ایران کا دارالحکومت تہران
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ -1 مئی 2026ء)

ایران کے دارالحکومت تہران کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍نومبر2014ء میں شائع ہوا ہے۔ (مرسلہ مکرم امان اللہ امجد صاحب)
تہران دراصل ’’تہ ران‘‘ تھا جس کا مطلب ہے وہ شخص جو زمین کی گہرائیوں تک لوگوں کا تعاقب کرے۔ اس قدیم شہر کی تہذیب چھ ہزار سال قبل مسیح سے ہے۔ 1210ء میں یہ ایک معمولی سا گاؤں تھا۔ جب 1220ء میں منگولوں نے شہر رےؔ کو تباہ کردیا تو وہاں کے باشندے ہجرت کرکے تہران اور اس کے گردونواح میں آباد ہوگئے۔ قاچار خاندان کے بانی محمدخاں قاچار نے 1788ء میں اسے فارس کا صدر مقام قرار دیا۔ یہ خاندان 1925ء تک فارس کا حاکم رہا۔ بعدازاں جنرل رضا پہلوی نے اس پر قبضہ کرکے اپنے شاہ ایران ہونے کا اعلان کردیا۔ 1935ء میں فارس کو ایران کا نام دیا گیا۔ پہلوی دَور میں ایران بہت اہمیت کا حامل بنا۔ تیل کی دولت نے اسے بہت شان و شوکت عطا کی۔ 1943ء میں یہاں سٹالن، روزویلٹ اور چرچل کے مابین اقوام متحدہ کے قیام کے سلسلے میں مذاکرات کا انعقاد عمل میں آیا۔
اس وقت تہران ایک صنعتی شہر بھی ہے۔ تعلیمی اعتبار سے یہاں چھ یونیورسٹیاں ہیں جن میں سے قدیم ترین یونیورسٹی 1935ء سے قائم شدہ ہے۔ مواصلات کا نظام نہایت شاندار ہے۔ ایئرپورٹ جدید سہولیات سے مزیّن ہے۔

تہران کے قابل دید مقامات میں ’’شاہ یاد‘‘ وہ عمارت شامل ہے جو بادشاہت کے اڑہائی ہزار سال مکمل ہونے کی یاد میں 1971ء میں تعمیر کی گئی۔ اڑہائی ہزار سالہ جشن کے موقع پر ایک قومی سٹیڈیم (آریامہرسٹیڈیم) بھی یہاں تعمیر کیا گیا جس میں ایک لاکھ تماشائی بیٹھ سکتے ہیں۔ 1831ء میں یہاں تعمیر کی گئی ’’سپہ سالار مسجد‘‘ پہلے سرکاری تقریبات کے لیے بھی استعمال کی جاتی تھی۔ اسی طرح نیلے گنبد والی مسجد شاہ بھی قابل دید ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت بھی جدید تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔ اس کا ایوان بہت دیدہ زیب ہے۔ علاوہ ازیں یہاں سعدآباد محل بھی ہے جو مختلف ادوار میں بنائے گئے اٹھارہ محلّات کا مجموعہ ہے۔ محل کا رقبہ 103؍ایکڑ ہے۔ اسے اب عجائب گھر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہاں ’’کاخ گلستان‘‘ نامی سو سالہ پرانا محل بھی ہے جو باغات سے گھرا ہوا ہے۔ اس میں اسلامی کتب خانہ، تخت طاؤس کی شبیہ اور شاہی مہمان خانہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ ’’سبزہ میدان‘‘ کے نام سے دنیا کا واحد چھتا ہوا میدان بھی ہے۔ اس کی عمر بھی سو سال سے زیادہ ہے۔
