ہمارا نصب العین اور فرض اوّلین

ہمارا نصب العین اور فرض اوّلین
اداریہ:
(مطبوعہ رسالہ ’’انصارالدین‘‘ یوکے مئی وجون 2020ء)

ہم سب پر فرض ہے کہ پیارے آقا سیّدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے تمام ارشادات کے ساتھ اس ارشاد کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھیں جو حضورانور نے خلافت احمدیہ کی حفاظت کے حوالے سے خدام الاحمدیہ کے قائدین فورم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’مجلس خدام الاحمدیہ کی ایک بڑی ذمہ داری خلافتِ احمدیہ کی حفاظت ہے۔ اور خلافتِ احمدیہ کی حفاظت آپ خلیفہ وقت کی باتوں کو سننے اور اُن پر عمل کرنے سے کرسکتے ہیں اور جماعت کی حفاظت بھی اسی صورت میں ہوسکتی ہے۔‘‘ (الفضل انٹرنیشنل 24؍دسمبر 2019ء)
قرآن کریم سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’’خلافت ‘‘ ایک نعمت عظمیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا مشروط انعام ہے جو مومنین کی جماعت کو اعمال صالحہ کے نتیجے میں عطا ہوتا ہے۔ اور پھر اس انعام کے نتیجے میں مومنین کی جماعت پر چھائے ہوئے خوف کے اندھیروں کو زائل کرتے ہوئے پیغامِ امن دیا جاتا ہے، مومنین کو اعمالِ صالحہ کی سند دی جاتی ہے، استحکامِ اسلام اور تمکنتِ دین کا وعدہ دیا جاتا ہے اور جماعت مومنین کے اتفاق و اتحاد کی ضمانت دی جاتی ہے۔
پس جس طرح ہر قیمتی اور بیش قیمت شے کی حفاظت کی جانی چاہئے اسی طرح خلافت جیسی بے مثال اور انمول نعمت کی حفاظت کرنا مومنین کی جماعت کا بنیادی فرض قرار پاتا ہے بلکہ خلافت کے مقام و مرتبہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اِس نعمت عظمیٰ کی حفاظت کی خاطر ہر مومن کو اپنی جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار رہنا چاہئے اور نہ صرف زندگی بھر اس فرض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے بلکہ ہرزاویے سے یہ کوشش بھی کرنی چاہئے کہ اپنی نسلوں میں بھی اِس عظیم الشان انعامِ خداوندی کی قدرومنزلت قائم رکھنے کے لئے اُنہیں اس راہ میں قربانی کے اعلیٰ معیار پیش کرنے کی سعادت سے آگاہ کیا جائے۔ تاکہ یہ نعمت عظمیٰ خدائی وعدے کے مطابق قیامت تک قائم رہے اور ہماری نسلیں بھی اس کے فیوض و برکات کی وارث قرار پاکر اور اِس کے دامن سے وابستہ رہ کر اپنی روحانی آسودگی کے سامان کرسکیں۔
پس نظام خلافت کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان میں اضافہ کے لئے، خلیفہ وقت کی بے مثال اطاعت کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے، مسلسل کوشاں رہیں۔ تاریخ اسلام میں جنگ جمل کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ واقعات میں سے ہے۔ تاریخ کے اُس موڑ پر ہمیں نظر آتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعض انتہائی مخلص اور فدائی صحابہ کرام جو کلام اللہ کا بھرپور ادراک رکھنے، رسول اللہﷺ کے پاکیزہ کلمات سے فیضیاب ہونے، خلافتِ حقّہ کی اہمیت سے آشنا ہونے اور امامِ وقت کی اطاعت کا شعور رکھنے کے باوجود بھی منافقین کی سازشوں کا شکار ہوگئے یا اجتہادی غلطی کے مرتکب ہوکر خلیفۃالرسول سیّدنا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اطاعت کو دیگر واقعات و حالات کے ساتھ مشروط کر بیٹھے تو پھر اسلامی تاریخ کا وہ اندوہناک واقعہ رونما ہوا جس نے اسلام کی روزافزوں طاقت و سطوت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور اس کے اثرات سے اُمّتِ مسلمہ آج بھی آزاد نہیں ہوسکی۔ پس خلافتِ حقّہ کی مضبوطی کے لئے خلیفۂ وقت کی غیرمشروط اطاعت مومنین کا انفرادی اور اجتماعی فرضِ اوّلین ہے۔
پھر خلافت کی حفاظت کے ضمن میں خلیفہ وقت کی جسمانی حفاظت بھی شامل ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ مرکزِ خلافت آج برطانیہ کی سرزمین پر ضوفشاں ہے۔ پس ہم غلامانِ خلافت کو، جنہیں حضرت خلیفۃالمسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی جسمانی قربت کی سعادت حاصل ہے، کبھی بھی اپنے اس فرض سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
پس خلافتِ احمدیہ کے ہر جاں نثار کو ہمہ وقت یہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ خلافت حقّہ احمدیہ کا قیام، حضرت خلیفۃالمسیح کی دل و جان سے حفاظت اور خلیفۂ وقت کی نصائح پر لبیک کہتے ہوئے غیرمشروط اطاعت ہی ہماری زندگیوں کا نصب العین ہے تاکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے عطا ہونے والی ’’خلافت علیٰ منہاج النبوّۃ‘‘ قیامت تک ہمارے لئے امن، کامیابی، سلامتی اور ترقیات کی نوید بنی رہے۔ سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کا ارشاد بحیثیت جماعت ہمیشہ ہمارے سامنے رہے۔ فرمایا:
’’تم خوب یاد رکھو کہ تمہاری ترقیات خلافت سے وابستہ ہیں اور جس دن تم نے اس کو نہ سمجھا اور اسے قائم نہ رکھا وہی دن تمہاری ہلاکت اور تباہی کا دن ہوگا، لیکن اگر تم اسے سمجھے رہو گے اور اسے قائم رکھو گے تو پھر اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں ہلاک کرنا چاہے گی تو نہیں کرسکے گی اور تمہارے مقابلہ میں بالکل ناکام و نامراد رہے گی۔ ‘‘ (درس القرآن)

(محمود احمد ملک)

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/OakiT]

اپنا تبصرہ بھیجیں