ہومیوپیتھی طریق علاج کا بانی…ہانیمن

ہومیوپیتھی طریقہ علاج کا تصور سب سے پہلے بقراط نے پیش کیا تھا۔ بعد میں کئی اَور نام بھی اس سلسلہ میں ملتے ہیں لیکن عملاً اس طریقہ علاج کے بانی ڈاکٹر ہانیمن تھے جو 10؍ اپریل 1755ء کو جرمنی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد چینی کے برتنوں پر نقاشی کا کام کرتے تھے۔ ہانیمن سکول میں زیر تعلیم تھے کہ آپ کے والد کی فیکٹری جرمن بادشاہ فریڈرک دوم کے حکم سے ضبط کر لی گئی اور ملازمین کو برلن میں معمولی تنخواہ پر کام کرنے کا حکم ملا۔ اس کے نتیجہ میں ہانیمن کو بھی تعلیم چھوڑ کر پنساری کی دوکان پر ملازم ہونا پڑا۔ لیکن چونکہ آپ کے سکول کے ہیڈماسٹر کو آپ کی ذہانت اور شوق کا علم تھا اس لئے آپ کے مخصوص حالات کی وجہ سے سکول میں آپ کی فیس معاف کر دی گئی اور اس طرح تعلیم کا منقطع سلسلہ دوبارہ بحال ہوگیا۔
ہانیمن نے 20 سال کی عمر میں لپزک یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور گزر بسر کے لئے ٹیوشن پڑھانا شروع کی۔ 24 سال کی عمر میں ارلنجن یونیورسٹی سے آپ نے میڈیسن میں ڈگری لے کر بطور ڈاکٹر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1782ء میں آپ کی شادی ہوئی اور 1784ء میں آپ کی پہلی کتاب خارش اور زخموں سے متعلق شائع ہوئی۔تاہم ہانیمن کو اپنی پریکٹس سے زیادہ طبّی تحقیق میں دلچسپی تھی۔
1790ء میں ڈاکٹر ہانیمن نے خود پر تجربات کا آغاز کر کے یہ معلوم کیا کہ ہر دوا کی دو خصوصیات ہیں یعنی تعمیری اور تخریبی۔ 6 سال بعد ا نہوں نے اپنی تحقیق دنیا کے سامنے پیش کی۔ اگرچہ مخالفت تو ہوئی لیکن اس کے باوجود اس طریقہ علاج سے شفا پانے والوں کی تعداد روز بروز بڑھنے لگی۔ 1810ء میں ’’قانون ہومیوپیتھی‘‘ کے نام سے آپ کی ایک کتاب منظر عام پر آئی جو آج بھی مستند سمجھی جاتی ہے۔ 1812ء میں لپزک یونیورسٹی میں آپ نے لیکچر دینے کا آغاز کیا۔
اُس دَور میں ڈاکٹرز کو صرف نسخہ لکھنے کی ہی اجازت تھی، اُن کا دوا تیار کرنا جرم تھا۔ چنانچہ جن افراد کو اس نئے طریقہ علاج سے مالی نقصان پہنچا تھا، اُن کی طرف سے ڈاکٹر ہانیمن پر مقدمات قائم ہوئے جس کے نتیجہ میں آپ کو جرمانہ ادا کرنے کے علاوہ دوا تیار نہ کرنے کا پابند بھی کر دیا گیا۔
پریشانیوں کے لمبے دَور کے بعد ایک جرمن ڈیوک کی دعوت پر آپ ’’کولتھن‘‘ چلے گئے جہاں 1829ء میں ہومیوپیتھی میں آپ کی پچاس سالہ خدمات کا جشن منایا گیا۔ اس خوشی کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا۔
1932ء میں جب ہیضہ کی وبا پھیلی جس میں آپ کی ایجاد کردہ دوا ’’ کیمفر‘‘ بہت کامیاب ثابت ہوئی۔ 1953ء میں مشہور مصورہ میلانی سے آپ نے شادی کرلی اور پھر پیرس منتقل ہو گئے جہاں ایک لاعلاج بچی کی معجزانہ شفایابی نے آپ کو شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا۔ 1843ء میں پیرس میں ہی آپ کا انتقال ہوا۔
ڈاکٹر سیدہ شہزاد صاحبہ کا یہ مضمون روزنامہ ’’ الفضل‘‘ ربوہ 11؍ مارچ 1996ء میں رسالہ ’’المصلح‘‘ کراچی جنوری 1996ء سے منقول ہے-

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں