خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ یوکے29؍جولائی2017ء
(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
جماعت احمدیہ پراللہ تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے انعامات اور افضال ہیں،آج کے دن اس وقت ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جو میرے پاس رپورٹس ہیں اس میں سے مختصراً کچھ پیش کروں گا۔
اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نیا ملک ہونڈورس(Honduras) میں احمدیت کا نفوذ ہوا ہے اور اس طرح اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے دو سو دس(210) ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے۔ 1984ء کے آرڈیننس کے بعد 33سالوں میں جبکہ مخالفین نے احمدیت کو مٹانے کا دعویٰ کیا تھا، بڑ ماری تھی، اللہ تعالیٰ نے 119 نئے ممالک میں جماعت احمدیہ کا قیام فرمایا ہے۔
ہونڈورس(Honduras) ملک جو ہے یہ وسطی امریکہ میں واقع ہے۔ اس کے شمال میں گوئٹے مالا، مغرب میں ایل سلواڈور(El-Salvador)، جنوب میں نکاراگووا(Nicaragua) وغیرہ ہیںاور بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کے ساتھ اس کی حدود ملتی ہیں۔ مقامی زبان سپینش ہے اور اس ملک کی آبادی آٹھ کروڑ تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہاں کینیڈا سے ایک داعی الی اللہ صدیق صاحب فروری 2017ء میں گئے تھےاور اسلام کا پیغام پہنچایا۔ میئر کے ساتھ میٹنگز بھی ہوئیں۔ تبلیغی نشستیں بھی ہوئیں جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے چار افراد کو بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔ بعد میں وہاں ہمارے مبلغ سلسلہ ظاہر احمد صاحب کو مقرر کیا گیااور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک 51 بیعتیں ہو چکی ہیں اور باقاعدہ جماعت قائم ہو چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے 49 ممالک میں وفود بھیج کر نئے شامل ہونے والوں سے رابطے کئے گئے۔ تربیتی پروگرام بنائے گئے اور رجسٹریشن کے حوالے سے بھی جائزہ لیا گیا۔ لیف لیٹس بھی تقسیم کئے گئے اور اس طرح بہت سارے ممالک میں بڑا اچھا اس کا اثر ہوا ہے اور پرانے رابطے جو ہیں وہ بحال ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ مختلف ممالک میں جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں ان کی تعداد 885 ہے ۔اور اس کے علاوہ 1056 نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔
نئے مقامات پر جماعت کے نفوذ اور نئی جماعتوں کے قیام میں غانا سرفہرست ہے۔ یہاں اس سال 147 نئی جماعتیں قائم ہوئیں ۔اس کے بعد دوسرے نمبر پر بینن ہے جہاں 136 مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ پھر سیرالیون ہے یہاں 115 نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔بینن میں 95 جماعتوںکاقیام ہوا۔ پھر آئیوری کوسٹ میں 77 جماعتیں قائم ہوئیں۔ سینیگال میں 51 ہے۔ نائیجیریا، مالی 31،31۔کانگو کنساشا میں 26 ۔ٹوگو میں 23 ۔تنزانیہ میں 15 ۔یوگنڈا میں 13 ،اور گنی کناکری میں اور جرمنی میں 12،12 ۔کونگو برازویل میں 11،گنی بساؤ میں 10 ،گیمبیا اور انڈونیشیا میں 9،9جماعتیںقائم ہوئی ہیں۔ اسی طرح الجیریا میں اور دوسری جگہوںپہ بھی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔
نئی جماعتوں کے قیام کے بعض واقعات دلچسپ ہوتے ہیں ۔ان میں سے ایک دو پیش کروں گا۔
کیمرون کے مبلغ انچارج صاحب لکھتے ہیںکہ ہمارے معلم یوسف بیلو صاحب نے شمال مغربی ریجن کے کیپٹل بامِنڈا(Baminda) سے 35 کلو میٹر دور ایک گاؤں سَوپ(Sop) کا تبلیغی دورہ کیا۔ وہاں گاؤں کے امام’ محمدعُمرُو‘ صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہیں جماعت کا تعارف کروایا گیا۔ ابھی انہیں جماعت کا تعارف کروا رہے تھے کہ انہوں نے اپنا ٹی وی چلا دیا اور اس پر ایم ٹی اے لگا ہوا تھا۔ گاؤں کے امام کہنے لگے کہ ہم گزشتہ دو سال سے ایم ٹی اے دیکھ رہےہیں اور جماعت احمدیہ کے امام کے تمام پروگرام اور اقتباس سنتے ہیں ۔آپ ہمیں جماعت کا تعارف نہ کروائیں بلکہ یہ بتائیں کہ ہم جماعت میں کس طرح شامل ہو سکتے ہیں اور ہمارا جماعت کے ساتھ مستقل رابطہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ ان کے علاقہ میں انگریزی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ انہیں شرائط بیعت پڑھ کر سنائی گئیں اور انگریزی زبان میں لٹریچر مہیا کیا گیا۔ اس کے بعد اس گاؤں کے امام محمدعُمرو صاحب نے خود سارے گاؤں میں جماعت کا تعارف کروایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقے میں آٹھ دیہاتوں سے سات ہزار پانچ سو تریسٹھ لوگ بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے ہیں اور آٹھ نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔ اس علاقے میں ایم ٹی اے کی مزید ڈشیں لگوائی گئی ہیں تا کہ نومبایعین جلسہ یوکے سے مستفیض ہوں اور عالمی بیعت میں بھی شامل ہوں۔
بینن سے مبلغ لکھتے ہیں کہ ہمارے معلم ایک گاؤںمِیدِ یْیوُنتا(Mediunta) میں تبلیغ کے لئے گئے۔ یہاںکی اکثریت بت پرستی کرنے والی ہے۔ معلم صاحب نے اسلام اور جماعت کا تعارف اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعارف پیش کیا اور تصویربھی لوگوں کو دکھائی۔ اس پر لوگ کہنے لگے کہ اس شخص کے چہرے پر ایک نور ہے اور یقینا ًاس شخص نے جو دعویٰ کیا ہے وہ سچا ہے۔ اور اُسی وقت 150 کے قریب افراد جو وہاں موجود تھے سبھی نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ۔اس طرح یہاں نئی جماعت کا قیام عمل میںآیا۔
گنی کناکری کے ایک لوکل معلم شریف صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دن صبح نماز تہجد میں مَیں نے خوب دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اس راستے پر لے جا جہاں لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے منتظر ہوں۔ کہتے ہیں چنانچہ صبح اللہ تعالیٰ پر توکّل کرتے ہوئے ایک راستے پر چل پڑے ۔راستے میں کئی گاؤں نظر آئے لیکن ہم کہیں نہیں رکے۔ خدائی تقدیر ہی ہمیں لے کر جا رہی تھی ۔چنانچہ ایک گھنٹہ موٹر سائیکل پر چلنے کے بعد ہمیں ایک گاؤں نظر آیا جس کا نام’ گار‘(GAR) تھا۔ اس گاؤں میں داخل ہونے کے بعد جو پہلا شخص ہمیں ملا اس سے ہم نے اپنے آنے کی غرض بیان کی۔ اس پر اس نے بتایا کہ مَیں مسجد کمیٹی کا ممبر ہوں اور اس گاؤں والے بہت عرصے سے جماعت احمدیہ کے نمائندہ کی آمد کے منتظر تھے۔ آپ میرے ساتھ مسجد چلیں باقی باتیں امام کی موجودگی میں ہوں گی چنانچہ ہم مسجد میں چلے گئے۔ نماز ظہر پر جب لوگ جمع ہو گئے تو تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب انہیں امام مہدی علیہ السلام اور مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا بتایا تو امام سمیت گاؤں کے سارے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو آپ لوگوںکے بہت دیر سے منتظر تھے ۔اس دور دراز گاؤں میں آپ کی آمد ہی ہمارے لئے معجزہ سے کم نہیں ہے۔ ہم لوگ آپ کے ساتھ ہیں اور یہ بات ہم زبان سے نہیں کہہ رہے بلکہ یہ ہمارے دل کی آواز ہے۔ وہ اس بات کو مسلسل دہراتے رہے۔کہتے ہیں کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں اس علاقے میں تین ہزار کے قریب بیعتیں ملیں۔
اسی طرح اور بہت سارے ممالک کی رپورٹس میں ذکر ہے۔ اب مَیں ان کا ذکر چھوڑ رہا ہوں۔
نئی مساجد کی تعمیر اور جماعت کو عطا ہونے والی مساجد۔ جماعت کو دوران سال اللہ تعالیٰ کے حضور جو مساجد پیش کرنے کی توفیق ملی ان کی مجموعی تعداد 417 ہے جن میں سے 155 نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور 262 مساجد بنی بنائی عطا ہوئی ہیں ۔ان کی تفصیل کافی لمبی ہے۔ مختلف ممالک میں کینیڈا میں ،آسٹریلیا میں جرمنی میں، ہندوستان میں اور لائبیریا میں۔ افریقہ کے مختلف ممالک میں ۔گیمبیا میں تنزانیہ میں مساجد ملی ہیں۔
مساجد کے تعلق سے بعض واقعات ہیں ۔ایک دو پیش کرتا ہوں۔ امیر صاحب گھانا لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں’ نابور‘(Naabur) کے تمام لوگ لامذہب تھے اور اب یہ سارا گاؤں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حقیقی اسلام اور احمدیت کی آغوش میں آ چکا ہے۔ پہلے اس گاؤں میںکوئی مسجد نہیں تھی جس پر ہمارے معلم نے پتھروں کی حد بنا کر نماز کے لئے جگہ مختص کر دی اور لوگوں کو مسجد کے آداب سکھائے اور بتایا کہ اس کے اندر جوتے اتار کر عبادت کرنی ہے۔ اس پر گاؤں کے بچوں نے اپنے گھروں میں بھی پتھروں سے جگہ مختص کر کے وہاں نمازیںپڑھنا شروع کر دیں ۔اور پھر تمام گاؤں والوں نے وقار عمل سے مٹی کی مسجد تعمیر کی اور اس میں نمازیں ادا کرنے لگے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ایک خوبصورت مسجد تعمیر ہوچکی ہے۔
امیر صاحب کانگو لکھتے ہیں کہ مسجد بیت الاسلام کے افتتاح کے موقع پر جماعت اہل سنّت کے امام صاحب نے کہا کہ مَیں پہلے چاہتا تھا کہ اس شہر میں کسی صورت میں بھی جماعت احمدیہ کی مسجد نہ بن سکے۔ اسی لئے مَیں نے مسجد کا کام رکوانے کے لئے کافی کوشش بھی کی۔ مگر آج اسلام احمدیت کا حقیقی چہرہ دیکھ کر میرا خیال بدل گیا ہے۔ آج میںنے حقیقی اسلامی روح احمدیوں میں دیکھی اور محسوس کی ہے۔ میں اللہ سے اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔
بینن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ پوبے ریجن کے ایک گاؤں ٹیفی(Teffi)میں تقریباً دس سال قبل جماعت قائم ہوئی تھی اور تب سے ہی مخالفین کوششوں میں لگے ہوئے تھے کہ وہاں سے جماعت ختم کی جائے۔ دوران سال ایک عرب تنظیم کے نمائندے اس گاؤں میںگئے اور کہنے لگے کہ آپ لوگ دس سال پہلے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے اور ابھی تک جماعت احمدیہ نے آپ کو صرف کچی مسجد بنا کر دی ہے۔ اگر آپ لوگ جماعت احمدیہ کو چھوڑ دیں تو ہم آپ کو ایک پکّی اور بڑی مسجد بنا کر دیں گے۔ مگر گاؤں کے تمام احمدی افراد نے ان کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور کہا کہ جماعت احمدیہ کے مبلغ اور معلم گزشتہ دس سال سے اس جنگل میں آ رہے ہیں اور ہماری تربیت کرتے اور ہر خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں۔ جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے ہی ہمیں اصل اسلام کا چہرہ نظر آیا ہے ۔چنانچہ وہ مخالف وہاں سے ناکام ہو کر واپس چلے گئے اور اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو یہاں پکّی مسجد تعمیر کرنے کی بھی توفیق مل گئی۔
گنی کناکری کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں میں مسجد کی تعمیر کے سلسلہ جب ہم وہاں پہنچے تو پتا چلا کہ جماعت کے مخالف گروپ نے پورے علاقے کے مولویوں کو ہمارے آنے سے پہلے ہی دعوت دے رکھی تھی۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ ان کا ارادہ ہم پر پتھراؤ وغیرہ کرنے کا بھی تھا لیکن انہیں ایسا کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ مخالفین کہنے لگے کہ ہمیں کسی مسجد کی ضرورت نہیں ہے لہٰذا ہم وہاں سے واپس آ گئے۔ لیکن دل بہت پریشان اور دکھی تھا۔ ابھی اس بات پر دو دن نہیں گزرے تھے کہ ہمیں ایک اور علاقہ کویا (Coyah)سے دعوت ملی کہ ہم وہاں جماعت کا پیغام پہنچانے کے لئے آئیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ایک بڑی تعداد میں لوگ ہمارے منتظر تھے جس میں علاقے کے امام بھی شامل تھے۔ ان کو تفصیل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور ان پر ایمان لانے کے لئے قرآن و حدیث سے دلائل دئیے تو وہ تمام افراد بشمول امام ،جماعت میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے اور قریب ہی ایک مسجد جو کہ زیر تعمیر تھی وہ قانوناً جماعت کے نام کر دی گئی اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ایک مضبوط جماعت بھی قائم ہو گئی۔
مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز میں اضافہ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوران سال 131 مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا اور مشن ہاؤسز کی کل تعداد اب 2607 ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مشن ہاؤسز کا قیام عمل میں آیا۔ جماعت احمدیہ کا ایک خصوصی امتیاز وقار عمل ہے۔ اکثر مساجد اور مشن ہاؤسز اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقار عمل کے ذریعہ سے بنائے گئے ۔چنانچہ اس سال چھیانوے ممالک سے موصولہ رپوٹ کے مطابق کل 71 ہزار474وقار عمل کئے گئے جن کے ذریعہ 24 لاکھ 27ہزارسے اوپر یوا یس ڈالر کی بچت ہوئی۔
وکالت تصنیف یُوکے (UK)کے تحت نئے تراجم کی اشاعت ہوئی۔ اس سال قرآن کریم کا ڈوگری زبان میں ترجمہ پہلی مرتبہ قادیان سے تیار ہو کر طبع کروایا گیا۔ ڈوگری زبان ہندوستان کے صوبہ جموں اور کشمیر میں بولی جاتی ہے۔ یہ ترجمہ تفسیر صغیر کے ترجمہ پر مشتمل ہے۔ قرآن کریم کا مکمل ترجمہ اب 74 زبانوں میں طبع کیا جا چکا تھا اور یہ ترجمہ پہلے ہو چکا تھا اب یہ ملا کر کُل 75 زبانوں میں ترجمہ قرآن کریم مکمل ہو چکا ہے۔ قرآن کریم کے چائنیز ترجمہ کی نظر ثانی کر کے دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کاجاپانی ترجمہ بھی بعض درسیتاں کر کے دوبارہ تیار کیا گیا ہے۔ جاپانی ترجمہ میں ہمارے جاپانی احمدی محمد اویس کوبا یاشی صاحب نے بڑے اخلاص اور محنت سے پانچ سال میں یہ کام مکمل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ’حجۃ الاسلام‘ کا انگریزی ترجمہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ’ حقیقۃ المہدی ‘کا اردو اور عربی حصہ کا انگریزی ترجمہ کیا گیا ہے۔’ عصمت انبیاء ‘کا انگریزی میںترجمہ کیا گیا ہے۔ The Life and Charachter of the Seal of Prophetsسیرۃخاتم النبیینؑ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی جو کتاب ہے اس کے پہلے دو حصوںکا انگریزی ترجمہ تھا ۔اب اس کے تیسرے حصہ کا بھی ترجمہ کر دیا گیا ہے۔
پھر اسی طرح اور لٹریچر ہے جماعت کے مختلف علماء کا، ان کا انگریزی ترجمہ کیا گیا ہے۔
’ فتح مباہلہ یا ذلتوں کی مار‘ جو کتاب تھی اس کا انگریزی ترجمہ کیا گیا ہے۔ جلال الدین صاحب شمس کی تصنیف Where did Jesus die? اس تصنیف کے کئی ایڈیشن کئی زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ موجودہ ایڈیشن میں کتاب میں بائبل کے جو حوالہ جات شامل کئے گئے ہیں انہیں ٹھیک کیا گیا ہے۔’ عرفان ختم نبوت‘ کا انگریزی ترجمہ کیا گیا ہے۔ ایک عیسائی کی طرف سے ایک گندی اور دلآزار کتاب ’امہات المؤمنین‘ شائع کئے جانے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک کتاب ’البلاغ‘لکھی تھی جس میں مسلمانوں کی اس حوالے سے رہنمائی فرمائی کہ ان کےاعتراض کا مؤثر رنگ میں جواب تیار کر کے شائع کروانا چاہئے۔ اس کتاب کا پورا نام’ البلاغ‘ یا ’فریاد درد‘ ہے۔ ایک حصہ اردو میں ہے اور دوسرا حصہ عربی میں۔ اس کتاب کو عربی احباب کے استفادہ کے لئے اس سال شائع کیا گیا ہے۔
فرنچ کتب’ پیغام صلح‘، گورنمنٹ انگریزی اور جہاد،’ کشتی نوح‘،’ الوصیت ‘وغیرہ شائع ہوئیں۔ رشین میں کچھ کتب اور بعض میرے ایڈریس اور تقریریں شائع کی گئیں ۔ سواحیلی ڈیسک میں’ اسلامی اصول کی فلاسفی‘’ استفتاء ‘’لیکچر لاہور‘’ معیار المذاہب ‘’سناتن دھرم‘ ’ پیغام صلح ‘وغیرہ شائع کی گئیں۔ بنگلہ ڈیسک کے تحت ’براہین احمدیہ‘ حصہ اول و دوم اور’ نشان آسمانی ‘کا ترجمہ کیا گیا۔ بچوں کی بعض کتب شائع کی گئیں اور اس طرح دوسرا مختلف لٹریچر ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال 112 ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دوران سال 690 مختلف کتب 59 زبانوں میں شائع کی گئیں جن کی تعداد ستّر لاکھ بتیس ہزار ایک سو انیس(70,32,119) ہے اور ان کی تفصیل ہے۔
جماعتوں کے ذریعہ فری لٹریچر کی تقسیم۔ مختلف ممالک میں مختلف عناوین پر مشتمل 2 ہزار667 کتب ،فولڈرز اور پمفلٹ ستّر لاکھ تہتّر ہزار کی تعداد میں مفت تقسیم کئے گئے۔ کل تقریباً پونے دو کروڑ افراد تک اس طرح پیغام پہنچا۔
دوران سال لندن سے مختلف اکاون زبانوں میں تین لاکھ اسّی ہزار سے زائد تعداد میں کتب دنیا کے مختلف ممالک کو بھجوائی گئیں۔ قادیان سے دوران سال آٹھ ممالک کو ان کی لائبریریز اور دیگر ضروریات کے لئے کتب بھجوائی گئیں۔
دنیا کے 79 ممالک سے آمدہ رپورٹ کے مطابق 421 سے زائد ریجنل اور مرکزی لائبریریوں کامختلف ممالک میں قیام ہو چکا ہے جن کے لئے لندن اور قادیان سے کتب بھجوائی گئیں۔ رقیم پریس یُوکے (UK)اور جو افریقہ کے مختلف پریس ہیں ان میں اس سال چھپنے والی کتب کی تعداد تین لاکھ پینتالیس ہزار سے اوپر ہے۔ الفضل انٹرنیشنل رقیم پریس سے شائع ہوتا ہے۔ جماعتی رسائل ہیں، میگزین ہیں، پمفلٹ، لیف لیٹس اور مختلف فولڈرز وغیرہ۔ بعض کتب بھی شائع کی گئیں۔
اسی طرح افریقہ کے جو پرنٹنگ پریس ہیں ان میں کتب کی مجموعی تعداد چھ لاکھ اڑتیس ہزار ہے۔ رسائل اخبارات اور دوسرے لٹریچر کی تعداد پینتیس لاکھ ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق9ہزار 471 نمائشوں کے ذریعہ16 لاکھ 33 ہزار سے اوپر افراد تک اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچا۔ اس کے علاوہ 12 ہزار534 بک سٹالز اور بک فیئرز کے ذریعہ 18 لاکھ 70 ہزار سے اوپر افراد تک پیغام حق پہنچا۔
نمائشوں کے ذریعہ جو واقعات ہیں ان میں ایک بیان کرتا ہوں۔ سیکرٹری تبلیغ نیڈم ہاؤزن (Niedemhausen) جرمنی لکھتے ہیں کہ ہم نے ایک نمائش کا انعقاد کیا جس پہ بہت سارے جرمن مہمان آئے اور ان میں سے بعض نے اپنے تأثرات کا اظہار بھی کیا ۔کچھ مہمانوں نے کہا کہ یہاں آنےسے پہلے انہیں بہت خوف تھا لیکن اب یہاں سے واپس جاتے وقت دل کو تسلی ہوئی ہے۔ ایک جرمن مہمان نے کہا کہ میرے ذہن میں اسلام کی غلط تصویر تھی لیکن اب وہ ٹھیک ہو گئی ہے۔ نمائش دیکھنے اور اسلامی تعلیمات کو جاننے کے بعد میرے اور میری اہلیہ کے دل میں اب اسلام کے بارے میں کوئی خوف نہیں رہا۔ متعدد مہمانوں نے اس بات کا کھل کر اظہار کیا کہ میڈیا کی اسلام کے بارے میں غلط تشریحات کی وجہ سے اسلام کو دہشتگردی اور سفّاکیت کا مذہب سمجھا جاتا ہے اور میڈیا نے اسلام کو داعش کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ لیکن آج ہمیں اسلام کی یہ خوبصورت اور پُرامن تعلیم کا پتا چلا ہے۔ ہمیں جہاد کی حقیقت کا پتا چلا ہے۔ ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ‘کا پیغام دنیا میں سب سے طاقتور ہے۔ ایک بوڑھا شخص نمائش دیکھنے کے لئے آیا اس نے ہمیں ایک پرانا جماعتی دعوت نامہ اور قرآن مجید دکھایا اور بتایا کہ وہ جماعت کے تیرھویں جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر موجود تھا اور آج وہ جماعت کی ترقیات سے بہت خوش ہے۔
کولون میں ایک عمر رسیدہ جرمن شخص آیا۔ کہتے ہیں کہ اس نے بتایا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ پچاس سال بعد جرمنی کا نام کیا ہو گا۔ پوچھنے پرکہنے لگا کہ آج سے پچاس برس بعد جرمنی کا نام اسلامی جمہوریہ جرمنی ہو گا۔
ایک خاتون کولون میں چھٹیاں منا کر اپنے خاوند اور بچوں کے ہمراہ واپس جا رہی تھی۔ اس نے ہمارا تبلیغی سٹال دیکھا تو ادھر آ گئی ۔اس خاتون نے بتایا کہ اس نے جماعت احمدیہ کی مسجد کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت تھی اور امام جماعت کی تقریر سنی تھی اور بہت متأثر ہوئی تھی۔ موصوفہ کہنے لگی کہ آپ لوگ بہت اچھا کام کر رہے ہیںاور امن کے لئے کام کر رہے ہیں۔
فجی کے شہر’ سینگاٹوکو ‘میں بک سٹال لگایا گیا۔ اس کے ذریعہ ایک لوکل فجیین لوکے (Loke)صاحب کے ساتھ رابطہ ہوا اور پھر ان کے ساتھ تبلیغی نشستیں ہوتی رہیں جس کے نتیجہ میں موصوف نے اپنے بچوں سمیت بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔
پٹیالہ یونیورسٹی میں بک فیئر کے موقع پر غیر احمدی طلباء جویونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ہمارے سٹال پر آئے اور ہماری کتب کا مشاہدہ کیا۔ ان کو جماعت کا تعارف کروایا گیا اور جماعتی ویب سائٹ کا ایڈریس دیا گیا۔ اگلے دن یہ طلباء دوبارہ ہمارے سٹال پر آئے اور اس بات کا اظہار کیا کہ انہوں نے رات ہماری ویب سائٹ پر وزٹ کیا اور انہیں سمجھ آ گئی کہ جماعت کے بارے میں جو باتیں بتائی جاتی ہیںان میں کوئی صداقت نہیں اور آپ کی جماعت درحقیقت سچی جماعت ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اسلام کے تعلق سے بہت سی کتب خریدیں۔ نیز اس بات کا وعدہ کیا کہ انشاء اللہ ہم قادیان بھی ضرور آئیں گے۔
لیف لیٹس اور فلائرز کی تقسیم کاجو منصوبہ تھا اس سال چھیانوے ممالک میں مجموعی طور پر ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد لیف لیٹس تقسیم ہوئے اور اس کے ذریعہ سےاڑھائی کروڑ کے قریب افراد تک پیغام پہنچا۔ان میں جرمنی سرفہرست ہے پھر یوکے ہے ۔پھر سپین، میکسیکو وغیرہ۔ کینیڈا۔ ہالینڈ پھر امریکہ، بیلجیئم۔
جامعہ یو کے کے جو فارغ التحصیل طلباء ہیں ان کوسپین بھجوایا جاتا ہے۔ اس سال سات لاکھ انتالیس ہزار کے قریب انہوں نے لیف لیٹس تقسیم کئے۔ اور اسی طرح میکسیکواورگوئٹے مالا میںبھی فلائرز کی تقسیم ہوئی۔ وہاں بھی جامعہ کینیڈا طلباء جاتے ہیں ۔انہوں نے دو لاکھ سے اوپر لیف لٹس کی تقسیم کی۔
لیف لیٹس کی تقسیم کے دوران بعض واقعات جو پیش آئے۔ آسٹریلیا میں پریس اینڈ میڈیا کے انچارج لکھتے ہیں کہ جب جماعت نے تسمانیہ میں لیف لیٹس تقسیم کئے تو آسٹریلیا کے ایک بڑے نیشنل ٹی وی چینل اے بی سی نے اسے خوب نشر کیا اور آسٹریلیا بھر میں یہ نیوز دکھائی گئی۔ چنانچہ ویسٹرن آسٹریلیا کے دور دراز کے ایک چھوٹے سے قصبہ سے ایک شخص نے جماعت سے رابطہ کیا جو جماعت کی امن، بھائی چارہ، حُبّ الوطنی اور حقیقی اسلامی تعلیمات کے فروغ کی کوششوں سے بیحد متاثر ہوا اور اس کی بہت تعریف کی۔ مزید برآں اس نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ یہ لیف لیٹ اس کے علاقہ میں بھی تقسیم کئے جائیں بلکہ کہنے لگا وہ خود لیف لیٹس تقسیم کرنے میں مدد کرے گا۔ کوئینز لینڈ کے مربی لکھتے ہیںوہاں بھی اس طرح بہت لوگوں نے دلچسپی کا اظہار کیا اور مدد کی۔
اظہر گورائیہ صاحب مربی سلسلہ نے میکسیکوکے شہر مریڈا(Marida) میں فلائر تقسیم کئے۔ وہ کہتے ہیں کہ فلائر کی تقسیم کے نتیجہ میں کئی تبلیغی رابطے قائم ہوئے۔ ایک صحافی سے بھی رابطہ قائم ہوا جس نے جماعت کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کر کے مقامی اخبار میں شائع کی جس کے نتیجہ میں ایک بڑی تعداد تک جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچا۔ اس دوران پہلے سے زیر رابطہ افراد میں سے چار احباب کو جماعت احمدیت قبول کرنے کی بھی توفیق ملی۔
سیکرٹری خارجہ فرانس لکھتے ہیں کہ فرانس میں ایک بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اس کے اختتام پر ایک مقامی دوست نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں دہریہ ہوں اور کسی مذہب اور خدا کی ہستی پر یقین نہیں رکھتا۔ لیکن اس کانفرنس کے بعد مَیں یہ کہنے میں ذرا بھی تردّد محسوس نہیں کرتا کہ آج اس ملک میں جماعت احمدیہ جیسی کوئی دوسری ایسوسی ایشن نہیں اور نہ ہی کوئی مذہب آپ جیسی تعلیم پیش کر سکتا ہے ۔نیز بڑی بھرّائی ہوئی آواز میںجذباتی رنگ میں کہنے لگا کہ میں خود تو دہریہ ہوں لیکن میں نے آپ کے فلائرز لے لئے۔ ہیں مَیں اپنے تمام جاننے والوں کو بتاؤں گا کہ جماعت احمدیہ کیا ہے۔
عربی ڈیسک کے تحت گزشتہ سال جو کتب اور پمفلٹس عربی زبان میں تیار ہو کر شائع ہوئے ان کی تعداد تقریباً 124 ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’البلاغ‘ پرنٹنگ کے لئے بھجوا دی گئی ہے اور کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 12 جس میں سراج منیر ،استفتاء، حجۃ اللہ، تحفہ قیصریہ، محمود کی آمین ،سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب یہ بھی پرنٹنگ کے لئے تیار ہے ۔اور بعض کتب کا ترجمہ نظر ثانی ہو رہا ہے اور کافی لٹریچر اللہ کے فضل سے انہوں نے پیدا کیا ہے۔
عربوں میں بعض قبولیت کے واقعات۔ محترمہ مرو صاحبہ لکھتی ہیں کہ دو سال قبل تہجد میں دعا کر رہی تھی کہ اس جماعت کے بارے میں رہنمائی فرما ۔اس کے بعد سو گئی اور خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ نے میرے سوال کا جواب میرے موبائل پر میسج کے ذریعہ دیا ہے جس میں لکھا تھا خدا سے تعلق پیدا کرو تمہیں علم صرف خدا تعالیٰ سے ہی ملے گا۔ کہتی ہیں اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ بات تو بالکل واضح ہے۔ پھر میں نے بیعت کر لی اور مشاہدہ کیا کہ جب بھی میں کسی چیز کی خواہش کرتی ہوں تو بہت جلد پوری ہو جاتی ہے خواہ وہ دنیاوی چیز ہو یا دینی۔ اس سے مجھے خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین ہو گیا۔ میں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد خدا تعالیٰ کے وجود کو محسوس کیا۔
وسیم بشیر صاحب سیریا کے ہیں۔ آجکل ترکی میں ہیں۔ کہتے ہیں خاکسار احمدیت سے متعارف ہونے سے قبل ہمیشہ رو رو کر دعا کیا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے سیدھے راستے پر چلائے اور اس غرض سے اسلام اور دیگر ادیان کا مطالعہ بھی کیا کرتا تھا۔ ایک دن خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور پھر قریب آ کر مجھے بوسہ دیا۔ اس کے ساتھ ہی آپ کی شکل مبارک تبدیل ہوگئی اور آپ ابھی تک مسکرا رہے تھے۔ مَیں حیران تھا کہ یہ دوسرا چہرہ کس کا ہے۔ کہتے ہیں یہ 2002ء کی بات ہے۔ اس کے بعد ایک دن انٹرنیٹ پر احمدیت کا نام پڑھا لیکن ساتھ ہی مخالفین احمدیت کی تحریریں پڑھیں جن کی بنا پر بات آگے نہ بڑھ سکی۔ پھر 2009ء میں اتفاقاً دیکھا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھی جو ہو بہو ویسی ہی تھی جیسی مَیں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا چہرہ دیکھا تھا۔ کہتے ہیں مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ امام مہدی اور مسیح موعود ہیں جو سو سال پہلے آئے اور گزر گئے لیکن ہمیں پتا بھی نہ چلا۔ اس کشمکش میں رات گزری۔ فجر کی نماز میں مَیں نے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اس شخص کی حقیقت بتا دے۔ اسی دن جب میں کام پر گیا تو وہاں ایک ساتھی نے کہا کہ کل رات میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تم مسیحی بن گئے ہو لیکن نصاریٰ سے مختلف ہو۔ تم مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو لیکن تم مسیحی ہو گئے ہو۔ یعنی مسلمان مسیحی ہو گئے ہو۔ کہتے ہیں مَیں نے دل میں کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے لئے پیغام ہے۔ چنانچہ میں نے زیادہ توجہ سے دیکھنا شروع کر دیا اور مخالفین کی کتابیں بھی پڑھنے لگا۔ پھر میں دنیاداری میں کھو گیا اور ایم ٹی اے بھی غائب ہو گیا ۔لیکن اچانک 2013ء کے آخر میں دوبارہ ایم ٹی اے سامنے آیا تو مجھے لگا کہ جیسے مجھے ایک خزانہ مل گیا ہو۔ جماعتی ویب سائٹس سے کتب بھی پڑھیں جس سے مجھے تسلی ہو گئی اور میں نے ویب سائٹ پر ہی 2014ء میں بیعت کا خط لکھ دیا۔ بیعت قبول ہو گئی اور مجھے ایک اطمینان حاصل ہو گیا۔
اخلاص و وفا کے اظہار اور اطمینان قلب حاصل ہونے کے بارے میں بعض خطوط ہیں۔ سعودیہ سے ایک صاحب مجھے لکھتے ہیں کہ اگر کوئی دلیل نہ بھی ہو تو احمدیت قبول کرنے کے بعد اطمینانِ قلب کا شعور اور یہ احساس کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے یہی حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ السلام کی صداقت کے لئے بطوردلیل کافی ہے۔ تزکیہ، تعلیم الکتاب اور حکمت خدا تعالیٰ کی طرف سے صادق مرسل کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
اردن سے ایک صاحب قاسم صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی سب سے خوبصورت اورعظیم دلیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے خلافت کی محبت اور اطاعت میرے دل میں خود پیدا کر دی ہے۔ کہتے ہیں چند سال قبل جب میں نے بیعت کا فیصلہ کیا تو میرے دل میں یہ خیال گزرا کہ کیا واقعی جماعت اب تک حق پر ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقصد پر گامزن ہے یا نہیں۔ اس وقت تک مجھے خلافت کا کچھ علم نہ تھا۔ اس پر خدا تعالیٰ نے خواب میںمجھے دکھایا کہ خلیفۃ المسیح سلامتی اور امن پھیلا رہے ہیں اور لڑائی جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں میں نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ پر رکھا اور انگوٹھی کو بوسہ دیا۔ اس وقت میں نے آپ کی شفقت اور مہربانی کو محسوس کیا اور میرے دل میں آپ کے لئے غیر معمولی محبت پیدا ہو گئی جو دن بدن بڑھ رہی ہے ۔مَیں تجدید بیعت کرنا چاہتا ہوں اور آپ کی اطاعت سے نکلنے والے ہر شخص سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔
اسی طرح تیونس سے ایک صاحب بشیر انصاری صاحب کہتے ہیں کہ دعا کریں ہم آسمان پر احمدی لکھے جائیں۔ اللہ کے فضل سے ہم کسی تکلیف سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ڈر ہے، تو صرف یہ ہے کہ ہماری کسی تقصیر سے جماعت کو نقصان نہ پہنچے۔ دعا کریں کہ ہم جماعتی ترقی میں روک نہ ہوں بلکہ اس کے لئے فدا ہوں۔ اگر ہم مسیح موعود کے دار سے محروم ہو گئے تو اور کہاں پناہ لیں گے۔ احمدیت ہی ہماری زندگی ہے۔
بعض لوگ اپنے تأثرات خطبات سننے کے بعد بھی لکھ دیتے ہیں۔ ترکی سے عبداللہ صاحب مجھے لکھتے ہیں کہ زندگی کا مزہ اور سکون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت اور خلافت سے جڑنے کے بعد ہی نصیب ہوا ہے۔ آپ کے خطبات سن کر ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ 23؍ دسمبر 2016ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کلام سن کر تو آنکھوں میںآنسو آ گئے جہاں حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اے عزیزو! صدق اور اخلاص کے بغیر کوئی مقام نہیں ملتا۔ مصفی قطرہ بنو کہ وہی جوہر بنتا ہے۔
پھر صابر جابر صاحب فلسطین سے لکھتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے خلافت کی نعمت عطا کی ہے ۔ خلیفۂ وقت کا وجود ایک باپ کی طرح ہے جو سب بچوں کا خیال رکھتا ہے اور وہ اس کے گرد اکٹھے رہتے ہیں۔ خلیفہ وقت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ خلیفہ وقت کے احکام کی تکمیل کے لئے میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔ کہتے ہیں کہ بارہ مئی 2017 کے خطبہ میں آپ نے صبر و تحمل اور بدلہ نہ لینے اور دلوں کی طہارت اور ہر قسم کے کینوں سے پاک ہونے اور رواداری میں ایک نمونہ بننے کی نصیحت فرمائی ۔اس سے اگلے دن ایک مخالف احمدیت شخص کے ساتھ میرے ایک جھگڑے کے تصفیہ کے لئے شریف عودہ صاحب کے ساتھ ایک میٹنگ تھی ۔ اس نے میرے ساتھ لڑائی کی تھی اس کے نتیجہ میں مجھے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔ شریف صاحب نے مجھےخطبہ کی روشنی میںاطاعت کی نصیحت کی۔ چنانچہ میں نےیہ فیصلہ کیا کہ غصہ نہیںکروں گا اور بدلہ نہیں لوں گااور اپنا حق چھوڑ دوں گا اور پھر ایسا ہی کیا۔
