گیلیلیو

عظیم سائنسدان گیلیلو 15؍فروری 1564ء کو اٹلی میں پیدا ہوئے۔ زمانہ طالبعلمی سے ہی انہوں نے پرانے اصولوں کی مخالفت شروع کردی لیکن ان کی شہرت کا آغاز ارسطو کے اس اصول کو غلط ثابت کرنے سے ہوا کہ بھاری اشیاء ہلکی اشیاء سے جلدی نیچے گرتی ہیں۔ 1602ء میں انہوں نے تھرما میٹر ایجاد کیا اور پھر دوربین کی ایجاد نے انہیں سائنس کے میدان میں نمایاں مقام پر لا کھڑا کیا۔گیلیلیو نے ایک عمدہ دوربین بنا کر اجرام فلکی کا مشاہدہ کیا اور چاند، سورج اور کہکشاں کے بارہ میں کئی حقائق بیان کئے۔ انہوں نے اس ہزار سالہ مذہبی عقیدہ کو باطل قرار دے دیا جس کے مطابق زمین کائنات کا مرکز ہے اور دیگر سارے اجرام اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اس حقیقت کے اظہار کے بعد مذہبی راہنما ان کے خلاف ہوگئے چنانچہ گیلیلو روم چلے گئے لیکن ان کی وضاحت کے باوجود مذہبی لیڈروں کی عدالت نے انہیں تنبیہہ کی ۔ 1634ء میں گیلیلیو نے اپنی کتاب میں سورج کو نظام شمسی کا مرکز قرار دیا تو اس اعلان کے ساتھ ہی ان کی مخالفت میں شدت آگئی۔
37ء میں گیلیلیو بینائی سے محروم ہوگئے اور 1642ء میں 80 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ مذہبی راہنماؤں کے دباؤ کی وجہ سے نہ ان کا جنازہ اٹھایا گیا اور نہ مقبرہ تعمیر ہوا لیکن مستقبل نے ثابت کردیا کہ انسان استقامت کے ساتھ سچائی پر قائم رہے تو اس کا نام زندہ رہتا ہے اور اس کے مخالف گمنام ہو جاتے ہیں۔ گیلیلیو کے بارے میں مکرمہ فائزہ ملہی صاحبہ کا یہ مضمون ماہنامہ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ اکتوبر 1995ء میں شاملِ اشاعت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں