کولیسٹرول…یعنی …خون کی چکنائی

مجلس انصاراللہ کینیڈا کے مجلہ ’’نحن انصاراللہ‘‘ اپریل تا ستمبر 2004ء میں مکرم ڈاکٹر مظہر صاحب کے ایک مضمون میں کولیسٹرول کے مثبت اور منفی پہلوؤں کے بارہ میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس بارہ میں ایک مختصر مضمون 29؍اکتوبر 1999ء کے شمارہ کے اسی کالم میں بھی شامل اشاعت ہے۔
کولیسٹرول یعنی خون کی چکنائی ایک زرد، نرم، ملائم، چربیلا مادہ ہے جو ہارمون اور خلیوں کی بیرونی جھلی کی تعمیر میںا ستعمال ہوتا ہے اور اس کی مناسب مقدار انسانی جسم میں بہت اہم اور مفید کردار ادا کرتی ہے۔
ایک عام سبزی خور شخص روزانہ200 تا 400ملی گرام کولیسٹرول روزانہ کھاتا ہے جبکہ ایک غیر سبزی خور 400تا 600ملی گرام کولیسٹرول روزانہ کی خوراک سے حاصل کرتا ہے۔ لیکن خون میں کولیسٹرول کی بڑی مقدار جگر میں تیار ہونے والے کولیسٹرول کی ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر چند ہفتوں تک خوراک میں کم کولیسٹرول لیا جائے تو جگر اس کی جگہ بھی زائد کولیسٹرول پیدا کرتا ہے۔ بنیادی طور پر اسے اچھی اور بری، دو اقسام میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اچھا کولیسٹرول جسم سے زائد کولیسٹرول کو جگر کے ذریعہ ختم کرتا ہے۔
جوں جوں انسان کی عمر گزرتی جاتی ہے اس کے خون کی نالیوں کی لچک کم ہوتی جاتی ہے۔ اور کولیسٹرول اور چربی کا خون کی شریانوں میں جمع ہوتے جانا انہیں مزید تنگ و سخت کرتا جاتا ہے۔ جس کے باعث خون تیزی سے اور صحیح طور پر اپنا بہاؤ جاری نہیں رکھ سکتا۔ رکاوٹ کے باعث خون کا دباؤ نالیوں پر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ دل کو اپنے کام کے لئے جتنا خون درکار ہوتا ہے اور جتنی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے نہیں مل سکتی۔ جس کی وجہ سے انجائنا شروع ہوسکتاہے۔ سینے میں درد اس لئے اٹھتا ہے کہ دل کو مطلوبہ مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی۔ سانس کی تنگی ہوتی ہے اور بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ دل کی شریانوں کی مکمل رکاوٹ کے باعث خون کی سپلائی مکمل طور پر رک جاتی ہے اور ہارٹ اٹیک واقع ہوجاتاہے۔
کولیسٹرول کی زیادتی پیدا کرنے والی اشیاء میں تلی ہوئی اشیاء، دودھ، مکھن، گھی، سفید آٹا و میدہ کی مصنوعات، چینی، کیک، پیسٹری، بسکٹ، پنیر، آئس کریم، گوشت ( خصوصاً بیل و بکری کا)، انڈا (ایک انڈے کی زردی میں300 ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے)، کھانے پینے کی عادات میں بے قاعدگی، سگریٹ نوشی، شراب نوشی،چائے، کوک، کافی۔ کیفین ایک ایسا کیمیکل ہے جو چائے، کافی اور کوک میں پایا جاتا ہے۔ تاہم تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چائے میں نسبتاً کم ہوتا ہے۔ البتہ کافی کے کثرتِ استعمال سے بلڈ پریشر و بلڈ کولیسٹرول خاصا بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق و سروے کے مطابق دل کی بیماریوں کے سبب اموات میں ایسے افراد کی بہت بڑی تعداد تھی جو زیادہ کافی پیتے تھے اور ان کی اموات دل کی شریانوں کی بیماریوں کے باعث واقع ہوئیں۔
غصہ، جھگڑے، ذہنی پریشانیاں، ذہنی دباؤ، کھچاؤ بھی کولیسٹرول کی مقدار بڑھادیتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے جسم میں ایڈرینالین اور کارئی سون نامی ہارمون خارج ہوتے ہیں جو چربی زیادہ پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
بلڈ کولیسٹرول کو کم کرنے کے لئے ریشہ دار غذاؤں کا استعمال کریں، اَن چھنے موٹے آٹے کی خشک روٹی کھائیں، جَو یا گندم کا دلیہ بکثرت استعمال کریں، دالیں بمعہ چھلکا کھائیں، سبزیاں، پھل، سلاد کا بکثرت استعمال کریں۔ کم ازکم آٹھ دس گلاس روزانہ سادہ پانی پینا بے حد مفید ہے۔ روغنیات میں روغنِ زیتون(Olive Oil) مکئی، مونگ پھلی وسویابین، سن فلاور، مچھلی کا تیل یا سلمن مچھلی کاگوشت استعمال کریں۔
لہسن جگر میں کولیسٹرول کی پیداوار کو روکتا ہے اور خون میں لوتھڑے بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ اسبغول ( سالم یا چھلکے) کا مسلسل آٹھ دس ہفتوں تک استعمال15 سے20 فیصد مضر کولیسٹرول کو کم کردیتا ہے۔ خشک دھنیا پیس کر ایک یا دو چائے کے چمچ پانی کے ساتھ استعمال کریں۔ لیموں، املی اور خشک آلو بخارا پانی میں بھگو کر مسلسل استعمال کریں۔ اس سے بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
باقاعدہ ورزش بھی برے کولیسٹرول کو کم کرنے اور مفید کولیسٹرول کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بھاپ کا غسل اور ٹھنڈے غسل بے حد مفید ثابت ہوئے ہیں۔
ہومیوپیتھی میں کولیسٹرینیم، فائٹولاکا اور فاسفورس 30 طاقت میں ملاکر استعمال کریں۔
اسی طرح ڈاکٹر ریکوگ اینڈ کو جرمنی کی بنی ہوئی ہومیو مرکب دوا آر نمبر79، کولیسٹرول کی زیادتی کو دُور کرنے میں مفید ثابت ہوئی ہے جو خون کی نالیوں کی تنگی کو دور کرتی ہے۔
اسی طرح پرہیز و غذا کے سلسلہ میں افراط و تفریط اور انتہا پسندی کی بجائے میانہ روی کو معمول بنائیں۔ بعض لوگ جذبات میں آکر یک لخت سب چیزوں سے پرہیز کا علم بلند کردیتے ہیں مگر جلد تنگ آکر پھر یک دفعہ سب کچھ پھر سے شروع کرلیتے ہیں۔ یہ طریق درست نہیں۔
صحت کا خیال ایک مسلسل جہاد ہے اور نہائت مشکل امر ہے۔ پس اس جہاد کو ہمیشہ جاری رکھیں۔ انسان عموماً اپنی غلطیوں سے بیمار ہوکر اپنی عمرِ طبعی سے قبل چل دیتا ہے۔ بہت سے مفید کام جو کرسکتا تھا ان سے محروم رہ جاتا ہے اور اپنے پسماندگان کو بھی گونا گوں مسائل سے دوچار کرجاتا ہے۔
صحت کی جنت بھی ماؤں کے قدموں تلے ہے۔ دراصل بیماری کا آغاز یا ابتداء کچن سے شروع ہوتی ہے۔ حقیقی بھوک پر خواہ سادہ سے سادہ کھانا کیوں نہ کھایا جائے وہی لذیذ ہوتا ہے۔ اور کھانوں کو چٹ پٹا بنانے کی ضرورت دراصل ان لوگو ں کو ہے جو محض حصولِ لذت یا بالفاظ دیگر حصولِ مرض کی خاطر کھاتے ہیں۔ اسی طرح آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ کم خوری علاجوں کی ماں ہے۔ کولیسٹرول کو کم رکھنے کے لئے کم خوری بے حد ضروری ہے۔
جب بھی کسی سے ورزش کرنے کا کہا جائے تو عدم فرصت کا بہانہ پیش کیا جاتا ہے مگر پندرہ منٹ سے ایک گھنٹہ روزانہ ورزش پر صرف کرنے سے آپ کی عمر میں 10سے40 سال کااضافہ ہوجائے تو اس میں آپ کا کتنے فیصد نقصان ہے؟
کولیسٹرول کے اسباب کے سلسلہ میں آجکل ڈپریشن و فرسٹریشن( احساسِ محرومی) کو بہت کوسا جارہا ہے۔ ہر طرف مادہ پرستی ، لالچ اور حصول زر کی دوڑیں لگی ہیں۔ یہ ڈپریشن کی آگ اور بھڑکتی ہے۔ یہ سب منفی ڈپریشن کی قسمیں ہیں۔
لیکن ’’ ڈپریشن‘‘ اپنی ذات میں برا نہیں جبکہ وہ مثبت ہو۔ انبیاء، صلحاء و بزرگان کی طبع میں بھی ڈپریشن تھا مگر وہ مثبت تھا۔ وہ تھا فقط دوسروں کے غم میں خود کو ہلاک کر ڈالنا۔
یہ ڈپریشن حیات بخش وزندہ جاوید ہے۔ دعوتِ الی اللہ کی لگن عمدہ ڈپریشن کی بہترین مثال ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/TbyTH]

اپنا تبصرہ بھیجیں