یہ دکھ کیا ہے، یہ غم کیا ہے ، یہ انبوہِ ستم کیا ہے؟ – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍جولائی 2010ء میں مکرم ڈاکٹر عبدالکریم خالد صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

یہ دکھ کیا ہے، یہ غم کیا ہے ، یہ انبوہِ ستم کیا ہے؟
جو دل کو چیر کر رکھ دے وہ رودادِ الم کیا ہے
جنوں آثار دن اُترا مری تقویم خلقت میں
نمود صبح سوزاں میں سکوتِ شامِ غم کیا ہے؟
مرے پیاروں پہ جو گزری سو گزری عصر ڈھلنے تک
پھر اس کے بعد کا منظر بتا اے چشمِ نم کیا ہے؟
ہمیں تم کیا سمجھتے ہو کہ ہم تو اک اشارے پر
کٹا دیتے ہیں سر اپنا ، سرِ تسلیم خم کیا ہے
یہ دہشت گرد کیسے ہیں یہ کس جنت کے طالب ہیں
یہ کس دین و دھرم کے ہیں ، یہ دیں کیا ہے ، دھرم کیا ہے؟
تجھے پہچان لیتے ہیں ترے مکر و ریا سے ہم
تری دستار میں واعظ علاوہ پیچ و خم کیا ہے؟

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X