تعارف کتاب: ’’ذکر الٰہی‘‘

(مطبوعہ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل مصلح موعود نمبر)

تعارف کتاب:

’’ذکر الٰہی‘‘

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا پُرمعارف خطاب

سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلسہ سالانہ قادیان 1916ء کے موقع پر 28؍دسمبر کی شام منعقد ہونے والے اختتامی اجلاس میں ایک تقریر دلپذیر بعنوان ’’ذکرالٰہی‘‘ ارشاد فرمائی تھی جو ’’انوارالعلوم‘‘ کی جلد3 میں شامل ہے۔ یہ پُرمعارف خطاب 60؍صفحات پر مشتمل ہے جس میں ذکرالٰہی کی اہمیت اور فضیلت، قرآن کریم کی روشنی میں ذکرالٰہی کی اقسام، ذکرالٰہی کے فوائد اور اس حوالے سے ملحوظ رکھی جانے والی چند احتیاطوں کا بیان بھی کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس موضوع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضورؓ فرماتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے مَیں نے دعا کے متعلق کچھ خطبات دیے تھے لیکن جو بیان مَیں اب کرنا چاہتا ہوں وہ دعا سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ اس پر عمل کرنے سے آپ کی دعا خودبخود قبول ہوجائے گی۔

(مبصر: محمود احمد ملک)

حضورؓ نے خطاب کے آغاز میں تشہد، تعوذ اور سورۃالاعلیٰ کی تلاوت فرمائی: ’’سَبِّحْ اِسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ‘‘ یعنی اپنے بزرگ و بالا ربّ کے نام کا ہر عیب سے پاک ہونا بیان کر۔ پھر فرمایا کہ کسی بھی جلسے میں جب لیکچرز ہوتے ہیں تو بعض لوگ اُٹھ کر چلے جاتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہم نے پہلے ہی سنی ہوئی ہیں۔ اگر اُن کی یہ بات درست ہے تو پھر انہیں قرآن کریم بھی بار بار نہیں پڑھنا چاہیے۔ دراصل ذکرالٰہی کی کسی مجلس میں بیٹھنا اس لیے ضروری ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مجلس میں کچھ آدمی بیٹھے تھے۔ خداتعالیٰ نے فرشتوں سے پوچھا کہ میرے فلاں بندے کیا کررہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ذکرالٰہی کررہے ہیں۔ خداتعالیٰ نے فرمایا: جو کچھ انہوں نے مانگا مَیں نے اُن کو دیا۔ فرشتوں نے کہا کہ اُن میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو یونہی بیٹھ گیا تھا۔ خداتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بھی محروم نہیں رہے گا، اُس کو بھی انعام دوں گا۔ پس آپ لوگ بھی ایسی مجالس میں بیٹھنے کی کوشش کیا کریں اور اگرکسی کو کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ اس کو پورا کرکے جلد واپس آجائے۔
ذکرُاللّٰہ کے معانی ہیں خداتعالیٰ کی صفات پر غور کرتے ہوئے زبان سے اُسے یاد کرنا یعنی زبان سےاقرار کرتے ہوئے دل میں اُس کی طاقتوں اور قدرتوں کا معائنہ کرنا۔ اس کی اہمیت کے حوالے سے قرآن کریم میں آیا ہے: وَلَذِکْرُاللّٰہِ اَکْبَر۔ (العنکبوت:46) اللہ کا ذکر تمام امور اور عبادات سے بڑھ کر ہے۔ اسی طرح فرمایا:وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا (الدھر:26) اے میرے بندے! اپنے ربّ کو صبح و شام یاد کیا کر۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ جس مجلس میں خداتعالیٰ کا ذکر ہورہا ہو اُس کو ملائکہ گھیر لیتے ہیں اور رحمت نازل کرتے ہیں۔ یہ کوئی خیالی بات نہیں ہے بلکہ یقینی ہے۔ مَیں نے خود فرشتوں کو دیکھا ہے اور بہت بےتکلّفی سے اُن سے باتیں بھی کی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْہِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ (المنافقون:10) اے مومنو! تم کو مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے نہ روک دے۔
نیز فرمایا: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا۔ وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا۔ (الاحزاب:42) یعنی تم اللہ کا ذکر کرنے میں کسی رکاوٹ کی پرواہ نہ کرو۔ اس کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح و شام اُس کی تسبیح بیان کرو۔
آنحضورﷺ فرماتے ہیں کہ ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال(یعنی اُن کا فرق) ایسا ہی ہے جیسے کسی زندہ اور مُردہ کا ہوتا ہے۔ گویا ذکرالٰہی کرنے والا روحانی طور پر زندہ ہوتا ہے اور نہ کرنے والا روحانی طور پر مُردہ۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ آجکل ذکر کی مجالس منعقد کرنے والے بعض لوگ بلند آواز سے مختلف کلمات ادا کرتے ہیں، قوالیاں کرتے ہیں اور اُن پر جھومتے ہیں، ناچ ناچ کر کلام پڑھتے ہیں اور اللہ کے ناموں کو خاص انداز سے ادا کرکے مختلف حرکات کرتے ہیں۔ یہ سب بدعت ہیں۔ کیونکہ راگ وغیرہ کا اثر تو جانور بھی قبول کرلیتے ہیں جیسے سانپ بین کی آواز سُن کر لَوٹنے لگتا ہے۔ اسی طرح ایک صوفی قوالی سُن کر ناچنے لگتا ہے۔یہ سب باتیں لغو، فضول اور ناجائز ہیں۔ اسلام تو انسان کو فرشتے بنانے آیا تھا لیکن ایسی حرکتیں کرکے وہ لوگ بندر اور ریچھ بن جاتے ہیں۔
رسول کریم ﷺ بھی مختلف صحابہؓ سے اشعار سنا کرتے تھے لیکن ذکرالٰہی کے طور پر نہیں۔ اورنہ ہی کبھی آپؐ کے سامنے قوالی کے انداز میں کوئی نظم پڑھی گئی اور نہ محبت الٰہی کے ایسے کبھی اشعار پڑھے گئے جنہیں سن کر صحابہؓ نے رقص کیا ہو۔ پس یہ سب بدعات ہیں۔ اس سے روحانیت کمزور ہوجاتی ہے۔ اگرچہ بظاہر کسی شخص کو ایسا میوزک یا کلام سُن کر لذت اور سرور محسوس بھی ہوسکتا ہے لیکن وہ بناوٹی ہوتا ہے۔ اسے علم الترب یعنی مسمریزم یا ہپناٹزم کہتے ہیں اور یہ علم خیال سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی لذت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے نشہ کرکے حاصل ہوتی ہے جس کا نتیجہ ہلاکت ہوتی ہے۔ ایسے لوگ تو ہندوؤں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے حضرت مسیح موعودؑ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
آنحضورﷺ نے تو ایک موقع پر اُن صحابہ کو جو اونچی آواز میں اَللّٰہُ اَکْبَر ، اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ رہے تھے، یہ فرمایا کہ تم لوگ اپنے نفوس پر رحم کرو، آہستہ اپنے ربّ کو پکارو کیونکہ وہ نہ بہرہ ہے اور نہ غائب بلکہ وہ خوب سنتا ہے اور تمہارے ساتھ ہی ہے۔
حضورؓ نے بعض صحابہؓ اور دیگر بزرگان کے چند اقوال بھی بیان فرمائے ہیں جنہوں نے ذکراللہ کے ساتھ مختلف حرکات کرنے سے خاص طور پر منع فرمایا ہے۔ اسی ضمن میں فرمایا کہ حضرت ابن سیرینؒ کے سامنے جب کسی ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جس کے سامنے قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھی جاتی تھی تو وہ بیہوش ہوکر گر جاتا تھا، آپؒ نے فرمایا کہ مَیں تو تب مانوں گا کہ اگر اُس شخص کو کسی اونچی دیوار پر بٹھاکر ایک آیت نہیں پورا قرآن سنادو اور پھر بھی وہ بیہوش ہوکر گرجائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذکرالٰہی کرنے والوں میں پانچ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یعنی اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ (الانفال:3) تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ (الزمر:24) اور اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُکِیًّا (مریم:59) یعنی ذکرالٰہی کرنے والوں کے دل ڈر جاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارا رب بڑی شان والا ہے، اور خوف سے اُن کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں، اُن کے بدن ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، وہ سجدے میں گر جاتے ہیں یعنی عبادت میں مشغول ہوجاتے ہیں اور رونے لگ جاتے ہیں۔

حضورؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم سے چار ذِکْرُاللّٰہ ثابت ہیں۔ یعنی نماز پڑھنا، قرآن کریم پڑھنا، تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا اقرار کرنا۔ اور چوتھا یہ کہ دوسروں کے سامنے بھی خداتعالیٰ کی صفات کا اظہار کرنا۔
پہلے ذکر ’’نماز‘‘ کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ (طٰہٰ:15) کہ یقیناً میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا اَور کوئی معبود نہیں۔ پس میری عبادت کر اور میرے ذکر کے لیے نماز کو قائم کر۔
نیز فرمایا: فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا ۚ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (البقرۃ:240) کہ اگر تمہیں کوئی خوف ہو تو چلتے پھرتے یا سواری کی حالت میں ہی (نماز پڑھ لو)۔ پھر جب تم امن میں آجاؤ تو پھر (اُسی طریق پر) اللہ کو یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے جو تم (اس سے پہلے) نہیں جانتے تھے۔
پس فرض نماز تو لازماً، ہر حالت میں ادا کرنی ہے خواہ جنگ ہو، بیماری ہو یا کوئی اَور مشکل درپیش ہو۔ جبکہ نوافل ادا کرنے اس لیے ضروری ہیں کیونکہ حدیث قدسی ہے کہ نوافل کے ذریعے میرا بندہ مجھ سے اس قدر قریب ہوجاتا ہے کہ مَیں اُس کے کان ہوجاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اور مَیں اُس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہےاور مَیں اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور مَیں اُس کے پاؤں ہوجاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ پس نوافل پڑھنے والے کا مقام یہ ہے کہ وہ انسان خداتعالیٰ کی صفات کو اپنے جذب میں لے لیتا ہے۔
پھر نوافل اس لیے بھی ضروری ہیں تاکہ اگر فرائض کے ادا کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو وہ اس طرح سے پوری ہوجائے۔
نماز تہجد کے نوافل کے بارے میں خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کے نفس کے درست کرنے کے لیے رات کو اٹھنا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلًا۔ (المزمل:6) یعنی رات کا اُٹھنا یقیناً (نفس کو) پاؤں تلے کچلنے کے لیے زیادہ شدید اور قول کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے۔ اسی لیے آنحضورﷺ صحابہ کو فرماتے کہ تہجد پڑھو خواہ دو رکعت ہی ہو، مگر پڑھو ضرور۔ ایک دفعہ آنحضورﷺ کی مجلس میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی بعض خوبیوں کا ذکر آیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ بہت اچھا ہے بشرطیکہ تہجد بھی پڑھے۔
احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ رات کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ قریب آجاتا ہے اور دعائیں بہت زیادہ قبول کرتا ہے۔

تہجد کی اہمیت بیان کرنے کے بعد حضورؓ نے تہجد کی نماز کے لیے اٹھنے کے واسطے تیرہ طریق بھی بیان فرمائے ہیں مثلاً فرمایا کہ سوتے وقت پختہ ارادہ کرلے کہ تہجد پر ضرور اٹھوں گا۔ اور عشاء کی نماز پڑھ کر ذکرالٰہی کرتا ہوا سوجائے اور بلاوجہ جاگتا نہ رہے۔ اور یہ بھی مفید ہوتا ہے کہ عشاء کے بعد شدید نیند آنے تک نوافل ادا کرتا رہے۔
اور یہ عمل بھی مفید ہے کہ اگر وضو نہ ہو تو سونے سے پہلے وضو کرلے کیونکہ پاکیزگی اور طہارت کا بڑا گہرا تعلق ہے اور فرشتے آکر پاکیزہ شخص کو اٹھا دیتے ہیں لیکن اگر غلاظت لگی ہو یا ناپاک حالت ہو تو فرشتے قریب نہیں آتے۔ اسی لیے آنحضورﷺ کوئی ایسی چیز کھانے سے بھی پرہیز فرماتے تھے جو بدبودار ہو کیونکہ ملائکہ اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ بستر پاک و صاف ہو۔
اور ایک رواج صوفیاء میں یہ بھی جاری تھا کہ تہجد کے اٹھنے میں مشکل محسوس ہوتی ہو تو نرم بستر ہٹا دیا کرتے تھے۔ اسی طرح رات کا کھانا جلد کھالیا جائے تو یہ بھی مفید ہوتا ہے۔
پھر یہ طریق صرف اُن کے لیے ہے جن کا ایمان مضبوط ہو کہ اگر وہ عشاء کے بعد وتر نہ پڑھیں تو صبح بےچینی سے اُن کی آنکھ کھل جائے گی کہ کہیں وتر ضائع نہ ہوجائیں۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ صبح اٹھنے کے لیے ایک طریق بہت اعلیٰ ہے جس پر عمل کرنے سے انسان بہت سی برائیوں سے بھی بچ جاتا ہے اور وہ یہ کہ سونے سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ ہمارے دل میں کسی کے متعلق کینہ یا بغض تو نہیں ہے۔ اگر ہو تو اس کو دل سے نکال دینا چاہیے۔

حضورؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے حوالے سے دوسری قسم کا ذکر ’’قرآن کریم‘‘ ہی ہے۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ (الحجر:10) کہ ہم نے ہی یہ ذکر اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ نیز فرمایا: وَہٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ اَنْزَلْنٰہُ (الانبیاء:51) اور یہ برکت دیا ہوا ذکر ہے جسے ہم نے اتارا ہے۔
قرآن کریم کی تلاوت کی عادت ڈالنے کے لیے حضورؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا ایک حصہ مقرر کرلینا چاہیے کہ اتنا روزانہ پڑھوں گا۔ خواہ تھوڑا ہی ہو۔ پھر اس میں ناغہ نہ ہونے دے۔ حدیث میں بھی آیا ہے کہ خداتعالیٰ کو وہ عبادت پسند ہے جس پر انسان دوام اختیار کرے یعنی باقاعدہ ہو۔ دراصل دلی محبت کے بغیر کیے جانے والے ذکر سے قلب کی صفائی نہیں ہوتی جبکہ ناغہ کرنے سے اور باقاعدگی نہ ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ شوق اور دلی محبت نہیں ہے۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم بےوضو پڑھنا بھی جائز ہے لیکن مناسب ہے کہ اثر اور ثواب کو زیادہ کرنے کے لیے بہتر ہے کہ وضو کرلیا جائے۔ جب کوئی کام اخلاص سے کیا جائے تو اس کا اجر ضرور ملتا ہے۔
پھر یہ کہ جتنا قرآن کریم بھی پڑھا جائے وہ سمجھ کر اور ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے تاکہ ادب بھی ملحوظ رہے۔ اگرچہ صرف الفاظ پڑھنے کا بھی اثر ہوتا ہے۔ جیسا کہ آنحضورﷺ نے حکم دیا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو اُس کے کان میں اذان کہی جائے۔ لیکن قرآن کریم کو سمجھ کر ہی پڑھنا چاہیے تاکہ اس کا اثر محسوس ہو اور عمل کرنے میں بھی آسانی رہے۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات کو اگر ذکر کے طور پر پڑھا جائے تو ذکر کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور تلاوت کرنے کا بھی۔ یعنی دہرا ثواب ہوگا۔
ذکر کی تیسری قسم میں ایسے دیگر اذکار شامل ہیں جو ذاتی طور پر کیے جاتے ہیں۔ ان میں بھی بعض فرائض ہیں اور بعض نوافل۔ مثلاً جانور ذبح کرتے وقت تکبیر پڑھنا فرض ہے ورنہ جانور حرام ہوجائے گا۔ اور یہ ذکر نفل ہے کہ کھانا شروع کرتے ہوئے یا کسی بھی کام کا آغاز کرتے ہوئے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھا جائے۔ اور کام مکمل ہونے پر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن کہا جائے۔ کوئی مصیبت کی بات پہنچے تو اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھا جائے اور کوئی بات اپنی ہمت سے بڑھ کر پیش آئے تو لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہ کہا جائے۔ وغیرہ
دراصل صفات الٰہیہ کا بیان، اُن کی تکرار اور اُن کا اقرار ہی ذکرالٰہی ہے جو ہر وقت جاری رہنا چاہیے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ (النساء:104) نماز ادا کرنے کے بعد بھی اللہ کو یاد کرو کھڑے ہونے کی حالت میں بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی۔
اسی طرح فرمایا: ایسے لوگ محمدﷺ کے ساتھی ہیں جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے یا نماز کے قیام سے یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے۔ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل (خوف سے) الٹ پلٹ ہو رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی۔ رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ۔ (النور:38)۔ پس ہمہ وقت خداتعالیٰ کی صفات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی زبان سے اُس سے اپنی محبت کا اظہارکرنا ذکرالٰہی ہے۔
آنحضورﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کا یہ اقرار کرنا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، بہترین ذکر ہے۔ اَفْضَلُ الذِّکْرِ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ۔
اسی طرح آنحضورﷺ نے فرمایا ہے کہ دو کلمے ایسے ہیں جو گو کہ چھوٹے ہیں مگر قیامت کے دن بہت وزنی ہوں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں۔ یہ کلمات ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم۔
آنحضورﷺ بھی ان کلمات کو کثرت سے پڑھتے تھے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ ایک دفعہ جب تہجد کے لیے اٹھے تو بیماری کا سخت دورہ ہوا تب آپؑ کو الہام ہوا کہ ایسی حالت میں لیٹے لیٹے یہی کلمات پڑھ لیا کرو: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم۔
اسی طرح ہر نماز کے بعد کے اذکار ہیں جن میں مسنون دعائیں مثلاً اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْکَ السَّلَام یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام اور معروف تسبیحات شامل ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہ، اَلْحَمْدُلِلّٰہ اور اَللّٰہُ اَکْبَر۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ ذکر کرنےمیں چند احتیاطیں ملحوظ رکھی جانی بھی ضروری ہیں۔ مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ مسلسل اتنی زیادہ دیر ذکر نہ کرو کہ دل ملول ہوجائے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اچھا کھانا بھی اگر زیادہ کھالیا جائے تو بدہضمی کردے گا۔ چنانچہ آنحضورﷺ نے ایسی عبادات کے کرنے سے بھی منع فرمادیا جو کھڑے رہنے کے لیے کسی چیز کا سہارا لے کر اور خود کو مجبور کرکے ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔
دوسری احتیاط یہ ہے کہ ایسے وقت میں ذکر نہ کیا کرو جب تمہارا دل مطمئن نہ ہو۔ مثلاً کسی ضروری کام کی طرف باربار توجہ جاتی رہے تو اس طرح ذکر کی بےقدری ہوگی اور انسان گنہگار ٹھہرے گا۔ لیکن اگر ذکرالٰہی کی عادت پیدا کرنے کے ابتدائی مراحل میں کسی کا دل ذکر میں نہ لگتا ہو تو پھر بھی وہ پختہ ارادہ کرکے ذکر کرنا جاری رکھے اور اُس وقت شیطان کے بہکاوے میں نہ آئے۔
پھر یہ احتیاط بھی کی جائے کہ ذکر کرتے وقت جسم کسی تکلیف کی حالت میں نہ ہو جیسے زمین پر بیٹھ کر ذکرالٰہی کرتے ہوئے اگر کوئی پتھر چبھ رہا ہو تو خیال اُدھر جاتا رہے گا۔چنانچہ جسم ایسی آرام دہ حالت میں ہو جس میں انسان کی توجہ صفات باری تعالیٰ کی طرف رہے۔
اسی طرح ذکر تضرّع اور خشیت سے کیا جائے خواہ ابتدا میں مصنوعی طور پر ہی اپنی صورت تضرّع والی اختیار کرلے۔ اس کے اثرات جسم اور روح پر بھی محسوس ہوں گے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ذکر کرنے میں لذّت بھی آجاتی ہے ۔ مگر انہیں چاہیے کہ اپنے نفس کے لیے اس میں لذّت تلاش نہ کریں بلکہ ذکر کرنے کے وقت اُن کی نیت عبادت کی ہو نہ کہ لذّت تلاش کرنے کی۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ ذکر کرنے کے کچھ خاص اوقات بھی خداتعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں مثلاً سورج نکلنے سے کچھ وقت پہلے اور کچھ وقت بعد تک۔پھر عصر سے مغرب تک۔ اور اسی طرح رات کا پہلا اور پچھلا پہر۔

اس کے بعد حضورؓ نے نماز میں توجہ قائم رکھنے کے چند طریق بیان فرمائے ہیں۔ حضورؓ فرماتے ہیں کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اگر کسی کام کو کرتے وقت آپ اصل مقصد کی طرف توجہ رکھیں تو اس کام کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے مثلاً اگر کوئی یہ سوچ کر ورزش کرے کہ اُس کے بازو اور پٹھے مضبوط ہورہے ہیں تو اگرچہ ورزش کرنے کا فائدہ تو جسم کو بہرحال ہورہا ہوگا لیکن صرف مذکورہ خیال سے ہی ایسی ورزش کا فائدہ نسبتاً زیادہ ہوگا۔ گویا خیال اور توجہ کی بہت اہمیت ہے۔
شریعت اسلامیہ نے نماز میں توجہ قائم رکھنے کے جو اصول مقرر فرمائے ہیں ان میں سے پہلا وضو کرنا ہے۔ دراصل انسانی خیالات کا اثر اعصاب کے ذریعے، آواز، نظر اور پھونک کے ذریعے سے بھی منتقل ہوتا ہے چنانچہ آنحضورﷺ آیت الکرسی پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے تھے اور پھر وہ ہاتھ سارے جسم پر پھیر لیتے۔ اسی وجہ سے دَم کرنا بھی ثابت ہے۔ وضو کی غرض یہ ہے کہ اُن اعضاء پر پانی ڈالا جائے جو خیالات کے نکلنے کے راستے ہیں اور اس طرح اعصاب کے ذریعے پراگندہ خیالات کو قابو میں رکھا جائے تاکہ ایک سکون حاصل ہو۔ اس لیے وضو کے وقت اس کا یہ مقصد اپنے خیال میں رکھو کہ ہم پراگندہ خیالات کو روکنے کے لیے وضو کررہے ہیں۔
توجہ قائم رکھنے کا ایک طریق مسجد میں عبادت کرنا ہے۔ کیونکہ اُس جگہ کا ماحول یہ تقاضا کرتا ہے کہ توجہ خداتعالیٰ کی طرف رکھی جائے۔ اسی لیے آنحضورﷺ نے فرمایا ہے کہ گھروں میں نماز پڑھنے کے لیے بھی خاص جگہ مقرر کرچھوڑیں جہاں نماز پڑھنے کے علاوہ اَور کوئی کام نہ کریں۔
توجہ قائم رکھنے کے لیے ہی قبلے کی طرف منہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ قبلہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم پر اپنی بیوی اور بچے کو چھوڑ دیا تھا۔ پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے واقعہ کا بھی ذہن پر اثر ہوتا ہے۔ بہرحال ان قربانیوں کے نتیجے میں خداتعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی نسل کو بےشمار بڑھایا بلکہ کئی نبی اور پھر آنحضورﷺ بھی آپؑ کی نسل میں پیدا ہوئے۔ اس حکمت کو ذہن میں رکھتے ہوئے جو مکہ کی طرف منہ کرتا ہے اُسے احساس پیدا ہوتا ہے کہ جس خدا کی عبادت کرنے کے لیے مَیں کھڑا ہوا ہوں وہ بڑی شان اور قدرتوں والا ہے۔
اسی طرح اذان اور اقامت کے الفاظ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور جلال کی طرف متوجہ کرکے شیطان کو بھگاتے ہیں اور وساوس دُور کرکے توجہ پیدا کرتے ہیں۔
نماز باجماعت میں صف بندی بھی جسمانی خیالات کو منتشر ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ چنانچہ آنحضورﷺ نے فرمایا ہے کہ اپنی صفوں کو درست کرو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے۔
پھر نماز پڑھنے کی نیت ہے جو ذہن میں ہی کرنی چاہیے۔ یہ دراصل اپنے نفس کو بتادینا ہے کہ مَیں اس کام کے لیے کھڑا ہونے لگا ہوں۔ ساتھ یہ ارادہ بھی کرلے کہ مَیں دوسرے خیالات کو ذہن میں نہیں آنے دوں گا۔
پھر امام کی قراءت کو سمجھ کر سننا بھی نماز میں توجہ قائم رکھتا ہے۔ اکیلے نماز پڑھنے کی صورت میں آنحضورﷺ اور صحابہؓ کرام کا طریق تھا کہ خاص آیات کو بار بار دہراتے تھے۔ مثلاً اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اگر گھر میں نفل پڑھے جائیں تو کسی قدر اونچی آواز سے قراءت کرنے سے توجہ قائم رکھنا آسان ہوجاتا ہے کیونکہ کان بھی ذکرالٰہی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔

مسجد اقصیٰ قادیان

پھر نماز میں توجہ قائم رکھنے کے لیے الفاظ کو آہستہ آہستہ سوچ سمجھ کر ادا کرنا بھی مفید ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنی نظر سجدہ کی جگہ رکھے۔ رکوع میں دونوں پاؤں کے درمیان نظر رکھنی چاہیے۔ آنکھیں کھلی رکھ کر نماز پڑھنے میں حکمت یہ ہے کہ جب ایک حس کام کررہی ہو تو دوسری حسیں کام نہیں کرتیں یعنی نظر کی حس جب کام کررہی ہو تو متفرق آوازیں، خیالات اور دیگر امور خلل نہیں ڈالتے۔ چونکہ سونگھنے اور سننے کی حسیں یعنی ناک اور کان وغیرہ کو آپ خود روک نہیں سکتے اس لیے اُن کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا لیکن آنکھوں میں یہ خوبی ہے کہ انہیں کھُلا رکھ کر نظر کی توجہ مرکوز کی جاسکتی ہے۔
حضورؓ انسانی نفسیات کا ایک اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر انسان اپنے خیالات سے دب جائے تو پھر وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے لیکن اگر ان کا مقابلہ کرےتو وہ رُک جاتے ہیں۔ مقابلہ کرنا یہ ہے کہ مثلاً کسی کو یہ خیال آنے لگے کہ میرا بچہ بیمار پڑا ہے نہ جانے اس کی اب کیا حالت ہوگی تو فوراً سوچے کہ میرے اس خیال کے لانے سے بچہ اچھا نہیں ہوجائے گا اور اگر یہ خیال مجھے نہ آئے تو وہ زیادہ بیمار بھی نہیں ہوجائے گا۔ اس طرح خیالات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
رسول کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ نماز میں غیرضروری حرکت نہ کی جائے۔ مثلاً کسی نے یونہی کوٹ کو ہاتھ لگایا تو خیال آیا کہ یہ کوٹ پرانا ہوگیا ہے، نیا لینا چاہیے۔ اس پر خیال آیا کہ رقم کہاں سے آئے گی، تنخواہ تو تھوڑی ہے اور تنخواہ ملے ہوئے بھی دیر ہوگئی ہے۔ پھر اگر افسر کی غلطی سے تنخواہ میں دیر ہوئی ہوگی تو پھر افسر کو بُرا بھلا کہے گا اور ان خیالات میں ہی محو ہوجائے گا یہاں تک کہ امام سلام پھیر کر نماز ختم کردے گا۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ فرض نماز میں توجہ قائم رکھنے اور غفلت دُور کرنے کے لیے پہلے اور بعد میں سنتوں اور نوافل کا پڑھنا بھی ممد ہوتا ہے۔ اسی طرح نماز میں رکوع اور سجود ایسی حرکات ہیں جو غافل کو ہوشیار کردیتی ہیں تاکہ توجہ اصل مقصد پر قائم رہے۔
نماز کے دوران قیام، رکوع اور سجدہ کی حالت میں جسمانی چستی بھی قائم رکھنی چاہیے کیونکہ ظاہری چستی کا اثر باطنی چستی پر بھی پڑتا ہے۔ مثلاً ایک ٹانگ پر کھڑا ہوکر دوسری کو ڈھیلا نہ چھوڑ دے وغیرہ۔
پھر نماز میں جس جگہ سے خیالات منتشر ہوں اور جب احساس ہو تو پھر واپس وہیں سے جاکر نماز کے الفاظ دوبارہ پڑھنے چاہئیں۔ بار بار ایسا کرنے سے ذہن کو تنبیہ ہوگی کہ خیالات منتشر نہیں ہونے دینے۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ خداتعالیٰ کا یہ حکم بہت مفید ہے کہ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (المؤمنون:4) مومن کوئی لغو کام نہیں کیا کرتے۔ پس لغو خیالات کو قریب نہ آنے دو۔ یعنی ایسے خیالات محض ظنّی ہوں۔ خصوصاً اُن امور پر سوچنا اور فکر کرنا جو واقع ہوچکے ہوں کیونکہ ان کو تو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح فکر کرنا تو حد درجے کی جہالت ہے۔ ہاں مفید باتوں کے متعلق سوچنے میں کوئی حرج نہیں۔
آنحضورﷺ کی ایک نصیحت بھی بہت مفید ہے جس کا احساس عبادت کے دوران موجود رہنا چاہیے۔ چنانچہ آپؐ نے ’’احسان ‘‘ کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ خداتعالیٰ کی عبادت اس طرح کی جائے کہ گویا بندہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ خیال ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔

پھر رسول کریمﷺ فرماتے ہیں کہ وہ بندہ جو دو رکعات بھی ایسی پڑھتا ہے کہ ان میں اپنے نفس سے کلام نہیں کرتا اُس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ پس نماز میں خداتعالیٰ کی طرف توجہ قائم رکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے: وَھُمْ عَلیٰ صَلَاتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ (الانعام:93) مومنوں کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی نماز کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔
حضورؓ نے قرآن کریم کے حوالے سے چوتھی قسم کے ذکر یعنی جہری ذکر کی مثال دیتے ہوئے یہ حدیث بیان فرمائی کہ رسول کریمﷺ جب ایک رات مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں مشغول ہیں اور کچھ ایک حلقہ کیے بیٹھے ہیں اور دین کی باتیں کررہے ہیں۔ آپؐ اُس حلقے میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ یہ کام اُس سے افضل ہے جو دوسرے لوگ کررہے ہیں۔
مذکورہ حدیث کا مطلب ہے کہ بعض اوقات اجتماعی ذکر کرنا انفرادی ذکر کرنے سے بہتر ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی اجتماعی ذکر کے وقت انفرادی ذکر کرنا ریاء بھی بن سکتا ہے۔
جہری ذکر کی ایک قسم وہ ہے جس میں دوسروں اور خصوصاً غیرمسلموں کو خداتعالیٰ کی حقیقی صفات سے روشناس کیا جائے۔ یعنی دعوت الی اللہ کرنا بھی اسی قسم کے ذکر میں شامل ہے۔ چنانچہ سورۃ المدثر میں آنحضورﷺ کو حکم دیا گیا کہ لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرانے کے علاوہ اُن کے سامنے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کر۔ یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۔قُمْ فَاَنْذِرْ ۔ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔
اپنے خطاب کے اختتام سے قبل حضورؓ نے قرآن کریم کی روشنی میں ذکر کرنے کے چند مزید فوائد اور فضائل بھی بیان فرمائے ہیں۔ مثلاً فرمایا کہ ذکرالٰہی کا سب سے بڑا فائدہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ دوسرا فائدہ اطمینانِ قلب کا حاصل ہونا ہے۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔ (الرعد:29)
ایک اَور فائدہ یہ ہے کہ خدا ایسے بندے کو اپنا دوست بنالیتا ہے اور اُسے اپنی بارگاہ میں یاد کرتا ہے۔ حدیث قدسی ہے کہ میرا بندہ جب دل میں میرا ذکر کرتا ہے تو مَیں بھی اپنے دل میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اسی طرح جب بندہ لوگوں میں میرا ذکر کرتا ہے تو مَیں اُن لوگوں سے بہتر لوگوں (یعنی متقیوں) میں اُس کا ذکر بلند کرتا ہوں اور دنیا اقرار کرتی ہے کہ وہ متقی ہے۔ فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ۔ (البقرۃ:153)۔ اس ارشاد کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ذکرالٰہی کرنے والے میں تقویٰ پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جب انسان سُبْحَانَ اللّٰہ کہے گا اور اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائے کہ تجھے بھی پاکی حاصل ہو تو خداتعالیٰ کی بات تو پوری ہوکر رہے گی۔
پھر ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان بدیوں سے رُک جاتا ہے جیسا کہ فرمایا:اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ۔ (العنکبوت:46) یعنی تُو کتاب میں سے، جو تیری طرف وحی کیا جاتا ہے، پڑھ کر سنا اور نماز کو قائم کر۔ یقیناً نماز بےحیائی اور ہر ناپسندیدہ بات سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر یقیناً سب (ذکروں) سے بڑا ہے۔
ذکر کرنے کا یہ بھی ایک فائدہ ہے کہ دشمن کے مقابلے کی طاقت پیدا ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ (الانفال:46) اے مومنو! جب بھی کسی دشمن سے تمہارا سامنا ہو تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ حضورؓ فرماتے ہیں کہ اسی آیت سے ایک فائدہ یہ نکلتا ہے کہ سچے دل سے ذکر کرنے والا انسان اپنے ہر مقصد میں کامیاب ہوتا ہے۔
ایک فائدہ ذکر کا یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سات آدمیوں کے سر پر خدا کا سایہ ہوگا جن میں سے ایک ذکر کرنے والا ہوگا۔
ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ذکر کرنے والے کی دعا قبول ہوجاتی ہے۔ قرآن کریم کے مطابق دعا کرنے کا اصول بھی یہی ہے کہ پہلے تسبیح کی جائے اور پھر اپنی حالت پیش کی جائے جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ہے کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ (الانبیاء:88)
خداتعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ جو میرے ذکر میں لگا رہتا ہے اُسے مَیں اُس کی طلب سے بھی زیادہ دیتا ہوں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دعا نہ بھی کی جائے۔ کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں دونوں باتیں سکھائی ہیں یعنی ذکر کا طریق بھی اور دعائیں کرنے کا اسلوب بھی۔
ایک فائدہ یہ ہے کہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ حدیث ہے کہ تکبیر و تحمید و تسبیح کرنے والے کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں گو سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
ایک فائدہ یہ ہے کہ عقل تیز ہوتی ہے اور ذاکر پر ایسے ایسے معارف کھلتے ہیں کہ وہ خود بھی حیران ہوجاتا ہے۔
بارھواں فائدہ ذکرالٰہی کرنے کا یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہوجاتی ہے۔
الغرض سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے آغازِ خلافت میں ہی ارشاد فرمودہ اس پُرمعارف خطاب میں ذِکرُاللّٰہ جیسے اہم موضوع کے حوالے سے جو پُرحکمت اغراض اور برکات بیان فرمائی تھیں بعد ازاں بےشمار مواقع پر ان کی مزید تفاصیل اپنے خطبات و خطابات اور مضامین میں بیان فرماتے چلے گئے۔ دراصل یہ قرآن کریم کا ایسا حُسن ہے کہ اس کے بطون اُن پاک وجودوں پر عیاں ہوتے چلے جاتے ہیں جن کا مطمح نظر عشقِ الٰہی اور روحانی زندگی کی غذا ذکر الٰہی ہوتا ہے اور اُن کی زبانیں ہمیشہ اس شیریں ذکر سے تر رہتی ہیں۔
اللہ کرے کہ ہم بھی کلام الٰہی کی روشنی میں اپنی زندگیوں میں وہ مثبت انقلاب پیدا کرسکیں جو دنیا و آخرت میں ہمارے لیے امن، نُور، ہدایت اور سلامتی کا گہوارہ بن جائے، خداتعالیٰ کے پیار کی نظریں ہمیشہ ہم پر پڑتی رہیں اور ہمارے دل ہمیشہ خداتعالیٰ کی پاکیزہ محبت اور بےپایاں رحمت سے سیراب ہوتے رہیں۔ آمین اللّٰھم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں