ہم آن ملے ہیں متوالو ، بس دیر تھی کل یا پرسوں کی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سالانہ نمبر 2006ء میں مکرم ڈاکٹر ریاض اکبر صاحب نے اپنی ایک خوبصورت نظم میں آسٹریلیا کے ابتدائی احمدیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:

ہم آن ملے ہیں متوالو ، بس دیر تھی کل یا پرسوں کی
اب بوجھ ہمارے کاندھوں پر ، تم تھکن اتارو رستوں کی
یوں وقت کا آگا پیچھا کیا، رندوں کا جانا آنا کیا
یہ مے بھی وہی ساقی بھی وہی مستی بھی وہی لے مستوں کی

تم شہر میں ساروں سے پوچھو تم رات میں تاروں سے پوچھو
کہ گیت تمہارے ہونٹوں کے وہ آج بھی ہم دہراتے ہیں
تم پریم ڈگر کے راہی تھے ہم بھی تو ایک مسافر ہیں
تم ٹھنڈے ٹھنڈے گھر جاؤ ، ہم پیچھے پیچھے آتے ہیں

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں