے ایک جزیرہ کی طرف چلا گیا۔ جونہی وہ صیحون سے نکلا تو مریدوں کو علم ہوا کہ وہ نہایت ناپاک، شرابی اور تمباکونوش انسان تھا۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ اُس نے ایک لاکھ سے زائد روپیہ صیحون کی خوبصورت عورتوں کو بطور تحائف دیدیا تھا۔ ڈوئی ان الزامات سے اپنی بریت ثابت نہ کرسکا۔ آخر اپریل 1906ء میں اس کی کونسل کے نمائندوں نے ہی اُس کو برطرف کرکے والواؔ کو اپنا قائد منتخب کرلیا۔ ڈوئی نے عدالتوں کے ذریعہ صیحون اور روپے پر قبضہ حاصل کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ جب وہ واپس صیحون آیا تو کوئی شخص بھی اُس کے استقبال کو موجود نہ تھا۔ جسمانی حالت ایسی تھی کہ خود ایک قدم بھی نہیں اٹھاسکتا تھا اور اُس کے حبشی غلام اُسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتے تھے۔ اسی حالت میں وہ دیوانہ ہوگیا اور 9؍مارچ 1907ء کی صبح بڑی حسرت کے ساتھ دنیا سے کوچ کرگیا۔
یہ مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍مارچ 2000ء میں مکرم محمد جاوید صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں