گلیلیو اور چرچ

شعور پانے کے بعد جب انسان نے کائنات کا مطالعہ شروع کیا تو کائنات کے بارے میں پہلا معروف نظریہ ارسطو نے یہ پیش کیا کہ زمین ساکن اور کائنات کا مرکز ہے۔ پھر صدیوں بعد پولینڈ کے ایک ذہین سائنسدان کوپرنیکس نے نصف صدی کی تحقیقات کے بعد 1533ء میں روم میں لیکچر دیئے اور ارسطو کے نظریہ کو غلط ثابت کیا۔ ان لیکچرز کے مہمان خصوصی خود پوپ کلیمنٹ ہفتم تھے۔ اُس وقت کیتھولک چرچ کی طرف سے نئے نظریہ کی کوئی مخالفت نہ کی گئی لیکن جب کوپرنیکس کی کتاب جرمنی میں شائع کرنے کی کوشش کی گئی تو پروٹسٹنٹ تحریک کے بانی مارٹن لوتھر نے اس کی مخالفت کی۔ لیکن پرانے نظریات اتنے مقبول تھے کہ کوپر پہلے تو اپنی تحقیق کی اشاعت سے ہچکچاتا رہا اور پھر جب اُس کی آخری کتاب شائع ہوئی تو اُس میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی کہ اُس کا نظریہ محض ایک حسابی مفروضہ ہے۔ 24؍مئی 1543ء کو کوپرنیکس کا انتقال ہوگیا۔
سولہویں صدی میں اگرچہ دوربین کی ابتدائی شکل تیار ہوچکی تھی لیکن سترھویں صدی کے آغاز پر گلیلیو نے اس کی صلاحیت میں اتنا اضافہ کردیا کہ اشیاء بتیس گنا بڑی نظر آنے لگیں۔ جلد ہی گلیلیو نے اپنے مشاہدات اور حسابی نظریات کی بنیاد پر کوپر کے نظریات کی حمایت کا اعلان کردیا۔ گلیلیو پورے یورپ میں اپنی تحقیقات کی بنیاد پر پہلے ہی شہرت یافتہ تھا اور اُس کے مداحوں میں رؤساء کے علاوہ چرچ کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل تھے۔ چنانچہ اُس نے روم کا سفر کیا اور اپنے لیکچرز میں اپنی تحقیق پر روشنی ڈالی۔ چرچ کی طرف سے اب بھی کوئی مخالفت نہ ہوئی۔ لیکن جب 1613ء میں اُس کی کتاب شائع ہوئی جس میں سورج پر پڑنے والے دھبوں کا بھی ذکر کیا گیا تھا تو اُس کی دریافتوں اور انداز بیان نے تہلکہ مچادیا۔ اور کچھ لوگ جو سابقہ نظریات کی تعلیم دیتے دیتے اپنی عمریں بسر کرچکے تھے، وہ نالاں ہوگئے۔ کچھ پادریوں نے بھی گلیلیو کے خیالات کو بائبل کے مخالف قرار دیدیا کیونکہ اس کے نظریہ کی وجہ سے بائبل کی بعض تعلیمات کو منسوخ سمجھنا پڑتا تھا مثلاً یشوع باب 10 میں لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی اموریوں کے پانچ بادشاہوں سے جنگ ہوئی تو حضرت یوشع بن نون کی دعا سے سورج کی حرکت رُک گئی تاکہ دن ہی چڑھا رہے اور بنی اسرائیل اموریوں کو قتل کرکے انتقام لے سکیں۔ چنانچہ گلیلیو پر مقدس کتب سے انحراف کے الزام میں چرچ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ اس پر گلیلیو اور اُس کے شاگرد سائنسدان کیسٹیلی نے بااثر افراد اور چرچ کے عہدیداروں کو خطوط لکھے کہ بائبل میں ایسی جگہوں کے تمثیلی معانی کئے جائیں تو بہتر ہوگا ورنہ حقائق ثابت ہونے کی صورت میں لوگوں کا بائبل پر سے ایمان کلیۃً اُٹھ جائے گا۔ اِن خطوط پر بہت کم لوگوں نے مثبت ردّعمل ظاہر کیا اور آخر کار گلیلیو کو چرچ کی عدالت میں حاضر ہونے کے لئے روم جانا پڑا۔
اُن دنوں ایسے عیسائیوں کو جو اپنے عقائد سے منحرف ہو جائیں چرچ کی طرف سے سزائیں سنائی جاتی تھیں۔ پہلے جائیداد کی ضبطی، گھروں کا منہدم کردینا اور شہری حقوق کی سلبی وغیرہ قسم کی سزائیں دی جایا کرتی تھیں لیکن 1224ء میں پوپ گریگری نہم نے سزائے موت کا قانون بھی جاری کردیا۔ چنانچہ اس کے بعد بعض لوگوں پر مقدمات چلاکر انہیں زندہ جلا دیا گیا یا پھر قید بامشقّت کے لئے باہر بھجوادیا گیا۔ پہلے یہ طریقہ کار صرف فرانس اور اٹلی میں رائج ہوا لیکن پھر کیتھولک چرچ نے اسے اپنے استحکام کے لئے مفید سمجھتے ہوئے جرمنی، ہنگری اور سپین وغیرہ میں بھی رائج کردیا۔
پوپ اینوسینٹ چہارم کا دور آیا تو اُس نے ملزموں پر تشدد کرنے کا بھی حکم دے دیا چنانچہ عیسائیت سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر عقوبت خانے میں پہنچایا جانے لگا جہاں مار پیٹ کی جاتی اور تشدد کے نتیجے میں ملزم اپنا مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی مر جاتا تو بھی مقدمہ اُسی طرح چلتا رہتا اور اگر اُس کا عقائد سے انحراف ثابت ہو جاتا تو پھر ملزم کی قبر اکھیڑ دی جاتی اور ہڈیاں اور گلے سڑے اجزاء کا جلوس شہر میں نکالا جاتا۔ ساتھ میں بگل بھی بجتا تاکہ لوگ متوجہ ہوں۔ پھر ملزم کے باقی ماندہ حصوں کو نذرآتش کردیا جاتا۔ اور یہ مکروہ کھیل صدیوں تک کھیلا جاتا رہا۔
گلیلیو نے روم میں چرچ کے پادریوں کو دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی تو سائنسی دلائل سُن کر پہلے تو وہ چکرا گئے لیکن پھر انہوں نے فیصلہ دیدیا کہ یہ دلائل بے جان ہیں اور زمین سورج کے گرد نہیں گھوم رہی۔ اس کے ساتھ ہی عوام کے لئے تین کتب کا مطالعہ ممنوع قرار دے دیا گیا جن میں سے ایک کوپرنیکس کی کتاب تھی۔ تاہم گلیلیو کی شہرت کے پیش نظر کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھایا گیا اور پوپ جان پال پنجم نے گلیلیو سے ملاقات میں یہ بھی کہا کہ وہ اس کی ذہانت کی قدر کرتے ہیں اور اگر وہ چاہے تو اپنی تحقیق جاری رکھ سکتا ہے لیکن اُسے کوپرنیکس کے خیالات کی کھلم کھلا حمایت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اگلے سات برس گلیلیو نے خاموشی سے اپنے گھر میں تحقیق میں مشغول رہ کر گزارے۔ اس دوران پوپ کا انتقال ہوگیا اور فرانس کے میفیو باربرین نئے پوپ بن گئے جن کے گلیلیو سے ذاتی مراسم تھے۔ اب گلیلیو نے اپنے اوپر سے پابندی ہٹانے کے لئے کوشش شروع کی تو اگرچہ اُسے پوری کامیابی تو حاصل نہ ہوئی لیکن یہ اجازت مل گئی کہ وہ ایک اور کتاب شائع کرسکتا ہے جس میں پرانے اور نئے نظریات کا موازنہ درج ہو اور نتیجہ کوپر نیکس کے حق میں نکالا گیا ہو۔
چنانچہ گلیلیو کی نئی کتاب منظر عام پر آئی جو فلکیات اور ادبی زبان کا شاہکار تھی۔ اگرچہ اس کتاب میں صرف موازنہ کیا گیا تھا اور نتیجہ نہیں نکالا گیا تھا لیکن پرانے پادریوں نے پھر واویلا کیا کہ گلیلیو نے جتنا نقصان عیسائیت کو پہنچایا اتنا کبھی کسی نے نہیں پہنچایا۔ چنانچہ پوپ نے بھی گلیلیو کی مخالفت شروع کردی اور اب اُس پر ایک اور مقدمہ چلا کر اُسے اپنے نظریات سے توبہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ گلیلیو اب بوڑھا ہوچکا تھا چنانچہ اُس نے ہمت ہار دی اور اپنے نظریات سے تائب ہونے کا اعلان کردیا۔ لیکن اس کے باوجود اُسے پہلے قید کی سزا سنائی گئی اور پھر نظربندی کی سزا دی گئی اور اس طرح اُس نے اپنی زندگی کے آخری چند سال اپنے کچھ وفادار شاگردوں کے ساتھ اپنے گھر میں نظربند رہ کر گزارے۔ آخری عمر میں وہ بصارت سے بھی محروم ہوگیا تھا اور آخرکار 1647ء میں اُس کا انتقال ہوگیا۔
آج کوئی ہوشمند شخص گلیلیو کی سچائی پر شک نہیں کرسکتا لیکن چرچ جب اپنی اُس زمانہ کی تاریخ بیان کرتا ہے تو اب بھی سارا الزام گلیلیو کے سر پر ہی ڈالتا ہے۔ چنانچہ مصنف کی رائے میں گلیلیو کو صرف اپنی تحقیق صرف فزکس تک ہی محدود رکھنی چاہئے تھی اور فلکیات میں تحقیق کرنا اُس کی پہلی غلطی تھی۔ دوسرا الزام اُس پر یہ ہے کہ اُس نے اپنے نظریات کے حق میں نامکمل دلائل پیش کئے۔
یہ تحقیقی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29؍ستمبر 1998ء میں مکرم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ جو اپنے مضمون کے آخری حصے میں قرآن کریم کے حوالے سے سائنسی تحقیقات کی تصدیق کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ سورج مسلسل حرکت میں ہے اور وہ اس کہکشاں کے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے اور اُس کی یہ گردش بائیس کروڑ پچیس لاکھ سال میں مکمل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور حرکت، کہکشاؤں کا ایک دوسرے سے دوری کے سفر، کی صورت میں جاری ہے۔ یہ نظریہ 1913ء میں امریکی سائنسدان سلیفر نے پیش کیا تھا اور بعد میں اسی نظریہ پر بگ بینگ تھیوری کی بنیاد رکھی گئی۔ اس تھیوری کے مطابق قریباً بیس ارب سال پہلے تمام مادہ ایک مختصر مقام پر نہایت کثیف حالت میں بند تھا۔ پھر اچانک عظیم الشان قوت کے ساتھ ایک دھماکہ ہوا اور وہ مادہ منتشر ہونا شروع ہوا۔ یہ انتشار آج بھی جاری ہے اور بیس ارب سال پہلے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں جو شعاعیں خارج ہوئی تھیں وہ آج بھی آلات کی مدد سے محسوس کی جاسکتی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں