گی آنا میں اسلام اور احمدیت کا آغاز

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18؍دسمبر 2004ء اور 4؍جولائی 2005ء میں مکرم میر غلام احمد نسیم صاحب کے قلم سے دو مضامین شامل ہیں جن میں جنوبی امریکہ کے ملک گی آنا کا تعارف کروایا گیا ہے اور یہاں اسلام اور احمدیت کی آمد اور ترقی کا مختصر ذکر کیا گیا ہے۔
گی آنا کو استعماری طاقتوں نے اپنی نوآبادیاتی یلغار کے وقت تین حصوں میں تقسیم کر لیا تھا۔ اس طرح ان حصوں کے الگ الگ نام برٹش گی آنا، ڈچ گی آنا اور فرنچ گی آنا قرار پائے۔ ان میں سے برٹش گی آنا نے مئی 1966ء میں آزادی کے بعد ’’گی آنا‘‘ نام اختیار کر لیا اور باقی دونوں علاقے ابھی تک ہالینڈ اور فرانس کی نوآبادیاں ہیں۔
گی آنا کے معنی پانیوں کی زمین کے ہیں۔ ہر طرف دریا ہی دریا ہیں۔ بعض دریا غیرمعمولی نوعیت کے ہیں۔ بعض جگہ ان کی چوڑائی میلوں تک ممتد ہے۔ اکثر دریائوں میں جہاز رانی ہوتی ہے۔آبادی زیادہ تر ساحلی علاقوں تک محدود ہے۔ اندرونی علاقے غیرآباد اور جنگلات سے پٹے پڑے ہیں۔ آب و ہوا معتدل ہے۔ بارش کثرت سے ہوتی ہے۔ پیداوار میں گنا اور چاول مشہور ہیں۔ پھول بھی کثرت سے ہوتے ہیں۔
سولہویں صدی سے قبل کی تاریخ پردہ اخفاء میں ہے۔ نوآباد جب وہاں پہنچے تو بغیر کسی بڑی لڑائی کے علاقہ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ وہاں کے اصل باشندے نہ تو جدید فنون حرب سے واقف تھے اور نہ ہی اتنے منظم کہ حملہ آوروں کا مقابلہ کر سکیں۔ استعماری طاقتوں کو اگر کہیں لڑائی کرنی پڑی تو وہ آپس میں ہی تھی۔ اصل باشندوں نے جنگلوں اور پہاڑوں میں پناہ لے لی اور اب تک دُور دراز علاقوں میں ان کی بستیاں ملتی ہیں۔ ان کو امریکن انڈین کہا جاتا ہے جو بہت ہی کم تعداد میں ہیں اور اب بھی نئی تہذیب سے نابلد، پہاڑوں اور جنگلوں میں رہائش پذیر ہیں۔
نوآباد جب وہاں قابض ہوئے تو ان کو زرخیز زمینوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے مزدوروں کی ضرورت پیش آئی۔ انہوں نے غلاموں کو خریدنا شروع کیا لیکن جلد ہی غلامی غیرقانونی قرار پاگئی تو ہندوستان، انڈونیشیا، چین اور پرتگال سے ایسے لوگ لے جائے گئے جو گنے کے کھیتوں میں کام کرسکیں۔ اس طرح وہاں کی آبادی چوں چوں کا مربہ بن گئی۔
گی آنا کی آبادی، تمدن اور مذہبی حالات کو جزائر غرب الھند (West Indies)سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ وہاں تک رسائی کا ذریعہ یہی جزائر رہے ہیں۔ گی آنا میں اسلام کی داستان بھی ان جزائر سے الگ ہو کر بیان نہیں کی جا سکتی۔ بحر اوقیانوس کے یہ چھوٹے چھوٹے جزائر کولمبس نے دریافت کئے تھے۔ ان جزائر میں پہنچ کر اس کا خیال تھا کہ وہ ہندوستان کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اور یہ جزائر یورپ کو مغرب کی طرف سے ہندوستان سے ملاتے ہیں۔ چنانچہ اس وجہ سے اس نے ان جزائر کو West Indies کا نام دیدیا۔
17ویں صدی میں افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کو یہاں غلامی کے لئے لایا جانے لگا۔ پرتگالی اس سے قبل ہی مغربی افریقہ سے غلاموں کی تجارت کر رہے تھے۔ پھر سپین کی حکومت نے باقاعدہ اجازت نامے جاری کئے کہ افریقنوں کو غلاموں کے طور پر ان جزائر میں لایا جائے بشرطیکہ وہ عیسائی ہوں۔ اس تجارت کا کھلنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق کوئی دو کروڑ لوگ نئی دنیا میں پہنچا دیئے گئے۔ ایک انگریز John Hawkin پہلا شخص تھا جس نے مغربی افریقہ کے پرتگالی علاقہ سے غلامی کی تجارت کا آغاز کیا۔ 1562ء میں اس نے لنڈن کے بعض تاجروں کو اپنا ہمدرد بنا لیا اور اس طرح غلاموں کی تجارت کی اجازت حاصل کر لی۔ افریقہ کے قبائلی سرداروں نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں انسانوں کو یورپین تاجروں کے ہاتھوں فروخت کرنا شروع کر دیا۔ جوں جوں غلاموں کی قیمت بڑھتی گئی، یہ صورت ہو گئی کہ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر چھوٹا موٹا حملہ کرتا اور کچھ لوگوں کو پکڑ کر یورپ کے تاجروں کے ہاتھ فروخت کر دیتا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ بعد میں سردار اپنے ہی قبیلہ کے آدمی تاجروں کے ہاتھ فروخت کر دیتے۔
چونکہ غلام جنگی قیدی ہوتے تھے اور بعض دفعہ کسی قبیلہ کے سردار یا اس کے رشتہ دار بھی غلام بننے پر مجبور کر دیئے جاتے تھے لہٰذا جب وہ اکٹھے ہوتے تو ان میں سے کوئی نہ کوئی ایسا آدمی نکل آتا جو ان کو منظم کر سکے۔ چنانچہ 17ویں صدی میں بہت سی جگہ ان غلاموں نے بغاوتیں بھی کیں۔ بغاوتوں سے بچنے کے لئے مالک ان کو ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے سے روکتے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات مذہبی رسوم ادا کرنے سے بھی روک دیا جاتا۔ قانونی شادی بھی نہ کرنے دی جاتی اور ان کے بچوں کو دوسری جگہ بیچ دیا جاتا۔ باغی کو میخوں سے لکڑی کے تختہ پر پیوست کر کے جلایا جاتا۔
غلاموں کو مجبوراً وہ زبان سیکھنی پڑتی جو ان کے مالک بولتے اور چونکہ مالک زیادہ عیسائی ہوتے تھے اس لئے وہ اپنے مالک کا مذہب بھی اختیار کر لیتے۔
ان جزائر میں اسلام غالباً نائیجیریا سے آنے والے غلاموں کے ذریعہ پہنچا۔ غلاموں کو مذہبی رسوم ادا کرنے کی آزادی نہ تھی بلکہ پابندی تھی کہ وہ عیسائی مذہب کے مطابق عبادات بجا لائیں۔ چنانچہ بعض مسلمان افریقن چھپ چھپا کر نماز ادا کیا کرتے تھے اور جب مالکوں کو علم ہوتا تو وہ ان پر سختی کرتے اور انہیں عیسائی مذہب کے مطابق عبادت کرنے پر مجبور کرتے۔ ان جزائر میں ’’مسلمان‘‘ کو ’’فولامین‘‘ (Fula Man) بھی کہا جاتا ہے۔ دراصل مغربی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں ایک مسلمان قبیلہ ’فولا‘ کہلاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ عربوں کی بالواسطہ اولاد ہیں اور یہ کہ ان کے ذریعہ ان علاقوں میں اسلام پہنچا۔ چونکہ یہ قبیلہ مسلمان ہے اس لئے ہر مسلمان کو عام لوگ اسی نام سے پکارتے ہیں۔
گی آنا میں احمدیت قریباً 1925ء میں متعارف ہوئی جب وہاں کے اردو خوان مسلمان اردو زبان کا لٹریچر انڈیا سے منگوایا کرتے تھے۔ ہمارا مشن وہاں اس طرح قائم ہوا جب یوسف خان نامی ایک نوجوان نے 1956ء میں ایک کتاب خریدلی، پھر قریبی مشنوں (سورینام، ٹرینیڈاڈ) سے رابطہ کیا۔ پھر مزید مطالعہ کرکے شرح صدر کے ساتھ بیعت کرلی۔ ان کی دعوت الی اللہ کے نتیجہ میں کئی افراد کی جماعت قائم ہوگئی جن میں ایک قابل ذکر نام ایم۔ایس۔بخش صاحب کا تھا۔ 1959ء میں محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب نے گی آنا کا دورہ کیا اور کئی اجتماعات سے خطاب کیا جن سے متأثر ہوکر سسٹرزولیج کی مسجد کے امام محترم مولوی ابراہیم خانصاحب احمدی ہوگئے اور اُن کے عملی نمونہ سے متأثر ہوکر وہاں کے سارے مسلمان جماعت میں شامل ہوگئے۔ اس طرح گی آنا میں یہ پہلی احمدیہ مسجد بن گئی۔
1960ء میں محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب بطور مبلغ وہاں پہنچے اور باقاعدہ مشن قائم ہوا۔ مئی 1966ء تک آپ وہاں مقیم رہے جب خاکسار وہاں پہنچ گیا۔ 29؍جنوری 1967ء کو گی آنا کا پہلا جلسہ سالانہ نیوایمسٹرڈیم میں منعقد ہوا جہاں احمدیہ مشن قائم تھا۔ محترم آرچرڈ صاحب ایک گاؤں Rozignal میں مسجد کے قیام کی کوشش کر رہے تھے، 1967ء میں رکاوٹ دُور ہوگئی اور پلاٹ ہمیں مل گیا جس پر مسجد اپنی مدد آپ کے تحت بنائی گئی۔ 1970ء میں ایڈن برگ میں بھی مسجد کی تعمیر ہوگئی۔ اگست 1970ء میں خاکسار کی گی آنا سے واپسی ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/70Irn]

اپنا تبصرہ بھیجیں