حضرت مسیح موعودؑ کا دوستوں اور غیروں سے حُسنِ سلوک
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ مسیح موعود نمبر)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے صدسالہ جوبلی سوونیئر 2013ء میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے قلم سے ایک مضمون ’’الفضل‘‘ کی ایک پرانی اشاعت سے منقول ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوستوں اور غیروں سے حُسنِ سلوک اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا دل عطا کیا تھا جو محبت اور وفاداری کے جذبات سے معمور تھا۔ آپؑ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے کسی محبت کی عمارت کو کھڑا کرکے پھر اس کے گرانے میں کبھی پہل نہیں کی۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آپؑ کے بچپن کے دوست اور ہم مجلس تھے مگر آپؑ کے دعویٰ مسیحیت پر آکر انہیں ٹھوکرلگ گئی اور ا نہوں نے نہ صرف دوستی کے رشتہ کو توڑ دیا بلکہ آپؑ کے اشد ترین مخالفوں میں سے ہوگئے اور آپؑ کے خلاف کفر کا فتویٰ لگانے میں سب سے پہل کی۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ کے دل میں آخر وقت تک ان کی دوستی کی یاد زندہ رہی اور گو آپؑ نے خدا کی خاطر ان سے قطع تعلق کرلیا اور ان کی فتنہ انگیزیوں کے ازالے کے لیے ان کے اعتراضات کے جواب میں زوردار مضامین بھی لکھے۔ مگر ان کی دوستی کے زمانہ کو آپؑ کبھی نہیں بھولے اور ان کے ساتھ قطع تعلق ہو جانے کو ہمیشہ تلخی کے ساتھ یاد رکھا۔ چنانچہ اپنے آخری زمانہ کے اشعار میں مولوی صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’تُو نے تو اس محبت کے درخت کوکاٹ دیا جوہم دونوں نے مل کر بچپن میں لگایا تھا مگر میرا دل محبت کے معاملہ میں کوتاہی کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ (براہین ا حمدیہ حصہ پنجم)
جب کوئی دوست کچھ عرصے کی جدائی کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کو ملتا تو اُسے دیکھ کر آپؑ کا چہرہ یوں شگفتہ ہو جاتا تھا جیسے ایک بند کلی اچانک پھول کی صورت میں کھِل جاوے۔ اور دوستوں کے رخصت ہونے پر آپؑ کے دل کوازحد صدمہ پہنچتا تھا۔ ایک دفعہ جب آپؑ نے اپنے بڑے فرزند حضرت مرزا محمود احمد صاحبؓ کے قرآن شریف ختم کرنے پر آمین لکھی اور اس تقریب پر بعض بیرونی دوستوں کو بھی بلا کراپنی خوشی میں شریک فرمایا تواس وقت آپؑ نے اس آمین میں اپنے دوستوں کے آنے کا بھی ذکر کیا۔ اور پھر ان کے واپس جانے کا خیال کرکے اپنے غم کا اظہار یوں فرمایا ؎
مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت
دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت
پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِی
دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے
گر سَو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے
شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِی
اوائل میں آپؑ کا قاعدہ تھا کہ آپؑ اپنے دوستوں اور مہمانوں کے ساتھ مل کر مکان کے مردانہ حصہ میں کھانا تناول فرمایا کرتے تھے اور یہ مجلس اس بےتکلّفی کی ہوتی تھی اور ہر قسم کے موضوع پر ایسے غیررسمی رنگ میں گفتگو کاسلسلہ رہتا تھا کہ گویا ظاہری کھانے کے ساتھ علمی اور روحانی کھانے کا بھی دسترخوان بچھ جاتا تھا۔ ان موقعوں پر آپؑ ہر مہمان کا خود خیال رکھتے اور اس بات کی نگرانی فرماتے کہ ہر شخص کے سامنے دسترخوان کی ہرچیز پہنچ جائے۔ عموماً ہر مہمان سے ذاتی طور پر دریافت فرماتے تھے کہ اسے کسی خاص چیز مثلاً دودھ یا چائے یا پان وغیرہ کی عادت تو نہیں اور پھر حتی الوسع ہر ایک کے لیے اس کی عادت کے مطابق چیز مہیا فرماتے۔ جب کوئی خاص دوست قادیان سے واپس جانے لگتا تو آپؑ عموماً اس کی مشایعت کے لیے ڈیڑھ دو میل تک اس کے ساتھ جاتے اور بڑی محبت اور عزت کے ساتھ رخصت کرکے واپس آتے۔
آپؑ کی یہ بھی خواہش رہتی تھی کہ جو دوست قادیان میں آئیں وہ حتی الوسع آپؑ کے پاس آپؑ کے مکان کے ایک حصے میں ہی قیام کریں۔ فرمایاکرتے تھے کہ زندگی کا اعتبار نہیں، جتناعرصہ پاس رہنے کا موقع مل سکے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ اس طرح آپؑ کے مکان کا ہر حصہ گویا ایک مستقل مہمان خانہ بن گیاتھا اور کمرہ کمرہ مہمانوں میں بٹا رہتا تھا۔ مگر جگہ کی تنگی کے باوجود آپؑ دوستوں کے ساتھ مل کر رہنے میں انتہائی راحت پاتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ معززین جو آج کل بڑے بڑے وسیع مکانوں اور کوٹھیوں میں رہ کر بھی تنگی محسوس کرتے ہیں حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں ایک ایک کمرے میں سمٹے ہوئے رہتے تھے اور اسی میں خوشی پاتے تھے۔
قادیان میں حضرت مسیح موعودؑ کے والد صاحب کے زمانے کا ایک باغ ہے جس میں مختلف قسم کے ثمردار درخت ہیں۔ جب پھل کا موسم آتا تو آپؑ اپنے دوستوں اور مہمانوں کو ساتھ لے کر اس باغ میں تشریف لے جاتے اور موسم کا پھل تڑواکر سب دوستوں کے ساتھ مل کر نہایت بےتکلّفی سے نوش فرماتے۔ اس وقت یوں نظر آتا تھا کہ گویا ایک مشفق باپ کے اردگرد اس کی معصوم اولاد گھیرا ڈالے بیٹھی ہے۔ ان مجلسوں میں بےتکلّفی اور محبت کے ماحول میں علم و معرفت کا چشمہ جاری رہتا تھا۔
حضرت مسیح موعودؑ کی دوستی کی بنیاد اس اصول پر تھی کہ دوستی اور دشمنی دونوں خدا کے لیے ہونی چاہئیں نہ کہ اپنے نفس کے لیے یا دنیا کے لیے۔ اسی لیے آپؑ کی دوستی میں امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں تھا اور آپؑ کی محبت کے وسیع دریا سے بڑے اور چھوٹے ایک سا حصہ پاتے تھے۔
سورۃ المائدہ آیت9 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: چاہیے کہ کسی قوم یا فرقہ کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان کے معاملہ میں عدل وانصاف کا طریق ترک کردو۔ بلکہ تمہیں ہر حال میں ہر فریق اور ہر شخص کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرنا چاہیے۔ قرآن شریف کی یہ زرّیں تعلیم حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی کا نمایاں اصول تھی۔ آپؑ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں کسی شخص کی ذات سے عداوت نہیں ہے بلکہ صرف جھوٹے اور گندے خیالات سے دشمنی ہے۔ چنانچہ ذاتی امور کے حوالے سے آپؑ کا اپنے دشمنوں کے ساتھ نہایت درجہ مشفقانہ سلوک تھا۔ جب آپؑ کے بعض چچازاد بھائیوں نے جو آپؑ کے خونی دشمن تھے آپؑ کے مکان کے سامنے دیوار کھینچ کر آپؑ کو اور آپؑ کے مہمانوں کو سخت تکلیف میں مبتلا کردیا اور پھر بالآخر مقدمہ میں خدا نے آپؑ کو فتح عطا کی اور ان لوگوں کو خود اپنے ہاتھ سے دیوارگرانی پڑی تو اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کے وکیل نے آپؑ سے اجازت لیے بغیر ان لوگوں کے خلاف خرچہ کی ڈگری جاری کروا دی۔ اس پر اُنہوں نے گھبرا کر حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں عاجزی کا خط بھجواکر رحم کی التجا کی۔ آپؑ نے نہ صرف ڈگری کے اجرا کو فوراً رُکوا دیا بلکہ ان سے معذرت بھی کی کہ میری لاعلمی میں یہ کارروائی ہوئی ہے جس کا مجھے افسوس ہے اور اپنے وکیل کو ملامت فرمائی کہ ہم سے پوچھے بغیر خرچہ کی ڈگری کا اجرا کیوں کروایا گیا ہے۔ اگر اس موقعہ پر کوئی اَور ہوتا تو وہ دشمن کی ذلّت اور تباہی کو انتہا تک پہنچا کر صبر کرتا۔ مگر آپؑ نے ان حالات میں بھی احسان سے کام لیا اور اس بات کا شاندار ثبوت پیش کیا کہ آپؑ کو صرف گندے خیالات اور گندے اعمال سے دشمنی ہے نہ کہ کسی انسان سے۔
اسی طرح جب ایک خطرناک مقدمہ قتل میں آپؑ کے اشد ترین مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آپؑ کے خلاف بطور گواہ پیش ہوئے اور آپؑ کے وکیل نے مولوی صاحب کی گواہی کو کمزور کرنے کے لیے ان کے بعض خاندانی اور ذاتی امور کے متعلق اُن پر جرح کرنی چاہی تو حضرت مسیح موعودؑ نے بڑی ناراضگی کے ساتھ اپنے وکیل کو روک دیا اور فرمایا کہ خواہ کچھ ہو مَیں اس قسم کے سوالات کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اور اس طرح گویا اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائی۔

جب حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کے مطابق پنڈت لیکھرام لاہور میں قتل ہوئے تو گو پیشگوئی کے پورا ہونے پر آپؑ خداتعالیٰ کا شکر بجا لائے مگر ساتھ ہی انسانی ہمدردی میں آپؑ نے افسوس کا بھی اظہار کیا اور باربا ر فرمایا کہ ہمیں یہ درد ہے کہ پنڈت صاحب نے ہماری بات نہیں مانی اور خدا اور اس کے رسول کے متعلق گستاخی کے طریق کو اختیار کرکے اور ہمارے ساتھ مباہلہ کرکے اپنی تباہی کا بیج بولیا۔

قادیان کے بعض آریہ سماجی جو حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف پراپیگنڈے میں حصہ لیتے رہتے تھے مگر جب بھی انہیں کوئی ضرورت پیش آتی یا کوئی بیماری لاحق ہوتی تو وہ آپؑ کے پاس آتے اور آپؑ ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت درجہ ہمدردانہ اور محسنانہ سلوک فرماتے۔ چنانچہ لالہ بڈھا مل جو آپؑ کے سخت مخالف تھے اور جب منارۃالمسیح بننے لگا تو ان لوگو ں نے حکام سے شکایت کی کہ اس سے ہمارے گھروں کی بےپردگی ہوگی۔ اس پر ایک افسر قادیان آیا اور اس کی معیت میں لالہ بڈھامل اور بعض دوسرے مقامی ہندو اور غیراحمدی احباب حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؑ نے افسر کوسمجھایا کہ یہ شکایت محض ہماری دشمنی کی وجہ سے کی گئی ہے ورنہ اس میں بےپردگی کا کوئی سوال نہیں۔ اور اگر بالفرض کوئی بےپردگی ہوگی تو اس کا اثر ہم پر بھی ویسا ہی پڑے گا جیسا کہ ان پر۔ اور فرمایا کہ ہم تو صرف ایک دینی غرض سے یہ مینارہ تعمیر کروانے لگے ہیں ورنہ ہمیں ایسی چیزوں پر روپیہ خرچ کرنے کی کوئی خواہش نہیں۔ اسی گفتگوکے دوران میں آپؑ نے اس افسر سے فرمایا کہ اب یہ لالہ بڈھا مل صاحب ہیں، آپ ان سے پوچھئے کہ کیا کبھی کوئی ایسا موقعہ آیا ہے کہ جب یہ مجھے کوئی نقصان پہنچاسکتے ہوں اور انہوں نے اس موقعہ کو خالی جانے دیا ہو۔ اور پھر انہی سے پوچھئے کہ کیا کبھی ایساہوا ہے کہ انہیں فائدہ پہنچانے کا کوئی موقعہ مجھے ملا ہو اور مَیں نے اس سے دریغ کیا ہو۔ حضرت مسیح موعودؑ کی اس گفتگو کے وقت لالہ بڈھامل اپنا سر نیچے ڈالے بیٹھے رہے اور ایک لفظ تک منہ پر نہیں لاسکے۔
الغرض حضر ت مسیح موعودؑ کا وجود ایک مجسم رحمت تھا ہر انسان کے لیے، اپنے خاندان کے لیے اور رحمت تھا اپنے دوستوں کے لیے اور رحمت تھا اپنے دشمنوں کے لیے۔
