یہ مہدی تمدّن کا معمار نَو – نظم بعنوان ’’عہد نَو‘‘

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ نومبر 2011ء میں مکرم عبدالسلام اسلامؔ صاحب کی ایک نظم بعنوان ’’عہد نَو‘‘ شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

یہ مہدی تمدّن کا معمار نَو
کئے فاش جس نے ہیں اسرار نَو
زمانے میں اِک انقلاب آ گیا
ہر اِک شَے پہ گویا شباب آ گیا
زماں تو زماں یہ مکاں اَور ہے
اسی نقش میں یہ جہاں اَور ہے
جوانوں کو عزمِ جواں مل گیا
جبیں کو وہی آستاں مل گیا
نئے معرکوں کی ذرا سُن نوید
جہاد قلم ہے بہ عہدِ جدید
اسی دین حق کی یہ تصویر ہے
یہ ’’دورِ جمالی‘‘ کی تعمیر ہے
مسیحا کی آواز ہے دلنواز
کھلا جس سے تخلیقِ آدم کا راز

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں