خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ یوکے29؍جولائی2017ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ۔ وَاتَّقُوا اللہَ اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(الحشر19:)

اس آیت میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے وہ لوگو !جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے۔ تم سب اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبرہے۔

یہ  خدا تعالیٰ کا وہ حکم ہےجو مومن مَردوں کے لئے بھی ہے اور مومن عورتوں کے لئے بھی اور نکاح کے وقت پڑھی جانے والی آیات میں سے ایک آیت ہے۔ دونوں مردوں اور عورتوں کو یہ نصیحت ہے کہ تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے کل پر نظر رکھو۔ عموماً ہم دیکھتے ہیں کہ گناہوں اور غلطیوں کی بنیادی وجہ لاپرواہی اور اہمیت کا احساس نہ ہونا ہوتی ہے۔ یعنی اس بات کا احساس اور اہمیت کہ خدا اور اس کارسول ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ قرآن کریم جو ہمارے لئے ایک لائحہ عمل ہے اس میں ہماری زندگی گزارنے کے لئے کیا کیا احکامات ہیں، اس کا ہم ادراک حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو مرد بھی اور عورت بھی دونوں اپنی زندگیاں گزارنے کے لئے اس اصول کو ہمیشہ سامنے رکھو کہ تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنی ہیں۔ اپنے ہر عمل پر نظر رکھنی ہے اور ہمیشہ اپنے کل اور مستقبل کی فکر رکھنی ہے اور مستقل فکر جس میں دنیاوی خواہشات کی فکرنہ ہوبلکہ اخلاقی اور روحانی ترقی کی فکرہو۔یہ فکر رکھنی ہے۔ کس طرح اللہ تعالیٰ پر سچا اور حقیقی ایمان رکھتے ہوئے،اللہ تعالیٰ سے کامل وفا رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کواپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ پس جب یہ فکر ہماری زندگی کا حصہ بنے گی تو تبھی ہم اپنی زندگی بھی ایک مومن کی طرح گزارنے والے ہوں گے اور عاقبت کے سنوارنے والے بھی بنیں گے۔ اگر ہم اس یقین پر قائم ہیں اور یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اصل اور دائمی زندگی مرنے کے بعد کی زندگی ہے ،اور اگر ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ اس دنیا میں کئے گئے اعمال کی جزا بھی اگلے جہان میں ملتی ہے، اگر ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ خدا تعالیٰ سب طاقتوں کا مالک ہے، اگر اس بات پر ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہے اسے ہماری چھپی ہوئی باتوں کا بھی علم ہے اور وہ ہمارے دلوں کی پاتال تک کا بھی علم رکھتا ہے اور ظاہر کا بھی علم رکھتا ہے اور باطن کا بھی علم رکھتا ہے تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کی اس بات پر غور کرنا ہو گا ،اسے ہر وقت اپنے سامنے رکھنا ہو گا کہ تم اس بات پر نظر رکھو کہ تم نے اپنے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے ۔تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے کیا کام کئے ہیں۔ تم نے اپنے مستقبل کی نسل کو سنبھالنے کے لئے کیا کام کئے ہیں۔ ہماری کل صرف ہماری زندگی کی کل اور مرنے کے بعد کی کل نہیں ہے بلکہ ہماری کل ہماری اولاد بھی ہے ۔اس کی نیک تربیت، اس کے اعلیٰ اخلاق، اس کا دین پر قائم رہنا، اس کا ملک کا وفادار شہری بننا، اسے ہر لحاظ سے ایک اعلیٰ کردار کا مالک ہونا جہاں ہماری اولاد کی زندگی سنوارنے والا اور اس کی عاقبت سنوارنے والا اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنائے گا وہاں اس کی اس نیک تربیت کی وجہ سے ہمیں بھی اللہ تعالیٰ اجر حاصل کرنے والا بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے کسی عمل کو بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا تو پھر جو کام خالصۃً اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کئے جائیں انہیں کس طرح وہ بغیر اجر کے چھوڑے گا ۔اور پھر ہماری کل اس طرح بھی سنورے گی کہ یہ نیک اولاد ہماری نیکیوں کو جاری رکھنے والی اور ہمارے لئے دعائیں کرنے والی ہو گی اور اولاد کی دعائیں پھر ہمیں اگلے جہان میں درجات کے بلند ہونے کا باعث بھی بنا رہی ہوں گی۔

پس یہ کل جس پر اللہ تعالیٰ نے نظر رکھنے کا فرمایا ہے اور فرمایا کہ یہ دیکھو کہ تم نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے یہ بہت وسیع کل ہے۔ بہت وسیع معنی ہیں۔ اس کل میں اس جہان کے مستقبل کا بھی احاطہ ہو گیا اور اگلے جہان کے مستقبل کا بھی احاطہ ہو گیا۔ اس میں اپنے آپ کو سنوارنے کی بھی نصیحت اور ارشاد آ گیا اور اپنی نسلوں کے ہر لحاظ سے سنوارنے کی بھی نصیحت اور ارشاد آگیا۔ ایک دنیا دار جہاں تک پہنچنے کی سوچ بھی نہیںسکتا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس حکم میں ہمیں ان منزلوں تک پہنچنے کے راستوں پر ڈال دیا ہے۔ ایک دنیادار اپنی کل کے لئے صرف روپیہ پیسہ بچانے کی کوشش کرتا ہے، جائیدادیں بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن روحانیت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اسے فکر نہیں ہوتی ۔لیکن ایک مومن کے لئے حکم ہے کہ تم صرف اس عارضی سامان کی جو اس دنیا کا مادی سامان ہے اس کی ہی فکر نہ کرو ۔عارضی سامان دنیا کا کمانا ناجائز نہیں ۔جائز ہے۔ لیکن صرف اسی کی فکر نہ کرو بلکہ اپنی روحانی زندگی کی بھی فکر کرو۔ اگر اولاد کی صحیح تربیت نہیں تو اس دنیا کا عارضی مال و متاع جتنا بھی چھوڑ جاؤ تمہاری اولاد کھا پی کر اسے ختم کر دے گی۔ اگر صحیح تربیت نہیں تو غلط کاموں میں پڑ کر وہ قانون کی گرفت میںآ جا ئےگی اور پھر روپیہ پیسہ اس کے کچھ کام نہیں آئے گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک واقعہ بیان فرماتے تھےکہ ایک عورت کا لڑکا اس کا بڑا لاڈلا تھا۔ باہر جا کر شرارتیں کرنا ،غلط کام کرنا، لوگوں کو چھوٹا موٹا نقصان پہنچانا اس کی عادت تھی ۔پھر آہستہ آہستہ چھوٹی چھوٹی چوریاں بھی شروع ہو گئیں۔ لوگ بچے کو پکڑ کر ماں کے پاس لاتے تھے۔ماں بچے کی طرفداری کرتی تھی اور اس کے غلط کاموں کو باوجود جاننے کے بھی چھپاتی تھی اور کہہ دیتی تھی کچھ نہیں ہوا۔ لوگوں کو کہتی تھی کہ میرا بچہ ایسا نہیں ہے تم الزام لگا رہے ہو۔ بچہ اپنی حرکتوں کے ساتھ اور ماں کے غلط لاڈ پیار کے ساتھ بڑا ہوتا چلا گیا اور اس کی عادتیں بھی پکی ہوتی گئیں ۔آخر ایک دن وہ لڑکا بڑا ڈاکو اور قاتل بن گیا اور ایک دن اس جرم میںپکڑا بھی گیا۔ اسے پھانسی کی سزا ہوئی۔ پھانسی کے وقت اس سے پوچھا گیا کہ تمہاری اگر کوئی آخری خواہش ہے تو بتا دو۔ اس نے کہا بس میری ایک خواہش ہے کہ میری ماں کو میرے پاس لے آؤ۔ جب ماں پاس آئی تو اس نے اس مجرم بیٹے سے کہا ہاں بچے تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟۔ بیٹے نے ماںکو کہا کہ میں اب مرنے جا رہا ہوں۔ مرنے سے پہلے میری خواہش یہ ہے کہ مَیں تمہاری زبان پر پیار کروں،اسے چُوسوں۔ ماں نے زبان باہر نکالی تو اس لڑکے نے اس زور سے اسے کاٹا کہ وہ زبان آدھی کٹ کر علیحدہ ہو گئی ۔ ماں نے تو وہاں چیخنا چِلّانا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اسے لعن طعن کی کہ بدبخت اس آخری وقت میںبھی تُو ظلم سے باز نہیں آیا اور ماں پر اتنا بڑا ظلم کر دیا۔ اس نے کہا کہ جب میں غلط کام کرتا تھا اور لوگ مجھے پکڑ کر ماں کے پاس لاتے تھے تو یہ میری اصلاح اور تربیت کرنے کی بجائے میرے غلط کاموں پر میری حمایت کرتی تھی جس سے مجھے جرأت ہوتی گئی اور مَیں اتنا بڑا مجرم بن گیا ۔اگر میری ماں شروع میں ہی میری صحیح تربیت کرتی اور میرے غلط کاموں پر غصہ کا اظہار کرتی اور مجھے سمجھاتی اور سزا دیتی تو مَیں اس حد تک نہ پہنچتا۔ پس جو زبان میری صحیح تربیت اور اچھی نصائح کے بجائے میرے غلط کاموں پر میری حمایت کرتی رہی ہے اس ماں اور اس زبان کا یہی انجام ہونا چاہئے جو میں نے کیا۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ 373۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ ایک سبق آموز قصہ ہے ان سب ماؤں کے لئے جو وقتی لاڈ پیار کے وقت نہ اپنے کل کو دیکھتی ہیں، نہ اپنے بچوں کے کل کو دیکھتی ہیں، فکر ہے تو صرف دنیا کے مال و متاع کی یا دنیا کی آسائشوں کی۔ ہزاروں لوگ روزانہ یہاں دنیا میں دیوالیہ ہوتے ہیں۔ آجکل تو ہر جگہ دیکھا جاتا ہے بڑے بڑے بزنس مین بھی جو ہیں بینک کرپٹ ہو جاتے ہیں ۔ان کے ماں باپ نے ان کے لئے مکان روپیہ اور پیسہ چھوڑا ہوتا ہے جو قرضوں کی وجہ سے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ کچھ بھی ہاتھ نہیں رہتا۔ کوڑی کوڑی کے محتاج ہو جاتے ہیں۔پھر اس وجہ سے خودکشیاں بھی کرتے ہیں یا غلط کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ اگر نیک تربیت ہو تو صرف دنیا کی دوڑ میں نہ پڑے ہوں بلکہ متوازن طبیعت کے حامل ہوں۔ دنیا کی نعمتوں سے بیشک فائدہ اٹھائیں لیکن روحانیت کی بھی فکر ہو۔ ایک عام  غیر احمدی مسلمان عورت کے بچے اگر ایسے ہوں تو ان کی تربیت کا تو انتظام نہیں ۔کہہ سکتے ہیں کہ ان کی تربیت نہیں۔ لیکن ایک احمدی عورت جس نے زمانے کے امام کو مانا ہے اس کا تو فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی روحانیت کو بھی تیز کرنے کی کوشش کرے ۔اپنے بچوں کی تربیت بھی اس نہج پر کرے کہ وہ بجائے دنیا داری میں پڑنے کے دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ بیشمار لوگ دنیا میں ہیں جو باپ دادے سے دنیاوی لحاظ سے کشائش رکھتے ہیں۔ امیر ہیں اور امیر تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کاروباروں میں دھوکہ دہی بھی کر رہے ہیں۔ اَور بھی ان میں برائیاں ہیں۔ لیکن پھر بھی ان پر دنیاوی زوال نہیں آیا۔ اس کے باوجود ان پر دنیاوی زوال نہیں آیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہاں ہمیں کل پر نظر رکھنے کے لئے کہہ کر اس طرف بھی توجہ دلا دی کہ بیشک یہ دنیا میں اچھی حالت میں ہیں۔ بعض لوگ دنیا میں اچھی حالت میں ہوتے ہیں لیکن تم جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو ،تم جو زمانے کے امام کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہو، تم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے بیعت میں آنے کا دعویٰ کرتے ہو، تم جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ اس زمانے میں ہم نے بیعت کر کے اپنی اصلاح کے سامان مہیا کر لئے ہیں تمہیں بہرحال اپنی کل کو دیکھنا ہو گا اور اُخروی زندگی پر بھی نظر رکھنی ہو گی۔ ان لوگوں نےجن کے پاس نہ دین ہے نہ روحانیت ہے انہوں نے اگر اپنی اخروی زندگی پر نظر نہیں رکھی، مرنے کے بعدکی زندگی پر نظر نہیں رکھی تو وہ مجبور ہیں، معذور ہیں۔ انہوں نے اس دنیا کو سب کچھ سمجھا اور روحانی کل سے فائدہ نہ اٹھایا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگلا جہان بھی ہے۔ ان کے اس دنیا میں غلط کاموں کی سزا اگر یہاں نہیں ملی تو اگلے جہان میں ملے گی۔ لیکن تم جو روحانیت کا دعویٰ کرتے ہو تمہیں بہرحال اپنی دونوں دنیاؤں کو دیکھنا ہو گا۔ پس ہم جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فرستادے کی جماعت میں شامل ہونے والا کہتے ہیں، ہم جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شرعی نبی ہیں اور آپ پر اتری ہوئی کامل کتاب قرآن کریم ہماری دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے ہمیں ہر لحاظ سے کامل ہدایت عطا کرتی ہے تو پھر ہمیں اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے اس کے احکامات پر چلنے کی بھی کوشش کرنی ہو گی۔ ہمیں اپنے نمونے اپنی اولادوں کے لئے بھی قائم کرنے ہوں گے تاکہ ہماری کل ،ہمارا مستقبل، ہماری نسلیں اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرتی چلی جانے والی ہوں۔

اسلام نے عورت پر نئی نسل کو سنبھالنے کی ذمہ داری ڈالی ہے۔ اگر ایک کے بعد دوسری نسل کو محفوظ رکھ سکتی ہے تو وہ عورت ہے۔ اگر عورت اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نہ سمجھے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرے تو پھر نسلوں کی تربیت کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کہ ایک حقیقی مسلمان عورت کا کیا مقام ہے اس کو احساس دلانے کے لئے عورت کے بلند مقام کا ذکر فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جذباتی اور سطحی ارشاد نہیں فرمایا بلکہ نسلوں کو محفوظ رکھتے چلے جانے کے لئے، ان کی دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے عورت کو ایک مقصد حیات دے دیا ہے۔ آپ نے ایک فقرے میں عورت کے بلند ترین مقام اور اس کی ذمہ داریوںکی طرف رہنمائی فرما دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔(کنز العمال جلد 16صفحہ 192 کتاب النکاح باب الثامن فی بر الوالدین الأم حدیث 45431مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)اس فقرہ میں جہاں عورت کے مقام کے ساتھ خوشخبری وابستہ کی ہے وہاں اِنذار بھی ہے کہ جس ماں کے قدموں کے نیچے جنت نہیں تو وہیں جہنم بھی ہے جس کی مثال میںنے ابھی اس ڈاکو اور قاتل کے واقعہ میںدی ہے۔

پس ماں کے قدموں کے نیچے جنت اس لئے ہے کہ ماں کی تربیت سے ایک بچہ اچھا شہری بنتا ہے۔ ایک بچہ قوم کا سرمایہ بنتا ہے۔ ایک بچہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والا بنتا ہے۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تربیت میں بھی برکت اسی وقت پڑتی ہے جب اس کے ساتھ دعائیں بھی ہوں اور ماؤں کی دعاؤں کی حالت کو دیکھ کر بچوں میں بھی دعاؤں کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے۔ پس صرف ظاہری تربیت نہیں بلکہ ایک ماں کا دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا بھی ضروری ہے ۔

بیشک باپوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے اور روحانیت اور عبادت میں ان کے معیار اعلیٰ ترین ہونے چاہئیں اور ایک عمر کے بعد لڑکے خاص طورپر باپوں کو دیکھتے ہیں لیکن بیشمار خط بچوں کے مجھے آتے ہیں کہ ماں کی نیک تربیت اور اس کے نیک عمل کا ہمارے پہ اثر ہے اور باپ ہمارا خیال نہیں رکھتا یا ماں کا خیال نہیں رکھتا۔اس کی شکایتیں بچے کرتے ہیں اور اس وجہ سے بعض بچے بگڑ بھی جاتے ہیں۔ لیکن بہت بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں ماؤں کی دعائیں بگڑنے سے بچا لیتی ہیں۔ پس مائیں اگر پکّا اور مصمّم ارادہ کر لیں کہ ہم نے اپنی نسلوں کو بگڑنے سے بچانا ہے تو نامساعد حالات کے باوجود ،باپوں کے اور خاوندوں کے تعاون نہ ہونے کے باوجود، مردوں کے ظالمانہ اور غلط رویّوںکے باوجود بچے دین پر قائم ہوتے ہیں۔یہاں مَیں مردوں کوبھی کہوں گا کہ اپنے گھروں کو جنت بنانے میں وہ بھی اپنا کردار ادا کریں ،صرف ماؤں پر ذمہ داری نہ ڈالیں کیونکہ مردوں کے گھروں میں محبت کے اظہار اور اپنے فرائض کی ادائیگی اور پھر ماؤں کی نیک تربیت کی طرف توجہ، بچوں کی تربیت میںمزید بہتری پیدا کرتی ہے ۔لیکن مائیں بہرحال اس بات کو لے کر نہ بیٹھ جائیں کہ مرد ٹھیک نہیں تو ہم کیا کریں، ہم کس طرح تربیت کریں۔

جیسا کہ مَیں نے کہا بیشمار خاندان ایسے ہیں جہاں باپوں کے غلط رویّے کے باوجود ماؤں کی وجہ سے بچے   دینی لحاظ سے بھی بہترین تربیت یافتہ بن کر نکلتے ہیں اوربہترین شہری بھی بن کر نکلتے ہیں۔ اگر لڑکے ہیں تو آئندہ آنے والے خاوند اور باپ اس تربیت کی وجہ سے، ماؤں کی تربیت کی وجہ سے نیکیوں پر قائم ہونے والے خاوند اور باپ بنیں گے۔ اعلیٰ اخلاق کے حامل بنیں گے اور اس دنیا میں بھی جنتیں بنانے میں اپنی بیویوں کے مددگار بنیں گے۔ پس اگر ایک نسل نہیں تو دوسری نسل کو مائیں سنبھال سکتی ہیں۔ یعنی اگر خاوند ٹھیک طرح نہیں سنبھل رہے  تو کم از کم اپنے بچوں کو سنبھال کر آئندہ آنے والے باپ اور خاوندوں کو سنبھال لیں۔ اگر بیٹیاں ہیں تو اس نیک تربیت کی وجہ سے وہ جنت میں لے جانے والی مائیں بنیں گی۔ پس اسلام نے جو ایک اہم ذمہ داری اپنے ایمان لانے والوں پر ڈالی ہے اور جس کو انتہائی خوبصورت اور پُر معنی الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےبیان فرما دیا ہے اسے ہماری عورتوں کو، لڑکیوں کو ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔

جرمنی میں ایک پریس کی نمائندہ نے سوال کیا اور آجکل یہ ایشو بڑا اٹھا ہوا ہے کہ مسجدوںمیں عورت امام کیوں نہیں بن سکتی تو میںنے اسے بتایا کہ مختلف دنوں میں ،مختلف حالات میں عورتوں کو نمازوں اور عبادتوں سے بھی چھوٹ ہے۔ پھر اسلام میں تقسیم ِکار ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ یہ مردوں کے کام ہیں اور یہ عورتوں کے کام ہیں۔

یہاں یہ بھی بتا دوں کہ اسلام مَردوں کو تو کہتا ہے کہ تم عورتوں کے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ۔ ان کے گھر کے کاموں میںبھی ہاتھ بٹاؤ اور کام کرو۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اور سنّت سے ہمیں اس کی واضح مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن عورتوں کو نہیں کہتا کہ تم نے ضرور مردوں کے کام بھی کرنے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ کس طرح آپ اپنی بیویوں کے گھروں میں ان کے گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔(صحیح البخاری کتاب الأدب باب کیف یکون الرجل فی اھلہ حدیث 6039)

تو بہرحال میں نے اس کو یہ جواب دیا کہ اسلام عورتوں کی بعض ذاتی مجبوریوں کی وجہ سے بعض احکامات بجا لانے میں رخصت دیتا ہے جو کام کرنے امام کے لئے بھی ضروری ہوتے ہیں۔ نیز اسلام میں عورت اور مرد کی تقسیم ِکار بھی ہے۔ لیکن ایک امامت کے ایشو کو لے کر جو غیر مسلم ہیں ان کو مسلمانوں سے زیادہ تکلیف ہے اور وہی امامت کے ایشو کو زیادہ ابھارتے اور بگاڑتے ہیں اور بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں۔ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ امامت سے بڑھ کر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔ کوئی امام تو یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ میرے پیچھے نمازیں پڑھنے والے جنت میں جائیں گے۔ بلکہ اگر امام کے دل میں نماز پڑھتے ہوئے کوئی غلط خیال آ جائے تو یہ روایتیں تو ملتی ہیں کہ پیچھے جتنے بھی مقتدی ہیں ان کو غلط خیالات آ رہے ہیں تو ان کے گناہ بھی امام کے سر پڑ جاتے ہیں۔ تو جنت کہاں دلوانی ہے ان لوگوں نے۔ لیکن عورت وہ ہستی ہے جو ماں کی حیثیت سے نیک امام بنانے والی ہے اور جنت میں لے جانے والی ہے۔ اچھا شہری بنانے والی ہے۔ اعلیٰ سائنسدان بنانے والی ہے۔ ایک اعلیٰ ملکی سربراہ بنانے والی ہے۔ پس عورت کا بڑا مقام ہے۔ پس ایک حقیقی مسلمان عورت کو، ایک احمدی عورت کو کسی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں اس خبر کو بڑا اچھا لا گیا کہ جرمنی میں ایک عورت نے ایک مسجد بنائی ہے جس میں عورت امام ہو گی اور عورت اور مرد اکٹھے نماز پڑھیں گے ۔نیز یہ بھی کہ سر کو ڈھانکنے کی، سکارف لینے کی اور پردے وغیرہ کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب یہ عورت یہ بھی کہتی ہے کہ مَیں یوکے(UK) میں بھی جا رہی ہوں اور یہاں آ کر بھی اسی طرح کی ایک مسجد بناؤں گی جیسی مَیں نے جرمنی میں بنائی تھی۔ تو یہ سب باتیں دین کو نہ سمجھنے کی وجہ ہے اور احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی وجہ ہے۔ جو چیز خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہے وہ بدعت ہے جو دین میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یا جہالت کی وجہ سے اس کو دین میںشامل کیا جا رہا ہے یا اسلام کے خلاف جو قوتیں ہیں وہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت، ایک سازش کے تحت ایسی باتوںکو شامل کر رہی ہیں تا کہ اسلام میں ہی بگاڑ پیدا کیا جائے۔ دوسرے دینوں میں تو بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔ اسلام اگر اپنی اصلی حالت میں ہے تو یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے اس لئے یہ کہتے ہیں اس میں بھی بگاڑ پیدا کیا جائے۔ قرآن کریم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے محفوظ ہے اور اس کے احکامات ہمیشہ کے لئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کی حفاظت کرتا رہے گا۔ یہ بات اسلام مخالف قوتوں کو برداشت نہیں اس لئے وہ اس میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کریں گے۔ جب قرآن کریم نے واضح طور پر عورت کو حیا دار لباس اور پردے کا حکم دے دیا تو پھر اس قسم کی حرکتیں جو ان حکموں کے خلاف ہیں کہ اسکارف کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لمبے ڈھیلے لباس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، زینت چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ دین میں بگاڑ پیدا کرنے والی باتیں ہیں۔ اور یہ بھی غلط ہے کہ مرد عورتیں اکٹھے کھڑے ہو کر نمازیں پڑھیں۔ جب خدا تعالیٰ نے کہہ دیا کہ علیحدہ علیحدہ رہو تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسلام مخالف طاقتوں کے اعتراضوں سے متأثر ہو کر اس کی خلاف ورزی کریں۔

دنیادار جس کی دین کی آنکھ اندھی ہے اس کو یہ احساس ہو ہی نہیں سکتا کہ دین کے احکامات کی اہمیت کیا ہے۔ ایک دفعہ یہاں ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر مجھے ملنے آئے۔ کہنے لگے کہ کبھی ایسا وقت آئے گا کہ عورت اور مرد مسجد میں ایک ہی جگہ اکٹھے نماز پڑھیں؟ میں نے اسے بتایا کہ یہ آئے گا نہیں بلکہ آ چکا ہے اور ایک زمانہ ہوا گزر بھی چکاہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک ہی جگہ نماز ہوا کرتی تھی۔ مرد آگے ہوتے تھے اور عورتیں پیچھے ہوتی تھیں۔ اب بھی ضرورت ہو تو اس طرح ہو سکتا ہے۔ اب تو یہ عورتوں نے اپنی سہولت کے لئے علیحدہ جگہ کر لی ہے تا کہ آزادی سے نمازیں پڑھ سکیں اور آزادی سے اگر کبھی ضرورت ہو تو اپنے سر کے دوپٹے اور چادریں بھی اتار سکیں گو نماز پڑھتے ہوئے نہیں لیکن باقی فنکشنز میں۔ اس کو میں نے بتایا کہ مختلف سوچوں کے  مرد ہوتے ہیں۔ نماز ایک عبادت ہے۔ اگر عورتیں آگے ہوں یا مِکس(Mix) ہوں تو عبادت کے بجائے بہت سے مرد ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو عبادت کرنے کے بجائے عورتوں کو ہی دیکھتے رہیں گے، نماز کی طرف ان کی توجہ نہیں ہو گی ۔ ہنس کے کہنے لگا کہ تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔ بلکہ بعد میںمجھے دوسرے ذرائع سے پتا لگا کہ بعد میں وہ سیاستدان اپنی مجلسوں میں ذکر کرتا رہا ہے کہ میرے اس سوال کا مجھے یہ جواب ملا ہے جو بڑا منطقی اور حقیقت پر مبنی جواب ہے۔ پس یہ لوگ جو بگڑ کر دین میں بدعات پیدا کر رہے ہیں یہ غلط ہے بلکہ دین سے مذاق کرنے والے ہیں ۔اسلام کے نام پر خود مسلمان ہو کر ایسی باتیں کر رہے ہیں تو دین سے مذاق کر رہے ہیں اور یہ دین کے علم کو نہ سمجھنے اور جہالت کی وجہ سے ہے۔ مسلمانوں کا یہ حال ہونا تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی تھی کہ ایسی جہالت مسلمانوں میں پیدا ہو جائے گی جب وہ اس قسم کی حرکتیںکریں گے۔

یا پھر مسلمانوں کی ایک دوسری انتہا ہے کہ دین کے نام پر ظلم کر رہے ہیں، بربریت کر رہے ہیں اور اتنی سختی عورت پر ہو رہی ہے کہ عورت کی کوئی حیثیت ہی نہیں سمجھی جاتی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی معہود کو بھیجا ہے کہ اسلام کی تعلیم میں علماء کے غلط رویّوں کی وجہ سے جو افراط اور تفریط پیدا ہو رہی ہے یا اس طرف جھک گئے یا اُس طرف جھک گئے وہ حالت پیدا ہو رہی ہے تو اسے درست کیا جائے۔ اسلام کی تعلیم میں آسانی کے نام پر لوگ جو بدعات پیدا کر رہے ہیں یا اسلام کی تعلیم میںسختی کے نام پر بے جا پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، جو غلط عمل کئے جا رہے ہیں ان سے روکے۔ ان دونوں طرح کے لوگوں کو صحیح راستہ مسیح موعود اور مہدی معہود نے ہی دکھانا تھا جو آپ نے ہمیں دکھایا۔ پس ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہم نے آپ کو مانا۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد بھی ہمارے اندر کوئی احساس کمتری یا دین کو دنیا پر مقدم کرنے میں کمزوری ہے تو یہ قابل فکر اور قابل شرم بات ہے۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی بات ہی ہمیشہ رہنے والی اور ہر سُقم سے پاک ہے اور ہر غلطی سے پاک ہے۔

دنیا والوں کے بنائے ہوئے قواعد اور قانون کبھی غلطیوں اور خامیوں سے پاک نہیں ہو سکتے۔ ابھی گزشتہ دنوں میںایک خبر آئی تھی کہ سویڈن میں ایک عورت جو میوزک کے بڑے بڑے کنسرٹ کرتی ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ ہر سال جو اُن کا بہت بڑا کنسرٹ(concert) ہوتا ہے اس میں اس دفعہ صرف عورتیں آئیں گی اور مرد نہیں بلائے جائیں گے اور وجہ یہ بیان کی کہ کیونکہ گزشتہ سالوں کے تجربہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مرد آ کر عورتوں کے ساتھ بڑی بیہودگی کرتے ہیں بلکہ ریپ(rape) تک نوبت آ جاتی ہے۔ اب یہ نتیجہ ہے جو مرد عورت کو اکٹھا رکھنے کا سامنا آیا ہے۔ اس لئے اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر معمولی سا بھی امکان ہو کہ کوئی غلط کام ہو سکتا ہے تو اس غلط کام سے بچو، اس امکان سے بچو۔

اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے والے اب خود ہی اس بات کا اقرار کرنے لگ گئے ہیں کہ بعض جگہوں پر عورت اور مرد کی علیحدگی ہی بہتر ہے۔ اب بعض جگہ عورتوں اور مردوں کی علیحدہ تنظیم کی باتیں ہونے لگ گئی ہیں۔ دنیاوی معاشرے میں بھی اس بات کا احساس پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کہ عورت اورمرد کی علیحدہ شناخت اور علیحدہ رہنا ہی ٹھیک ہے۔ جو ہم پر سیگریگیشن(segregation) کا الزام لگاتے تھے، اعتراض کرتے تھے اب خود یہ تسلیم کرنے لگ گئے ہیں کہ بعض جگہوں پر یہ علیحدگی ہونی چاہئے۔

(http://www.bbc.com/news/entertainment-arts-40504452)

پس ایک احمدی مسلمان عورت کو اس بات پر کامل یقین ہونا چاہئے کہ آخر کار ہماری تعلیم ہی کامیاب ہونے والی ہے اور عورت کی آزادی کے نام پر ان کی کوششیں ناکام و نامراد ہوں گی۔

 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہماری اس بارے میں رہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسلامی تعلیم کی روشنی میں کیوں ضروری ہے کہ عورت اور مرد علیحدہ رہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ

’’اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی اور یہی ہدایت شرعی ہے۔ خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے۔ یہ اُن نادانوں کا خیال ہے جن کو اسلامی طریقوں کی خبر نہیں۔ بلکہ مقصود یہ ہے کہ عورت مرد دونوں کو آزاد نظر اندازی اور اپنی زینتوں کے دکھانے سے روکا جائے کیونکہ اس میں دونوں مرد اور عورت کی بھلائی ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ خوابیدہ نگاہ سے غیر محل پر نظر ڈالنے سے اپنے تئیں بچا لینا اور دوسری جائز النظر چیزوں کو دیکھنا اس طریق کو عربی میں غض بصر کہتے ہیں‘‘۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 344)

اگر کہیں مجبوری ہے تو بڑی نیم وا آنکھوں سے دیکھنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن عموماً اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے آپ کو غلط جگہ نظر ڈالنے سے بچاؤ اور یہ چیز ہی غض بصر کہلاتی ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ بے پردگی پر زور دیتے ہیں اور اس حوالے سے عورت کی آزادی کے نعرے لگاتے ہیں تو اس سے فسق و فجور بڑھے گا۔ دین سے دور ہٹو گے اور برائیوں میں مبتلا ہو جاؤ گے ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے یعنی عورتوں کی عفّت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مردوں کی حالت کا اندازہ کرو۔ مردوں کو بھی نصیحت کی اور ان کی حالت کا بھی بیان فرمایا کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں، نہ خدا کا خوف رہا ہے، نہ آخرت کا یقین ہے۔ دنیاوی لذّات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 134-135۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پس سب سے اوّل ضروری ہے کہ آزادی اور بے پردگی سے پہلے مَردوں کی اخلاقی حالت درست کرو اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میںکم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات سے مغلوب نہ ہو سکیں تو اس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گویا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے۔

 یہ بات جوآپ نے فرمائی یہی بات اس عورت نے بھی کہی جو کنسرٹ آرگنائز کرتی ہے جس کے بارے میں ابھی میں نے بتایا کہ اس نے کہا کہ ہم اس وقت تک مردوں اور عورتوں کو اکٹھے نہیں رکھ سکتے جب تک مردوں کو یہ سمجھ نہ آ جائے اور ہمیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ عورت کی کس طرح عزت کرنی ہے اور اپنے جذبات کو کس طرح قابو کرنا ہے۔ آج ایک جگہ سے یہ آواز اٹھی ہے چاہے وہ ناچ گانے کی مجلس کی آواز ہی ہو، اس کے حوالے سے ہی ہو، کم از کم خیال تو آیا ان کو کہ مرد عورت کے ایک جگہ ہونے میں کس طرح کی برائیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ وہ باتیں جو دین نے ہمیں سینکڑوں سال پہلے بتا دیں اور وہ باتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں کھول کر سوا سو سال پہلے بیان فرما دیں وہ اب تجربے کے بعد آزادی کے نام پر بے حیائیوں کے پھیلنے کے بعد ان کو سمجھ آ رہی ہیں۔ آخر ایک دن ان کو مکمل طور پر یہ ماننا پڑے گا کہ اسلام کی تعلیم ہی قائم رہنے والی تعلیم ہے۔ یہی تعلیم ہے جو انسان کو انسانوںکے دائرے میںرکھنے کے لئے مکمل ہدایت دیتی ہے۔

 پس ایک حقیقی مسلمان عورت کو کسی بھی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم دو کشتیوں میں پاؤں نہیں ڈال سکتے۔ ڈوب جائیں گے۔ اگر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے تو پھر دین کو مقدم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر نظر رکھنی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرد اپنی نظریں نیچی رکھیں۔ یہ پہلے مَردوں کو حکم ہے اور غضِّ بصر سے کام لیں اور عورتوںکو بلا وجہ نہ دیکھیں اور ان کی مجلسوںمیں نہ جائیں۔ پھر اگر اس پر عمل کریں گے تو پھر ہی مرد ان برائیوں سے بچ سکتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ پھر عورتوں کو بھی فرماتا ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنی زینت کو غیر مردوں سے چھپاؤ اور اپنی حیا کو قائم کرو۔ اگر یہ  عورتیںکریں گی تو اس پر عمل کر کے ہی اپنی اور اپنی نسلوںمیں حیا کو قائم کرنے کا ان کو موقع ملے گا۔

پس جہاں ماؤں کو اپنی عبادتوں، اپنے اخلاق، اپنے حیا دار لباس کے نمونے اپنے بچوں کے سامنے قائم کرنے ہوں گے تا کہ اپنی کل کو بچا سکیں وہاں میں مردوں کو بھی کہوں گا کہ وہ بھی اس پر قائم ہوں اور خاص طور پر جو مرد اور عورت عہدیدار ہیں ان کو کہوں گا کہ وہ اپنے نمونے اپنے بچوں کے لئے دکھائیں۔ عورت عہدیداروں کے نمونے بھی ضروری ہیں۔ صرف عہدہ لینا، لجنہ کا کام کرنا کافی نہیں ہے۔ ان کو ان باتوں کا خیال رکھنا ہو گا کہ کس طرح انہوں نے  اپنے گھروں کے لئے بھی اور اپنے ماتحت کام کرنے والیوںکے لئے بھی اپنے نمونے قائم کرنے ہیں۔

آجکل برقعوں کے بھی عجیب عجیب رواج ہو گئے ہیں۔ بعض لوگ  پیٹ تک بٹن بند کرتے ہیں اس کے بعد عجیب کاٹ سے برقعے کھلے ہو جاتے ہیں جس سے لباس کی زینت نظر آ رہی ہوتی ہے۔ ٹیڑھی کاٹ کے برقعے ہوتے ہیں۔ کپڑوں کی نمائش کروا رہی ہوتی ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بھی برقعوں پہ اعتراض ہوتا تھا۔ آپ نے اس وقت بھی فرمایا کہ بعض برقعے ایسے ہیں جو سامنے سے کپڑوں کی نمائش کرتے ہیں نظر آتے ہیں۔لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ بعض برقعے پیچھے سے تنگ ہیں۔ اُس زمانے میں بھی یہی باتیں تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اعتراض مجھے لوگوں کی طرف سے پہنچ رہے ہیں کہ یا سامنے سے کھلے ہوتے ہیں یا پیچھے سے صحیح نہیں ہوتے تو اس وقت آپ نے لجنہ کو کہا تھا کہ تم لوگ خود اپنے ایسے حیادار برقعے ڈیزائن کرو۔ تم لوگ جانتی ہو کس طرح کرنا ہے کہ جس سے پردہ بھی ہو جائے اور تمہاری سہولت بھی قائم رہے۔(ماخوذ از مستورات سے خطاب، انوار العلوم جلد 12 صفحہ 560-561)

 پس آج بھی اسی چیز کی ضرورت ہے کہ ایسے برقعے پہنیں جو پردے کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں اور آپ کو سہولت سے کام کرنے میں روک بھی نہ پڑے۔ اگر اپنے لباس کی زینتوں کو اسی طرح کھلے لباس کر کے دکھائیں گی تو پھر یہ امید نہ رکھیں کہ مَردوںکی نظریں نہیں پڑیں گی۔ مردوں کی نظریں بھی پھر نیچے سے اوپر تک مکمل جائزہ لیں گی اور اس حوالے سے بعض مسائل بعض جوڑوں میں، بعض گھروں میں، بعض شادی شدہ لوگوں میں،میاں بیوی میں پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ اس لئے مَیں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی نمائش کر کے دنیا کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے دین کی دوڑ میں شامل ہوں۔ اپنے اور اپنے بچوں کی کل کو سنواریں۔ اس دنیا کو بھی جنت بنائیں اور اگلی دنیا کو بھی جنت بنائیں۔اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ ہر کام میں مقدم ہو۔ کل بھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بتایا تھا کہ ہر کام میں یہ چیز ہو کہ میں نے خدا کے لئے یہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(الرحمٰن 47:)۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی وضاحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:’’ یاد رکھو جو خدا تعالیٰ کی طرف صدق اور اخلاص سے قدم اٹھاتے ہیں وہ کبھی ضائع نہیں کئے جاتے۔ ان کو دونو جہان کی نعمتیں دی جاتی ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے  وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(الرحمٰن 47:) اور یہ اس واسطے فرمایا کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ میری طرف آنے والے‘‘ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف آنے والے ’’دنیا کھو بیٹھتے ہیں۔ بلکہ ان کے لئے دو بہشت ہیں۔‘‘ فرمایا ’’ان کے لئے دو بہشت ہیں۔ ایک بہشت تو اس دنیا میں اور ایک جو آگے ہو گا۔‘‘(ملفوظات جلد 10 صفحہ 78۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم کل پر نظر رکھیں تا کہ اس دنیا کی جنت کے حاصل کرنے والے بھی ہوں اور اگلے جہان کی جنت کے حاصل کرنے والے بھی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کسی عورت کی آزادی کو ختم کرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ عورت اور مرد اپنے اپنے دائرے میں رہیں تا کہ اس دنیا کا معاشرہ بھی حسین بن کر جنت کا نمونہ پیش کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلنے کی وجہ سے اگلے جہان میں بھی جنتوں کے وارث بنیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ان کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہو اور وہ دونوں جہان کی جنت حاصل کرنے والی ہوں۔اب دعا کر لیں۔ (دعا)

اپنا تبصرہ بھیجیں