الجزائر میں جو ابتلاء ہے اس میں بھی مختلف لوگ اپنے واقعات لکھتے ہیں۔ ایک صاحب ہیں جو غریب سے آدمی ہیں۔ ان کا نام عبد الحمید ہے۔ کہتے ہیں عدالتی کارروائی کے دوران جج نے کہا کہ تمہیں جماعت احمدیہ کا تعارف کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا مَیں اَن پڑھ آدمی ہوں میری دو گائیاں ہیں جنہیں میں چَراتا ہوں۔ جب شام کو واپس لوٹتا ہوں تو ایم ٹی اے دیکھنے لگ جاتا ہوں۔ اس چینل کی باتیں مجھے اپنی طرف کھینچتی اور میرے دل میںگھر کر جاتی ہیں۔ جج نے کہا کہ تم دوسرے چینل کیوں نہیںدیکھتے۔ وہاں پر بڑے بڑے علماء ہیں جو الجزائری لہجہ میں بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جج صاحب دونوںمیں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ احمدیوں کی باتیں دل کی گہرائیوں میںاترتی ہیں جبکہ دوسرے علماء کی باتیں سمجھ ہی نہیں آتیں ۔اس پر جج نے غضبناک ہو کر کہاکہ تم اپنے ٹی وی سے احمدی چینل کو ختم کر دو۔ مَیں نہیں چاہتا کہ تم اسے کبھی دیکھو۔
ڈاکٹر حجاز کریم صاحب کہتے ہیں کہ ایک صاحب جن کی عمر ستّر سال ہے اور ان کی بیوی کے خلاف مقدمہ جاری ہے۔ خاتون کو قید کیا گیا اور پردہ اتارنے کو کہا گیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اس خاتون نے میری بیوی کو عید کے دن فون کر کے بتایا کہ وہ بخیریت ہیں البتہ ان کے خاوند اس مقدمہ کی وجہ سے کافی پریشان ہیں۔ انہیں گردوں کی تکلیف ہے اور ہفتہ میں تین دفعہ گردے صاف کروانے پڑتے ہیں ۔عدالت میں حاضری والے دن گردوں کی صفائی رات کے وقت کرواتے ہیں اور اس تاخیر کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور ذہن پر بھی اثر ہو جاتا ہے، بھولنے لگتے ہیں۔ دونوں میاں بیوی بہت مخلص ہیں اور دونوں کے لئے دعا کی درخواست ہے۔
اللہ تعالیٰ الجزائر کے احمدیوں پر فضل فرمائے۔ بہت سارے ان کے واقعات ہیں ۔بڑی مشکلات میں گرفتار ہیں اور بڑی ثابت قدمی سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخالفین کا اور حکومت کے کارندوں کااور ججوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ثبات قدم بھی عطا فرمائے اور ان کی مشکلات بھی جلد دُور فرمائے۔
رشین ڈیسک کے تحت بھی کتابوں کے ترجمہ اور خطبات کے ترجمہ اور رشین ویب سائٹ کا کام ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی وسیع پیمانے پر یہ کام ہو رہا ہے اور وسیع پیمانے پر یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے رشیا میں اور رشین بولنے والی سٹیٹس میں پہنچ رہا ہے۔ فرنچ ڈیسک کے تحت بھی کچھ کتب شائع ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا کام ہو رہا ہے۔ بنگلہ ڈیسک نے بھی کچھ خطبات کا ترجمہ کیا ہے۔ کچھ کتابوں کا ترجمہ کیا ہے۔ چینی ڈیسک میںبھی ترجمہ کا کام ہو رہا ہے۔ ٹرکش ڈیسک نے بھی سبز اشتہار اور توضیح مرام کا ترجمہ کیا ہے اس طرح اور مختلف لٹریچر ہے۔
یہاں لندن میں جو واقعات ہوئے تھے ان کے بعد پِیس سمپوزیم کے ذریعہ بھی جو ہر سال منعقد ہوتا ہے اور پریس اینڈ میڈیا کو جماعت کا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملا اور 554 نیوز رپورٹس شائع ہوئیں جن کے ذریعہ کل دوسو تہتّر ملین افراد تک پیغام پہنچا۔ اس میں بی بی سی نیوز، سی این این، سکائی نیوز ،آئی ٹی وی، چینل فور اور چینل فائیو کو لائیو انٹرویو کے ذریعہ سے پیغام پہنچے۔ اخبارات میں گارڈیئن، بی بی سی آن لائن ،ٹیلی گراف اور مِرر اور ڈیلی میل اور دیگر نیشنل پرنٹ اور آن لائن اخبارات کے ذریعہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے جماعت احمدیہ کا جو مؤقف ہے وہ شائع کرنے کی توفیق ملی۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس شعبہ کے تحت کافی وسیع پیمانے پر جماعت کا پیغام پہنچ رہا ہے اور تعارف حاصل ہورہا ہے اور تقریباً تمام ہی نوجوان عمر کے مربیان ہیں یا دوسرے لڑکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت ڈالے۔
الاسلام ویب سائٹ جس کے انچارج ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب ہیں، امریکہ سے چلتی ہے اس کے رضا کار امریکہ ،کینیڈا، پاکستان، بھارت، یُوکے اور جرمنی میں کام کر رہے ہیں۔ قرآن کریم کے نئے ایڈوانس سرچ انجن کا اجراء کیا گیا ہے۔ اس سرچ انجن کے ذریعہ سے عربی، اردو، انگریزی، جرمن، فرنچ اور سپینش زبانوں میں سرچ کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم کے تینتالیس تراجم اور تفسیر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نیا ایڈیشن ویب سائٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔ ایک سو سے زائد اردو اور انگریزی کتب کا اضافہ کیا گیا ہے۔ تین کتب کا آئی بکس(iBooks) اور کِنڈل(Kindle) پر اجراء کیا گیا ہے۔ کل کتب کی تعداد اکیس ہو چکی ہے۔ خطبات جمعہ پوڈکاسٹ پر دستیاب ہیں۔Friday Sermon app کا نیا ورژن آ چکا ہے۔ خطبات جمعہ اٹھارہ زبانوں میں آڈیو اور وڈیو کی صورت میں آن لائن دستیاب ہیں۔ اسی طرح میری باقی تقاریر بھی جو ہیں اور خطبات، خطابات بھی اس میںشامل ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس رسالہ ریویو آف ریلیجنز کا اجراء فرمایا تھا۔ اور پہلا شمارہ جنوری1902ء میں شائع ہوا تھا۔ اس رسالہ کا ایک سو سولہواں (116)سال چل رہا ہے۔ سولہ ہزار کی تعداد میں ہر ماہ شائع ہوتا ہے اور دنیا کے سو ممالک میں بھجوایا جاتا ہے ۔اس سال ریویو آف ریلیجنز کے مختلف سوشل میڈیا ہینڈ لز ٹوئٹر، فیس بک ،یُوٹیوب کے ذریعہ تیس لاکھ افراد تک حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا۔ جرمن اور فرنچ کے شمارے کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ پہلے صرف برکینا فاسو سے فرنچ شمارہ شائع ہوتا تھا اب یہاں سے بھی شائع ہونے لگ گیا ہے۔ اور اسی طرح یہ رسالہ جرمن زبان میں بھی شائع ہونے لگ گیا ہے ۔اور جرمن زبان میں ریویو آف ریلیجنز شائع کرنے کے لئے ایک عیسائی جرمن نے ہمارے ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر کو کہا تھاکہ تم لوگوں کوجرمن زبان میں بھی شائع کرنا چاہئے ۔ اس کے کہنے پر یہ قدم اٹھایا گیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے شائع ہو رہا ہے۔
امسال 112 ممالک سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جماعتوں اور ذیلی تنظیموں کے تحت چوبیس زبانوں میں 118 تعلیمی، تربیتی اور معلوماتی مضامین پر مشتمل رسائل اور جرائد مقامی طور پر شائع کئے جا رہے ہیں
موازنہ مذاہب رسالہ جو ہے اس میں مختلف تحقیقی مضامین بڑی محنت سے تیار کئے جاتے ہیں اور ہر ماہ لندن سے شائع کیا جاتا ہے۔اس کی سالانہ سبسکرپشن 20 پاؤنڈ ہے۔ ایڈیشنل وکالت تصنیف انتظام کرتی ہے۔ خریداری کے لئے ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
انٹرنیشنل مینجمنٹ بورڈ کے اس وقت پندرہ ڈیپارٹمنٹ ہیں جن میں کل 356 کارکنان خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے دو سو ساٹھ مرد اور چھیانوے خواتین شامل ہیں۔ اس تعدادمیں طوعی خدمت بجا لانے والے اراکین کی تعداد 298 ہے جبکہ صرف 58 افراد Employed ہیں، کارکن ہیں، باقاعدہ Payrollپہ ہیں۔ اس سال ایم ٹی اے کے پچیس سال بھی مکمل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کامیابی سے چل رہا ہے۔
اسی طرح بوبو جلاسو( برکینا فاسو) میں بھی ٹی وی سٹیشن کا قیام کیا جا رہاہے۔ بوبو جلاسو، برکینا فاسو کا ایک شہر ہے۔ یہاں ٹی وی سٹیشن کا قیام عمل میں آ رہا ہے۔ قادیان میں بھی سٹوڈیو بنا ہوا ہے اور وہاں سے High Defination Format کے ذریعہ سے نشریات ہوتی ہیں۔ اسی طرح ایم ٹی اے کی نئی Uplink سہولت بھی میسر ہو چکی ہے۔اس معاملے میں آزاد ہو گئے ہیں۔ پہلے لوگوں سے، مختلف کمپنیوں سے ڈش ہائر(Hire) کرنے پڑتے تھے۔ ایم ٹی اے اَرتھ سٹیشن امریکہ کو بھی اَپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اب وہ تمام موجودہ ضروریات کو مہیا کر سکے گا۔ اسی طرح ایم ٹی اے افریقہ ہے ۔ایم ٹی اے افریقہ کے تحت جس کا آغاز اگست 2016ء میں ہوا تھا روزانہ چوبیس گھنٹے مختلف زبانوں میں اس کی نشریات جاری ہیں۔ نو (9)ممالک میں ایم ٹی اے افریقہ کا اجراء ہو چکا ہے۔ گھانامیں وہاب آدم سٹوڈیو کے نام سے ایک نیا اور جدید سٹوڈیو کمپلیکس قائم کیا گیا ہے ۔اس میں جدید ترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور مختلف شعبوں میں سترہ کارکن خدمات بجا لا رہے ہیں۔ غانا اور یوگنڈا میں ایم ٹی اے ٹیم نے 150 پروگرامز تیار کئے۔ ان پروگرامز میں وہاب آدم سٹوڈیو سے رمضان المبارک کے دوران لائیو براڈکاسٹ بھی شامل ہے۔ ایم ٹی اے افریقہ ٹیم نائیجیریا، یوگنڈا، سیرالیون اور تنزانیہ میں قائم ہو چکی ہیں۔ اور تنزانیہ اور یوگنڈا میں بھی نیا سٹوڈیو قائم کیا جائے گا انشاء اللہ۔ اس کے تحت بھی کافی کام ہو رہا ہے۔
ایم ٹی اے افریقہ کے ذریعہ بیعتیں۔یہ ایک بڑا کردار ادا کر تا ہے ۔ مبلغ انچارج کیمرون لکھتے ہیںکہ کیمرون کے تیس چھوٹے بڑے شہروں میں ایم ٹی اے کیبل سسٹم کے ذریعہ براہ راست دیکھا جاتا ہے۔ چھ کروڑ سے زائد افراد ایم ٹی اے سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اس سے کیمرون میں ایک نئی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں احمدیت کا پیغام پہنچ رہا ہے۔ کیمرون سے معلم صاحب لکھتے ہیں کہ ویسٹرن ریجن کے ایک گاؤں مٹا (Mata)کے چیف سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کے قریبی گاؤں ماگبا(Magba) میں کیبل پر ایم ٹی اے چلتا ہے اور میں باقاعدگی سے ایم ٹی اے دیکھنے کے لئے اس گاؤں جاتا ہوں۔ ایم ٹی اے دیکھنے سے میرے اندر ایک روحانی اور اخلاقی تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور اب میں اپنے لوگوں کے ساتھ جماعت احمدیہ میں شامل ہو چکا ہوں اور باقاعدگی سے ایم ٹی اے کے پروگرام دیکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بڑی مخلص جماعت ہے ۔
کیمرون کے معلم لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کا خطبہ دے رہا تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ داخل ہو رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص کوٹ پہنے اور سر پہ پگڑی پہنے مسجد میں داخل ہوا ہے۔ نماز کے بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ لباس کیوں پہن رکھا ہے۔ کہنے لگا کہ میرے ایک روحانی امام ہیں وہ ایسا لباس پہنتے ہیں ۔اگر آپ ان کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو کیبل پر ایک چینل ایم ٹی اے افریقہ کا آتا ہے آپ وہ دیکھا کریں۔ اس چینل پر ان کے خطابات آتے ہیں اور اپنی مسجد میں بچوں کے ساتھ سوال جواب بھی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں اس پر میںنے انہیں دس شرائط بیعت اور تقویٰ رسالہ دیا۔ اور میری تصویر انہیں دکھائی ۔بتایا کہ یہ ہمارے خلیفہ ہیں اور یہ اسی جماعت کی مسجد ہے اور میں اس کا مشنری ہوں۔ اس پر بہت خوش ہوئے اور اپنی فیملی سمیت بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔
برکینا فاسو سے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ گورنمنٹ کی ایک سماجی تنظیم کے دفتر کے نمائندے ہمارے پاس آئے اور جماعت کے بارے میں پوچھنے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ میں آپ کا چینل ایم ٹی اے بوبو ؔباقاعدگی سے دیکھتا ہوں ۔مَیں نے امام جماعت کے تمام پروگرام جو آپ کے چینل پر نشر ہوتے ہیں دیکھے ہیں۔ انہوں نے پھر اپنی کاپی کھولی اور دکھایا کہ میں خلیفۃ المسیح کے خطابات اور خطبات کے باقاعدہ نوٹس بھی لیتا ہوں۔ کہنے لگے کہ آج دنیا جس تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ہر طرف قتل و غارت ہے ان حالات میں ہمارے مذہبی لیڈر اورسیاستدان یہی کہتے پھرتے ہیں کہ یہ بہت بُراہو رہا ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جبکہ آپ کے خلیفہ ان چیزوں کی صرف باتوں سے ہی مذمّت نہیں کرتے بلکہ اسلام کی صحیح تعلیم بھی پیش کرتے ہیں اور اس کی تلقین بھی دوسروں کو کرتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل کر کے دکھاتے ہیں ۔کہنے لگے کہ مَیں جب بھی گھر واپس آتا ہوں تو سب سے پہلے ایم ٹی اے ہی لگاتا ہوں ۔باقی چینلز پر تباہی کی خبریں ہیں جبکہ ایم ٹی اے پر امن کا پیغام چل رہا ہے۔
احمدیہ ریڈیو سٹیشنزکی تعداد اب اکیس ہو چکی ہے ۔جن میں مالی میں پندرہ ریڈیو سٹیشنز قائم ہیں۔ برکینا فاسو میں چار ریڈیو سٹیشنز ہیں ۔سیرالیون میں پہلے فری ٹاؤن میں ایک ریڈیو سٹیشن تھا اب اس سال بو(Bo) میں دوسرا سٹیشن قائم کیا گیا ہے ۔ مالی میں جو ریڈیو سٹیشن ہیں ان میں گیارہ ریڈیو سٹیشن پر روزانہ اٹھارہ گھنٹے اور چار ریڈیو سٹیشن پر روزانہ سات گھنٹے کی نشریات پیش کی جاتی ہیں۔ یہ نشریات فرنچ، جولا، بمبارا، سونیکے،فلفدلے، عربی اور سرائی پورے زبان میں پیش کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ان تمام ریڈیو سٹیشنز پر خطبات جمعہ اور جتنے دوسرے میرے خطابات ہیں وہ بھی نشر کئے جاتے ہیں۔
بینن سے بوہیکوں(Bohicon) ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں۔ بوہیکوں ریجن میں دو ریڈیوزپر ہفتہ وار تبلیغی پروگرام ہوتا ہے ۔قریبی گاؤںتُووے(Toue) کے ایک دوست جو باقاعدہ پروگرام سنتے ہیں گاہے بگاہے فون بھی کرتے ہیں انہوں نے ہمیں اپنے گاؤں میں تبلیغ کے لئے دعوت دی ۔ہمارے معلم ان کے گاؤں تبلیغ کے لئے گئے تو پتا چلا کہ دعوت دینے والے دوست اس گاؤں کی مسجد کے امام ہیں اور تقریباً تین سال قبل انہوں نے کویت کی مدد سے ایک مسجد تعمیر کی تھی۔ گاؤں کے امام نے بتایا کہ وہ ہماری تبلیغ باقاعدگی سے سنتے ہیں چنانچہ جب ہم نے تبلیغ کرنے کی اجازت مانگی تو کہنے لگے کہ ہم ریڈیو کے ذریعہ جماعت احمدیہ کا پیغام پہلے ہی سن چکے ہیں۔ آج تو ہم بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح امام سمیت اس گاؤں کے 65 افراد نے بیعت کی اور احمدیت میں شامل ہوئے۔
ایم ٹی اے کے علاوہ چھہتر ممالک میں ٹی وی اور ریڈیو چینلز پر بھی جماعت کو اسلام کا پُرامن پیغام پہنچانے کی توفیق مل رہی ہے۔ اس سال تین ہزار چھ سو اٹھاون (3658)ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ پانچ ہزار سات سو پچانوے (5795)گھنٹے وقت ملا۔
اسی طرح جماعتی ریڈیو سٹیشنز کے علاوہ مختلف ممالک میں ریڈیو سٹیشنز پر تیرہ ہزار آٹھ سو ستتر(13877) گھنٹے پر مشتمل تیرہ ہزار دو سو اکتالیس(13241) پروگرام نشر ہوئے ۔اور اس طرح ٹی وی اور ریڈیو کے پروگراموں کے ذریعہ محتاط اندازے کے مطابق پینتالیس کروڑ اٹھاون لاکھ سے زائد افراد تک پیغام حق پہنچا۔
گھانا میں جماعت کے پروگراموں کو ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعہ جو کوریج ملی وہ379 گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ ٹی وی پر پانچ سو اڑتالیس پروگرام ہوئے۔
مالی میں، سیرالیون میں ،آئیوری کوسٹ میں ،نائیجیریا میں، برکینا فاسو میں، بینن میں، گیمبیا میں بھی پروگرام نشر ہوئے۔
اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسرے ٹی وی سٹیشنز، ریڈیو سٹیشنز پر بھی اللہ تعالیٰ موقع عطا فرما رہا ہے۔
گھانا نیشنل ٹیلیویژن اور سائن پلس پر(CINE PLUS) ہفتہ وار پروگرام ہوتے ہیں اور ان پروگراموں کے ذریعہ اس سال ان کو بارہ بیعتیں عطاہوئیں۔ ریڈیو کے ذریعہ سے819لوگوں کے سوال جواب کے پروگرام بھی ہوئے ۔
اخبارات میں جماعتی خبروں اور مضامین کی اشاعت۔ مجموعی طور پر چار ہزار چونتیس اخبارات نے تین ہزار ایک سو اٹھاسی جماعتی مضامین، آرٹیکلز اور خبریں وغیرہ شائع کیں۔ ان اخبارات کے قارئین کی مجموعی تعداد تقریباً پینتالیس کروڑ ستّر لاکھ سے زائد افراد بنتی ہے۔
تحریک وقفِ نَو۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال واقفین نو کی تعداد میں دو ہزار آٹھ سو اٹھارہ (2818)کا اضافہ ہوا ہے اور اس اضافے کے ساتھ واقفین نو کی کل تعداد تریسٹھ ہزار ستتر(63077) ہو گئی ہے۔ لڑکوں کی تعداد سینتیس ہزار نو سو تہتر(37973)لڑکیوں کی تعداد پچیس ہزار ایک سو چار(25104) ہے ۔ پندرہ سال سے زائد عمر کے واقفین نَو کی تعداد چھبیس ہزار دو سو بتیس(26232) ہے جس میں لڑکے سترہ ہزار پانچ سو چھ (17506)اور لڑکیاں آٹھ ہزار سات سو آٹھ(8708) ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس کے بعد پھر جرمنی میں ،پھر یوکے میں ۔پھر انڈیا میں پھر کینیڈا میں۔
شعبہ مخزن تصاویر کے تحت بھی مختلف دنیا میں تصاویر بھجوائی جاتی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے شعبہ کو اَپ ڈیٹ کیا ہے۔
احمدیہ آرکائیو کے ذریعہ سے بھی کام ہو رہا ہے۔ تبرکات کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔
مجلس نصرت جہاں کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیرہ ممالک میں سینتیس ہسپتال اور کلینک کام کر رہے ہیں۔ پانچ ہومیو پیتھک کلینک کام کر رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں چالیس مرکزی ڈاکٹر اور بارہ مقامی ڈاکٹر خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔
تیرہ ممالک میں ہمارے 714 ہائر سیکنڈری ،جونیئر سیکنڈری سکول اور پرائمری سکول کام کر رہے ہیں جن میں19 مرکزی اساتذہ بھی ہیں۔
انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹکٹس اینڈ انجنیئرز کے تحت بھی کام ہو رہا ہے جو کنسٹرکشن کے علاوہ افریقن ممالک میں پینے کا پانی صاف مہیا کرنے کے لئے سولر سسٹم مہیا کرنے کا کام بھی کر رہے ہیں ۔اور ینگ انجینئرز ہیں جو والنٹیئر کر کے یہاں سے جاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی اجر دے اور ان کے کام میں برکت ڈالے۔ احمدیہ آرکیٹکٹس ایسوسی ایشن کے تحت بھی انجنیئرز افریقہ میں جا کے کام کر رہے ہیں ۔
ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ بھی دنیا میں کام ہو رہا ہے۔ اٹھارہ ممالک میں قدرتی آفات اور خانہ جنگی میں تہتر ہزار چھ سو چھتیس (73636)متاثرین کی مدد کی گئی ۔کھانے پینے کی اشیاء اور طبی معاونت مہیا کی گئی۔ پروگرام کے تحت چار ممالک برکینا فاسو مالی اور نائیجر اور گوئٹے مالا میںآنکھوں کے فری آپریشنز کےپروگرام چل رہے ہیں۔ 1359 آپریشن کئے گئے اوراب تک کل 13631 افراد کے فری آپریشن کئے جا چکے ہیں ۔ فری میڈیکل کیمپس کے ذریعہ 525 فری میڈیکل کیمپس کے ذریعہ چار لاکھ نو سو تینتیس مریضوں کا علاج کیا گیا۔
خون کے عطیات ۔مجموعی طور پر چودہ ہزار آٹھ سو نوے(14890) یونٹس خون کے عطیات دئیے گئے۔ انڈیا میں 1850 خون کی بوتلیں عطیہ میں دی گئیں۔ امریکہ میں اس سال بلڈ ڈرائیو کے انعقاد کے تحت احمدی اور غیر احمدی احباب نے مجموعی طور پر 3044 خون کی بوتلیں عطیہ میں دیں۔ انڈونیشیا میں چھ ہزار سے زائد۔اسی طرح باقی ممالک میں۔
چیریٹی واکس کے ذریعہ جو یورپ اور مغربی ممالک میں منعقد کی جاتی ہیں کل 86 چیریٹی واکس کے ذریعہ سترہ لاکھ آٹھ ہزار دو سو دس ڈالر کی رقم جمع کی گئی جو فلاحی اداروں میں تقسیم کی گئی۔
قیدیوں سے رابطہ اور ان کی خبرگیری۔ برکینا فاسو میں 2067 ،نائیجیریا میں 1250 قیدیوں سے رابطہ کیا گیا ۔کانگو کنساشا میں ،گھانا میں، مالی میں، کیمرون میں ، مجموعی طور پر پانچ ہزار تین سو قیدیوں سے رابطہ کیا گیا اور ان کی مدد کی گئی۔
نومبایعین سے رابطہ اور بحالی کی رپورٹ یہ ہے کہ برکینا فاسو نے امسال ستائیس ہزار نومبائعین سے رابطہ بحال کیا۔ نائیجیریا نے چوبیس ہزار آٹھ سو اسّی۔ مالی نے سترہ ہزار ایک سو دس۔سیرالیون گیارہ ہزار ایک سو ستر۔ سینیگال آٹھ ہزار۔ آئیوری کوسٹ۔بینن۔ کینیا۔ گھانا۔ ٹوگو یہ سارے افریقن ممالک اس پرمیں کام ہو رہا ہے ۔
نومبایعین کے لئے تربیتی کلاسز اور ریفریشر کورس کا انعقاد کیا گیا۔ ایک سو چھ ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دوران سال چار ہزار چار سو چھتیس جماعتوں میں چوّن ہزار چار سو ننانوے تربیتی کلاسز منعقد ہوئیں۔ اور شامل ہونے والے نومبائعین کی تعداد ایک لاکھ پینتالیس ہزار ایک سو پندرہ ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے افراد جو شامل ہوئے تین لاکھ 89 ہزار ہے۔
اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک بیعتوں کی تعداد چھ لاکھ نو ہزار سے اوپر ہے ۔اور ایک سو چوبیس ممالک سے تقریباً دو سو ستاون اقوام احمدیت میں داخل ہوئیں۔ مالی میں ایک لاکھ دس ہزار دو سو بتیس بیعتیں ہوئیں۔ نائیجر کی امسال چوہتر ہزار ایک سو چونتیس بیعتیں ہیں ۔نائیجیریا میں ستّر ہزار۔ گنی کناکری میں پچپن ہزار ۔سیرالیون دوران سال پچاس ہزار ۔جماعت بینن کو دوران سال انچاس ہزار سے اوپر بیعتیں ملیں۔ کیمرون انتالیس ہزار سے اوپر ۔برکینا فاسو تیس ہزار۔ سینیگال ستائیس ہزار۔ گھانا بائیس ہزار سے اوپر ۔آئیوری کوسٹ اٹھارہ ہزار ۔کونگو برازاویل بارہ ہزار ۔لائبیریا آٹھ ہزاراور اسی طرح باقی ممالک ہیں۔
بیعتوں کے سلسلہ میں بعض واقعات ہیں ۔بیلیز کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ ایک دوست مسٹر شین ٹلٹ (Mr Shane Tillet)نے بتایا کہ تقریباً 2006ء کی بات ہے جب ان کے دادا جان فوت ہونے لگے تو انہوں نے وصیت کی کہ عنقریب تمہارے پاس ایک ایسا مذہب آئے گا جو کہ اَن پڑھ اور غرباء کے لئے بھی ہو گا ۔ جب وہ لوگ تمہارے پاس آئیں تو تم ان میں شامل ہو جانا۔ چنانچہ جب ہم نے شین ٹن ٹلٹ صاحب کو ان کے گاؤں جا کر تبلیغ کی تو انہیں اپنے دادا جان کی نصیحت یاد آ گئی۔ اس کے بعد انہوں نے جلسہ سالانہ بیلیز میں شمولیت اختیار کی اور جماعت میں شامل ہو گئے۔
امیر صاحب گھانا لکھتے ہیں کہ نادرن ریجن کی (Gbandaa) جماعت میں نومبایعین کی تربیت کےلئے ایک لوکل مبلغ کو بھجوایا گیا جس نے توحید باری تعالیٰ کی برکات اور بت پرستی کے نقصانات پر خطبہ دیا اور کہا کہ بے جان بتوں کے پاس قطعاً کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ معلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دی کہ انہوں نے بتوں کے خلاف تبلیغ کی اور یہاں تک کہ بعض بتوں کو توڑا لیکن انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس گاؤں کے چیف اور دیگر بزرگوں نے بھی خطبہ سنا ۔جمعہ کی رات کو ہی چیف کے گدھے نے اس کے گھر میں موجود بت کو لات مار کر توڑ دیا جس پر اس چیف نے سوچا کہ اب اس کے گدھے کی خیر نہیں اور جلد ہی اسے کچھ ہو جائے گا۔ لیکن جب اگلی صبح اس نے دیکھا کہ اس کے گدھے کا کچھ بھی نہیں ہوا تو چیف ہمارے معلم صاحب کے پاس آیا اور سارا واقعہ سنا کر کہا کہ تم نے ٹھیک کہا تھا کہ ان بتوں کے پاس کوئی طاقت نہیں اس لئے آئندہ مَیں بتوں کی عبادت نہیں کروں گا۔چنانچہ چیف نے بُت پرستی چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔
ماسکو سے چھ ہزار تین سو کلو میٹر دور روس کی ایک ریاست پوریاتیا(Buryatia) سے ایک دوست وادم اوئی بِیک صاحب (Vadim Uibik Dorjgi)کو بیعت کرنے کی توفیق ملی۔ وہ اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ روس میں جب کمیونزم اور دہریت کا دَور ختم ہوا تو میری توجہ بھی مذہب کی طرف ہوئی اور میں نے اپنے خالق حقیقی کی تلاش شروع کر دی۔ میرا آبائی تعلق بریت(Buriat) قوم سے ہے جس کا مذہب بدھ مت تھا۔ اس لئے مَیں سب سے پہلے بُدھ ازم کی طرف متوجہ ہوا لیکن مجھے وہاں روحانی سکون نہیں ملا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی تلاش میں میری توجہ رشین آرتھوڈوکس چرچ کی طرف ہوئی۔ میں نے بپتسمہ بھی لیا لیکن وہاں بھی مجھے سکون نہیں ملا۔ مَیں نے اسلام کے بارے میں سن رکھا تھا لیکن مجھے اسلام کے متعلق بہت کم معلومات تھیں ۔پھر ہماری ریاست میں جب پہلی مسجد بنی تو میرا اسلام کے ساتھ باقاعدہ تعارف ہوا اور میں نے 2014ء میں اسلام قبول کر لیا ۔لیکن پھر بھی دل کو مکمل اطمینان نہ ہوا۔ مجھے پتا چلا کہ اسلام کے اندر بھی کئی فرقے موجود ہیں ۔اس کے بعد ایک دن 2015ء میں انٹرنیٹ پر مجھے جماعت احمدیہ کے بارے میں علم ہوا۔ مَیں نے آہستہ آہستہ جماعت احمدیہ کے بارے میں مطالعہ کرنا شروع کر دیا ۔مَیں نے جماعت احمدیہ کے خلفاء کی سوانح کا مطالعہ کیا۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی سے مجھے پتا چلا کہ جماعت احمدیہ اندھے متعصّب اور شدت پسندوں کے ہاتھوں مظالم کا نشانہ بن رہی ہے۔ اسی وقت میرے دل نے گواہی دی کہ اسلام کے اندر جماعت احمدیہ ہی ہے جو حقیقی اسلامی تعلیمات کی نمائندگی کرتی ہے۔ جس جماعت پر ظلم ہو رہا ہے وہی سچی جماعت ہے۔ چنانچہ پھر میرا رابطہ ماسکو کے مبلغ کے ساتھ ہوا اور جماعتی لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد مَیں نے احمدیت قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور جماعت میں داخل ہو گیا۔ موصوف نے مجھے لکھا کہ میرے لئے دعا کریں کہ میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے لئے نفع بخش وجود بن سکوں اور میرے قبیلہ کی شاخ مجھ پر ختم ہو رہی ہے اس لئے دعا کریں کہ میرے خاندان کا چراغ ہمیشہ جلتا رہے۔
اسی طرح مختلف واقعات ہیں ۔پیراگوئے جہاں گزشتہ سال جماعت کا پودا لگا تھا وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک دن مَیں نے جماعت کے مشن ہاؤس کے قریب ہی واقع مین سٹریٹ میں جماعت کے تعارف کے حوالے سے دو بینر لگائے اور بینرز لگا کر مشن ہاؤس واپس آ گیا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ میرے اس معمولی سے کام کو بھی اللہ تعالیٰ کسی کی ہدایت کا موجب بنا دے گا ۔ایک دوست بنجامین لوپیز(Benjamin Lopez) صاحب جو کہ ریٹائرڈ وکیل ہیں اس بینر کو دیکھ کر مشن ہاؤس آئے اور کہنے لگے کہ وہ کافی سالوں سے اسلام کے بارے میں پڑھ رہے ہیں ۔انہیں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر سچے دل سے یقین ہے اور مذہب اسلام نے انہیں تسکین قلب عطا کیا ہے۔ موصوف اپنے آپ کو دل میں مسلمان ہی تصور کرتے تھے لیکن باقاعدہ اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ بنجامین صاحب نے بتایا کہ وہ گھر سے بجلی کا بل ادا کرنے کے لئے نکلے تھے اور انہوں نے اس راستے سے جانے کا ارادہ کیا جہاں سے وہ عموماً نہیں جاتے تھے لہٰذا جب وہ بینرز والی جگہ پر پہنچے تو بینر پر مشن ہاؤس کا ایڈریس نوٹ کیا اور ہمارے تبلیغی پروگرام میں شامل ہو گئے اور بیعت کر کے اسلام احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق پائی۔ اب موصوف احمدیت کی تبلیغ کرتے ہیںا ور ایک فعّال احمدی ہیں۔ اسی طرح اور بہت سارے واقعات ہیں
خوابوں کے ذریعہ سے بھی بعض لوگ احمدیت قبول کرتے ہیں۔ گنی بساؤ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ الحاج شریف کمارا صاحب جو کہ بساؤ شہر کے رہنے والے ہیں جب ان کو جماعت کا علم ہوا تو انہوں نے مشن ہاؤس آنا شروع کر دیا۔ مشن ہاؤس آ کر قرآن کریم نماز اور دیگر تعلیمات وغیرہ حاصل کرتے رہے۔ جب ان کے ایک چچا کو پتا چلا کہ وہ احمدیوں کے مشن میں چلے جاتے ہیں تو انہوں نے شریف کمارا صاحب کو اپنے گاؤں بلایا اور کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ تم جماعت احمدیہ کے پاس جاتے ہو تمہیں علم نہیں کہ وہ کافر ہیں اور وہ تمہیں تمہارے دین سے دور کر دیں گے اور تم نے جماعت احمدیہ سے رابطہ رکھا تو تمہارا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ ان کے چچا کے علاوہ اور بھی گاؤں والوں نے انہیں کافی برا بھلا کہا۔ ان باتوں کی وجہ سے کمارا صاحب بہت پریشان ہوئے اور دعاؤں میں لگ گئے کہ اے اللہ اگر یہ جماعت سچی ہے تو مجھے کوئی نشان دکھا دے اور اگر یہ جماعت جھوٹی ہے تو مجھے ان سے دور کر دے۔ وہ کہتے ہیں کچھ دن بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ بہت سارے لوگ ایک قبرستان میں جمع ہیں اور نماز جمعہ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ پھر ایک اعلان ہوتا ہے کہ عبداللہ کمارا نامی شخص جمعہ پڑھائے گا ۔پھر جب وہ جمعہ پڑھانے کے لئے آیا تو اس نے سورۃ فتح کی آیت اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا(الفتح2:)کی تلاوت کی اور تلاوت کرنے کے بعد کہنے لگا کہ آج اللہ تعالیٰ نے میرے تمام گناہ بخش دئیے ہیں اور اس نے مجھے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی ہے کیونکہ میں نے احمدیت قبول کر لی ہے۔ یہ بات سن کر میں نے خواب میں ہی اللہ اکبر کا نعرہ بلند آواز سے لگانا شروع کر دیا ۔میری آواز اتنی بلند تھی کہ میرے گھر کے تمام افراد نیند سے اٹھ گئے اور انہوں نے مجھے اٹھا کر پوچھا کہ کیا ہوا ؟اتنی اونچی آواز میں اللہ اکبر کا نعرہ کیوں لگا رہے ہو اس پر میں نے انہیں جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حق کا راستہ دکھا دیا ہے۔ چنانچہ اسی دن انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔
یتنکودوگو برکینا فاسو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ اس شہر میں رہنے والی ایک خاتون سانبورے سلمیٰ نے بیعت کے بعد اپنی قبولیت احمدیت کی وجہ بتائی کہ انہوں نے خواب دیکھا کہ ان کے مرحوم والد آئے ہیںاور سب بہن بھائیوں کو اکٹھا کر کے ایک نہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کو پار کرنے کے لئے تم لوگ کون سا راستہ اختیار کرو گے ۔سب نے ایک راستہ کی طرف اشارہ کیا ۔اس پر والد صاحب نے جواب دیا کہ تم سب اس نہر کو پار کرنے کے لئے وہ راستہ لو جس سے احمدیت گزر رہی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد ان کا جب جماعت سے رابطہ ہوا تو انہوں نے اپنی ایک بہن اور بڑے بھائی کے ساتھ احمدیت قبول کر لی۔
اس کے بہت سارے واقعات ہیں ۔وقت نہیں ہے کہ سنائے جائیں۔
مخالفین کے پراپیگنڈے کے نتیجہ میں بیعتیں ہو جاتی ہیں۔ بینن کے ایک ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ہم اپنے ریجن کے علاقہ تانُو گو(Tanogou) میں تبلیغ کے لئے گئے اور لوگوں کو حضرت مسیح موعود کی آمد اور امام مہدی کے ظہور کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس پروگرام کے نتیجہ میں اسّی سے زائد بیعتیں حاصل ہوئیں۔ اس گاؤں میں ایک کچی مسجد بھی موجود تھی ۔ہم نے وہاں نماز ادا کی اور واپس آ گئے۔ کہتے ہیں چند روز بعد اس گاؤں کا جب دوبارہ دورہ کیا تو پتا چلا کہ اس علاقے کی بڑی مسجد کے امام نے یہ بات مشہور کر دی کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں اور مسلمانوں کی مسجد میں نماز ادا نہیں کرتے۔ ہم نے اسی وقت امام سے رابطہ کیا اور انہیں کہا کہ ہم آپ کی مسجد میں آ رہے ہیں آپ بھی مسجد میں آ جائیں ۔چنانچہ علاقے کی اس بڑی مسجد میں کافی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ امام صاحب کے پہنچتے تک ہم نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی دوران امام صاحب بھی آ گئے۔ امام صاحب نے بعض سوالات پوچھے جن کے ان کو مدلّل جواب دئیے گئے۔ اس کے بعد نماز کا وقت ہوا تو ہم نے مسجد میں نماز عصر ادا کی۔ امام یہ سب کچھ دیکھتا رہا لیکن اس سے کوئی بات نہیں بن سکی۔ چنانچہ اس بات سے متأثر ہو کر مزید 79 افراد نے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ۔اس طرح امام کی مخالفت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے مزید بیعتیں عطا فرما دیں۔
احمدیوں کا نمونہ دیکھ کے بعض لوگ احمدی ہوتے ہیں۔ برکینا فاسو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک غیر از جماعت دوست سے ہمارے معلم نے امام مہدی کی آمد کے متعلق بات کی تو اس نے بہت تلخ جواب دئیے اور معلم صاحب کو برا بھلا کہا اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتے۔ معلم صاحب نے انتہائی تحمل کے ساتھ اس کو دوبارہ سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن اس نے پھر جھگڑا شروع کر دیا۔ اس کے جواب میں ہمارے معلم صاحب نے صبر کا مظاہرہ کیا اور کسی قسم کا ردّعمل نہیں دکھایا۔ وہ شخص اس وقت تو وہاں سے چلا گیا لیکن معلم صاحب کے رویّے کا اس شخص پر اس قدر اثر ہوا کہ چند دن کے بعد وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت لے لو یقینا ًاحمدیت ہی حقیقی اسلام ہے۔ جس جماعت کے معلم بھی اس قدر نرمی اور تحمل سے بات کرتے ہیں وہ سچی ہو گی۔ چنانچہ یہ شخص بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔
برکینا فاسو کے ریجن بوبو جلاسو کے ایک نومبائع اپنی قبولیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بیعت کرنے سے پہلے مَیں جماعت احمدیہ کا اور وہابیوں دونوں کا ریڈیو سنتا تھا اور دونوں کا آپس میں موازنہ کرتا رہتا تھا۔ ایک دن احمدیہ ریڈیو پر جلسہ سالانہ کا اعلان ہوا تو مَیںنے سوچا کہ جلسہ میں شرکت کر کے دیکھ لیتا ہوں۔ میں نے جلسہ میں جب تقاریر سنیں تو مجھے یقین ہو گیا کہ احمدیت ہی سچی جماعت ہے ۔میں نے نوٹ کیا کہ جلسہ کے دوران احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھنے کا بھی لطف آتا ہے۔ پہلے غیر احمدیوں کی مسجد میں نماز پڑھتا تھا تو ایسا لگتا تھا کہ نماز ہوئی ہی نہیں ۔چنانچہ جلسہ کے بعد مَیں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔
نومبایعین کو احمدیت چھوڑنے کی دھمکیاں اور مخالفت اور مال اور مدد کا لالچ اور ان کی ثابت قدمی اس کے بھی بعض واقعات ہیں۔ صغیر عالم صاحب مبلغ ضلع جلپائی گوڑی (بنگال) لکھتے ہیں کہ جماعت ’پہاڑ پور‘ میں تبلیغ کے دوران ایک پچپن سالہ دوست امین الحق صاحب کو اللہ تعالیٰ نے قبول احمدیت کی توفیق دی۔ موصوف کاشتکار ہیں اور شریف النفس ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر میں اکیلے ہی بیعت کی تھی۔ موصوف کا احمدیت قبول کرنا تھا کہ ان کے آس پاس کے غیر احمدیوں اور رشتہ داروں کی طرف سے ان پر ظلم و ستم شروع ہو گیا۔ گاؤں والوں نے ان کی اہلیہ اور بیٹوں کے ذریعہ ان کو پہلے تو جماعت چھوڑنے کے لئے کہا ۔موصوف نے کہا کہ مجھے سچائی کا پتا لگ گیا ہے میں اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ جب ان کے گھر والوں نے دیکھا کہ یہ باز نہیں آ رہے تو گھر والوں نے ہی ان پر حملہ کر دیا۔ ان کے بیٹوں نے انہیں مارا اور ان پر جھوٹا کیس کروا کر جیل بھیجنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ لیکن موصوف نے اپنا ایمان قائم رکھا ۔اس مخالفت کی وجہ سے موصوف کو گھر چھوڑ کر کئی راتیں باہر نہر کے کنارے گزارنی پڑیںلیکن موصوف ان سب سختیوں اور مخالفت کے باوجود ثابت قدم رہے۔
مصر کے ایک دوست صدیق صاحب لکھتے ہیں کہ والدین مجھے کافر قرار دیتے ہیں۔ میرا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ دونوں نے سر بازار مجھے ڈنڈوں سے زدوکوب کیا حتی کہ بعض ہمسایوں نے مجھے بچایا ۔ان کے اکسانے پر بھائیوں کی طرف سے بھی دھمکیاں مل رہی ہیں ۔مجھے بدنام کرنے کے لئے مجھ پر اور میری بیوی پر ایسے گندے الزام لگاتے ہیں کہ جن سے شیطان بھی شرما جائے ۔مَیں آتے جاتے ہمسایوں سے چھپتا پھرتا ہوں اور بہت تکلیف میںہوں کیونکہ وہ مجھ پر کفر کے الزام کے ساتھ ساتھ میرے خلیفہ کو بھی گالیاں دیتے ہیں اس لئے میرے دل میں والدین کے لئے جذبات محبت و احترام نہیں رہے۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان کی الزام تراشیوں اور تکالیف سے بچائے اور انہیں اپنے بکھیڑوں میں الجھا دے اور خود ان سے انتقام لے۔
اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے سامان کرے۔ ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے۔
کونگو کنساشا سے اسماعیل صاحب لکھتے ہیںکہ میں کیتھولک عیسائی تھا اور عبادت کے لئے چرچ جاتا تھا لیکن مجھے سکون نہیں ملتا تھا ۔جب سے میں بیعت کر کے اسلام احمدیت میں داخل ہوا ہوں میری زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے ۔پہلے میں بہت جھگڑالو تھا۔ کثرت سے شراب نوشی کیا کرتا تھا اور سال میں ایک آدھ دفعہ عبادت کیا کرتا تھا ۔اب میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھتا ہوں اور میں اسلام قبول کر کے بہت خوش اور مطمئن ہوں۔
امیر صاحب گھانا لکھتے ہیں کہ بلانگا(Bilangaa) نامی ایک گاؤں کے اکثر لوگوں نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔ اس سے پہلے یہ لوگ لامذہب تھے ۔انہیں جب نماز پڑھنی سکھائی گئی تو ایک دن ایک نومبایع نے ہمارے معلم سے سوال کیا کہ دن میں تو پانچ نمازیں ہیں لیکن کیا کوئی نماز رات کی بھی ہے۔ اس پر انہیں تہجد کی نماز کے بارے میں بتایا گیا تو نومبایع کہنے لگے کہ تہجد کی نماز بھی انہیں سکھائیں۔معلم صاحب نے انہیں کہا کہ آپ صبح چار بجے آ جائیں۔ چنانچہ اگلے دن معلم صاحب نے انہیں نماز تہجد پڑھائی۔ معلم صاحب کہتے ہیں کہ اگلے دن مَیں سویا ہوا تھا کہ گاؤں والے تہجد کے وقت آ گئے اور کہا کہ اٹھو تہجد کا وقت ہو گیا ہے۔ معلم صاحب کو نومبایعین تہجد پڑھا رہے ہیں۔ معلم صاحب اس کے بعد قریباً تین ہفتے وہاں رہے اور نومبایعین باقاعدگی سے نماز تہجد کے لئے آتے رہے ۔معلم صاحب بتاتے ہیں کہ جب ہم تبلیغی دورے سے واپس آ گئے تو نومبائعین نے فون کر کے بتایا کہ آج ہم نے خود نماز تہجد ادا کی ہے اور سورۃ فاتحہ کے ساتھ ہر رکعت میں سورۃ کوثر پڑھتے رہے ہیں کیونکہ ابھی انہیں سورۃ فاتحہ کے علاوہ صرف ایک ہی سورۃ یاد کروائی گئی تھی۔
میسیڈونیا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ جو لوگ احمدیت قبول کر رہے ہیں ان میں نمایاں روحانی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔ بعض لوگ جو قبول احمدیت سے پہلے صرف نام کے مسلمان تھے اور شراب کے عادی تھے انہوں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد شراب چھوڑ دی ہے اور نمازوں میں باقاعدہ ہو گئے ہیں ۔ایک دوست صافت صاحب کے ایک عزیز نے بتایا کہ جب سے صافت صاحب نے احمدیت قبول کی ہے وہ مکمل تبدیل ہو گئے ہیں۔ انہیں نماز کی ہمیشہ فکر رہتی ہے ۔سفر ہو یا حضر جونہی نماز کا وقت ہوتا ہے سب کچھ چھوڑکرپہلے نماز ادا کرتے ہیں۔ دوسرے احمدیوں کو بھی نماز کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں اور کبھی لوگ نہ آئیں تو بہت افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
مائیکرونیشیا کے مبلغ احتشام الحق لکھتے ہیںکہ دو ماہ قبل فون پہ جزیرہ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نے بیعت کی اور جلسہ سالانہ مائیکرونیشیا میں شامل ہوئے۔ موصوف کی صحت اتنی اچھی نہیں ہے۔ ذیابیطس کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی ہے اور نظر بھی کافی کمزور ہے۔ ان کے لئے دوسروں سے ہاتھ ملانا بھی مشکل ہوتا ہے ۔ جلسہ کے موقع پر نومبائعین کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک کلاس کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔ یہ دوست مجھے کہنے لگے کہ مَیں اذان دینا چاہتا ہوں۔ اس پر مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ انہوں نے اذان کہاں سے سیکھ لی ہے۔ کہنے لگے کہ احمدی ہونے کے بعد میری خواہش تھی کہ مَیں اذان سیکھوں تو مَیں نے سیکھ لی۔ چنانچہ انہوں نے اذان دی۔ مبلغ لکھتے ہیں کہ مجھے یہ نظارہ بڑا پیارا لگا کہ مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والا ایک شخص جس کو بیعت کئے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا ہے جو ٹھیک طرح سے چل نہیں سکتا ۔نہ کھڑا ہو سکتا ہے، نظر بھی کچھ نہیں آتا، اذان دیتے وقت نظر نہ آنے کی وجہ سے قبلہ کا رخ بھی پتا نہیں لیکن وہ اللہ اور رسول کی محبت میں اذان سیکھتا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو احمدیت قبول کرنے والوں کے اندر پیدا ہو رہی ہے۔
وکٹوریہ آسٹریلیا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نوجوان ایلن شیلڈز(Allan Shields) صاحب نے حال ہی میں بیعت کی ہے۔ ان کا اکتوبر 2016ء سے جماعت سے رابطہ تھا اور بڑی باقاعدگی کے ساتھ جمعہ اور دیگر جماعتی پروگراموں میں شمولیت کرتے تھے لیکن بیعت نہیں کی تھی۔ موصوف کئی بیماریوں میں مبتلا تھے جن کے لئے باقاعدہ دوائیاں استعمال کرتے تھے ۔اس سال موصوف جلسہ سالانہ آسٹریلیا میںشامل ہوئے اور بعد میں بڑے جذباتی ہو کر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے کہ جلسہ میں شامل ہونے کے بعد مَیں نے زندگی میں کبھی اس طرح کا ماحول محسوس نہیں کیا۔ اس جلسہ کے بعد میں ایک بہتر انسان ،بہتر شوہر اور بہتر والد بن کر میلبرن واپس لوٹ رہا ہوں۔ واپس جا کر موصوف نے بیعت کرنے کا اظہار کیا ۔اس پر ان سے کہا کہ آپ ابھی مزید مطالعہ کریں۔ اور دعا کریں ۔ چنانچہ ایک دن مسجد میں نماز کے بعد کہنے لگے کہ مَیں نے جب سے مسجد آنا شروع کیا ہے مجھے اب کسی دوائی کی ضرورت نہیںرہی۔ یہ نماز ہی میری دوائی بن گئی ہے ۔چنانچہ موصوف نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔
کوسووو کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نومبایعین میں غیر معمولی تبدیلی اور جماعت کا کام کرنے کے لئے ایک جوش ہے۔ الیریان ابراہیمی صاحب ایک مخلص نوجوان ہیں۔ نظام وصیت میں شامل ہیں۔ مالی قربانی میں پیش پیش ہیں ۔دین کی خاطر وقت کی قربانی میں مصروف رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے ہر جمعرات کو ایک لمبا سفر طے کر کے مشن ہاؤس آتے ہیں اور معلم صاحب کے ساتھ مل کر تبلیغی ملاقاتیں کرتے ہیں اور پھر اگلے جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس اپنے شہر چلے جاتے ہیں۔
فرنچ گیانا کے مبلغ انچارج صدیق منور صاحب لکھتے ہیںکہ فرنچ گیانا میں ایک عیسائی خاتون نے ستمبر 2016ء میں اسلام قبول کیا ۔وہ لوکل اخبار میں مکان کرایہ پر لینے کے لئے اشتہار پڑھ رہی تھی۔ اسی دوران اس نے احمدیہ جماعت کی طرف سے اعلان پڑھا کہ ہمارے ہاں قرآن مجید فرانسیسی ترجمہ کے ساتھ اور دیگر اسلامی کتب دستیاب ہیں۔چنانچہ اس نے فوراً جماعت سے رابطہ کیا اور قرآن مجید فرانسیسی ترجمہ کی ایک کاپی خریدی اور دیگر کتب بھی حاصل کیں۔ قرآن کریم کا ترجمہ اور جماعتی لٹریچر کے مطالعہ کے بعد موصوفہ نے اپنے چار بچوں کے ساتھ جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔ لِنڈا (Linda)صاحبہ کہتی ہیں کہ مَیں متعدد چرچوں میں گئی ہوں لیکن مجھے کہیں بھی دلی سکون نہیں ملا۔ مجھے ایک زندہ خدا کی تلاش تھی اور اب مجھے میرا خدا مل گیا ہے۔ مجھے ایک راحت اور سکون اور اطمینان حاصل ہوا ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔ میں بیحد خوش قسمت ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بہترین جماعت میں شامل کر دیا ہے۔ میری زندگی میں ایک انقلاب آ گیا ہے۔ میں نماز اور قرآن کی تلاوت سے ایک لذت پاتی ہوں ۔میرا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے لبریز ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ معجزانہ رنگ میں میرے اندر تبدیلی پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔ ان کا ایک جوان بیٹا احمدLudavicبھی جماعتی سرگرمیوں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے ۔قرآن کریم پڑھنے کا شوق ہے اور مسجد میں اذان بھی دیتا ہے۔ لِنڈا صاحبہ خود بھی چندہ ادا کرتی ہیں اور اسلام کے حوالے سے ان کے اندر ایک خاص جوش پایا جاتا ہے۔
امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ تبلیغی دورے کے دوران ایک خاتون نے احمدیت قبول کی اس عورت نے ہمار تبلیغی ٹیم کو اپنے گھر بلایا اور اپنے سارے بچوں کی موجودگی میں کہنے لگی کہ گو میں زیادہ پڑھی لکھی تو نہیں ہوں لیکن اپنے بچوں کو وصیت کرنا چاہتی ہوں کہ اگر کسی نے احمدیت کو چھوڑا تو قیامت کے دن وہ اس سے نہیں بولیں گی۔
مخالفین احمدیت کی ناکامی و نامرادی ۔ گیمبیا کے مبلغ انچارج صاحب لکھتے ہیں کہ ہم نیامینا ایسٹ ریجن میں
ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے۔ تبلیغ کے بعد گاؤں کا الکالی کہنے لگا کہ میں کبھی بھی احمدیت کو اپنے گاؤں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دوں گا اور احمدیت کو ہر ممکن ذریعہ سے روکنے کی کوشش کروں گا۔ الکالی یہ کہہ کر میٹنگ سے اٹھ کر چلا گیا (شایدنمبردار کو الکالی کہتے ہوں گے) وفد نے الکالی کے جانے کے بعد تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا اور حاضرین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے مثالیں دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کو سخت مشکلات آئیں لیکن صحابہ نے صبر و رضا کے نمونے دکھائے۔ اللہ کے فضل سے اُسی دن چار سو سے زائد افراد نے اس الکالی کی باتوں کی پرواہ کئے بغیر احمدیت قبول کر لی۔ الکالی کو جب پتا چلا کہ گاؤں والوں نے احمدیت قبول کر لی ہے تو وہ سیدھا تھانے گیا تا کہ جماعت کے خلاف شکایت درج کروا سکے۔ اس پر پولیس افسر کہنے لگا کہ ہر آدمی کو مذہبی آزادی ہے۔ اگر آپ جماعت میں داخل نہیں ہونا چاہتے تو آپ کی مرضی لیکن جو داخل ہو رہے ہیں آپ انہیں روک نہیں سکتے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ اس نے بھی احمدیت قبول کر لی ہے لیکن اس کے باقی کسی ساتھی نے نہیں کی۔ لیکن میں نے کسی کو مجبور بھی نہیں کیا۔ اس لئے بہتر ہے کہ تم جماعت کی مخالفت سے باز آ جاؤ۔ گاؤں کا الکالی وہاں سے ناکام واپس ہوا۔ اپنی شکایت لے کر ڈسٹرکٹ کورٹ چیف کے پاس گیا ۔ڈسٹرکٹ چیف کہنے لگا کہ بچپن میں جب میں اپنے ابّا کے ساتھ کھیتوں میں کام کر رہا تھا تو ایک ہوائی جہاز گزرا تھا جس پر میرے ابّانے کہا تھا کہ میںنے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ جب امام مہدی آئے گا تو لوہا ہوا میں اڑے گا ۔ڈسٹرکٹ چیف کہنے لگا کہ گو میں نے بیعت فارم تو پُر نہیں کیا لیکن دل سے احمدی ہوں۔ بہتر ہے کہ تم جماعت کی مخالفت نہ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ اس طرح وہ یہاں سے بھی ناکام و نامراد ہوا۔مخالفین کے بدانجام کی بھی بہت ساری باتیں ہیں ۔انہیں میں چھوڑتا ہوں ۔
تائید خداوندی کے ایک دو واقعات بیان کرتا ہوں۔ آئیوری کوسٹ کے بندوکو ریجن کےمبلغ لکھتے ہیں کہ ایک دن خاکسار دورے سے واپس آ رہا تھا تو دُور سے دھواں دیکھا جو ہماری ایک جماعت’ سومنا‘ کے علاقے سے آ رہا تھا۔ خاکسار نے صدر جماعت کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں کے کھیتوں کو آگ لگ گئی ہے اور پورا گاؤں اس آگ کے بجھانے میں مصروف ہے ۔چونکہ افریقہ کے دیہات میں پانی وافر مقدار میں نہیں ہوتا اس لئے لوگ ریت یا دوسرے طریقوں سے ہی آگ بجھاتے ہیں۔ صدر صاحب کہنے لگے کہ آگ بہت زیادہ ہے جو اَب میرے کھیت کی طرف بھی جا رہی ہے۔ اس وقت فصل بھی پکنے کو تیار تھی اور اس پر ہی ان کا سارا دارومدار تھا ۔ بہرحال ان کو تسلی دی کہ آپ اس مسیح کے ماننے والے ہیں جس سے خدا کا وعدہ ہے کہ آگ تمہاری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔ آپ بے فکر ہو جائیں اللہ تعالیٰ آپ کے کھیت کی خود حفاظت کرے گا۔ کہتے ہیں تھوڑی دیر بعدخاکسار بھی وہاں پہنچ گیا۔ صدر صاحب کہنے لگے جب فون پر بات ہوئی ہے تو اس کے فوراً بعد ہی ہوا چلی جس کی وجہ سے آگ نے اپنا رخ تبدیل کر لیا اور آگ پر قابو بھی پا لیا گیا ۔اس طرح خدا تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت سے بڑے نقصان سے انہیں بچا لیا۔
مخالفین کے انجام کا بھی ایک واقعہ سنا دیتا ہوں۔ چٹاگانگ بنگلہ دیش کے مبلغ لکھتے ہیں دو سال قبل چٹاگانگ میں ایک شخص نے بنگالی نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس شخص نے پہلے احمدیت قبول کی تھی اور بعد ازاں احمدیت سے انکار کر کے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بنگلہ زبان میں اس پر قرآن نازل کیا ہے اور بنگالیوں کے لئے اسے نبی مقرر کیا ہے۔ اب خلافت احمدیت کی کوئی ضرورت نہیںہے۔ مربی صاحب کہتے ہیں کہ مَیں نے کئی دفعہ اس کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس کا جواب ہوتا تھا کہ خلافت احمدیہ نعوذ باللہ تباہ ہو جائے گی اور بڑے نازیبا الفاظ استعمال کرتا تھا۔ ایک روز اچانک اس کی گویائی بند ہو گئی ۔اس کو چٹاگانگ میڈیکل کالج میں داخل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے کینسر ہےاور آخری مرحلے میں ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کا علاج بھی ممکن نہیں ہے اسے گھر لے جائیں۔ اور وہ ایک لفظ بھی اس کے بعد ادانہیں کر سکا۔
یمن سے ایک صاحب محمد المنصری لکھتے ہیں کہ 2015ء میں بیعت کی تھی اور نماز اور جمعہ باقاعدگی سے ہمارے گھر میں ہوتی تھی۔ تین مخالف مولویوں نے میرے قتل کا فتویٰ دیا تھا۔ ان میں سے ایک القاعدہ کے ساتھ قتل ہو گیا ۔دوسرے کو برین ہیمبرج ہوا اور اس نے مسجد میں آنا چھوڑ دیا ۔تیسرے کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ اس کے تمام مرید اسے چھوڑ گئے ہیں ۔دوسری طرف جماعت کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں اور احمدیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مَیں پہلے شیعہ تھا پھر تبلیغی جماعت میں شامل ہوا ۔پھر ایک دن ایم ٹی اے پر مکرم مصطفی ثابت صاحب کا پروگرام دیکھ کر جماعت کے بارے میں اعتکاف اور استخارہ کیا تو خدا تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اور یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اگر وہ ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ پندرہ اشخاص میرے زیر تبلیغ ہیں اور ان میں روحانی تبدیلی اور اخلاقی بہتری نظر آتی ہے لیکن ابھی تک انہوں نے بیعت نہیں کی۔ اسی طرح بعض واقعات ہیں ۔تو یہ مختصراً بعض واقعات مَیں نے بیان کر دئیے اور رپورٹ پیش کی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینو!! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور اگرچہ یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فِئَہ قَلِیْلَہ ہے۔ اور شاید اِس وقت تک چار ہزار پانچ ہزار سے زیادہ نہ ہو گی تاہم یقینا ًسمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ خدا اس کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا ۔وہ راضی نہیں ہو گا جب تک کہ اس کو کمال تک نہ پہنچا دے ۔اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گرد احاطہ بنائے گا۔ اور تعجّب انگیز ترقیات دے گا۔ کیا تم نے کچھ کم زور لگایا؟ پس اگر یہ انسان کا کام ہوتا تو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا۔اور اس کا نام و نشان باقی نہ رہتا۔‘‘(انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11صفحہ 64) اللہ تعالیٰ نئے شامل ہونے والوں پر اپنا فضل فرماتا رہے ، ثبات قدم عطا فرمائے اور ہمیں بھی احمدی ہونے کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنا خاص عبد بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔
