کھاریاں کا تاریخی پس منظر اور چند غلامان احمدیت کا تذکرہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے 12جنوری 2012ء میں شاملِ اشاعت مکرم لئیق احمد ناصر چوہدری صاحب کے ایک مضمون میں کھاریاں شہر کا تعارف اور وہاں کے چند معروف خدمتگزار احمدیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
ضلع گجرات اُن اضلاع میں شامل ہے جن کے بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے خاص طور پر ذکر فرمایا تھا کہ وہاں کے لوگوں نے بکثرت حق کو قبول کرنے کی سعادت پائی ہے۔ اس ضلع کے شہر کھاریاں کے بارہ میں تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب سکندراعظم یہاں سے گزرا تو اس وقت بھی کھاری نامی بستی یہاں آباد تھی۔ بعد میں بھی سلطان محمود غزنوی، بہلول لودھی، براہیم لودھی، شیرشاہ سوری، مغل بادشاہوں ظہیرالدین بابر، ہمایوں، جلال الدین اکبر، جہانگیر، اورنگ زیب عالمگیر، بلکہ نادرشاہ سے احمدشاہ ابدالی تک اورسکھاشاہی سے انگریزی راج تک اور پھر قائداعظم سمیت دنیا کی تاریخ بدلنے والے کئی نامور جرنیلوں کا گزر اس بستی سے ہوا۔ لیکن روحانی برکت اس بستی کو اُس وقت عطا ہوئی جب سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کرم دین بھین کے سلسلہ میں جہلم کے سفرکے دوران یہاں سے گزرے۔ آپؑ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لوگوں کا ایک جم غفیر کھاریاں ریلوے سٹیشن پر ایک دن پہلے سے جمع تھا ۔ تب سوائے چند ایک کے کھاریاں کی ایک بہت بڑی تعداد نے احمدیت قبول کرلی۔ کئی لوگ گاڑی کے پیچھے پیچھے دیوانہ وار پیدل جہلم تک گئے۔ یہاں کے کئی احمدی احباب کچھ روزقبل ہی لنگر اور پہرے کے انتظام کی غرض سے جہلم جاچکے تھے۔
’’تاریخ احمدیت‘‘ میں اس بستی کے کئی افراد خاموش خدمتگزاروںکی طرح کھڑے نظر آتے ہیں۔ ذیل میں صرف ایسے منتخب احباب کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو کامیاب زندگی گزار کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہوچکے ہیں۔
صفِ اوّل میں حضرت حافظ مولوی فضل دین صاحبؓ (جو 313 صحابہ میں شامل تھے) نظر آتے ہیں۔ آپؓ احمدی ہونے سے قبل کھاریاں کی جامع مسجد کے خطیب تھے۔ مدرسہ دیوبند کے پڑھے ہوئے تھے۔ آپؓ کے ذریعہ سے ہی کھاریاں میں احمدیت کا نفوذ ہوا۔ آپؓ بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہیں۔
حضرت مولوی صاحبؓ کے پیچھے اَوربہت سے انتہائی سادہ مگر پُرنور چہرے بھی نظرآتے ہیں۔ جن میں مثلاً حضرت چوہدری غلام محمدصاحبؓ ڈوگہ، حضرت چوہدری حسن محمد صاحبؓ سیر، حضرت چوہدری غلام محمد صاحبؓ سیر، حضرت میاں نوردین صاحبؓ کاشمیری اور حضرت چوہدری کرم دین صاحبؓ کسانہ وغیرھم شامل ہیں۔
پھر ایک صف ان جاں نثاروں کی ہے جنہوں نے اپنی جان کانذرانہ پیش کیا۔ اس صف میں وہ باریش سجیلا جوان کھڑاہے، جس نے قادیان کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کی، یعنی مکرم چوہدری نیازعلی صاحب۔ اور پھر سانحہ لاہور 2010ء میں 35 گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہونے والے مکرم فداحسین صاحب اور مکرم میاں مبشر احمد صاحب کاتعلق بھی اسی سُندر بستی سے تھا۔
تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی اس بستی کے کئی فرزند شامل ہیں مثلاً مکرم ماسٹر چوہدری محمد خاں صاحب (پیدائش 25 دسمبر 1900ء، وفات 1945ء ۔ پیدائشی احمدی)۔ جب حضرت مسیح موعودؑ یہاں تشریف لائے تو اس وقت آپ کی عمر 4 سال تھی۔ آپ کے والد (حضرت چوہدری غلام محمد صاحبؓ ڈوگہ) نے آپ کواٹھاکرزیارت کروائی، آپ کوخواب کی طرح کچھ کچھ یاد تھا۔ آپ کے نانا مکرم چوہدری بہاول بخش صاحب آف پنجن کسانہ ذیلدار تھے۔ (انگریز کے زمانہ میں ذیلدار تحصیلدارکے ماتحت ہوتا تھا جبکہ ہر ذیلدار کے نیچے چار پانچ سرپنچ یا سفیدپوش ہوتے تھے اور ہر سرپنچ کے ماتحت چار پانچ نمبردار ہوا کرتے تھے۔ جبکہ نمبردار اپنے گاؤں کا حاکم ہوتا تھا)۔ Gazetter of the Gujrat District 1921 میں 1920ء کے ضلع گجرات کے بورڈ کے ممبرزمیں آپ کا نام بھی شامل ہے۔ اسی طرح ضلع کے ذیلدار میں بھی آپ کا نام شامل ہے۔
اسی گزٹ میں مکرم ماسٹر چوہدری محمدخاں صاحب کانام بھی ضلع کے سرپنچوں میں شامل ہے۔ آپ کھاریاں کے پہلے شخص تھے جس نے نسبتاً اعلیٰ دنیاوی تعلیم حاصل کی۔ آپ ہیڈماسٹر تھے اورتین ہائی سکول آپ کے زیرنگرانی چل رہے تھے۔ (آجکل یہ پوسٹ ایجوکیشن آفیسر کہلاتی ہے۔) آپ نے اپنا سنٹرکھاریاں کو چھوڑ کر ایک قریبی گاؤں ’سہنہؔ‘ کوبنایا تاکہ وہاں کی نگرانی ہوسکے۔ اس طرح خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کی خدمت کی۔ آپ کو علم سے اور ہر کسی کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کا بے حد جذبہ تھا۔ چونکہ آپ کے والد حضرت چوہدری غلام محمدصاحب جلد وفات پاگئے تھے اس لئے جلد ہی آپ پر سارے خاندان کی ذمہ داری آگئی۔ زمینداری اور ملازمت کے علاوہ بھرپور جماعتی کام کرتے۔ لمباعرصہ تک آپ نے بطور سیکرٹری مال وضیافت کام کیا۔ مجلس شوریٰ میں نمائندگی کا کئی بار موقع ملا۔آپ کاگھر مرکز نماز ہونے کے علاوہ ہر قسم کی جماعتی، علمی، ادبی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ جب نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے سلسلے میں کھاریاں تشریف لائے تو آپؓ بھی انہی کے ہاں قیام فرما ہوئے۔
محترم ماسٹر محمد خان صاحب نہایت متقی، پرہیزگار، بارعب، بہت ملنسار اور ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ لوگ آج بھی آپ کو یاد کرتے ہیں۔ سہنہؔ کے لوگ آپ کو کہا کرتے تھے کہ اگر آپ احمدیت چھوڑدیں توہم آپ کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ جواب دیتے کہ یہ احمدیت ہی کی تو برکت ہے ورنہ آپ کویہ خیال بھی نہ آئے۔ آپ ہمیشہ سفید لباس پہنتے۔ آپ نے صرف 45 سال کی عمر میں وفات پائی۔
تحریک جدید کے مجاہدین میں مکرم حافظ چوہدری غلام محی الدین صاحب، مکرم چوہدری فضل الٰہی صاحب (سابق امیر)، مکرم چوہدری غلام مصطفی صاحب، مکرم چوہدری سعدالدین صاحب وغیرہم بھی شامل ہیں۔
کھاریاں کے وہ مبلغین جو حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر دعوت الی اللہ کے لئے بیرون ملک چلے گئے اُن میں مکرم حاجی احمد خاں ایاز صاحب نمایاں ہیں۔ آپ نے پولینڈ اور ہنگری میں خدمت کی توفیق پائی۔ کچھ عرصہ امیرجماعت کھاریاں بھی رہے۔ فرقان فورس کے بھی مجاہد تھے۔ آپ نے لاء کیا ہوا تھا اور کھاریاں کے پہلے وکیل بھی تھے۔ آپ کی کوششوں سے ہی کھاریاں میں عدالتیں قائم ہوئیں۔
درویشان قادیان کی صف میں کھاریاں کے مکرم چوہدری سکندرخاں صاحب موجود ہیں۔ آپ نے قادیان میں مختلف حیثیتوں سے خدمت کی اور اپنے حلقہ کے صدر بھی رہے۔ بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔
حفّاظ قرآن کی صف میں دو فرشتہ صفت بزرگ نظر آتے ہیں یعنی حضرت حافظ مولوی فضل دین صاحب اور مکرم حافظ چوہدری غلام محی الدین صاحب۔ حضرت حافظ مولوی فضل دین صاحب مدرسہ قادیان کے دینیات کے پہلے استاد تھے۔ آپ ایک متبحر عالم اورعالم باعمل انسان تھے۔ اسی طرح مکرم حافظ چوہدری غلام محی الدین صاحب (پیدائش 1895ء، وفات 30؍اکتوبر 1976ء، مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) پیدائشی احمدی تھے۔ جب حضرت مسیح موعودؑ کھاریاں اسٹیشن سے گزرے تو آپ کے والد حضرت چوہدری حسن محمد صاحبؓ سیر نے آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر زیارت کروائی۔ آپ بیان کرتے تھے کہ مجھے وہ عجیب نظارہ کبھی نہیں بھولتا۔ اس کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا نورانی چہرہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ ایک خواب سا لگتا تھا۔ حضور مسلسل زیرلب کچھ درود اور دعائیں وغیرہ پڑھ رہے تھے۔ پھرہم کئی لوگ ٹرین کے پیچھے پیچھے پیاسوں کی طرح بیتاب پیدل جہلم تک گئے۔
مکرم حافظ چوہدری غلام محی الدین صاحب کو قرآن کریم سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ ہر وقت حمائل شریف اپنے پاس رکھتے۔ کھیتوں میں بھی جب وقت ملتا تو وضوکرتے اور تلاوت شروع کر دیتے۔ آپ نے اپنے ذاتی شوق سے خود ہی قرآن کریم حفظ کیا۔ پنجابی ترجمہ بھی اسی روانی سے یاد تھا۔ قرآن کریم ناظرہ وترجمہ پڑھایا بھی کرتے تھے۔ لمبا عرصہ رمضان میں قادیان جاکر مختلف مساجد میں نماز تراویح بھی پڑھاتے رہے۔
کھاریاں میں احمدیوں کے خلاف فسادات کے دوران 10جولائی 1974ء کو غنڈوں نے مکرم چودھری شریف احمد صاحب ابن مکرم ماسٹرچوہدری محمد خاں صاحب کے مکان پر حملہ کرکے سارا سامان لُوٹ لیا اور گھر کو آگ لگادی۔
مکرم چوہدری شریف احمد صاحب کے والد کی وفات اُس وقت ہوئی جب آپ ابھی نویں جماعت کے طالبعلم تھے۔ بڑا ہونے کی وجہ سے گھرکی تمام ذمہ داریاں آپ پر آگئیں۔ آپ نے خود زمینوں کو سنبھالا، اپنی تعلیم مکمل کی اور چھوٹے بھائیوں کو پڑھایا۔ تعلیم الاسلام کالج لاہور میں بھی زیرتعلیم رہے۔اسی لئے آپ کا حضرت خلیفۃالمسیح الثالث اور حضرت خلیفۃالمسیح الرابع سے بہت گہرا پیار کا ذاتی تعلق تھا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ نے ملٹری انجینئرنگ سروس کو Join کیا اور سب ڈویژنل آفیسرکے عہدے پر فائز رہے۔ نہایت باوقار، قابل، خوش خط اورخوش لباس تھے۔ جماعتی کاموں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے۔ امورعامہ، وصایا اورصدسالہ جوبلی فنڈ کے سیکرٹری بھی رہے۔ کھاریاں کی موجودہ مسجد ’’بیت الحمد‘‘ آپ ہی نے تعمیر کروائی اور پھر دو مرتبہ توسیع بھی کروائی۔ اسی طرح موجودہ احمدیہ قبرستان، جنازہ گاہ اور اس سے ملحقہ کوارٹرز بھی آپ ہی نے تعمیر کروائے۔ بہت لمبا عرصہ تک مجلس شوریٰ میں کھاریاں کی نمائندگی کی توفیق پاتے رہے۔ کئی دیگر خوبیوں کے علاوہ ایک بہت ہی نمایاں خوبی یہ تھی کہ آپ بہت ہی اعلیٰ پایہ کے مشیر تھے۔ مکرم امیر صاحب ہر معاملہ میں آپ سے ضرور مشورہ کرتے۔ ہرطرح کے لوگ آپ سے مختلف النوع مشورے لیتے۔ چنانچہ حلقہ احباب بہت ہی وسیع تھا۔ جس میں ہر عمر، ہر طبقہ اور ہر مذہب کے لوگ تھے۔ بہت ہی غریب پرور اور اسم بامسمیٰ تھے۔طبیعت میں بلاکی نفاست اور نظم تھا۔ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کاخیال رکھتے کہ جن کے متعلق اکثرایک عام آدمی سوچتا بھی نہیں۔
1974ء کے فسادات میں مکرم ماسٹر چوہدری محمدخاں صاحب کے چھوٹے بھائی مکرم کرنل چودھری اکبرعلی صاحب پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ مکرم کرنل صاحب کچھ عرصہ امیرجماعت کھاریاں بھی رہے۔ ویسے بھی معروف شخصیات میں سے تھے اور بڑی خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ خلافت کا بیحد ادب کرتے۔
مکرم چوہدری رشیدالدین صاحب بھی لمبا عرصہ امیر جماعت کھاریاں اور امیر ضلع گجرات بھی رہے۔ بہت اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ کام سے تھکتے نہیں تھے اور نہ ہی کسی کام میں عار محسوس کرتے تھے۔ اپنے ہاتھ سے مسجد کی باہر کی نالیوں تک کی صفائی کرتے۔ آپ کا دروازہ ہر وقت ہر کسی کے لئے کھلا رہتا تھا۔ مہمان نواز اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ مگر دنیا کے داؤ پیچ بھی جانتے تھے اور کچہری تھانوں کے معاملات احسن طریق پر نبٹاتے تھے۔ خالصتاً پنچائت کے آدمی تھے۔ 1989ء کے فسادات کے بعد آپ نے اپنے آرام کی پروا کئے بغیر چک سکندروالوں کی بہت مدد کی۔
مکرم محمد یعقوب امجد صاحب آف کھاریاں کو جامعہ احمدیہ میں اردو اور فارسی کے استاد کے طورپرخدمت کی توفیق ملی۔ نیز آپ کو قرآن کریم اور متعدد دینی کتب کا پنجابی ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ ایک بہترین استاد، بلند پایہ نثرنگار اور عمدہ شاعر تھے۔ آپ کے مضامین مختلف ناموں سے اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہتے تھے۔ آپ کا ایک معروف قلمی نام ’طوسی یزدانی‘ بھی تھا۔ آپ نے کئی مضامین میں ماسٹر اور فاضل کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی۔ جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی طرف سے آپ کو قرآن کریم کے پنجابی ترجمہ کرنے کا ارشاد ہوا تو اُس وقت آپ پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ آپ نے تعلیم کو وہیں چھوڑا اور حضورؒ کے ارشاد کی تعمیل میں فوراً ترجمہ کا کام شروع کر دیا۔ آپ کو جنون کی حد تک پڑھانے کا شوق تھا اور اس کے لئے پوری تیاری اور محنت کرتے۔ طلباء کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے۔ لیکن کلاس میں جس قدر سخت تھے، باہر اسی قدر شفیق تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں