خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع تقریب تقسیم اسنادجامعہ احمدیہ جرمنی 22؍ اپریل 2017ء
(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
جامعہ کی انتظامیہ کی طرف سے جو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں مختلف activities کا بھی ذکر کیا گیا۔ یہ جامعہ کا جو تعلیمی نصاب ہے اور اس کے علاوہ جن باتوں کا تعارف کروایا جاتا ہے یا اس میں شامل ہونے کے لئے کہا جاتا ہے یہ اس لئے ہے تا کہ مربیان جب میدان عمل میں آئیں تو ان باتوں کا جہاں ان کو علم ہو وہاں اس کی اہمیت بھی ان پر واضح ہو اور اس بارے میں وہ کوشش کرنے والے بھی ہوں۔ میدان عمل میں آ کر آپ لوگوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ باوجود اس کے کہ ایک طالب علم جب جامعہ میں آتا ہے اس سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ اس کا دینی معیار، اس کا اخلاقی معیار، اس کا رہن سہن، اس کا بات چیت کا طریق، سب دوسروں سے مختلف ہوں اور اس میں آہستہ آہستہ تدریجی ترقی اور بہتری پیدا ہوتی جائے لیکن میدان عمل میں آ کر بہت بڑی ذمہ داری آپ کے کندھوں پہ آ پڑی ہے۔ اب آپ صرف طالبعلم نہیں رہے، طالبعلم تو انسان ہمیشہ رہتا ہے، قبر تک علم حاصل کرنا چاہئے یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(تفسیر روح البیان جلد 5 صفحہ 275 تفسیر سورۃ الکہف مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2003ء)
لیکن ساتھ ہی آپ کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ جہاں اپنوں کی تربیت کرنی ہے وہاں غیروں کو اسلام کا خوبصورت پیغام بھی پہنچانا ہے اور یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ جو نظم پڑھی گئی ہے اس میں بھی حضرت مصلح موعود نے یہی فرمایا ہے کہ یہ مقصد جس کو ہم نے حاصل کرنا ہے یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ پس اس ذمہ داری کا احساس ہمیشہ آپ میں نہ صرف پیدا ہونا چاہئے بلکہ بڑھتے رہنا چاہئے۔ اب دنیا کی نظر آپ پر ہے چاہے وہ احمدی ہیں، غیر احمدی ہیں یا غیر مسلم ہیں۔ کسی بھی قسم کا خوف، دنیاوی خوف آپ لوگوں کے دلوں سے اب دور ہو جانا چاہئے اور اس دنیاوی خوف کو دل سے دور کر کے اللہ تعالیٰ سے تعلق میں ہر لمحہ آپ کو بڑھتے رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق ہی ہے جوہر موقع پر آپ کے کام آئے گا۔ اگر خدا تعالیٰ سے تعلق کا وہ معیار نہیں جو ایک مربی اور مبلغ کا ہونا چاہئے جس نے یہ عہد کیا ہے کہ مَیں دین کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے اپنی زندگی وقف کرتا ہوں۔ اب مَیں نہ صرف اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرنے والا ہوں اور اس تبدیلی میں بڑھتا چلا جاؤں گا بلکہ دنیا کی اصلاح کر کے ان کو بھی خدا تعالیٰ کے قریب لاؤں گا۔ پس یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ کام نہیں ہو سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا نہ ہو اور تعلق پیدا کرنے کے لئے آپ کو اپنی نمازوں اور نوافل میں نہ صرف یہ کہ سستی نہیں دکھانی بلکہ انتہائی کانشس ہو کر اس طرف توجہ دینی ہے۔ ایک کوشش کر کے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔
مَیں نے دیکھا ہے اکثر مربیان سے جب میں سوال بھی کرتا ہوں تو نوافل میں بہت سستی ہے۔ تہجد کے لئے اٹھنے میں بڑی سستی ہے۔ یہاں خاص طور پر یورپ میں جب گرمیوں کے دنوں میں راتیں چھوٹی ہو جاتی ہیں، دن لمبے ہوتے ہیں، بہت تھوڑا سونے کا وقت ملتا ہے۔ لیکن اس میں بھی آپ لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ نفل کی ادائیگی کے لئے جاگیں اور نفل ادا کریں اور یہی نوافل ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے میں اور بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔(صحیح البخاری کتاب الرقائق باب التواضع حدیث 6502)
فرائض تو ہر احمدی اور ہر مسلمان کے لئے فرض ہے اور احمدی مسلمان کے لئے خاص طور پر جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا، اس نے یہ عہد کیا کہ مَیں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا(ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ 359۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) لیکن ایک مربی کے عہد اس سے بڑھ کر ہیں۔ پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ نوافل کی ادائیگی کی طرف آپ لوگوں کی توجہ ہونی چاہئے۔ اور فجر کی نماز کی طرف بعض سستی دکھاتے ہیں، میدان عمل میں آنے کے باوجود سستی دکھاتے ہیں۔ یہ سستیاں اب دور ہونی چاہئیں۔ یہ سستیاں دُور کریں گے تو اللہ تعالیٰ سے تعلق میں ترقی بھی کریں گے۔
آپ کا سب سے بڑا مقصد توحید کا قیام ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس زمانے میں آئے ہیں تو اسی مقصد کے لئے آئے ہیں کہ توحید کا قیام ہو اور بندے کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو۔ یہ ایک بہت بڑا مقصد ہے۔ اور دوسرا مقصد انسان کے آپس کے جو حقوق ہیں ان کی طرف توجہ دلانا۔(ماخوذ از تحفہ قیصریہ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 281) اگر خدا تعالیٰ کا خوف دل میں ہو، اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو تو تبھی آپ توحید کے قیام کے لئے حقیقی کوشش کر سکتے ہیں۔ تبھی آپ کو وہ اِدراک حاصل ہو سکتا ہے کہ توحید کیا چیز ہے؟ ورنہ اگر عبادتیں نہیں اور عبادتوں کے مقابلے پر بعض سستیاں آڑے آ رہی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ توحید کے مقابلے پر آپ نے کسی اور چیز کو کھڑا کر دیا۔ یہ عموماً مَیں افراد جماعت کو بھی کہتا رہتا ہوں لیکن مربیان کے لئے یہ سب سے اہم چیز ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں گے تبھی آپ توحید کے قیام کے لئے بھرپور کوشش کر سکتے ہیں۔ عبادت کے بغیر یہ ناممکن ہے کہ آپ توحید کا قیام کر سکیں۔
پھر عبادتوں اور نمازوں کی طرف توجہ دینے کے بعد قرآن کریم کا پڑھنا، اس پر غور کرنا، اس کی تفاسیر پڑھنا یہ ایک بہت بڑا کام ہے۔ آپ کو یہاں جامعہ احمدیہ میں تفسیر کا مختصر تعارف کروایا گیا ہو گایا کچھ حد تک تفسیر پڑھائی گئی ہو گی۔ لیکن اب مزید اس میں وسعت پیدا کرنے کے لئے، مزید اپنے علم کو بڑھانے کے لئے آپ کو خود جہاں قرآن کریم پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہاں جو مختلف تفاسیر ہیں ان کو پڑھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب میں جو مختلف آیات کی تشریح فرمائی ہے وہ تفسیر کی صورت میں اب ایک جگہ جمع ہے۔ اس کو مسلسل آپ کو مطالعہ میں رکھنا چاہئے۔ اسی طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قریباً چوّن سورتوں کی تفاسیر ہیں ان کو پڑھنا چاہئے اور ہمیشہ اپنے مطالعہ کو بڑھاتے چلے جائیں۔ یہی چیزیں آپ کے دین میں کام آئیں گی۔ ہر موقع پر یہ کوشش کریں کہ آپ کے جواب قرآن کریم سے آپ کو ملیں اور وہ اسی صورت میں مل سکتے ہیں جب آپ کو اس پر غور کرنے کی اور تدبّر کی عادت ہو گی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کا میں نے مختصر ذکر کر دیا۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کی صورت میں جماعت کے لٹریچر میں موجود ہیں ان چار جلدوں کے علاوہ آپ کی جو کتب ہیں ان کا مطالعہ بھی نہایت ضروری ہے اور کم از کم آدھا گھنٹہ روز، اس سے زیادہ ہو تو اور بھی بہتر ہے، آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی نہ کسی کتاب کا مطالعہ کرتے رہنا چاہئے اور یہ چیز آپ کے علم کو بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔ ورنہ دنیاوی علم جو آپ نے مختلف جگہوں سے سیکھا یا پڑھ کر آئے ہیں یا آئندہ بھی شاید آپ کو پڑھنے کا موقع ملے، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کے بارے میں آپ لوگوں کو تحریک بھی کرتے ہیں کہ پڑھو لیکن جب تک خود نہیں پڑھ رہے ہوں گے آپ کی تحریک میں اور توجہ دلانے میں وہ برکت نہیں پڑے گی۔ پس اس لحاظ سے آپ ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ مطالعہ نہایت ضروری ہے۔
پھر ایک اہم بات یہ ہے کہ آپ لوگ میدان عمل میں خلیفۂ وقت کے نمائندے ہیں اور آپ نے اس نمائندگی کا حق ادا کرنا ہے۔ جس میں تربیت بھی شامل ہے، تبلیغ بھی شامل ہے۔ کسی بھی قسم کی مداہنت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں آپ نے سامنے ایک شعر لکھ کے لگایا ہوا ہے کہ ؎
’’محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار
رُوئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں‘‘
(کلامِ محمود صفحہ 91)
رُوئے زمیں کو کیا ہلانا ہے، بعض دفعہ مَیں نے دیکھا ہے بعض لوگ ذرا سا پریس کے دباؤ سے یا معاشرے کے دباؤ سے یا ان ملکوں کے بعض غلط قوانین جو انہوں نے آزادی کے نام پر بنا دئیے ہیں ان کے زیر اثر آ کر حکمت کے بجائے مداہنت سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔ رُوئے زمین کو تو ہم اسی وقت ہلا سکتے ہیں جب ہمارا اپنا مضبوط ایمان ہو اور اس مضبوط ایمان کے ساتھ ہم دنیا کا مقابلہ کرنے والے ہوں۔ اگر قرآن کریم کہتا ہے کہ ہم جنسی ایک برائی ہے تو اس کا مقابلہ ہم نے کرنا ہے چاہے کتنے ہی دنیاوی قانون پاس ہوتے رہیں۔ اگر اسلام ہمیں کہتا ہے کہ عورتوں اور مَردوں میں ایک تقسیم کار بھی ہے اور فرق بھی ہے اور علیحدگی ہونی چاہئے اور مصافحوں سے بچنا چاہئے تو اس میں آپ کو جرأت سے کام لینا چاہئے۔ اسی طرح دوسرے بعض حقوق ہیں۔ تو آزادی کے نام پر اگر یہ لوگ بگڑ رہے ہیں تو ان کو بگڑنے سے بچانے کے لئے آپ نے اپنا کردار ادا کرنا ہے، نہ کہ مصلحت کے نام پر مداہنت دکھانا شروع کر دیں۔ مصلحت اور مداہنت میں بڑا فرق ہے۔ مصلحت یہ ہے کہ ایک چیز کو آپ حکمت سے بیان کریں لیکن کمزوری نہ دکھائیں۔ یہ نہ ہو کہ اگر کسی سے مقابلہ ہو جاتا ہے تو آپ یہ کہنے والے ہو جائیں کہ اچھا ٹھیک ہے ہم مان لیتے ہیں یا ایسی توجیہیں پیش کریں جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہوں۔ یہ ہمارا مقصد نہیں۔ ہاں اگر لڑائی ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر وہاں سے اٹھ کر چلے جائیں۔ وہاں لڑائیاں بہرحال ہم نے نہیں کرنی لیکن اپنا جو مؤقف ہے، جو ہماری بنیادی تعلیم ہے، جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے حکم دئیے ہوئے ہیں، ان سے ہم نے بہرحال پیچھے نہیں ہٹنا۔ چاہے ایک خبر کیا اخباروں کے اخبار آپ کے خلاف کالم لکھنے شروع کر دیں تب بھی اپنے مؤقف پر قائم رہنا ہے اور اس کی کوئی پرواہ نہیں کرنی نہ اس کی فکر کی ضرورت ہے کہ اگر ہم نے ان لوگوں کی باتیں نہ مانی تو ہم شاید جماعت احمدیہ کا پیغام یا اسلام کا پیغام نہ پہنچا سکیں۔ اسلام کا پیغام تو بہرحال پہنچنا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاماً فرمایا تھا کہ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔(الحکم مورخہ 27 مارچ و 6 اپریل 1898ء صفحہ 13 جلد 2 نمبر 5،6)اور پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ مَیں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔(سورۃ المجادلہ22:) تو جب یہ وعدے اتنے زیادہ ہیں تو پھر ہمیں کسی بھی قسم کے خوف کی ضرورت نہیں ہے کہ شاید ہمارا پیغام نہ پہنچے۔ یہ مصلحت اندیشی نہیں ہے۔ یہ بزدلی ہے۔ اور ایک مبلغ سے، ایک مربی سے بلکہ عہدیداروں سے بھی ایسی بزدلی کا اظہار نہیں ہونا چاہئے اور تبھی ہم خلیفۂ وقت کی نمائندگی کا صحیح حق ادا کر سکتے ہیں۔
پھر افراد جماعت کو یہ احساس بھی آپ نے دلانا ہے کہ آپ لوگ عالم باعمل ہیں۔ ان مولویوں کی طرح نہیں ہیں جو منبر پر کھڑے ہو کر تقریریں تو کر لیتے ہیں لیکن جب اپنی باری آئے تو ان کے معیار بالکل بدل جاتے ہیں بلکہ جو آپ کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔ اور یہ احساس اگر جماعت کے ہر فرد میں آپ پیدا کر دیں تو آپ کی عزت افراد جماعت میں کئی گنا بڑھ جائے گی۔ عزت کسی دنیاوی خوشامد سے یا مصلحت سے نہیں بڑھتی۔ عزت اللہ تعالیٰ نے دینی ہے اور وہ اسی صورت میں جب آپ کے قول و فعل ایک جیسے ہوں گے۔
اسی طرح میدان عمل میں بعض عملی معاملات آپ کے سامنے آئیں گے۔ اس میں ہمیشہ آپ نےغور کر کے، سوچ کر وہ فیصلے کرنے ہیں جو جماعتی مفادات میں ہوں۔ مثلاً اخراجات ہیں، اس میں جہاں آپ خود قناعت دکھائیں وہاں عہدیداروں کو سمجھانا بھی آپ کا کام ہے کہ ہمارے اخراجات میں قناعت ہونی چاہئے۔ ہم ایک غریب جماعت ہیں اور ہمارے اخراجات پورے ہوتے ہیں جماعت کے افراد کے چندوں سے اور اکثریت جماعت کے افراد کی غریب ہے یا یہ نہیں ہم کہہ سکتے کہ بہت امیر ہیں۔ اس لئے آپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ہمارے چندے جو آتے ہیں ان کے اخراجات جو اس کے مقابلے پر ہوں کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اکنامکس کا ایک اصول ہے کہ کامیاب وہی ہوتا ہے جو کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔ پس اس بات کو آپ کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ ہمارے منصوبے بہت بڑے بڑے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ ان کو پورا کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے لیکن اس کے لئے ہمیں بھی کوشش کرنی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں ذرائع اور وسائل دئیے ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے ہم نے ان بڑے بڑے منصوبوں کو حاصل کرنا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ سلسلہ کی عزت اور عظمت کا خیال رکھو(ماخوذ از ملفوظات جلد اوّل صفحہ 147۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اور یہ سلسلہ کی عزت اور عظمت کا خیال رکھنا ایک مربی، مبلغ، واقف زندگی کا سب سے بڑھ کر کام ہے۔ ہمیشہ آپ کے سامنے سلسلہ کی عزت اور عظمت اور وقار کا سوال رہنا چاہئے اور یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ جب جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا آپ کا ہر لمحہ اپنے اوپر نظر رکھتے ہوئے گزرے گا۔ جہاں آپ کی عبادتوں کے معیار بلند ہوں وہاں آپ کے اخلاق بھی اعلیٰ ہوں اور ہر معاملے میں آپ ایک مثالی اخلاق رکھنے والا کردار ادا کرنے والے ہوں۔ گھر میں ہیں تو عائلی طور پر آپ کے بہترین نمونے ہوں۔ باہر ہیں تو بول چال میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا اعلیٰ نمونے ہوں۔ آپ کے لباس میں آپ کے اچھے نمونے ہوں اور ہر شخص آپ کو دیکھ کر یہ کہنے والا ہو کہ یہ وہ لوگ ہیں جو جماعت کی سچی نمائندگی کرنے والے ہیں، جو جماعت کی حقیقی نمائندگی کرنے والے ہیں اور ان سے کوئی ایسی حرکت کبھی نہیں ہوتی جو جماعتی مفادات کے خلاف ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی عزتوں کو تو داؤ پر لگا سکتے ہیں لیکن جماعت کی عزت اور عظمت پر کبھی فرق نہیں آنے دیں گے۔ پس یہ وہ معیار ہیں جو آپ نے حاصل کرنے ہیں۔
پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےجماعت کو فرمایا تھا کہ تمہارا ایک نصب العین ہونا چاہئے اور وہ نصب العین کیا ہے۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۔ یہ وہ نصب العین ہے جو عمومی طور پر جماعت کے ہر فرد کے لئے ہے لیکن مربی کے لئے سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ بڑا وسیع کام ہے۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ جب ہم کہتے ہیں تو پھر جیسا کہ پہلے بھی مَیں کہہ آیا ہوں اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانے ہوں گے۔ یہ صرف فرض نہیں ایک نصب العین ہے جماعت کی عظمت اور وقار کو قائم کرنے کے لئے بھی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا۔ اللہ تعالیٰ کے آگے ہی جھکنا ہے۔ کبھی کسی انسان کے آگے نہیں جھکنا۔ کسی انسان سے، دنیا سے متأثر نہیں ہونا بلکہ ہر مدد اللہ تعالیٰ سے لینی ہے۔ انسان خطاؤں اور غلطیوں کا پتلا ہے اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کہ مجھے سیدھے راستے پر چلاتا رہ۔ کبھی ایسی لغزشوں میں نہ پڑ جاؤں جس سے جماعت کی عزت اور وقار پر حرف آئے۔ جس سے جماعت کی عظمت پر حرف آئے۔ جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں داخل ہو کر اور پھر اپنے آپ کو مربی کا ٹائٹل دلوا کر اس پر حرف آئے۔ ایک مربی اپنی غلط حرکت سے صرف اپنے آپ کو بدنام نہیں کرتا بلکہ پورے نظام کو بدنام کر رہا ہوتا ہے۔ پس اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ پر ہمیشہ غور کرتے رہیں، ہمیشہ آپ کے سامنے ہو اوراَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۔ ان لوگوں میں ہم شمار ہونے کی کوشش کریں جن کو اللہ تعالیٰ انعام دیتا ہے۔ پس ایسے انعام یافتہ جب ہم بنیں گے یا ان چاروں باتوں پر عمل کرنے والے بنیں گے تو تب ہی ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق اپنے نصب العین کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔(ماخوذاز ملفوظات جلد اوّل صفحہ 354۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اس بات کو ہمیشہ ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔
اور ان کے لئے سب سے بڑھ کر چیز یہ ہے کہ تقویٰ بھی ہو۔ ہر ایک مربی کا تقویٰ کا معیار بلند ہو۔ ایک بزرگ کے کپڑے پہ ہلکا سا داغ لگا ہوا تھا۔وہ اسے دھو رہے تھے۔ ان کے کسی مرید نے پوچھا کہ حضور آپ نے تو یہ فتویٰ دیا ہوا ہے کہ اتنے داغ سے گندگی نہیں ہوتی، کوئی حرج نہیں ہے اور نماز وغیرہ جائز ہے اور کپڑے بھی پاک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو تمہیں میں نے کہا تھا وہ فتویٰ تھا اور یہ جو مَیں کر رہا ہوں یہ تقویٰ ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 106۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس ایک مربی کو فتویٰ اور تقویٰ میں فرق کرنے کے لئے اپنے معیاروں کو بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں اور اگر ان باتوں کا خیال رکھیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ میدان عمل میں بہترین مربی کا اور مبلغ کا کردار ادا کر سکنے والے ہوں گے۔ اللہ کرے کہ آپ لوگ میدان عمل میں جا کر صرف ان باتوں کو اپنی ڈائریوں تک نوٹ کرنے والے نہ ہوں بلکہ عمل کرنے والے بھی ہوں اور ایک مثالی مربی اور مبلغ بن جائیں۔ وہ انقلاب پیدا کرنے والے ہوں جس کے پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں بھیجا ہے اور خلافت احمدیہ کے صحیح دست و بازو بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی توفیق عطا فرمائے۔ اب دعا کر لیں۔ (دعا)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
