گلیلیو

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍مارچ 2008ء میں مکرمہ نائلہ نذیر صاحبہ کے قلم سے دُوربین کے موجد گلیلیو کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں یکم دسمبر 1995ء اور 7؍مئی 1999ء کے شماروں کے اسی کالم میں گلیلیو کے حوالہ سے مضامین شامل اشاعت کئے جاچکے ہیں۔
گلیلیو 1564ء میں اٹلی کے شہر پیسا (Pisa) میں پیدا ہوا۔ اس کا پورا نام گلیلیو گیلی تھا۔ گلیلیو کا باپ ایک عالم آدمی تھا اور اُس نے گلیلیو کو ایک میڈیکل کالج میں داخل کرادیا۔
گلیلیو ہر چیز پر غور کرنے کا عادی تھا۔ ایک روز گرجے کی چھت پر لٹکے ہوئے لیمپ کو ہوا سے جھولتا دیکھا تو پنڈولم کا سائنسی اصول معلوم کیا۔ پنڈولم والی گھڑی گلیلیو کی رہنمائی میں اس کے لڑکے نے تیار کی تھی۔ ایک روز گلیلیو نے اپنے اُستاد سے اختلاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھاری اور ہلکی چیزیں اوپر سے گرائی جائیں تو ایک ہی وقت میں زمین پر گریں گی۔ پھر اُس نے اپنے استاد کی موجودگی میں مختلف وزن کی دو اینٹوں کو اونچے مینار سے پھینک کر اپنا دعویٰ ثابت بھی کردیا۔لیکن اس پر استاد اتنا ناراض ہوگیا کہ گلیلیو کو تعلیم چھوڑ دینا پڑی۔ اور وہ اٹلی کے دوسرے شہر پیڈوا (Padua) چلا گیا جہاں ریاضی کے مشہور عالموں سے تعلیم حاصل کرتا رہا۔ گلیلیو جلد ہی اتنا قابل ہوگیا کہ اُسے پیڈوا یونیورسٹی میں ریاضی کا پروفیسر مقرر کر دیا گیا۔
گلیلیو نے 1602ء میں تھرمامیٹر ایجاد کیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک اور آلہ ایجاد کیا جس سے انسان کی نبض کی رفتار معلوم کی جاسکتی تھی۔ اِن ایجادات سے اُسے بہت شہرت اور عزت ملی۔ پھر اُسے معلوم ہوا کہ بیلجیئم کے ایک آدمی نے ایک آلہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے دُور کی چیزیں بڑی نظر آتی ہیں لیکن ہر چیز الٹی نظر آتی ہے۔ گلیلیو یہ سن کر دُوربین بنانے میں مصروف ہوگیا اور جلد ہی کامیابی حاصل کرلی۔ اُس نے سمندر کے کنارے اپنی ایجاد کا مظاہرہ کیا تو گلیلیو کی شہرت مزید بڑھ گئی۔ لوگوں کے اصرار پر اُس نے چند کاریگر ملازم رکھ لئے اور دُوربینیں بناکر بیچنے لگا۔
جب اُس نے دُور بین کی مدد سے آسمان کا جائزہ لیا تو پرانی (مذہبی) روایات کو حقیقت کے برخلاف پایا۔ چنانچہ اُس کے اِس اعلان پر کہ کائنات کا مرکز زمین نہیں ہے بلکہ زمین تو خود سورج کے گرد گھومتی ہے، پادریوں نے اُس کی شدید مخالفت شروع کی۔ پھر گلیلیو وینس سے فلورنس اپنی بیٹی کے پاس چلاگیا۔ دُور دُور سے نوجوان طالب علم اُس کے پاس یہاں بھی آنے لگے۔ اس پر پادریوں نے پھر واویلا کیا اور بائبل کی تعلیمات کو جھٹلانے پر پوپ نے گلیلیو کو روم بلایا۔ جہاں مذہبی عدالت میں اُس پر بے دینی کا مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے اُسے اپنی متنازعہ تحقیق کو دوسروں تک پہنچانے سے حکماً منع کردیا۔
روم سے واپس آنے کے بعد گلیلیو نے خوردبین ایجاد کی۔ اور ایک کتاب لکھی جس میں چاند، سورج، ستاروں اور زمین کے متعلق اپنے خیالات کو دلائل کے ساتھ بیان کیا۔ اس پر پوپ نے گلیلیو کو پھر روم طلب کیا اور اس پر دوبارہ مقدمہ چلایا گیا۔ اب گلیلیو بہت بوڑھا اور بیمار تھا۔ اُس نے مذہبی عدالت کو سائنس کے اصول سمجھانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ چنانچہ اُس کو مذہب کی مخالفت کا مجرم قرار دے کر اُس کی کتاب ضبط کر لی گئی اور دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے اپنے خیالات نہ بدلے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ عدالت کے حکم پر گلیلیو نے ایک کاغذ پر دستخط کردئیے جس میں تحریر تھا کہ سورج، چاند اور زمین کے متعلق اس کے نظریات غلط تھے اور اب وہ قائل ہوگیا ہے کہ زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ گلیلیو کو شاگردوں کو تعلیم دینے کی اجازت بھی نہ تھی۔
کچھ عرصہ بعد گلیلیو اندھا ہوگیا اور اس کے لئے لکھنا پڑھنا اور تجربے کرنا بھی ممکن نہ رہا۔ 78 سال کی عمر (1642ء) میں وہ دنیا سے رخصت ہوگیا۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/rJp73]

اپنا تبصرہ بھیجیں