حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ -2- مئی 2026ء)

حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خوبصورت یادوں پر مشتمل مکرم مرزا نصیر احمد صاحب کا ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22 و 24؍مئی2014ء میں شائع ہوا ہے۔

٭…مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ 1970ء میں مجھے جامعہ کے لیے مقالہ لکھنا تھا جس کا عنوان ملا: ’’افغانستان میں عبرانی کتبات‘‘۔ اس کا تحقیقی مواد تلاش کیا تو افغانستان سے کچھ مواد ہاتھ لگا جو اٹالین زبان میں تھا۔ اس مواد کا ترجمہ کروانے کے لیے بہت کوشش کی۔ کچھ اٹالین انجینئرز تربیلا میں تھے، اُن سے بھی جاکر ملا مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ محترم میر داؤد احمد صاحب نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے دریافت فرمانے پر خاکسار کا احوال عرض کرتے ہوئے مقالے کا بھی ذکر کیا تو حضورؒ نے فرمایا کہ جلسے پر ڈاکٹر محمد عبدالہادی کیوسی صاحب آرہے ہیں، اُن سے مل لو۔ محترم ڈاکٹر صاحب اٹالین نژاد تھے مگر اُن دنوں جرمنی میں مقیم ہوچکے تھے۔ حسب ارشاد اُن سے ملاقات کی اور انہوں نے بہت تعاون کیا۔ بعد میں دیگر یورپین زبانوں میں بھی مواد دستیاب ہوگیا اور مقالہ بروقت مکمل کرنے کی توفیق مل گئی۔

٭…مقالے کے سلسلے میں مجھے دو تین بار افغانستان جانے کا موقع ملا۔ 1968ء میں ایک موقع پر محترم سیّد میر محمود احمد ناصر صاحب نے فرمایا کہ جلال آباد میں ’’شہزادہ نبی کا چبوترہ‘‘ کے نام سے ایک معروف مقام ہے اُس پر بھی تحقیق کی جائے۔ یہ دراصل ایک مزار ہے۔ اس حوالے سے محترم میر صاحب نے حضورؒ کی خدمت میں پیش کرکے دعا کی درخواست بھی کردی۔ حضورؒ کی دعا کا اثر اس سفر میں نمایاں محسوس ہوا۔ اخراجات کے لیے حسب ضرورت رقم ایک عزیز کی طرف سے بطور تحفہ مل گئی۔ راہنما کے طور پر ایک دوست میسّر آگئے۔ اصل مقام پر جاتے ہوئے راستے میں ایک صاحب ملے تو اُن سے بات چیت پر معلوم ہوا کہ پہلے ہمیں ایک دوسرے گاؤں جانا چاہیے جہاں اس مزار کی دیکھ بھال پر مامور لوگ رہتے ہیں۔ چنانچہ وہی ہمیں وہاں لائے اور متعلقہ افراد سے ملوادیا۔ انہوں نے ہماری بہت خدمت کی اور بہت سی معلومات دیں، مخطوطات بھی دکھائے۔ پھر مزار پر لے جاکر زیارت کروائی جو چشمے والے پانی کی چھوٹی سی ایک ندی پر واقع ہے۔ الغرض جس قدر معلومات درکار تھیں وہ سب مل گئیں۔ واپس ربوہ آکر جب حضورؒ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی تو آپؒ بہت مسرور ہوئے۔
٭…1972ء میں مسجد اقصیٰ ربوہ کا افتتاح ہوا۔ اس سے ایک روز قبل حضورؒ انتظامات کا معائنہ فرمانے وہاں تشریف لائے۔ جامعہ کے چند طلبہ کو وہاں پہنچنے کا حکم تھا جن میں خاکسار بھی شامل تھا۔ حضورؒ مختلف طلبہ کو مائیک پر کچھ پڑھنے کا ارشاد فرماتے اور خود مسجد کے مختلف کونوں میں جاکر آواز کی کوالٹی ملاحظہ فرماتے۔ حضورؒ نے محترم میر داؤد احمد صاحب سے فرمایا کہ تمہارا ایک شاگرد بڑی دھواں دھار تقریر کرتا ہے وہ کہاں ہے؟ چنانچہ عبدالسلام طاہر صاحب حاضر ہوگئے جن کو خلافت کے موضوع پر تقریر کرنے کا ارشاد ہوا۔ حسب ارشاد مجھے سورۃالفاتحہ کی تلاوت کرنے کی توفیق ملی۔

٭…جامعہ سے ہماری فراغت 1971ء میں ہوچکی تھی۔ چند ماہ بعد میری تقرری سالٹ پانڈ (غانا) کے احمدیہ مشنری ٹریننگ کالج کے پرنسپل کے طور پر ہوگئی۔ 1972ء سے 1979ء تک وہاں مقیم رہا۔ حضورؒ کی دعاؤں کے کئی نشان اس دوران دیکھے۔ مثلاً ٹیچی مان میں نصرت جہاں سکیم کے تحت جب ہسپتال قائم کرنے کے لیے حضورؒ نے محترم ڈاکٹر بشیر احمد خان صاحب کو وہاں بھجوایا تو متعصّب حکام نے یہ کہہ کر اجازت دینے سے انکار کردیا کہ وہاں پہلے ہی ایک مشنری ہسپتال کام کررہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب صبر کرکے بیٹھ گئے تو اس دوران مشن ہسپتال کے ڈَچ ڈاکٹر کو رخصت پر جانا پڑگیا۔ اُس کی عدم موجودگی میں ہسپتال میں ایک سرجیکل ایمرجنسی پیش آگئی۔ اس پر ہسپتال والوں نے مجبوراً محترم ڈاکٹر بشیر احمد خان صاحب سے رجوع کیا تو آپ نے جواب دیا کہ مَیں قانوناً پریکٹس کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ اس پر ہسپتال والوں نے لکھ کر دیا کہ وہ مکمل ذمہ داری لیتے ہیں۔ چنانچہ محترم ڈاکٹر صاحب نے اُس عرصے میں جو عزت سمیٹی اُس کا نتیجہ تھا کہ اصل ڈاکٹر کے واپس آنے کے بعد بھی مریض ہسپتال جانے کی بجائے آپ کے پاس آتے لیکن آپ اپنی مجبوری بتاتے کہ قانوناً آپ علاج نہیں کرسکتے۔ آخر لوگوں کے اصرار اور محترم بشارت احمد بشیر صاحب (امیر سیرالیون) کے حکام پر دباؤ ڈالنے کے نتیجے میں محترم ڈاکٹر بشیراحمد خان صاحب کو کلینک چلانے کی اجازت مل گئی جو بہت جلد ترقی کرتا چلا گیا۔ یہ حضورؒ کی دعاؤں کی قبولیت اور آہنی عزم کا ہی ایک معجزہ تھا۔

٭…حضورؒ کے ارشاد پر ایک ہسپتال سویڈرواگونا میں قائم کیا گیا تھا جہاں پہلے ڈاکٹر محترم چودھری آفتاب احمد صاحب تھے جو اپنی اہلیہ کے ہمراہ وہاں 1974ء تک مقیم رہے۔ یہ عابد، دعاگو، فرشتہ سیرت جوڑا تھا۔ یہ ہسپتال ایک کرایہ کی عمارت میں کھولا گیا اور بہت جلد دُور دُور سے مریض یہاں آنے لگ گئے۔ چرچ والوں اور بعض حکّام پر یہ بات بہت شاق گزری اور کوشش شروع ہوگئی کہ کسی طرح اسے بند کردیا جائے۔ کوئی وجہ نہ نکل سکی تو قانون کو آڑ بناکر شکایات شروع کردی گئیں جن کے نتیجے میں ہسپتال بند کرنے کا آرڈر جاری ہوگیا۔ محترم مولانا عطاءاللہ کلیم صاحب امیر گھانا تھے۔ انہوں نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں یہ خبر پہنچائی تو جواب آیا کہ ہسپتال کے عملے کو فارغ نہ کیا جائے اور باقاعدہ تنخواہ دی جاتی رہے۔ چنانچہ (ڈاکٹر صاحب کے علاوہ سارا عملہ) دس ماہ تک گھر بیٹھ کر تنخواہ وصول کرتا رہا۔ جماعت کی درخواستوں اور سرکاری ڈیمانڈ کے مطابق ہسپتال میں سامان مہیا کردیا گیا لیکن حکومت اجازت نہیں دے رہی تھی۔ ایک بار تو وزیر صحت (جو ایک کرنل تھا) سے ہمارے وفد کی گرمی سردی بھی ہوگئی اور صورتحال بہت نازک ہوگئی۔ آخر اُسے سربراہ مملکت کے ہاں زک اٹھانی پڑی تو اُس نے خود ہسپتال کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا اور آخر ایک روز اپنے وفد کے ساتھ وہاں پہنچا۔ معائنے کے دوران ہی ایک ضعیف العمر دیہاتی وہاں آیا اور ڈاکٹر صاحب سے اپنے علاج کی درخواست کی۔ ڈاکٹر صاحب نے معذرت کی کہ ہسپتال کو حکومت نے بند کررکھا ہے۔ لیکن کسی دنیاوی پروٹوکول سے ناآشنا وہ بوڑھا مریض اصرار کرتا رہا۔ کرنل کچھ دیر تو دلچسپی سے یہ مکالمہ سنتا رہا۔ پھر اُس نے آنے والے مریض سے پوچھا کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ اُس نے دو سو میل دُور واقع ایک جگہ کا نام لیا۔ کرنل دھاڑا کہ دو سو میل کے فاصلے میں اُسے کوئی اَور ہسپتال نظر نہیں آیا تھا؟ وہ نہایت سادگی سے بولا کہ ہسپتال تو بہت تھے جہاں دوا تو ملتی ہے لیکن شفا صرف یہاں ملتی ہے۔ یہ سن کر وہاں ایک سناٹا چھا گیا۔ بہرحال حکومت اس صورتحال کو زیادہ عرصہ Resist نہ کرسکی اور (فوجی حکومت کے سربراہ) جنرل اچمپانگ نے ذاتی مداخلت کرتے ہوئے ہسپتال کھلوادیا۔ اس کے بعد رونقیں پہلے سے بھی بڑھ کر نظر آنے لگیں، یہ یقیناً حضورؒ کی قوّت قدسیہ کی برکت تھی۔
٭…کچھ ہی عرصے بعد مکرم چودھری عبدالشکور صاحب نے محترم مولانا کلیم صاحب کو بتایا کہ سویڈرو میں ایک نئی عمارت برائے فروخت ہے جو ہسپتال کھولنے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ مکرم مولانا صاحب سویڈرو پہنچے تو علم ہوا کہ وہ نئی عمارت بنیادی طور پر ایک ہسپتال کے لیے ہی تعمیر کی گئی تھی جسے سابقہ حکومت کے وزیرصحت نے (جو خود بھی ڈاکٹر تھے) اپنے لیے تعمیر کروایا تھا لیکن حکومت کا تختہ الٹ گیا اور سارے وزراء جیل بھیج دیے گئے۔ بعدمیں وزیر صاحب رہا تو ہوگئے لیکن وہ عمارت کسی کے استعمال میں نہ آئی اور اب بتیس ہزار سڈی میں فروخت ہورہی تھی۔ اندازاً اس کی تزئین پر آٹھ ہزار مزید خرچ ہونے تھے۔ چنانچہ فوری طور پر حضورؒ کی خدمت میں لکھا گیا اور منظوری ہونے پر عمارت خرید کر مجلس نصرت جہاں کے تحت ہسپتال قائم کردیا گیا جس کا افتتاح 4؍مئی 1974ء کو وزیرصحت اور پیراماؤنٹ چیف نے کیا اور جماعت کی خدمات کو سراہتے ہوئے بہت ہی اثرانگیز تقریر کی۔ اس موقع پر گھانا میں پاکستان کے سفیر جناب شیخ عبدالمعید صاحب بھی تشریف لائے۔ وہ اکثر ہمارے فنکشنز پر مدعو ہوتے اور تشریف لایا کرتے تھے۔ بہرحال جماعت کے دیگر ہسپتالوں کی طرح یہ ہسپتال شاندار خدمات بجالارہا ہے۔
٭…مکرم ڈاکٹر لئیق احمد فرخ صاحب نے ایک بار مجھے بتایا کہ ایک مریض جب اُن کے ہسپتال میں لایا گیا تو وہ ہرنیا (Hernia) کی شدید تکلیف میں مبتلا تھا اور چیخیں ماررہا تھا۔ ایمرجنسی میں اُسے لے جاکر مَیں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کو اس تکلیف سے نجات دلاسکوں لیکن باوجود کوشش کے کامیابی نہیں ہورہی تھی اور ڈر تھا کہ تکلیف کے مارے چیخ چیخ کر وہ مرجائے گا۔ آخر تھک کر مَیں نے اپنے کمرے میں آکر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں دعا کا عریضہ لکھا اور خادم کو دے کر کہا کہ ابھی اسے پوسٹ کرآؤ۔ پھر جب آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا تو مریض کی چیخیں سنائی نہیں دے رہی تھیں۔ مجھے خیال گزرا کہ شاید وہ وفات پاچکا ہے۔ مَیں مایوسانہ انداز میں تھیٹر کے اندر گیا تو وہ اٹھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ خدا کی قدرت اور خلیفہ وقت کی قوّت قدسیہ پر اُس روز مجھے نیا ایمان حاصل ہوا۔
٭…غالباً جون 1973ء کی بات ہے کہ محترم مولانا کلیم صاحب نے مجھے بتایا کہ ابھی دارالحکومت اکرا سے صدر مملکت جنرل اچمپانگ کا فون آیا تھا، انہوں نے کہا کہ مجھے ایک ضروری کام ہے فون پر بات نہیں ہوسکتی، کیا کل اکرا آسکتے ہو؟ مَیں نے کہا کہ کل تو بہت مصروف ہوں، پرسوں آسکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، پرسوں مَیں تمہارا انتظار کروں گا سیدھے میرے دفتر میں آجانا۔
اس ملاقات کو ایک دن مُلتوی کرنے کا صرف یہی مقصد تھا کہ حضورؒ کی خدمت میں دعا کا خط لکھ سکیں۔ چنانچہ ہم نے بذریعہ ٹیلیگرام دعا کی درخواست بھجوادی۔ اُسی روز جواب آگیا کہ فکر تو ہے مگر دعا کررہے ہیں۔ بہرحال مولانا صاحب مقررہ روز اوسُوکیسل پہنچ گئے جہاں صدر مملکت کا دفتر تھا۔ وہاں سب کو منتظر پایا۔ سیکرٹری نے اطلاع دی تو فوراً ہی بلالیے گئے۔ جنرل صاحب کسی اَور بڑی شخصیت سے مصروف گفتگو تھے۔ انہوں نے اُسے فارغ کیا اور مولانا صاحب سے کہا کہ تشریف رکھیں۔ وہاں موجود سیکیورٹی والے کو بھی باہر بھیج دیا اور پھر مولانا صاحب سے حال احوال پوچھنے کے بعد کہنے لگے کہ مَیں نے تمہیں دعا کی غرض سے بلایا ہے۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ عناصر میری حکومت کا تختہ اُلٹانے کی سازش میں مصروف ہیں اور میری درخواست ہے کہ تم دعا کرو اور میری طرف سے حضرت صاحب کو بھی دعا کرنے کے لیے لکھ دو۔ مولانا صاحب نے وعدہ کیا اور جب اٹھنے لگے تو جنرل صاحب نے کچھ رقم بطور تحفہ پیش کی۔ مولانا نے بہت پس و پیش کی مگر جنرل صاحب جس اخلاص کے ساتھ اصرار کررہے تھے اسے ردّ کرنا ممکن نہ تھا چنانچہ آپ نے وہ رقم قبول کرلی۔
ملاقات سے فارغ ہوکر مولانا کلیم صاحب سیدھے بازار گئے اور اور مشن ہاؤس کو چولہا جو بڑے عرصے سے زچ کیے ہوئے تھا (مگر بجٹ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے خریدا نہ جاسکتا تھا) قریباً اُسی قیمت میں آگیا جو صدر صاحب نے بطور تحفہ پیش کی تھی۔ مولانا صاحب جماعتی فنڈز کے معاملے میں بہت سخت گیر تھے اور اُن کی بیگم صاحبہ کے لیے کسی خاص گھریلو ضرورت کے لیے اُن سے مشن کا پیسہ نکلوالینا بہت مشکل تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے مُلتوی کیا جانے والا چولہے کا معاملہ بھی اُس دن حل ہوگیا۔ بہرحال مولانا صاحب نے واپس پہنچ کر حضورؒ کے نام ٹیلیگرام بھجوایا جس میں صدر مملکت کی طرف سے بیان کردہ حالات عرض کرکے دعا کی درخواست کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضورؒ کی دعاؤں کی برکت سے فضل فرمایا اور وہ سازشی عناصر پکڑوادیے چنانچہ سازش ناکام ہوگئی۔ (ان سازشوں کا ذکر گھانا کی تاریخ میں بھی بیان ہوا ہے۔)
٭…1970ء میں دورۂ افریقہ کے دوران حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے مجلس نصرت جہاں سکیم جاری فرمائی۔ اُس وقت محترم کلیم صاحب امیر و مبلغ انچارج گھانا تھے۔ جلد ہی اُن کی جگہ محترم بشارت احمد بشیر صاحب کی تقرری ہوگئی جنہوں نے نہایت جانفشانی سے 1972ء تک دو سکول اور چار ہسپتال جاری کیے۔ دو مزید سکول کھولنے کا پروگرام بھی قریباً مکمل ہوچکا تھا۔ 1972ء میں محترم مولانا کلیم صاحب کا دوبارہ تقرر ہوا تو جلد ہی دونوں سکول جاری کرنے کے علاوہ سویڈرو کا ہسپتال دوبارہ کھل گیا جسے فوجی حکومت نے بند کردیا تھا۔ عدم سے وجود میں آنے والے یہ سارے ادارے خلافت کی قوّت قدسیہ اور کارکنان کی بےلوث کوششوں کے آئینہ دار تھے۔
٭…دارالحکومت اکرا سے قریباً 55؍میل اور سالٹ پانڈ سے 16؍میل کے فاصلے پر اسارچر واقع ہے۔ یہاں کے سکول میں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب (ایدہ اللہ تعالیٰ) 1980ء میں بطور ہیڈماسٹر بھجوائے گئے تھے۔ اس سکول کے قیام کے بعد 1972ء سے 1980ء تک مکرم چودھری نصیر احمد صاحب وہاں ہیڈماسٹر رہے۔ میرا قیام سالٹ پانڈ میں تھا۔ ہماری فیملیاں ابھی ہمارے ساتھ نہیں تھیں۔ اس لیے مَیں اکثر چودھری صاحب سے ملنے چلا جاتا یا وہ تشریف لے آتے۔ کار ہمارے پاس نہیں تھی اس لیے پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار تھا جو بہت کم دستیاب ہوتی تھی اور بعض اوقات سڑک پر کھڑے ہوکر گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ شاذ کے طور پر لفٹ بھی مل جاتی تھی۔ ایک روز خاکسار اُن سے ملنے گیا تو شام کو واپسی پر وہ مجھے الوداع کہنے سڑک تک آئے جو سکول سے قریباً ڈیڑھ فرلانگ دُور تھی۔ بس کے انتظار میں کھڑے کھڑے شام گہری ہونے لگی تو فکر بھی پیدا ہونے لگی کیونکہ چاروں طرف گھنا جنگل تھا اور اندھیرا پھیلتے ہی ہر قسم کے چھوٹے بڑے سانپ اور بڑے بڑے بچھو بھی سڑک پر نکل آتے تھے۔ جتنی بسیں بھی آرہی تھیں وہ سواریوں سے بھری ہوئی تھیں لہٰذا کوئی ڈرائیور بھی لفٹ نہیں کرارہا تھا۔ کاریں بھی گزر رہی تھیں لیکن ہمارا دھیان اُن کی طرف نہیں تھا۔ بسوں اور مِنی بسوں کا انتظار کرتے ہوئے پریشانی اور دعاؤں میں اضافہ ہورہا تھا۔ اچانک ایک کار ہمارے پاس سے گزرتے ہی چند گز جاکر بڑی زوردار بریکیں لگاکر رُک گئی۔ پھر ریورس ہوکر ہمارے سامنے آکر رُک گئی اور ڈرائیور نے پوچھا کہ آپ نے کہاں جانا ہے؟ مَیں نے بتایا: سالٹ پانڈ۔ کہنےلگا: مَیں ٹاکوارڈی جارہا ہوں اور تمہیں سالٹ پانڈ سے باہر سڑک پر اُتار سکتا ہوں۔ یہ سڑک میرے گھر سے قریب ہی تھی اس لیے مَیں نے اثبات میں جواب دیا تو اُس نے اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے اپنے عزیز کو پیچھے بھیجا اور مجھے اپنے ساتھ بٹھالیا۔ سفر شروع ہوا تو چند تعارفی کلمات کے بعد وہ کہنے لگا کہ دراصل میرا ایک کام ہے اور جب میری نظر تم پر پڑی تو میرے دل نے کہا کہ اس سے اپنے کام کے لیے کہو۔ چنانچہ مَیں نے تمہیں اپنے ہمراہ لے لیا۔ یہ سُن کر مَیں پریشان ہوگیا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ وہ اشانٹی کے کسی علاقے کے پیراماؤنٹ چیف ہیں، اپنے علاقے کے چرچ کے پادری بھی ہیں اور ایک بہت بڑی ادویات کی کمپنی کے مالک ہیں۔ صدر جنرل اچمپانگ کے بچپن کے دوست اور قریبی ساتھی بھی وہ تھے۔ مجھے یہ تفصیل معلوم ہورہی تھی تو میرے دل کی دھڑکن میں تیزی آرہی تھی کہ مجھ جیسے کمزور انسان سے انہیں کیا کام ہوسکتا ہے اور وہ کام مَیں کیسے کرسکتا ہوں۔ بہرحال انہوں نے بتایا کہ اکثر اپنے بزنس کے سلسلے میں چونکہ امریکہ بھی جاتے رہتے ہیں اس لیے کسی دشمن نے جنرل اچمپانگ کو میری شکایت کی ہے کہ مَیں کسی بیرونی طاقت کے ساتھ مل کر اُن کے خلاف کوئی سازش کررہا ہوں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے مجھے اکرا بلایا تھا اور اب مَیں اُن سے مل کر آرہا ہوں۔ اگرچہ میرے صفائی پیش کرنے پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے مگر مَیں نے اُن کی آنکھیں پڑھ لی ہیں، تم ہم افریقیوں کو نہیں جانتے مگر یہ سمجھ سکتے ہو کہ سربراہ مملکت اگر مطمئن نہ ہو تو اس کا کیا نتیجہ ہوسکتا ہے اس وجہ سے مَیں سخت پریشان ہوں۔ لہٰذا تم میرے لیے خصوصی طور پر دعا کرو کہ یہ بلا ٹل جائے۔
اُن کی باتیں سُن کر میری پریشانی میں اضافہ ہوگیا کہ مَیں بھلا اُن کو اس مصیبت سے کیسے نجات دلاسکتا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ وہ دنیاوی لحاظ سے ایک بہت بڑا شخص ہے جو سربراہ مملکت کا قریبی دوست بھی ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ یہ پادری ہوکر بھی دین کے ایک خادم کو دعا کے لیے کہہ رہا ہے۔ بہرحال انہی باتوں میں سالٹ پانڈ آگیا۔ مگر بجائے سیدھے جانے کے انہوں نے کار سالٹ پانڈ کی طرف موڑ دی اور مجھے میرے گھر تک پہنچایا۔ مَیں نے اُنہیں تھوڑی دیر بٹھایا اور مشروبات پیش کیے۔ جب وہ روانہ ہونے لگے تو انہوں نے دو سڈی کے نوٹ نکالے اور بڑے اصرار کے ساتھ میری میز پر رکھ دیے۔ جب وہ روانہ ہوگئے تو مَیں وہ پیسے لے کر ایک بیوہ احمدی خاتون کے ہاں گیا، اُن کو پیش کرکے دعا کی درخواست کی۔ مکرم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب گھانا کے امیر تھے، اُن سے بھی دعا کی درخواست کی۔ اور پھر اصل کام کیا یعنی ایک تفصیلی خط حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں دعا کی غرض سے لکھا۔
قریباً ایک ہفتہ گزرا تو وہی صاحب میرے پاس دوبارہ پہنچے اور گھر کے باہر دیکھتے ہی نہایت خوشی سے بتایا کہ وہ اکرا سے آج دوبارہ جنرل اچمپانگ سے مل کر آرہے ہیں، صدر اب مکمل طور پر مطمئن ہیں اور اب کوئی پریشانی والی بات نہیں۔ میں نے اُن کو بٹھانا چاہا تو کہنے لگے کہ صرف تمہیں بتانے کے لیے سیدھا یہاں آیا ہوں اور اب اپنے گھر جاؤں گا۔ چنانچہ وہ روانہ ہوگئے اور مَیں نے خداتعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
٭…خلافتِ ثالثہ کی بابرکت تحریک نصرت جہاں اپنی ذات میں ایک عظیم الشان معجزہ تھی۔ وہ محاورہ صادق آرہا تھا کہ اگر ڈاکٹر کسی کو راکھ کی چٹکی بھی دے دیتے تو خدا تعالیٰ اُس میں بھی شفا ڈال دیتا تھا۔ بےشمار لوگ احمدیت کی شفابخشی کی اس قوت سے خوب واقف تھے۔ ہمارے احمدیہ سکول معیار میں مُلک کے بہترین سکولوں میں شمار ہوتے تھے۔ سرکاری افسران کا بڑا حصہ ہمارے سکولوں کا فارغ التحصیل تھے۔ وزراء بھی ہمارے سکولوں میں بچوں کو داخلہ دلوانے کے لیے کوشاں رہتے۔ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور برکت ہر کام اور فیصلے میں نظر آتی تھی۔ ایک بار سویڈرو ہسپتال کے ڈاکٹر مکرم آفتاب احمد صاحب کماسی جاتے ہوئے کار کے حادثے میں شدید زخمی ہوگئے اور جس جگہ حادثہ ہوا تھا وہاں کے ہسپتال میں ایک ماہ سے زیادہ زیرعلاج رہے۔ اس دوران سویڈرو ہسپتال میں کوئی باقاعدہ ڈاکٹر نہ تھا۔ چنانچہ محترم مولانا کلیم صاحب نے مکرم عبدالشکور صاحب مبلغ سلسلہ کو حکم دیا کہ جاکر سویڈرو کا ہسپتال چلائیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک یہ ذمہ داری نبھائی اور کسی کو بھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہیں بلکہ خداتعالیٰ کے فضل سے تمام امور خوش اسلوبی سے طے ہوتے رہے۔ الحمدللہ
٭…ٹیچی مان سے سترہ میل دُور جنگلات میں ایک مقام انکورانزا ہے جہاں کے سرکاری سکول کو چلانے میں انتظامیہ کو دقّت پیش آرہی تھی۔ انہوں نے احمدیہ مشن ٹیچی مان سے رابطہ کرکے درخواست کی کہ اُن کا سکول جماعت لے لے۔ مولانا کلیم صاحب نے مقامی جماعت کی درخواست پر حضورؒ کی خدمت میں خط بھجوادیا۔ حضورؒ نے جواباً فرمایا کہ جو سکول ہم نے شروع کیے ہوئے ہیں، پہلے اُن کو سنبھال لیں پھر دیکھا جائے گا۔ مگر پھر مقامی جماعت کے اصرار پر حضورؒ نے اُن کو اجازت مرحمت فرمادی اور ایک ہیڈماسٹر بھی مہیا کردیا جنہوں نے جاکر سکول کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ مقامی لوگوں کا تعاون بھی ہر طرح سے حاصل تھا مگر پھر بھی یہ سکول زیادہ دیر نہ چل سکا اور جماعت کو اس سے دستکش ہونا پڑا۔ وجہ صرف یہی تھی کہ حضورؒ کی توجہ اس طرف نہ تھی لہٰذا یہ بات زیادہ نہ چلی۔
٭…خداتعالیٰ کے افضال کی بارش مغربی افریقہ میں خدمتِ دین کرنے والا ہر شخص مشاہدہ کررہا تھا اور اکثر اس کا اظہار بھی کیا کرتے تھے۔ مکرم ایم اے لطیف شاہد صاحب جو لمبا عرصہ گھانا کے مختلف مقامات پر سیکنڈری سکول چلاتے رہے، انہوں نے بتایا کہ غالباً 1980ء میں ایک خاتون پاکستان کی سفارتکار بن کر دارالحکومت اکرا میں آئیں۔ اکرا سے دو سو میل کے فاصلے گھانا کا دوسرا بڑا شہر کماسی ہے جہاں کی مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے شہر کی ایک یونیورسٹی میں ایک اجلاس بلایا لیکن عمداً اُس میں کسی احمدی کو مدعو نہیں کیا گیا۔ لیکن کیونکہ فنڈز اکٹھے کرنے کا پروگرام تھا اس لیے اسلامی ممالک کے سفیروں کو بلایا گیا۔ پاکستانی سفیر صاحبہ بھی اپنے فرسٹ سیکرٹری کے ہمراہ کماسی کے لیے روانہ ہوئیں تو راستے میں کماسی سے دس میل پہلے واقع Ejusu کے مقام پر گاڑی ایک تنگ پُل سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے فرسٹ سیکرٹری بُری طرح زخمی ہوئے اور اُن کی چھاتی کی اکثر ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ خاتون سفیر صاحبہ کے بازو میں بھی فریکچر ہوگیا۔ ان سب کو کماسی کے مرکزی ہسپتال لے جایا گیا۔ ملک بھر میں دواؤں کی بہت کمی تھی اس لیے ایسوسی ایشن والے بہت گھبراگئے۔ انہوں نے اپنا نمائندہ بھیج کر احمدیہ مشن ہاؤس کو خبر دی اور مدد کے لیے درخواست کی۔ احمدی مبلغ کے اطلاع دینے پر دو قریبی احمدیہ ہسپتالوں سے ڈاکٹر سردار حمید احمد صاحب اور ڈاکٹر شفیق احمد قیصر صاحب اور دو سکولوں کے انچارج بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ مکرم عبدالوہاب صاحب امیر و مبلغ انچارج کی کوششوں سے سفیر صاحبہ کو بذریعہ ہیلی کاپٹر اکرا بھجوادیا گیا اور فرسٹ سیکرٹری کا علاج احمدی ڈاکٹرز کی نگرانی میں سرکاری ہسپتال میں جاری رہا جبکہ اُن کے کھانے پینے کا انتظام مربی صاحب کرتے رہے۔ پچیس روز کے بعد تندرست ہونے پر وہ بھی اکرا چلے گئے۔ پھر سفیر صاحبہ چھٹی پر پاکستان چلی گئیں اور واپس اکرا آکر اپنے عملے سے ناراضگی کا اظہار کیا کہ کیوں احمدیوں کی گھانا میں موجودگی سے انہیں باخبر نہیں رکھا گیا۔ واپس آکر انہوں نے احمدیہ ہسپتالوں اور سکولوں کا دورہ بھی کیا اور بہت سا کھیلوں کا سامان تحفۃً احمدیہ سکولوں کو دیا۔ اُن کے جماعت احمدیہ سے تعلقات کی اطلاع ملنے پر حکومت پاکستان نے اُن کو واپس بلوالیا۔
دوسری طرف مسلم ایسوسی ایشن کے جس اجلاس میں احمدیوں کو دانستہ طور پر مدعو نہیں کیا گیا تھا، وہاں مہمان خصوصی وزیرتعلیم تھے۔ انہوں نے اپنی جگہ مسٹر عبداللہ بوٹنگ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن اشانٹی ریجن کو بھجوادیا جو ایک نہایت مخلص احمدی ہیں اور لمبا عرصہ احمدیہ سکول کماسی کے ہیڈماسٹر بھی رہ چکے ہیں۔ اس پر چند احمدیوں کو بھی میٹنگ میں مدعو کرلیا گیا۔ یہ بھی قابل ذکر بات تھی کہ مالی تعاون کی درخواست پر ایسوسی ایشن کو عطایا دینے والے اکثر احمدی ہی تھے۔ نیز صرف ایک مُلک یعنی عراق کے سفیر ہی اس پروگرام میں شامل ہوئے۔
