خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع افتتاحی تقریب بیت النصیر11؍ اپریل 2017ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

تمام معزز مہمان۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

                    اللہ تعالیٰ آپ سب پر ہمیشہ سلامتی نازل فرماتا رہے۔ جیسا کہ ایک معزز مقرر نے بھی ذکر کیا جو تلاوت کی گئی تھی اس میں ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے کہ نمازوں کے ساتھ ساتھ تمہیں نیک کام بھی کرنے چاہئیں اور اصل نیکی یہی ہے کہ خدمت خلق کے کام بھی کرو۔ غریبوں کا خیال رکھو، یتیموں کا خیال رکھو اور اس قسم کے دوسرے کام کرو۔ پس جب ایک مسجد ہم تعمیر کرتے ہیں تو اس امید پر اور اس توقع پر اور اس سوچ کے ساتھ کہ ہم نے اس تعلیم پر عمل کرنا ہے۔ جہاں ہم نے مسجد کو عبادت کے لئے آباد کرنا ہے وہاں ہم نے خدمت خلق کے کام بھی کرنے ہیں۔ پس یہ ایک بنیادی چیز ہے جسے ایک احمدی مسلمان ہر وقت اپنے سامنے رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے غریب ممالک میں ہم خدمت خلق کے بہت سے کام کر رہے ہیں۔ جہاں ہماری مساجد بن رہی ہیں وہاں ہمارے سکول بھی بن رہے ہیں۔ ہمارے ہسپتال بھی بن رہے ہیں۔ بلکہ ایسے غریب ملک اور ان کے ریموٹ ایریاز(Remote Areas) میں جہاں بجلی اور پانی نہیں ہے وہاں ماڈل ویلیج بنا کے ہم بجلی اور پانی ان علاقوں کو مہیا کر رہے ہیں جہاں پہلے تصور بھی نہیں تھا۔

                     مَیں ہمیشہ مثال دیا کرتا ہوں کہ ان ترقی یافتہ ملکوں میں ہمیں پانی کی قدر نہیں باوجود اس کے کہ ہوٹلوں میں بھی اور باقی جگہوں پہ لکھا جاتا ہے کہ پانی کی بچت کرو، پانی کا کم استعمال کرو، پانی کا صحیح استعمال کرو۔ لیکن پانی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ہم ان غریب ممالک میں، افریقہ کے ممالک میں، دور دراز کے علاقوں میں جائیں جہاں گاؤں کے بچے بجائے تعلیم حاصل کرنے کے، بجائے سکول جانے کے، اپنی غربت کی وجہ سے اس تعلیم سے بھی محروم ہیں اور نہ صرف تعلیم سے محروم ہیں بلکہ ایک بالٹی سر پہ اٹھا کے، ایک برتن سر پہ اٹھا کے ایک ایک، دو یا تین کلومیٹر دور جا کے جو گندے pond ہیں، پانی کے تالاب ہیں، وہاں سے پانی لے کے آتے ہیں اور پھر وہ گھر والے اس پانی کو کھانے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں، پینے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ان جگہوں پر جب آپ صاف پینے کا پانی مہیا کریں، ہینڈ پمپ لگائیں یا واٹر پمپ لگائیں اُس وقت جو اُن لوگوں کی حالت ہوتی ہے وہ دیکھنے والی ہوتی ہے۔ ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔

                     یہاں مغرب میں، یورپ میں، ہندوستان میں بھی ہے، لوگوں کی لاٹری نکلتی ہے۔ کسی کی کئی ملین ڈالرز کی یا پاؤنڈز کی یا یورو کی لاٹری نکلے تو وہ بڑا خوش ہوتا ہے اور چھلانگیں لگا رہا ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس خوشی کو محسوس کریں جو ان غریب بچوں کو وہاں صاف پانی ان کے گھر کے دروازے کے سامنے مہیا ہونے پہ ملتی ہے تو لگتا ہے کہ ان کی کئی ملین یورو کی لاٹری نکل آئی ہے۔ پس یہ وہ احساس ہے جو ہمارے دلوں میں ہے اور جس کے لئے ہم جہاں اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں وہاں خدمت خلق کے کام بھی کرتے ہیں۔ اور یہی چیز ہے جس کے لئے بانیٔ جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا ہے اور بانیٔ اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق بھیجا ہے کیونکہ بانیٔ اسلام نے یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب دنیا میں جتنے مسلمان ہیں ان کی اکثریت اسلام کی اصل تعلیم کو بھول جائے گی اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک شخص آئے گا جو اسلام کی صحیح تعلیم کو revive کرے گا، دوبارہ قائم کرے گا اور صحیح اسلامی تعلیم دنیا میں پھیلائے گا اور یہی کچھ ہم نے بانیٔ جماعت احمدیہ سے سیکھا۔ انہوں نے فرمایا کہ شدت پسندی، دہشتگردی، جہاد، جنگ یہ کوئی اسلام نہیں ہے۔ اصل اسلام یہی ہے کہ تم بندے کو خدا سے ملاؤ یا اپنے آپ کو خدا سے ملاؤ اور اسی مقصد کے لئے انہوں نے کہا کہ مَیں آیا ہوں۔ دوسرے، ایک دوسرے کے حق ادا کرو۔ اور یہ دو چیزیں ہیں جو جماعت احمدیہ کی تعلیم کی بنیاد ہیں اور یہی چیزیں ہیں جس کو آگے مسیح موعود کی خلافت لے کے جا رہی ہے۔

                     ایک خلافت دنیا میں بہت مشہور ہے جو داعش کہلاتی ہے جس نے دنیا میں فساد پھیلا دیا۔ جس نے دنیا میں دہشتگردی ہر طرف پھیلائی ہوئی ہے۔ نہ صرف مغرب میں بلکہ اپنے ممالک میں، عراق میں، سیریا میں اور دوسرے اسلامی ممالک میں سینکڑوں ہزاروں لوگ بلا وجہ قتل کر دئیے۔ وہ خلافت نہیں ہے کیونکہ وہ صحیح اسلامی تعلیم پہ نہیں چل رہی۔ اور وہ خلافت ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ وہ اس طریقے کے مطابق نہیں آئی جو بانیٔ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا اور جو پیشگوئی فرمائی تھی۔ کیونکہ صحیح خلافت اسی وقت آنی تھی جب اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا مسیح موعود آنا تھا، مہدی معہود آنا تھا اور اس کے بعد پھر اس کام کو اس نے جاری رکھنا تھا جس کام کے کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے بھیجا تھا۔ اور وہ جیسا کہ مَیں نے بتایا اللہ تعالیٰ سے بندے کو ملانا اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنا ہے۔

                    پس یہ ہے بنیادی فرق حقیقی خلافت اور غیر حقیقی خلافت میں۔ اس کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ اس لئے اسلام کی تعلیم سے کسی بھی غیر مسلم کو ڈرنے کی یا اس کے لئے کسی قسم کا تحفّظ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

                    یہاں اس علاقے کے میئر صاحب نے ذکر کیا کہ ہم نے مسجد میں ایک درخت لگایا۔ جہاں درخت اور پودے ظاہری طور پر خوبصورتی اور حسن کے لئے لگائے جاتے ہیں ، جہاں پھلدار درخت پھل حاصل کرنے کے لئے لگائے جاتے ہیں، جہاں درخت اور سبزہ ماحول کو صاف کرنے کے لئے لگایا جاتا ہے، آجکل climate change کا بھی بڑا زور ہے،pollutionکا بڑا زور ہے، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے تو اس لئے plantation کی جاتی ہے لیکن ہمارے درخت ان ظاہری درختوں کے ساتھ محبت کے درخت بھی ہیں۔ ہم وہ درخت لگانا چاہتے ہیں جو ظاہری طور پر جہاں ماحول کو خوبصورت ظاہر کریں، ماحول کو صاف کریں، پھلدار ہوں تو پھل دیں، وہاں محبت کے پھل بھی ان کو لگنے والے ہوں اور ہمارے ہمسائے ہمارے سے زیادہ سے زیادہ پیار اور محبت اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے پیغامات لینے والے ہوں۔ پس درخت کی ایک ظاہری حیثیت ہے اور اس ظاہری حیثیت کے ساتھ اس درخت کی ایک روحانی حیثیت بھی ہوتی ہے جو ہم اپنے ذہن میں رکھتے ہیں اور ہر احمدی کو یہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے۔ ہماری ایم۔پی محترمہ مسز کَم(Kamm) نے بھی بات کی، ان کے جذبات کا بھی شکریہ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں افہام و تفہیم سے لوگ رہتے ہیں، جماعت احمدیہ بھی رہتی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس مسجد کے بننے کے بعد یہ افہام و تفہیم کے جو واقعات ہیں، افہام و تفہیم کی جو حالت ہے اس میں مزید بہتری پیدا ہو گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

                    ہم دنیا میں ہر جگہ اختلافات کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ ہم دنیا میں ہر جگہ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اور ہم یہی چاہتے ہیں کہ دنیا ایک دوسرے سے اختلافات کرنے کے بجائے محبت اور پیار سے رہے اور آپس میں مل جل کر رہے۔دنیا میں مختلف مذاہب ہیں بلکہ مسلمانوں کے ایمان کے مطابق تو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر قوم میں نبی اور اپنے فرستادے بھیجے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ۔اور ہر قوم میں آنے والا نبی اور ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا اس کا فرستادہ یہ پیغام لے کر آیا کہ تم خد اتعالیٰ کی عبادت کرو اور نیکیوں کو پھیلاؤ۔ اور یہی وہ تعلیم ہے جو اسلام کی تعلیم ہے اور ہمارے خیال کے مطابق اس میں مزید وسعت پیدا کر کے قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے اس تعلیم کو بیان کیا گیا ہے۔

                     لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم میں جہاد کے متعلق کہا گیا، دہشتگردی کے متعلق کہا گیا، اس لئے مسلمان دہشتگرد ہیں حالانکہ قرآن کریم میں امن اور پیار اور محبت کی تعلیم جو ہے وہ انتہائی زیادہ ہے۔ اور اگر کہیں جہاد کی تعلیم ہے تو جہاد بعض شرائط کے ساتھ ہے۔ اور ایک یہ چیز سمجھنے والی ہے کہ جہاد کا اصل مطلب، معنی کوشش ہے اور برائی کے خلاف برائی کو ختم کرنے کے لئے کوشش ہے اور یہی حقیقی جہاد ہے جو ہم جماعت احمدیہ والے کر رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب مسلمانوں پر حملے کئے جاتے تھے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ نے کسی پر زیادتی نہیں کی بلکہ جب آپ پر ظلم و زیادتی کی گئی تو تب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو retaliate کرنے کی، اس کا جواب دینے کی اجازت ملی اور وہ بھی شرط کے ساتھ۔ قرآن کریم میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ جو ظالم لوگ ہیں یہ مذہب کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور صرف اسلام کو نہیں اور قرآن کریم میں بڑا واضح لکھا ہوا ہے کہ اگر تم نے ان کے ہاتھ نہ روکے تو پھر نہ کوئی چرچ باقی رہے گا، نہ کوئی synagogue باقی رہے گا، نہ کوئی ٹیمپل(temple) باقی رہے گا، نہ کوئی مسجد باقی رہے گی جہاں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے۔ تو اس تفصیل سے قرآن کریم میں بیان ہوا ہوا ہے۔ پس یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک حقیقی مسلمان، مسجد میں جانے والا کبھی کسی دوسرے مذہب کے خلاف کوئی حرکت کرنے والا ہو۔ ہاں جب حملے ہوئے تو اس وقت جواب دئیے گئے اور جنگیں لڑی گئیں۔ اسی لئے ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ سے واپس آتے ہوئے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے جو ہم پر مجبوراً ٹھونسا گیا تھا بڑے جہاد کی طرف آ رہے ہیں جہاں ہم پیار اور محبت کی تعلیم پھیلائیں اور قرآن کریم کی تعلیم پھیلائیں اور آپس میں پیار اور محبت سے رہیں۔

                    پس یہ ہے وہ حقیقی اسلام جس پر جماعت احمدیہ عمل کرتی ہے اور یہ ہے وہ حقیقی اسلام جس کو ہر مسلمان کو اس زمانے میں ماننے کی ضرورت ہے۔ اور مسلمانوں کو بانیٔ اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام بھی تھا کہ جب وہ شخص آئے گا جو اسلام کی صحیح تعلیم کو بیان کرے گا اور پھیلائے گا تو تم اس کو مان بھی لینا۔ پس جماعت احمدیہ کی اگر یہ تعلیم ہے کہ ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘ تو یہ کوئی نئی تعلیم نہیں ہے بلکہ یہ وہ تعلیم ہے جو اسلام کی بنیادی تعلیم ہے اور جو قرآن کریم میں بیان ہے اور جس کو مسلمان علماء اپنے ذاتی مقاصد اور مفادات حاصل کرنے کے لئے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں کو اتنی توفیق نہیں کہ خود دیکھیں کہ حقیقی تعلیم کیا ہے۔ اور یہ غلط لیڈر شپ ہے جس نے ان کو غلط رستوں پر ڈال دیا ہے۔ اور صحیح اسلام کی لیڈر شپ وہی ہے جو بانیٔ اسلام کی پیشگوئی کے مطابق آئی اور اب جماعت احمدیہ اس کو لے کر آگے چل رہی ہے۔

                    پس یہ ہے اسلام کی بنیادی تعلیم۔ یہ ہے مسجد کا مقصد۔ اس لئے ہمارے ہمسائے بھی اگر ان کے کوئی تحفظات تھے تو ان کے تحفظات ختم ہو جانے چاہئیں کہ مساجد کا مقصد جہاں عبادت کرنا ہے وہاں لوگوں کے حقوق ادا کرنا ہے اور ہمسایوں کے حقوق ادا کرنا ہے۔ امن اور سلامتی کا پیغام پہنچانا ہے۔ اسلام کا مطلب ہی امن اور سلامتی ہے۔ اور ہم اس یقین پر بھی قائم ہیں، قطع نظر اس کے کہ کسی کا کیا مذہب ہے اور یا کسی کا مذہب نہیں ہے تب بھی، ہم اس خدا پہ یقین رکھتے ہیں جو رب العالمین ہے۔ یعنی تمام لوگوں کا رب ہے۔ وہ جو اس کے قوانین ہیں اس کے تحت جہاں وہ  مذہب کے ماننے والوں کو ظاہری چیزیں مہیا کرتا ہے وہاں مذہب کے نہ ماننے والے کو بھی ظاہری چیزیں مہیا کرتا ہے۔ ہمارے ایمان کے مطابق انسان کا حساب مرنے کے بعد ہو گا اس لئے ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اس دنیا میں کسی کے بارے میں فیصلہ کریں کہ کون کیسا ہے۔ ہاں صحیح پیغام پہنچانا، پیار اور محبت کا پیغام پہنچانا، اللہ تعالیٰ کی طرف آنے کا پیغام پہنچانا، یہ ہمارا کام ہے جو ہم کرتے چلے جا رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے چلے جائیںگے۔ اور مجھے امید ہے کہ اس مسجد کے بننے کے بعد یہاں کے رہنے والے احمدی پہلے سے بڑھ کر اس کام کو کریں گے۔ پہلے سے بڑھ کر جہاں مسجد میں آ کر اپنی عبادتوں کا حق ادا کرنے والے ہوں گے وہاں اپنے ہمسایوں کا، اپنے دوستوںکا، اپنے ساتھیوں کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں گے اور ہمیشہ پہلے سے بڑھ کر پیار اور محبت کے پیغامات آپ سب کو ان کی طرف سے ملیں گے۔ اور مَیں امید کرتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کریںگے۔ اللہ کرے کہ ایسا کریں۔ شکریہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں