یوگنڈا اور کینیا میں دعوت الی اللہ کی ابتدائی تاریخ

مشرقی افریقہ میں کئی ممالک ہیں جن میں کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ، نیاسالینڈ (ملاوی) اور موزنبیق شامل ہیں۔ اسی طرح صومالیہ بھی اس کے مشرقی ساحل پر واقع ہے نیز روانڈا اور برونڈی بھی کسی وقت ٹانگانیکا کے ساتھ مل کر جرمن ایسٹ افریقہ کہلاتے تھے جبکہ ملاوی، تنزانیہ (جو 1964ء میں ٹانگانیکا اور زنجبار کے ادغام سے وجود میں آیا)، کینیا اور یوگنڈا مل کر برٹش ایسٹ افریقہ کہلاتے تھے۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍جون 2003ء میں مکرم محمد شفیق قیصر صاحب کا ایک مطبوعہ مضمون شائع ہوا ہے جس میں یوگنڈا اور کینیا میں دعوت الی اللہ کی مہم کی ابتدائی تاریخ بیان کی گئی ہے۔
کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ میں ایشین کے علاوہ عرب مہاجرین بھی آباد تھے لیکن افریقی ممالک کی آزادی کے بعد اب غیرملکی باشندوں کی آبادی برائے نام رہ گئی ہے۔ تنزانیہ کا ساحل بحری تجارت کے لئے زیادہ موزوں ہے یہی وجہ ہے کہ عربوں کی توجہ اس طرف زیادہ رہی اور یہیں سے وہ یوگنڈا، ملاوی اور کانگو میں داخل ہوئے۔
زمانہ قبل عیسوی میں افریقہ کے بڑے حصہ میں شرک عام تھاالبتہ شمالی اور مشرقی افریقہ کے ایک محدود حصہ میں یہودیت پھیل چکی تھی۔ بعد میں عیسائیت اور اسلام کی اشاعت کے نتیجہ میں اگرچہ یہودیت کا زور یہاں کم ہوگیا لیکن ختم نہیں ہوا بلکہ گزشتہ صدی میں جب صیہونیت کی تحریک نے جنم لیا تو ابتدائً یہی تجویز دی گئی کہ کینیا کو یہودیوں کا وطن قرار دیا جائے۔
حبشہ میں اسلام
مشرقی افریقہ کے شمال میں واقع ملک حبشہ سے عربوں کے تجارتی تعلقات ایک ہزار سال قبل مسیح سے بھی پہلے سے قائم تھے۔ یہاں اسلام بھی عہد نبویﷺ میں ہی پہنچ چکا تھا جب کفار مکہ کے ظلم سے تنگ آکر آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جن مسلمانوں کیلئے ممکن ہو وہ حبشہ میں ہجرت کر جائیں، وہاں کا بادشاہ عادل ہے اور اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا، وہ سرزمین، انشاء اللہ، تمہارے لئے امن اور راحت کا موجب ہوگی۔ چنانچہ گیارہ مردوں اور چار عورتوں کا مختصر قافلہ سمندری راستہ سے حبشہ میں داخل ہوا تو وہاں کے عیسائی بادشاہ اصحمہ نے اُن کا خیرمقدم کیا۔ لیکن تین ہفتہ بعد ہی اہل مکہ کے اسلام لانے کی افواہ سن کر یہ مہاجرین واپس آگئے تو معلوم ہوا کہ خبر غلط تھی اور کفار کے ظلم و ستم میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ چنانچہ دوسری مرتبہ 83؍مرد اور 12؍عورتوں کا قافلہ ہجرت کرکے حبشہ چلا گیا اور ہجرت مدینہ تک وہیں مقیم رہا۔ ان مہاجرین کو حبشہ سے واپس لانے کے لئے کفار نے بہت کوشش کی اور ایک سفارتی وفد بھی نجاشیؔ کے دربار میں بھیجا۔ نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر بن طیارؓ نے مسلمانوں کا مؤقف پیش کیا اور سورۃ مریم کی چند آیات کی تلاوت کی چنانچہ بادشاہ نے برملا کہا کہ یہ کلام اور وہ کلام جو موسیٰ لے کر آئے تھے ، ایک ہی نور سے نکلے ہیں۔ چنانچہ کفار ناکام و نامراد واپس ہوئے۔
ہجرت مدینہ کے بعد جب آنحضورﷺ نے مختلف امراء و سلاطین کو تبلیغی خطوط روانہ فرمائے تو شاہ حبشہ کو بھی ایک خط لکھا جس کے جواب میں اُس نے لکھا: ’’ہم نے آپ کی دعوت حق کو سمجھ لیا ہے اور مَیں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے سچے رسول ہیں جن کے متعلق پہلے صحائف میں بھی خبر دی گئی تھی‘‘۔ اگرچہ عربوں کا تجارتی رابطہ اہل حبشہ سے جاری تھا لیکن جب خلافت راشدہ کے زمانہ میں مسلمانوں کے اختلافات بہت بڑھ گئے تو بعض مظلوم اور ستم رسیدہ گروہ عرب سے نکل کر مشرقی افریقہ کے ساحل پر آباد ہونے لگے اور ساتویں صدی عیسوی میں افریقہ کے ساحل پر عربوں کی چھوٹی چھوٹی بستیاں نظر آنے لگیں۔ عربوں نے افریقی عورتوں سے شادیاں بھی کیں اور ان کی اولاد سواحیلی کہلانے لگی یعنی ساحل سمندر کے لوگ۔ اسی طرح سواحیلی زبان بھی معرض وجود میں آئی جو عربی زبان سے بھی فیض یافتہ ہے اور اس کا رسم الخط بھی ابتداء میں عربی تھا مگر انگریزوں نے جب اس علاقہ پر قبضہ کیا تو اس کا رسم الخط انگریزی کردیا۔
المسعودیؔ (947ء) اور الادریسیؔ (1154ء) کے مطابق اُس زمانہ میں کئی اسلامی ریاستیں افریقہ میں موجود تھیں۔ ایک Magdishu تھی جس کا نام سیاحوں کی زبان پر عام تھا۔ اس میں کئی قبائل آباد تھے اور ہر قبیلہ کا ایک شیخ تھا لیکن ریاست کا کوئی ایک حکمران نہیں تھا۔ Kilwa کی ریاست میں حضرت زید ابن علی بن حسنؓ کے متبعین آباد تھے۔ سولہویں صدی عیسوی تک یہ سب سے اہم ریاست تھی جس کا ذکر ابن بطوطہ نے بھی کیا ہے۔ اسی طرح Lamu, Mafia اور Barawa کی ریاستیں بھی تھیں۔ سترھویں صدی عیسوی تک مشرقی افریقہ کے ساحلی علاقوں پر پرتگالیوں اور مسلمانوں میں کشمکش کے نتیجہ میں کئی ساحلی شہر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے جن میں Kilwa کی ریاست بھی شامل تھی۔ بعد میں 1700ء میں عمان کے سلطان نے ممباسہ اور زنجبار پر قبضہ کرلیا اور 1750ء میں Kilwa کو بھی پرتگالیوں سے آزاد کروالیا۔ سلطان کے نائب سید سعید نے پھر ساحلی علاقوں کو آزاد کرواتے ہوئے ممباسہ بھی پر قبضہ کرلیا اور زنجبار میں اپنا محل بنوایا۔ پھر مسلمانوں نے زنجبار کے راستہ افریقہ کے اندرونی حصہ میں بھی آنا جانا شروع کردیا چنانچہ جھیل ٹانگانیکا کی بندرگاہ ایک اہم اسلامی مرکز بن گیا۔ اگرچہ مسلمان قریباً چھ سو سال تک مشرقی افریقہ میں حاکم رہے لیکن اس دوران کئی منظم تبلیغی کوشش نہیں کی گئی۔
1844ء میں ایک عرب احمد بن ابراہیم العمری یوگنڈا میں تجارت کی غرض سے یہاں پہنچا جس کے بعد یہاں بھی اسلام کا نفوذ شروع ہوگیا۔ لیکن 1844ء میں ہی عیسائی پادریوں نے بھی ممباسہ میں عیسائی مشن کی بنیاد رکھی اور جلد ہی سارے مشرقی افریقہ میں اپنے مشنوں کا جال بچھا دیا۔
1848ء میں جب یوگنڈا میں شاہ سونا کی حکمرانی تھی تو ایک دن اُس نے شدید غضب کی حالت میں اپنی رعایا کے بہت سے افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم دیا۔ اس موقعہ پر احمد ابراہیم جو وہاں مسافرانہ حالت میں وارد ہوا تھا، بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور کہا: ’’اے بادشاہ! آپ کو اور ساری رعایا کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور اُس کی ذات والا صفات نے آپ کو یہ سلطنت عطا فرمائی ہے، آپ اپنے فیصلہ پر نظرثانی کریں کیونکہ مخلوق خدا کو بلاوجہ قتل کرنا خالق کی نظروں میں بہت بڑا جرم ہے‘‘۔ درباری توقع کر رہے تھے بادشاہ احمد ابراہیم کے قتل کا بھی حکم دے گا لیکن بادشاہ نے حیرت کے ساتھ کہا کہ ’’احمد! مجھے اپنے دین کے متعلق مزید بتاؤ‘‘۔ پھر دربار میں اسلام کی تبلیغ کا سلسلہ کئی روز چلتا رہا اور اس طرح شاہ سونا کے زمانہ میں اسلام کی ابتداء ہوئی جو اگلے بادشاہ مٹسیا اوّل کے عہد میں بڑھنے لگی اور اُس نے سواحیلی زبان سیکھی اور باشندوں کو السلام علیکم کو رواج دینے کا حکم دیا، کچھ مساجد بھی تعمیر ہوئیں۔ لیکن 1885ء میں شاہی محل میں مقیم بعض مسلمانوں نے ذبیحہ کھانے سے اس لئے انکار کردیا کہ وہ صحیح اسلامی طریق کے مطابق نہیں تھا۔ جب بادشاہ کو اس کا علم ہوا تو اُس نے ان تمام بے گناہوں کو گرفتار کرکے انہیں زندہ جلانے کا حکم دیا اور خود بھی اسلام سے منحرف ہوگیا۔ بہت سے لوگوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور ہمسایہ ریاستوں میں روپوش ہوگئے لیکن ساٹھ ستر افراد کو پکڑ کر زندہ آگ میں جلا دیا گیا۔
احمدیت کا آغاز
1895ء میں برطانوی عہد حکومت میں یوگنڈا ریلوے کا عظیم منصوبہ شروع ہوا جس کی تکمیل کے لئے مختلف پیشہ وروں کو ہزارہا کی تعداد میں برصغیر سے افریقہ بھجوایا گیا۔ ان میں حضرت مسیح موعودؑ کے بعض صحابہؓ بھی شامل تھے چنانچہ حضرت منشی محمد افضلؓ ایڈیٹر اخبار البدر اور حضرت میاں عبداللہؓ 1896ء میں یہاں پہنچے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کے خادم خاص حضرت شیخ حامد علی صاحبؓ بھی یہاں پہنچے۔ کئی صحابہؓ کو آب و ہوا موافق نہ آئی اور وہ واپس چلے گئے۔
حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل گوڑیانویؓ فوج میں ملازم تھے اور آپؓ کے ذریعہ کئی خوش نصیبوں کو قبول احمدیت کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؓ تین سال بعد واپس آگئے۔ حضرت منشی محمد افضل صاحبؓ اور حضرت شیخ نور احمد صاحبؓ ہر قسم کی مخالفت کے باوجود وہاں تبلیغ میں مصروف تھے۔ ان کے ذریعہ جن لوگوں کو قبول احمدیت کی سعادت نصیب ہوئی ان میں سب سے ممتاز حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب آف نمل گجرات تھے جنہوں نے بعد میں اپنے نیک نمونہ سے اپنے بھائی حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ کو بھی احمدیت سے منسلک کردیا۔
خلافت ثانیہ کے ابتداء میں بھی بہت سے احمدی مشرقی افریقہ پہنچے اور اپنے اپنے رنگ میں خدمت کی توفیق پائی۔ اسی دوران مخالفت میں بھی تیزی آگئی اور جماعت کے خلافت اشتہارات بھی شائع ہونے لگے۔ اس وقت محترم قاضی عبدالسلام بھٹی صاحب نے گرانقدر خدمت انجام دی۔ آپ 1927ء میں وہاں تشریف لے گئے اور کثرت کے ساتھ اشتہارات شائع کئے اور ایک پریس بھی قائم کیا۔ آپ ایسٹ افریقن ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے۔
1934ء میں انجمن حمایت اسلام نے احمدیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولانا ظفر علی خان کی سفارش پر لال حسین اختر کو ہندوستان سے مشرقی افریقہ بلوایا۔ اس پر نیروبی کی جماعت کی درخواست پر حضرت مصلح موعودؓ نے نومبر 1934ء میں حضرت مولانا شیخ مبارک احمد صاحب کو وہاں بھجوایا۔ 1935ء میں آپ نے لال حسین سے مختلف موضوعات پر مناظرے کئے جن میں کامیابی کے نتیجہ میں حضرت شیخ صاحب پر حملہ بھی ہوا اور آپ زخمی ہوئے۔ پھر آپ کا معاشرتی بائیکاٹ بھی ہوا لیکن اس کے نتیجہ میں بائیکاٹ کرنے والوں کے سرغنہ کو قبول احمدیت کی توفیق مل گئی۔ اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایات کی روشنی میں محترم شیخ صاحب نے مقامی باشندوں میں تبلیغ شروع کی چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے تمام مشرقی افریقہ میں مقامی جماعتیں قائم ہوگئیں اور کئی بااثر شخصیات احمدیت کی آغوش میں آئیں۔ 1936ء میں آپ نے سواحیلی اخبار ’’مپنزی یامنگو‘‘ جاری فرمایا جس نے تبلیغی کامیابیوں میں انقلابی کردار ادا کیا۔ عیسائی پادریوں نے اس رسالہ کی مقبولیت کے پیش نظر اعلان کیا کہ جس کو یہ ملے وہ اسے فوراً جلا دے۔ رومن کیتھولک نے اس کا پڑھنا حکماً بند کردیا۔ عیسائی اخبارات کی طرف سے شیخ صاحب کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔ لیکن احمدیت کا قدم ترقی کی طرف جاری رہا اور جلد ہی 1937ء میں جماعت کی طرف سے ٹبورا احمدیہ سکول قائم کردیا۔ دیگر سکولوں میں لیکچر دینے کا سلسلہ بھی بہت کامیاب رہا۔ لٹریچر کی اشاعت اور مساجد کی تعمیر بھی ہوئی۔ 1952ء میں جماعت کی طرف سے سواحیلی زبان میں ترجمہ قرآن بھی شائع ہوگیا۔
محترم شیخ صاحب کے ذریعہ بہت سے انگریزوں کو بھی قبول احمدیت کی توفیق ملی۔ ان میں سے ایک احمد لاسن تھے جنہوں نے اسلام کے حق میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا اور کئی پمفلٹ لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ اخبار نوائے وقت نے اپنی 2؍اپریل 1960ء کی اشاعت میں لکھا: ’’افریقہ میں اگر کوئی پاکستانی مذہبی مشینری کام کر رہی ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہے۔ … (امریکہ کے مشہور پادری) بلی گراہم جب اپنے حالیہ دورہ میں نیروبی گئے تو اسلام کی طرف سے اگر کسی جماعت نے انہیں مباحثہ کی دعوت دی تو وہ جماعت احمدیہ تھی‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے 1945ء میں فرمایا تھا: ’’خدا نے ان افریقن ممالک کو احمدیت کے لئے محفوظ رکھا ہوا ہے اور اسلام کی ترقی کے ساتھ ان کا نہایت گہرا تعلق ہے۔ ہمارا مستقبل افریقہ کے ساتھ وابستہ ہے … خدا تعالیٰ نے یہ راز مجھ پر کھول دیا کہ یہ وہ ملک ہے جس میں ہمارے لئے غیرمعمولی طور پر ترقی کے راستے کھلے ہیں اور جن کو کسی صورت میں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا … اگر ہم کچھ بھی کوشش کریں تو چونکہ حق ہمارے ساتھ ہے اس لئے نہ صرف حق کے لحاظ سے ہمیں غلبہ حاصل ہوگا بلکہ افریقن فطرت بھی ہماری تائید کرے گی اور حریف پر ہمیں فضیلت حاصل ہوگی‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں