اسکندریہ (مصر)

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …فروری 2026ء)
مصر کے دوسرے بڑے شہر اور بحیرہ روم پر واقع مصر کی اہم بندرگاہ اسکندریہ کے بارے میں ایک مختصر مضمون روزنامہ‘‘الفضل’’ربوہ 5؍اگست2014ء میں (مرسلہ مکرم امان اللہ امجد صاحب) شامل اشاعت ہے۔
اسکندریہ کو سکندراعظم نے 332قبل مسیح میں آباد کیا تھا اور یہ 304قبل مسیح میں بطلیموس کا دارالحکومت بھی رہا۔ اسے یونانی اور یہودی ثقافتی مرکز کی حیثیت بھی حاصل رہی۔ 30قبل مسیح میں یہ روما سلطنت میں شامل ہوا۔616ء میں اہل فارس نے اسے فتح کرلیا اور 626ء میں عربوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ اُس وقت اس کی آبادی چھ ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔
یہ ایک صنعتی شہر ہے جہاں تیل صاف کرنے، چاول چھڑنے، چمڑے اور کاغذ بنانے کے کارخانے بھی قائم ہیں۔ تعلیمی لحاظ سے بھی اسکندریہ ترقی یافتہ ہے۔ یہاں یونیورسٹی کا قیام 1942ء میں عمل میں آیا تھا۔
اسکندریہ کے مشہور مقامات میں میدان التحریر (آزادی چوک)، روشنی کا مینار (جس کا شمار دنیا کے عجائبات میں ہوتا ہے)، یونانی رومن عجائب گھر، عالمین کا قبرستان اور بہت سے دیگر مقامات شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں