کرسٹوفرکولمبس

امریکہ دریافت کرنے والے عظیم جہازراں کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26 اگست 2010ء میں شامل اشاعت ہے۔
کرسٹوفر کولمبس 26؍اگست 1451ء کو اٹلی کے شہر جینوا میں پیدا ہوا۔ کولمبس ابھی 16 برس کا ہی تھا کہ وہ پرتگال چلا گیا اور دارالحکومت لزبن میں رہائش اختیار کرلی۔ وہ پہلا یورپین سیاح تھا جس نے بحراوقیانوس کو عبور کیا اور ہندوستان کی تلاش کرتے کرتے ایک نئی دنیا دریافت کرلی جسے آج امریکہ کہتے ہیں۔
1477ء میں وہ آئس لینڈ کے لئے روانہ ہوا۔ راستے میں وہ آئرلینڈ بھی ٹھہرا۔ وہ ایک غیرمعمولی ذہین ملاح تھا اورسمندری سفر کا اسے گویا جنون تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ اگر وہ لزبن سے جنوب کی طرف جانے کی بجائے سیدھا مغرب کی طرف نکل جائے گا تو بحراوقیانوس کے دوسرے کنارے پر ہندوستان تک جاپہنچے گا۔ اس نے سپین اور پرتگال کے بڑے بڑے سوداگروں کو اس طرف راغب کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ اگر وہ اس سفر کے اخراجات برداشت کریں تو ان کا بہت فائدہ ہوگا۔ وہ تین سال تک ان لوگوں کو اس طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر کسی نے حامی نہ بھری۔ لوگوں کا خیال تھا کہ لزبن سے مغرب کی طرف سفر کیا جائے تو ہندوستان تک پہنچنے کا راستہ ’راس امید‘ کے گرد چکر کاٹنے سے بھی طویل اور لمبا ہو جائے گا۔
سوداگروں سے مایوس ہو کر کولمبس اشبیلیہ میں شاہ سپین فرڈیننڈ کو قائل کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ اسے بحری جہاز فراہم کر دیئے جائیں تو وہ یورپ سے ہندوستان پہنچنے کا ایسا سمندری راستہ دریافت کرسکتا ہے جو کسی اَور کے علم میں نہیں۔ بادشاہ ٹال مٹول کرتا رہا۔ بالآخر ملکہ ازابیلا کی پُرزور سفارش پر اس سفر کا بندوبست کرنے کی حامی بھرلی اور 3؍اگست 1492ء کو تین جہازوں سانتا ماریا، نینا اور پنٹا پر مشتمل بحری بیڑا کولمبس کی رہنمائی میں نئے افق تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔
کولمبس اور اس کے ملاح چار ماہ تک سمندر میں سفر کرتے رہے لیکن زمین نظر نہ آئی۔ قریب تھا کہ اس کے ملاح بغاوت کر دیتے۔ ایک روز صبح سویرے کسی ملاح کو آسمان پر ایک پرندہ اڑتا ہوا نظر آیا جسے دیکھ کر لوگ خوشی سے پاگل ہوگئے۔ انہیں قوی امید تھی کہ جلد ہی زمین نظر آجائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا سب سے پہلے جو زمین نظر آئی وہ آج سان سلواڈور کہلاتی ہے۔ کولمبس کئی ہفتے یہاں مقیم رہا۔ یہاں کے باشندے ننگ دھڑنگ تھے اور چونکہ ان کا رنگ سرخ و سفید تھا اس لئے کولمبس نے اُنہیں ’ریڈ انڈین‘ کا نام دیا۔
12؍اکتوبر 1492ء کو کولمبس نے امریکہ کی سرزمین پر پہلا قدم رکھا۔ اگرچہ کولمبس زندگی بھر یہی سمجھتا رہا اس نے جس سرزمین پر قدم رکھا ہے وہ ہندوستان ہے۔
جنوری 1493ء میں جب کولمبس واپس سپین آیا تو اس کا پُرجوش خیرمقدم کیا گیا۔ اس کے جہازوں میں بہت سا سونا چاندی لدا ہوا تھا۔ البتہ گرم مصالحہ، ناریل اور وہ تمباکو نہیں تھا جو وہ ہندوستان سے لینے گیا تھا۔ اس سفر میں واپسی پر اس نے جزائر ہیٹی اور کیوبا بھی دریافت کئے۔
25 ستمبر 1493ء کو کولمبس اپنے دوسرے بحری سفر پر روانہ ہوا اور پہلے کیوبا پہنچا۔ اب کی بار اس کے ساتھ سپین اور پرتگال کے بہت سے باشندے تھے۔ اس دوران اس نے پورٹوریکو، ورجن جزائر اور جمیکا وغیرہ دریافت کئے۔ جون 1496ء میں اس نے تیسرا سفر کیا جس میں وہ جنوبی امریکہ جا پہنچا اور وینزویلا تک چلا گیا۔ اکتوبر 1500ء میں وہ سپین واپس آگیا۔ اب اس کی شہرت دُور دُور پھیل چکی تھی۔ لیکن لوگوں کا اب بھی یہی خیال تھا کہ یہ نئے علاقے ہندوستان کے آس پاس کہیں واقع ہیں اور ہندوستان کا ہی حصہ ہیں۔
سپین کی ملکہ ازابیلا اور شاہ فرڈی نینڈ کولمبس سے بہت خوش تھے۔ آخر کولمبس نے اپنے چوتھے سفر کا آغاز کیا۔ یہ سفر اس نے 4 مئی 1502ء کو شروع کیا۔ اس سفر میں وہ ہنڈوراس، نکاراگوا وغیرہ تک جاپہنچا۔ مگر اسے اتنی مشکلات پیش آئیں کہ اسے واپس آنا پڑا۔ اتنے بڑے مہم جُو کی زندگی کے آخری ایام بڑی تنگدستی اور پریشانی میں گزرے۔ یہی وجہ تھی کہ ملکہ سپین ازابیلا گاہے بگاہے مالی امداد دیتی رہتی تھیں۔ کولمبس 21 مئی 1506ء کو Valla Dilid نامی شہر میں انتقال کر گیا۔ اُس کے آخری الفاظ یہ تھے کہ ’’اے خدا! میں اپنی روح کو تیرے سپرد کرتا ہوں‘‘۔
کولمبس نے دولت کی خاطر غرب الہند کے جزیروں کے بے گناہ آراواک قبائل کو ہلاک کر ڈالا اور انتہائی بے رحمی کا ثبوت دیا۔ جس کی وجہ سے لوگ آج بھی اُسے مجرم تسلیم کرتے ہیں لیکن جنوبی امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں 12؍اکتوبر کو ’’کولمبس ڈے‘‘ بڑے جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں