جماعت کی ترقی ، خلافت سے وابستہ ہے

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ -2- مئی 2026ء)


ہمارا ایمان ہے کہ جماعت احمدیہ کی تمام ترقیات خلافتِ احمدیہ سے ہی وابستہ ہیں۔ یہ کوئی لفظی دعویٰ یا کھوکھلا نعرہ نہیں ہے بلکہ خلافتِ احمدیہ کے آغاز سے ہی خلفائے کرام نے اپنے عارفانہ کلام کے پانی سے ہمارے ایمان کے اس درخت کی آبیاری کی ہے اور الٰہی بشارتوں اور وعدوں کا ذکرکرکے اس امرکو ہمارے دلوں میں راسخ کردیا ہے۔ سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود
حضرت المصلح الموعود

’’تم خوب یادرکھو کہ تمہاری ترقیات خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں اور جس دن تم نے اس کو نہ سمجھا اور اسے قائم نہ رکھا وہی دن تمہاری ہلاکت اور تباہی کا دن ہوگا۔ لیکن اگر تم اس کی حقیقت کو سمجھے رہو گے اور اسے قائم رکھو گے تو پھر اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں ہلاک کرنا چاہے گی تو نہیں کرسکے گی اور تمہارے مقابلہ میں بالکل ناکام و نامراد رہے گی۔‘‘

مولانا عبدالماجد طاہر صاحب

مجلس انصاراللہ برطانیہ کے رسالہ ’’انصارالدین‘‘ برائے ستمبر و اکتوبر 2014ء میں مکرم عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن کی جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پر کی جانے والی ایک تقریر شامل اشاعت ہے جس میں وہ اپنے مشاہدات کی روشنی میں احمدیوں کے دلوں میں خلافت احمدیہ سے عشق اور غیروں کے دلوں میں خلافت احمدیہ کے احترام کے واقعات کا بیان کرتے ہیں۔
براعظم افریقہ کے چند نورانی چہرے والوں کا آنکھوں دیکھا حال آپ کو بتاتاہوں۔ 2008ء کے جلسہ سالانہ گھانا میں وہاں قریباً ایک لاکھ کا مجمع تھا اور افریقہ کے مختلف ممالک سے لوگ جلسہ میں شمولیت کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ جب حضورانور نمازوں کی ادائیگی کے بعد اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوتے جو کہ جلسہ گاہ کے اندرہی قریباً ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ پر تھی تو راستے کے دونوں اطراف مرد اور خواتین اور بچے دیوانہ وار اکٹھے ہوجاتے۔ حضورانور کی گاڑی آہستہ آہستہ چل رہی ہوتی۔ لوگ مسلسل نعرے لگاتے اور خواتین سفید رومال لہراکر اپنی عقیدت اور فدائیت کا اظہار کرتیں۔ اس جوش، جذبے اور ولولے کے ساتھ نعرے لگائے جاتے کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ اپنے آقاکی ایک جھلک دیکھنے کے خواہاں ان عشاق کاایک جم غفیر ہوتا۔ خواتین اس بات کے لیے تڑپ رہی ہوتیں کہ حضورانور کی ایک نظر اُن کے بچوں پر پڑجائے اوروہ بھی خلافت کی برکتوں سے حصہ لینے والے بن جائیں۔ افریقہ کے مختلف ممالک میں ہم نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ راستے پر چلتے ہوئے جب حضورانور بچوں کو پیار کرتے، ان کے سروں پر ہاتھ رکھتے اور بچوں کو اپنے ساتھ لگاتے تو مائیں فرطِ جذبات سے روتے ہوئے ان بچوں کو اُس جگہ سے چومنے لگتیں جہاں حضورانور کا ہاتھ لگا ہوتا۔
اس جلسے پر برکینا فاسو سے تین سو خدام انتہائی خستہ حال سائیکلوں پر سولہ سو کلومیٹر سے زائد کا بڑا تکلیف دہ اور انتہائی کٹھن سفر طے کرکے گھانا آئے تھے۔ ان سائیکل سواروں میں تیرہ سا ل کی عمر کے دو بچے بھی شامل تھے۔
ایک شام برکینافاسو اور آئیوری کوسٹ سے آنے والے چار ہزار سے زائد احباب کی حضورانور سے ملاقات تھی۔ یہ لوگ شرف مصافحہ حاصل کرنے کے بعد اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر اور اپنے سینوں پر پھیرتے اورروتے ہوئے کہتے جاتے کہ آج ہمارے سینے برکتوں سے بھرگئے ہیں۔ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہم نے اپنے آقا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ایک صاحب کہنے لگے کہ ’’نور ہی نور ہے۔‘‘ برکینا فاسو سے آنے والے ایک صاحب نے مصافحہ کرنے کے بعد اپنے ہاتھ پر کپڑا باندھ لیا تاکہ خلیفہ وقت کے وجود سے جو برکت ملی ہے وہ دُور نہ ہوجائے۔
گیمبیا کا ایک وفد بس کے ذریعہ افریقہ کے گرم موسم میں مسلسل پانچ روز میں سات ہزارکلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرکے پہنچا تھا۔ اس وفد کے ایک ممبر نے بتایاکہ ہم لوگ منگل کی رات گیارہ بجے جلسہ گاہ پہنچے تو سفر کی سختی اور گرمی سے نڈھال تھے۔ تھکان سے چور تھے۔ لیکن اگلے روز جب حضورانور نماز پڑھانے کے لیے جلسہ گاہ تشریف لائے تو حضورانور کے چہرے پر نظر پڑتے ہی ہماری ساری تھکان دُور ہوگئی۔ سفر کی سختی جاتی رہی اورساری تکلیفیں بھول گئیں۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ میں پہلی بار حضورکو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں اور میرے لیے ناممکن ہے کہ اپنے دل کی اس کیفیت کو بیان کرسکوں۔ کہنے لگے کہ ٹی وی تو وہ نور دکھاہی نہیں سکتا جو آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

پھر عرب ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک انقلاب برپا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں آتا جس میں عربوں کی طرف سے بیعتیں نہ ملتی ہوں۔ جہاں وہ رؤیا اور خوابوں کے ذریعہ احمدیت قبول کرتے ہیں وہاں حضورانور کے خطبات، خطابات اور عربی زبان میں خطاب نے ان کی زندگیوں میں ایک روحانی انقلاب برپا کردیاہے۔ ان لوگوں میں ایک کثیر تعداد خلافت سے وابستہ نشانات دیکھ کر قبولِ احمدیت کی توفیق پارہی ہے۔ چنانچہ ملک الجزائر سے تعلق رکھنے والی ایک نو احمدی خاتون نادیہ کاظمی صاحبہ نے حضورانورسے ملاقات میں اپنی والدہ کی کینسر کی بیماری کے لیے دعا کی درخواست کی جس پر حضورانور نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ صحت دے گا اور فضل کرے گا۔‘‘ اور ساتھ ہی حضورانور نے ان کی والدہ کے لیے ’’الیس اللہ‘‘ والی ایک انگوٹھی بھی دی جو ان کی والدہ نے پہن لی۔ کچھ عرصے بعد جب ان کی والدہ چیک اپ کے لیے گئیں تو ڈاکٹرز نے بتایاکہ ان کو اب کسی قسم کے ٹیسٹ یا کیموتھراپی کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی صحت اب کینسرہونے سے پہلے کی صحت سے بھی زیادہ اچھی اور بہتر ہے۔ خلیفۃالمسیح کی دعا کی قبولیت کے اس نشان نے ان کے سارے خاندان کے دلوں کو بدل دیا اور اس نشان کو دیکھ کر36؍افراد پر مشتمل سارا خاندان بیعت کرکے جماعت میں داخل ہوگیا۔
رشین ممالک میں بھی انقلابی کام ہوا ہے اور 2009ء میں جب سے یوکے میں رشین ڈیسک کا قیام عمل میں آیا اور حضورانور کے خطابات اور خطبات کے تراجم ایم ٹی اے اور رشین ویب سائٹ پر نشر ہونے شروع ہوئے تو ان ممالک میں ایک روحانی انقلاب برپا ہوا۔ اسی طرح براعظم ایشیا کی سرزمین، مشرق بعید کے ممالک اور سمندر میں آباد جزائر ہیں۔ جب حضورانور مشرق بعید ممالک کے دورہ پر تشریف لے گئے تو سنگاپور میں انڈونیشیا سے قریباً تین چار ہزار احمدی پہنچے۔ اسی طرح ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ، پاپوانیوگنی، کمبوڈیا اور برونائی سے بھی لوگ آئے ۔ ان کا اپنے اخلاص، محبت اور عشق اس حد تک بڑھاہواتھا کہ حضورانور کے چہرہ مبارک پر نظر پڑتے ہی رو پڑتے تھے۔ یہ لوگ اس چہرے کے بھوکے تھے، ترسے ہوئے تھے۔ کوئی لمحہ دیدار کا ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ بعض فیملیز تو بذریعہ سڑک اور بذریعہ سمندری جہاز اڑتیس گھنٹوں کا طویل سفر طے کرکے آئیں محض اس لیے کہ پیارے آقاکے دیدار کے چند لمحات نصیب ہوجائیں۔
الٰہی تائید و نصرت سے ایک نئے دَور کا آغاز اُس وقت ہوا جب دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں حضورانور بنفسِ نفیس تشریف لے گئے اور وہاں دنیا کے سرکردہ حکام کے سامنے اسلام کی امن و صلح کی حقیقی تعلیم پیش فرمائی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض بتائی اور آپؑ کا پیغام پہنچایا۔
آسٹریلیا میں میلبورن کی ایک تقریب میں چینل31 کے نمائندہ نے کہا کہ حضورانور کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے آج میلبورن میں امن اتر آیا ہے۔
ملٹی فیتھ نیٹ ورک تنظیم کے ایک ممبرنے کہا کہ حضورانور کا خطاب سن کر آج مجھے علم ہواہے کہ خلیفۃ المسیح کیوں ایک عالمی امن کے سفیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ کاش مسلمانوں کے باقی لیڈرز بھی ایسے ہی ہوتے تو آج دنیا میں امن ہی امن ہوتا۔
جاپان میں کمیونسٹ پارٹی کے ایک لیڈر (ممبرآف سٹی پارلیمنٹ) نے کہا کہ آج کا دن میری زندگی کے بہترین دنوں میں سے ایک ہے کہ مَیں نے دنیا کے غیرمعمولی مقدس انسان کو دیکھا ہے، اِن کا خطاب سنا ہے اور اس یقین پر پہنچا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے امام اور ان کی تعلیمات میں ہی دنیا کے امن کا راز پنہاں ہے۔
آسٹریلیا کے ایک ممبرآف پارلیمنٹ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: خلیفۃالمسیح امن کے علمبردار ہیں اور ایک عالمی شخصیت ہیں۔ آج خلیفۃالمسیح کے خطاب نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔
خواہ پریس کانفرنس ہو، ٹی وی، ریڈیو یا اخبارات کے انٹرویوز ہوں، استقبالیہ تقریبات ہوں یا سرکردہ افراد کے ساتھ ملاقاتیں ہوں، ہر جگہ حضورانور نے اسلام کا دفاع کرتے ہوئے اسلام کا خوبصورت چہرہ دکھایا۔ جاپان کی ایک تقریب میں ایک وکیل نے کہا : اب تک ہم نے ٹی وی اور اخباروں میں یہی سنا تھاکہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ اسلام کی انتہائی خوفناک تصویر ہمارے سامنے تھی۔لیکن آج جب اسلام کے لیڈر خلیفۃالمسیح کی زبان سے اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیم سنی تو اسلام کے بارے میں میرا نظریہ یکسر تبدیل ہوگیا۔
ایک سکول کے پرنسپل نے خطاب سن کر کہا کہ میرے ذہن میں اسلام کا جو پہلے منفی تصور تھا خلیفۃالمسیح کے خطاب نے اسے بالکل تبدیل کردیاہے۔ آج مجھے تسلی ہوئی ہے کہ دنیا کی راہنمائی کرنے والا کوئی انسان تودنیا میں موجود ہے۔


جاپان کے ایک مشہور وکیل نے ناگویا میں ہونے والی استقبالیہ تقریب کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے اسلام کا خوبصورت چہرہ دیکھاہے اور میراایمان ہے کہ اگر دنیاکسی ایک ہاتھ پر جمع ہوسکتی ہے تو وہ جماعتِ احمدیہ کے امام کا ہی ہاتھ ہے۔
2006ء میں جب حضورانور جزائر فجی تشریف لے گئے تو صدر مملکت فجی سے ملاقات کے دوران نائب امیر جماعت فجی نے عرض کیاکہ آج ہوٹل میں reception ہے اور ہم نے آپ کودعوت دی تھی۔ صدر مملکت کو اس دعوت نامہ کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے سیکرٹری سے پوچھا تو اس نے بتایاکہ آج شام یونیورسٹی میں کانووکیشن کی تقریب ہے اور وہاں آپ نے جانا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خلیفۃالمسیح ہمارے ملک میں موجود ہوں اور مَیں حضورکا پروگرام چھوڑ کر کسی اَور پروگرام میں چلا جاؤں! مَیں ان کے پروگرام میں شامل ہوں گا۔ یونیورسٹی کے لیے کسی اَور کو بھجوادیں۔ چنانچہ موصوف شام کو حضورانور کی آمدسے قبل ہی ہوٹل پہنچے ہوئے تھے اور حضورانور کی آمد کے منتظر تھے۔
جب حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 2008ء میں بینن تشریف لے گئے تو بینن کی حکومت نے اعلان کیاکہ خلیفۃالمسیح ہمارے سرکاری مہمان ہوں گے۔ چنانچہ جب حضورانورنائیجیریا سے بارڈر کراس کرکے بینن میں داخل ہوئے توجہاں ایک طرف حکومت حضورانور کے استقبال کے لیے اپنے دل بچھائے بیٹھی تھی وہاں بینن کے تیس بادشاہ اپنی رعایا کے ہمراہ اپنے روایتی شان و شوکت کے ساتھ بینن کی سرزمین پر قدم رکھنے والے اس روحانی بادشاہ خلیفۃ المسیح کے سامنے نہایت ادب سے کھڑے بزبانِ حال یہ کہہ رہے تھے کہ دیکھو! ’’وہ بادشاہ آیا۔‘‘ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کہ ’’وہ بادشاہ آیا‘‘ ہم نے اپنی آنکھوں سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک وجود میں پوراہوتا دیکھا۔
حضرت مصلح موعودؓ نے ایک موقع پر مجلسِ شوریٰ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا تھا: ‘‘وہ دن آنے والاہے جب انگلستان اور امریکہ ایسی بڑی حکومتیں مشورہ کے لیے اپنے نمائندے بھیجیں گی اور وہ اسے اپنے لیے موجب عزت خیال کریں گے۔’’ اب خداکی تقدیردنیاکی بڑی بڑی حکومتوں کو اس طرف لارہی ہے۔Capitol Hill کے پروگرام میں تیس سے زیادہ کانگریس مین، سینٹیرز اور تِھنک ٹینک کے نمائندے اور دیگر سرکردہ حکام موجود تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو کسی بھی ایسے پروگرام میں چند منٹ سے زائد نہیں بیٹھتے۔ لیکن اُس روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ یعنی ’میری رعب کے ساتھ نصرت کی گئی‘ بڑی شان سے پوراہوتادیکھا۔ جب تقریب شروع ہوئی تو ہال ان لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور تقریباً پونا گھنٹہ یہ تقریب جاری رہی۔ ان لوگوں میں سے ایک بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔ اپنی دیگر مصروفیات اور پروگرام بھول گئے۔ ان کے سیکرٹریان ان کو اشارے سے یاد کرواتے تو وہ سر جھٹک دیتے کہ نہیں۔ یہ اُسی رعب کا اثر تھا جو ہمارے پیارے آقا کو ایک نشان کے طور پر خدا کی طرف سے عطا ہواتھا اور جس نے ہر ایک کو بےبس کردیا۔

2013ء میں حضورانور لاس اینجلس تشریف لے گئے تووہاں ہوٹل میں ایک تقریب میں بڑی تعداد میں کانگریس مین اور دوسرے سرکردہ حکام شامل ہوئے۔ یہاں ان دنوں میئر کا انتخاب ہونے والا تھا۔ میئر کے لیے ایک امیدوار Eric صاحب نے حضورانور کا چہرہ دیکھا تو کہنے لگے کہ آج لاس اینجلس میں فرشتہ اتر آیا ہے۔ انہوں نے حضورکی خدمت میں دعا کی درخواست کی۔ ان کے معمر والد نے بھی اپنا سر جھکائے اور اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے اپنے بیٹے کی کامیابی کے لیے دعا کی درخواست کی۔ عام لوگوں کا خیال یہی تھا کہ مخالف امیدوار خاتون جیت جائے گی اور Eric صاحب ہار جائیں گے۔ لیکن حضورانور کی دعا کے نتیجہ میں ان کی ہار جیت میں بدل گئی اور Eric صاحب لاس اینجلس کے میئر بن گئے۔ ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ میں خلیفۃالمسیح کی دعا سے ہی جیتا ہوں۔
4؍دسمبر2012ء کا دن بھی جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک عظیم الشان انقلاب کی نوید لے کر آیا جب حضورانور نے یورپین پارلیمنٹ میں معرکہ اراء خطاب فرمایا۔ 28؍یورپین قوموں کے ممبرانِ پارلیمنٹ اور دیگر سرکردہ حکام سامنے بیٹھے تھے۔ آج حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاتھا:

’’ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہوجائے گا۔ سو اے سننے والو! ان باتوں کو یاد رکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ کر لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔‘‘
اس تقریب میں شامل ایک بشپ ڈاکٹر Amen Howard نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: یہ شخص جادوگر نہیں لیکن اس کے الفاظ جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ لہجہ دھیما ہے لیکن اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ غیر معمولی طاقت، شوکت اور اثر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس طرح کا جرأت مند انسان میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ مَیں اسلام کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا تھا لیکن حضور کے خطاب نے اسلام کے بارے میں میرے نقطہ نظر کو کلیتاً تبدیل کردیا ہے۔

خلیفہ وقت کے مبارک وجود سے اپنے اور بیگانے سبھی فیض اور برکات حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ 4؍مئی 2006ء بروز جمعرات جب حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مشرق بعید کے دورہ کے دوران ناندی (فجی) میں تھے تو رات قریباً اڑھائی تین بجے کا وقت تھا کہ ربوہ، لندن اور دنیا کے مختلف ممالک سے فون آنے شروع ہوگئے کہ ٹی وی پر خبریں آرہی ہیں جن کے مطابق ایک بہت بڑا سونامی طوفان فجی کے ساتھ والے جزائر Tonga میں آیا ہے اور یہ طوفان طاقت کے لحاظ سے انڈونیشیا والے سونامی سے بڑاہے جس نے لاکھوں لوگوں کو غرق کردیاتھا اور دنیا کے کئی ممالک میں تباہی مچائی تھی۔ ہم نے جب ٹی وی آن کیا تو یہ خبریں آرہی تھیں کہ یہ سونامی مسلسل اپنی شدت اور طاقت میں بڑھ رہا ہے اور صبح کے وقت ناندی کا سارا علاقہ اور قریبی جزائر غرق ہوسکتے ہیں۔ آسٹریلیا کا ایک حصہ بھی غرق ہوگا اور یہ نیوزی لینڈ کے بھی ایک بڑے حصے کو بھی غرق کردے گا۔ صبح ساڑھے چار بجے جب حضورانور نماز فجر کی ادائیگی کے لیے تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں اس طوفان کے بارے میں رپورٹ پیش ہوئی اور جو پیغامات خیریت دریافت کرنے کے لیے فون پر موصول ہورہے تھے ان کے متعلق بتایا گیا۔ حضورانور نے نماز فجر پڑھائی اور بڑے لمبے سجدے کیے اور خدا کے حضور مناجات کیں۔ نماز سے فارغ ہوکر آپ نے احبابِ جماعت کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ ’’فکر نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔ کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ پھر حضورانور ہوٹل واپس تشریف لے آئے۔ واپس پہنچ کر جب ہم نے ٹی وی آن کیا تو ٹی وی پر یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ سونامی کا زور ٹوٹ رہاہے اور آہستہ آہستہ اس کی شدت ختم ہورہی ہے۔ پھر قریباً دو اڑھائی گھنٹے بعد یہ خبریں آگئیں کہ اس سونامی کا وجود ہی مٹ گیاہے۔ اس روز فجی کے اخبارات نے یہ خبریں لگائیں کہ سونامی کا ٹل جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔

حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ
حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ

آج جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقیات کو دیکھ کر مخالفین احمدیت اپنے بدارادوں اور ناپاک منصوبوں میں انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں۔ جہاں وہ عملی طور پر ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہیں وہاں انہوں نے میڈیا کے ذریعے بھی مخالفانہ مہم کا ایک جال بچھایا ہوا ہے۔ جبکہ خلافتِ احمدیہ تو خداتعالیٰ کے فرشتوں کے حصار میں ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ایک موقع پران مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’جس خلافت کے گرد خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت پہرہ دے رہی ہے اس خلافت کے قلعے پر تو تمہاری لات اگر پڑے گی تو تمہاری ہڈیاں ہی اس طرح چور چور ہوجائیں گی کہ ان کے ذرے بھی دنیا کو نظر نہیں آئیں گے۔‘‘

حضرت مسیح موعود و مہدی معہود ؑحضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’مَیں بڑے دعویٰ اور استقلال سے کہتاہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدا ئے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک مَیں دُوربین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ مَیں ایک عظیم الشان فتح پاؤں۔ کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اَور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لیے ایک اَور ہاتھ چل رہاہے جس کو دنیانہیں دیکھتی مگر مَیں دیکھ رہاہوں۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں