کپتان چودھری عبدالرحمٰن صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍ستمبر 2002ء میں مکرم کپتان چودھری عبدالرحمٰن صاحب آف دھوریہ ضلع گجرات کا تفصیلی ذکر خیر مکرم پروفیسر محمد سمیع طاہر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ آپ 9؍نومبر 2000ء کو لاہور میں 86؍سال کی عمر میں وفات پاگئے اور بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔
مکرم کپتان صاحب 1914ء میں علاقہ کے معزز زمیندار مکرم چوہدری سلطان علی گورسی کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا کا نام کرم دین تھا جو غالباً 1898ء میں احمدی ہوئے تھے اور 1920ء میں اُن کی وفات ہوئی۔ مکرم کپتان صاحب نے تعلیمی مدارج اعلیٰ اعزازکے ساتھ طے کئے۔ پانچویں، آٹھویں اور دسویں میں وظائف حاصل کئے۔ میٹرک کے بعدزراعتی کالج لائلپور میں داخل ہوئے۔ لیکن یہاں کی تعلیم آپ کے مزاج کے مطابق نہ تھی چنانچہ 1932ء میں فوج میں بھرتی ہوگئے۔ پھر بسلسلہ ملازمت متعدد مقامات پر مقیم رہے۔ ہر جگہ مقامی جماعت اور احمدیوں سے قریبی رابطہ رکھتے تھے۔ جب حضرت مصلح موعودؓ سکندرآباد تشریف لائے تو آپ وہیں تھے۔ مقامی احباب نے آپ کے تبلیغ کے شوق کے بارہ میں حضورؓ کو بتایا تو حضورؓ نے اپنے گلے کے ہاروں میں سے ایک ہار اتار کر آپ کے گلے میں ڈال دیا۔یہ ہار لے کر آپ اپنے گائوں آئے جہاں آپ کی شادی کی تیاریاں مکمل تھیں۔ چنانچہ شادی والے دن آ پ نے حضورؓ کاعطا کردہ ہار پہن رکھا تھا۔
کپتان عبدالرحمٰن صاحب اوائل عمر سے ہی اوصاف حمیدہ کے حامل اور صالح کردار کے مالک تھے۔ نہایت سادہ مزاج، مہمان نواز اور ملنسار تھے۔ تصنع اور بناوٹ سے کوسوں دور۔ ہمیشہ راضی برضا رہنے والے اور ہرحال میں اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرنے والے تھے۔ دوسروں کی مدد پر ہر وقت آمادہ رہتے۔
آپ اوائل عمر ہی سے حضرت مسیح موعودؑ اور سلسلہ سے سچی محبت اورعقیدت رکھتے تھے اور خلفاء وقت کی ہر تحریک پر لبیک کہنے والے تھے۔ ابھی نویں جماعت میں تھے کہ دوستوں کے مجبور کرنے پر کسی غیرازجماعت ملاّ کی تقریر سننے گاؤں کی مسجد میں چلے گئے۔ جب ملاّ نے حسب روایت حضرت مسیح موعودؑ اور جماعت احمدیہ پر کیچڑ اچھالنا شروع کیا تو آپ برداشت نہ کرسکے اور کھڑے ہوکر ملاّ سے مخاطب ہوکر کہا کہ ہمارے دیہاتی ماحول میں کنجری جب سرمحفل ہیر نہ سنائے تو لوگ اسے کنجری نہیں کہتے اسی طرح اگر مولوی احمدیت پر کیچڑ نہ اچھالے تو لو گ اسے مولوی نہیں سمجھتے۔ لیکن اے مولوی! خدا اپنے پیارے بندوں کو برا بھلا کہنے والوں کو معاف نہیں کیا کرتا ، ان کا انجام بہت بُرا ہوتاہے۔
بات بڑھتی دیکھ کر کپتان صاحب کے دوست آپ کو مسجد سے باہر لے گئے۔ دوسری طرف وہ ملاّ چند روز بعد ایک حادثہ میں مر گیا اور گاؤں میں ایک عرصہ تک اس ایمان افروز واقعہ کا چرچارہا۔
سکندرآباد میں جب پہلی دفعہ آپ کا جانا ہوا تو آپ نے پسند نہ کیا کہ ایک انسان یکّہ میں بیٹھا ہو اور دوسرا انسان اس کو کھینچ رہا ہو۔ لیکن ایک کوچوان نے جب بڑا اصرار کیا تو آپ نے کہا کہ تم میرا سامان گاڑی میں رکھ لو مَیں تمہارے ساتھ پیدل چلوں گا۔ اس پر کوچوان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کہنے لگا: اصل بات یہ ہے کہ میرے مرشد پنجاب کے رہنے والے ہیں اور میرے حالات ایسے نہیں کہ پنجاب جا سکوں اوروہاں جا کر اپنے مرشد کے خلیفہ میاں محمود کی زیارت کرسکوں۔ آپ پنجاب سے آئے ہیں آپ کو یکّہ پر بٹھاکرسمجھوں گا کہ مَیں نے اپنے مرشد کے ہم وطن کی خدمت کی ہے۔ یہ سن کر آپ نے کوچوان کو گلے سے لگا کر بتایاکہ وہ بھی اسی مرشد کے پیرو ہیں اور حضرت صاحب بہت جلد سکندرآباد آنے والے ہیں۔ آپ جب بھی اس یکّہ بان کا ذکر کرتے تو آنکھیں نمناک ہو جاتیں۔
کپتان عبدالرحمن کی شادی ہوئی تو دوسری عالمگیر جنگ چھڑ گئی۔ سنگاپور کے محاذ پر آپ جاپانیوں کے ہاتھوں قیدی بنائے گئے لیکن دوران قید خندق کھودکر چند دیگر ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوگئے۔ جنگلوں اورویرانوں میں ایک لمبا عرصہ بھٹکنے کے بعد جب دہلی پہنچے تو ایک غلط فہمی کی بناپر لال قلعہ دہلی کے زیرزمین قید خانہ میں ڈال دئے گئے۔ مقدمہ چلا تو بہت سے قیدیوں کو سزائے موت دیدی گئی جبکہ آپ باعزت بری ہوگئے۔
آپ بیان کیا کرتے تھے کہ لال قلعہ کی قید میں ماہ رمضان آگیا۔ اذان کی آواز قلعہ کے اندر آتی تھی لیکن روشنی کا گزر نہ تھا۔ ایسے حالات میں آپ نے رات کی روٹی بچاکر صبح پانی کے ساتھ کھاکر روزے رکھے۔ آپ بتایا کرتے تھے کہ جوسرور اور لطف زمین دوز قید تنہائی میں نمازوں میں آتاتھا، وہ بیان نہیں ہوسکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کے صبر اور استقامت کو شرف قبولیت بخشا اور آپ باعزت بری ہو کر اپنے گھرآئے۔
آپ 1953ء میں 39سال کی عمر میں فوج سے ریٹائرڈ کردئے گئے۔دل میں بڑا شوق تھا کہ مرکز سلسلہ ربوہ میں رہائش اختیار کریں۔ چنانچہ ربوہ آکر گزر بسر کیلئے لکڑی کا ٹال لگایا۔ کچھ عرصہ آڑھت کا پیشہ اختیار کیا، ایک میڈیکل سٹور میں بھی حصہ ڈالا لیکن ان میں سے کوئی کام اچھا نہ لگا۔ چنانچہ 1957ء میں بطور سویلین آفیسر، فوج میں ملازم ہوگئے اور آرڈیننس میں سیکورٹی آفیسر بن کر کوئٹہ چلے گئے۔ 1963ء میں آپ کی تبدیلی لاہور ہوگئی۔
آپ تحریک جدید کے دفتراول کے مجاہد تھے۔ 22سال کی عمر میں وصیت کی توفیق پائی تھی۔ سالہا سال لاہور چھائونی کے سیکرٹری مال رہے، تمام لازمی و طوعی چندوں میں بڑے باقاعدہ تھے۔ آپ کا چندہ ہمیشہ فاضلہ رہا۔ سرکاری واجبات کی ادائیگی بھی بروقت اور پوری احتیاط سے کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ارشاد پر جب مَیں ریڈیو لائسنس بنوانے گیا یا ایک کوٹھی کے کرایہ پر انکم ٹیکس دینے گیا تو متعلقہ سرکاری اہلکار حیران ہوکر کہتے کہ آجکل کون ریڈیو لائسنس چیک کرتا ہے۔ یا اب تو اصل آمد چھپائی جاتی ہے لیکن آپ کوٹھی کے کرایہ پر بھی ٹیکس دیتے ہیں۔
1974ء میں آپ کی اہلیہ محترمہ اچانک وفات پاگئیں تو نوبچوں کی ساری ذمہ داریاں آپ نے تنہا صبر و شکرسے نبھائیں، تعلیم دلائی اور شادیاں کیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں