گلشن پہ جب خزاؤں کے دن شاق ہو گئے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26جولائی 2011ء میں شہدائے لاہور کے حوالہ سے مکرم اطہر حفیظ فراز صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

گلشن پہ جب خزاؤں کے دن شاق ہو گئے
ہم ہی بہار و باغ کے مصداق ہو گئے
حسنِ ازل پہ لکھے تو قیمت ہی بڑھ گئی
اشعار میرے شہرۂ آفاق ہو گئے
گردن کٹے قبول ہے ، پرچم نہ ہو نگوں
ازبر ہمیں وفاؤں کے اسباق ہو گئے
ساغر سُبو کے ساتھ جو کرتے تھے صبح و شام
مانا تجھے تو صاحبِ اخلاق ہو گئے
جس نے فرازؔ سجدے میں جاں تک نثار کی
اس کے حساب دنیا میں بے باق ہو گئے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں