ڈپریشن اور نیند کے مسائل – جدید تحقیق کی روشنی میں

ڈپریشن اور نیند کے مسائل – جدید تحقیق کی روشنی میں
مرتّبہ: فرخ سلطان محمود

برازیل کے ماہرین نے ڈپریشن کے مریضوں کے سونے اور جاگنے کے اوقات پر تحقیق کے بعد یہ پتہ چلایا ہے کہ وہ پُرسکون نیندسے محروم تھے۔ اس جائزے میں 200 ایسے لوگوں کو منتخب کیا گیا تھا جو پہلے کبھی کسی ذہنی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے تھے۔ اور اُن کے سونے کی عادات اور ڈیپریشن کی علامات کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ رات کو دیر تک جاگنے والوں میں ڈیپریشن کی سنگین علامات ان لوگوں سے تقریباً تین گنا زیادہ تھیں جو صبح جلدی اٹھنے کے عادی تھے۔ لیکن دونوں گروپوں کی نیند کے دورانیے میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔ لیکن ان کے سونے کے اوقات کا فرق ان کے مزاج میں بہت زیادہ فرق کا باعث دکھائی دیا۔
یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف سائیکیٹری اور یونیورسٹی کے ڈیپریشن ریسرچ اینڈ کلینک پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایان اے کُک کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا سونے کا معمول ڈیپریشن کی علامت کی وجہ بنتا ہے یا ڈیپریشن کی وجہ سے لوگوں کی نیند متاثر ہوتی ہے اور وہ رات کو دیر تک جاگتے ہیں۔تاہم ایک حالیہ جائزے سے بھی یہ ظاہر ہوا ہے کہ اگر آپ رات کو جلد سونے کی عادت ڈال لیں تو آپ مزاج پر اس کے خوش گوار اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
نیویارک کے ایک اسپتال کے ماہر نفسیات ڈاکٹر ایلن کا کہنا ہے کہ اگر آپ رات کو جلد سونے کی عادت ڈالنا چاہتے ہیں تو سونے کے وقت سے کچھ دیر پہلے ہی ایسی سرگرمیاں ترک کر دیں جو آپ کے دماغ کو فعال کردیتی ہیں۔ مثلاً کمپیوٹر کا استعمال۔ کیونکہ کمپیوٹر پر معلومات پڑھنے کے علاوہ اس کی سکرین سے خارج ہونے والی روشنی بھی آپ کی نیند کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے۔ تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سونے کے اوقات اور ڈیپریشن کے رجحان میں کوئی خاص تعلق نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ پٹس برگ یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن میں نیند پر تحقیق شعبے کے ڈائریکٹر اور پروفیسر آف سائیکیٹری، ڈاکٹر ایرک نوف کہتے ہیں کہ ایسے جینز کا پتہ لگایا گیا ہے جن کی وجہ سے کچھ صبح جلد اٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور کچھ رات دیر سے سونے کو۔
ڈاکٹر نوف نے ڈیپریشن کے کچھ مریضوں کے سروں کا سکین کر کے یہ معلوم کیا ہے کہ ان کے دماغ نیند کے دوران دوسرے لوگوں کے دماغوں کی نسبت مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں۔ اور اُن کے دماغ کے جذبات سے متعلق حصوں میں بہت زیادہ فعالیت موجود تھی جس کی وجہ سے وہ رات کو پُرسکون نیند نہیں لے سکتے تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/7oxV0]

اپنا تبصرہ بھیجیں