خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ9؍ جنوری 2026ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کیے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ۔ (آل عمران :93)

اس آیت کا ترجمہ ہے کہ تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور جو خرچ تم کرتے ہو یقینا ًاللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

اس کی تفسیر میں حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ

’’قرآن کریم میں سورہ بقرہ میں جہاں پہلا رکوع شروع ہوتا ہے وہاں متقی کی نسبت فرمایا ہے۔ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔ یعنی جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں ۔ یہ تو پہلے رکوع کا ذکر ہے۔ پھر اسی سورة میں کئی جگہ انفاق فی سبیل اللہ کی بڑی بڑی تاکیدیں آئی ہیں … پس تم حقیقی نیکی کو نہیں پا سکو گے جب تک کہ تم مال سے خرچ نہ کرو۔‘‘ فرماتے ہیں کہ ’’مِمَّا تُحِبُّوْنَ کے معنے میرے نزدیک مال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَ اِنَّہٗ لِحُبِّ الۡخَیۡرِ لَشَدِیۡدٌ (العٰدیٰت: 9) انسان کو مال بہت پیارا ہے۔ پس حقیقی نیکی پانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز مال میں سے خرچ کرتے رہو۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد1 صفحہ500)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی اس کی مختلف جگہ پہ تفسیر فرمائی ہے۔ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’مال کے ساتھ محبت نہیں چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ۔ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم ان چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جن سے تم پیار کرتے ہو۔‘‘

پھر فرماتے ہیں کہ

’’بیکار اور نکمّی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔ پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ نکمّی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نصّ صریح ہے لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۔جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔ اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو؟‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد2صفحہ130-131)

پس وہ لوگ جو بعض دفعہ اچھا کماتے ہیں لیکن اپنی مالی قربانیوں میں اس معیار پر نہیں ہوتے جتنا ایک عام احمدی کمانے والا، اوسط درجے کا کمانے والا احمدی ہوتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل قربانی تو یہ ہے کہ جس چیز سے تمہیں محبت ہے وہ اس کی راہ میں خرچ کرو تبھی تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن سکو گے اور اس کے فضلوں کے وارث بن سکو گے۔

اللہ تعالیٰ نے صرف ایک دو جگہ نہیں بلکہ قرآن کریم میں متعدد جگہ انفاق فی سبیل اللہ کا حکم فرمایا ہے۔ مثلاً ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ وَ اَحۡسِنُوۡا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ۔ (البقرہ:196)

فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال و جان خرچ کرو اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور احسان سے کام لو۔ اللہ احسان کرنے والوں سے یقینا ًمحبت کرتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنا بعض دفعہ ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔ ایک طرف یہ دعویٰ کہ ہم اس زمانے میں وقت کے امام کو ماننے والے ہیں ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں اور آپؐ کی پیشگوئی کے مطابق ہم مسیح موعود کی جماعت میں داخل ہوئے ہیں اور دوسری طرف بعض دفعہ مالی قربانیوں میں انقباض پیدا ہونا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ عمومی طور پر تو جماعت میں اس طرف بہت توجہ ہے لیکن بعض جن کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ کشائش دی ہے ان میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت کی اکثریت مالی قربانیوں میں بہت خوشی سے حصہ لیتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا بعض ایسے ہیں جن میں انقباض ہوتا ہے تو ان کو اللہ تعالیٰ کی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ضروری ہے۔ زیادہ کمانے والے بیشک بعض ایسے ہیں جو تحریکات میں حصہ لیتے ہیں اور بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن یہاں ضمناً میں یہ بھی بتا دوں کہ وہ چندہ جو اپنا حصہ آمد وغیرہ کا ہے وہ صحیح شرح سے ادا نہیں کرتے اور اس میں باقاعدہ نہیں ہیں تو ایسے لوگوں کو اپنا جائزہ لینا چاہیے۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک اَور جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ

اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِیۡنَ فِیۡہِ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمۡ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ۔ (الحدید : 8)

کہ اے لوگو! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جن (جائیدادوں) کا (پہلی قوموں کے بعد) تم کو مالک بنایا ہے ان میں سے خرچ کرو۔ اور تم میں سے جو مومن ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کو بہت بڑا اجر ملے گا۔

پس اللہ تعالیٰ نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں سے بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ۔ (الحدید: 11)

اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمان اور زمین کی میراث اللہ ہی کی ہے؟

یعنی اس مادی دنیا میں سے جو کچھ انسان کے ہاتھ میں ہے آخر انسان اسے چھوڑ کر مر جائے گا اور وہ خدا ہی کے قبضہ میں آئے گی۔ انسان کے قبضے میں تو کچھ نہیں رہتا۔ وراثت بھی تقسیم ہو جاتی ہے۔ اگر وارث صحیح نہیں تو وہ اسے ضائع کر دیتے ہیں ۔ اس کے ہاتھ میں تو کچھ بھی نہ رہا نہ اس دنیا میں نہ اگلے جہان میں ۔ اس لیے پہلے ہی اللہ تعالیٰ سے ڈر کر رہا جائے اور اس کی خاطر خرچ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ پھر اس میں برکت ڈالتا ہے اور نسلوں کی بھی حفاظت فرماتا ہے۔

پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک اَور جگہ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَ اسۡمَعُوۡا وَ اَطِیۡعُوۡا وَ اَنۡفِقُوۡا خَیۡرًا لِّاَنۡفُسِکُمۡ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۔(التغابن:17)

پس جتنا ہو سکے اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اور اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔ یہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہوگا اور جو لوگ اپنے دل کے بخل سے بچائے جاتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کنجوسی اور بخل صحیح نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننا ہے تو اس کی راہ میں خرچ کرنا پڑے گا ۔اور اسی طرح بےشمار اَور بھی آیات قرآن کریم میں ہیں جو ہمیں اس بات کی ترغیب دلاتی ہیں کہ ہمیں اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے اور اس زمانے میں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی متعدد بار فرمایا ہے کہ دین کی اشاعت کے لیے اور دین کے کاموں کو پھیلانے کے لیے، تبلیغِ اسلام کے لیے مال کی ضرورت ہے۔ اس میں سے تمہیں خرچ کرنا چاہیے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ دین کے لیے مال خرچ کرتے ہیں جیسا کہ میں نے آیت پڑھ کے بھی بتایا ہے اس کا فائدہ صرف انہی کو نہیں ہوتا بلکہ پوری قوم کا فائدہ ہو رہا ہوتا ہے۔ پس قوم کی ہمدردی کا بھی یہ تقاضا ہے اور انسانیت کی ہمدردی کا بھی تقاضا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں جس میں سے لوگوں کی مدد کے لیے بھی خرچ ہو اور اشاعتِ اسلام کے لیے بھی خرچ ہو۔ احادیث میں بھی اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد جگہ ہمیں اس بات کی نصیحت فرمائی ہے کہ مالی قربانی کرنی چاہیے۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ یہ حدیث قدسی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے فرمایا کہ

اے آدم کے بیٹے! تُو اپنا خزانہ میرے پاس جمع کر کے مطمئن ہو جا۔ نہ آگ لگنے کا خطرہ، نہ پانی میں ڈوبنے کا اندیشہ اور نہ کسی چور کی چوری کا ڈر۔ میرے پاس رکھا گیا خزانہ میں پورا تجھے دوں گا اس دن جبکہ تُو اس کا سب سے زیادہ محتاج ہو گا۔ (الجامع لشعب الایمان جلد5 صفحہ45 ،الثانی و العشرون من شعب الایمان ،باب التحریض علی صدقۃ التطوع حدیث 3071 ،مکتبہ الرشد)

پس یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تو اللہ تعالیٰ پورے کا پورا مال لوٹائے گا۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یُّوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ۔(البقرہ :273)

کہ جو اچھا مال بھی تم اس کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا لوٹایا جائے گا بلکہ دوسری جگہ یہ بھی فرمایا کہ اس سے کئی گنا بڑھا کر لوٹایا جائے گا۔ پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے دینے کے طریقے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ آج جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ احمدیوں کی اکثریت کو اس بات کا ادراک ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں بےشمار خرچ کرتے ہیں ۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے زمانے میں بھی اس خرچ کی ایسی ہی مثالیں ہیں ۔ بلکہ ان کو دیکھ کر آپؑ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ مَیں حیران ہوتا ہوں کس طرح یہ لوگ جو غریب بھی ہوتے ہیں، غریب لوگ ہیں دین کی خاطر اتنی قربانیاں کر رہے ہیں ۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد10 صفحہ263)

آج بھی یہی حال ہے اور عموماً احمدیوں کی جو بڑی تعداد ہے وہ اس بات کو سمجھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ ان کو اس بات کا بہت ادراک ہے۔

مَیں نے دیکھا ہے کہ اکثر غرباء میں سے یا اوسط طبقے کے کمانے والے جو ہیں وہ بہت بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں کیونکہ انہیں یہ ادراک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مال ہمیں لوٹانا ہے یا ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔ کس طرح؟ یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ۔اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔

اصل بات یہی ہے کہ اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ اسے لوٹائے گا، اس کے ثواب میں شامل کرے گا اور یہ قربانیاں ان کے لیے درجات کی بلندی کا باعث ہوں گی۔ پھر ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

جس نے ایک کھجور بھی پاک کمائی میں سے اللہ کی راہ میں دی اور اللہ تعالیٰ پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کھجور کو دائیں ہاتھ سے قبول فرمائے گا اور اسے بڑھاتا چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ پہاڑ جتنی ہو جائے گی۔ آپؐ نے مثال دی کہ جس طرح تم میں سے کوئی اپنے چھوٹے سے بَچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک بڑا جانور بن جاتا ہے۔ (صحیح البخاری جلد3صفحہ28تا 29کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ من کسب طیب روایت نمبر 1410 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ)

پس جس طرح چھوٹا بچھڑا پرورش پا کر بڑا ہوتا ہے اسی طرح تمہارا مال بھی بڑھتا جائے گا اگر تم اللہ کی راہ میں دو گے لیکن شرط یہ ہے کہ مال پاک ہو۔ یہ نہ ہو کہ غلط طریقے سے کمایا گیا ہو۔ اس مال کو جمع کرنے کے لیے غلط طریقوں سے بچت کی گئی ہو پھر چندے میں دے دیا۔ یہ نہیں ۔ بلکہ جب مال پاک ہو گا تب ہی اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ پھر ایک حدیث میں آتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قیامت کے دن حساب کتاب ختم ہونے تک انفاق فی سبیل اللہ کرنے والا اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے اپنے مال کے سائے میں رہے گا۔ (مسند احمد بن حنبل جلد5صفحہ895 مسند عقبۃ بن عامر حدیث 17466 مکتبہ عالم الکتب بیروت)

پس قیامت کے دن بھی جو مالی قربانیاں ہیں بشرطیکہ وہ نیک نیتی اور پاک مال سے کی گئی ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے اور کھینچنے والی ہوتی ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ جماعت کے افراد اس بات کو سمجھتے ہیں جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تقویٰ پر چلنے والوں کی مالی قربانیاں قبول کی جاتی ہیں اور پھر ان کو اللہ تعالیٰ بےشمار نوازتا ہے۔ جماعت کے اکثر لوگ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے:

وَمَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا۔وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمۡرِہٖ ؕ قَدۡ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدۡرًا ۔(الطلاق :3-4)

کہ اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ نکال دے گا۔اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اسے خیال بھی نہیں ہوگا اور جو کوئی اللہ پر توکّل کرتا ہے وہ (اللہ) اس کے لئے کافی ہے۔ اللہ یقیناً اپنے مقصد کو پورا کرکے چھوڑتا ہے اور اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر چھوڑا ہے۔ اور اس کو اس اندازے کے مطابق دیتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ

’’ہمیشہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے تقویٰ و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔اس کا معیار قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہات دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود متکفّل ہو جاتا ہے۔جیسے کہ فرمایا وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا۔ وَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ (الطلاق :3-4)جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے راستہ مخلصی کا نکال دیتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کرنے والے وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کرنے والے ہوں ۔ جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کو پھر یہ غم نہیں ہوتا کہ ہماری ضروریات کس طرح پوری ہوں گی، یا ہمارے اخراجات کس طرح پورے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے راستے پیدا کرتا رہتا ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ اللہ ان کے لیے مخلصی کا راستہ نکال دیتا ہے ’’اور اس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے علم و گمان میں نہ ہوں۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 10۔11،ایڈیشن2022ء)

پھر ایک جگہ آپؑ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی خاطر قربانی کرنے والوں کو اور تقویٰ پر چلنے والوں کو بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے

فرماتے ہیں کہ

’’جن کا اللہ تعالیٰ متولّی ہو جاتا ہے وہ دنیا کے آلام سے نجات پا جاتے ہیں۔‘‘ مشکلات سے، تکلیفوں سے نجات پا جاتے ہیں ’’اور ایک سچی راحت اور طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا۔ وَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ (الطلاق:3، 4) جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہر ایک بَلا اور اَلم سے نکال لیتا ہےاور اس کے رزق کا خود کفیل ہو جاتا ہے اور ایسے طریق سے دیتا ہے کہ جو وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا۔‘‘ (ملفوظات جلد6صفحہ217،ایڈیشن2022ء)

پھر اسی طرح ایک جگہ آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ توکّل کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’اصل رازق خدا تعالیٰ ہے ۔وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لیے رزق پہنچاتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ۔ ’’خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے میں اس کے لیے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں ۔ پس چاہیے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد9صفحہ240-241)

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بہت ساری نصائح مختلف جگہوں پر بیان فرمائی ہیں اور اس آیت کی تفسیر بھی فرمائی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے کہ جماعت کے افراد اس بات کو سمجھتے ہیں ۔ جماعت کی خاطر قربانیاں بھی دینے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے بھی کرنے والے ہیں ۔ دنیا میں بےشمارمثالیں ہر سال ہمارے سامنے آتی ہیں۔چونکہ

اس وقت مَیں وقف جدید کے حوالے سے بات کرنے والا ہوں اس لیے مَیں ان لوگوں کی بعض مثالیں پیش کر دیتا ہوں جنہوں نے وقف جدید کے چندے دیے اور ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیے یا ان کو اللہ تعالیٰ پر کتنا یقین اور مان تھا کہ اگر وہ قربانی کر دیں تو اللہ تعالیٰ ان کی ضروریات پوری کرے گا

اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اوسط درجے یاکم آمدنی والے جو لوگ ہیں ان میں قربانی کا مادہ بہت زیادہ ہے اور عموماً انہی کی مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔

انڈونیشیا کی جماعت پنگیر ہے وہاں کی ایک خاتون طاہرہ صاحبہ ہیں ،کہتی ہیں مَیں پارٹ ٹائم ٹیچر تھی ۔تنخواہ بہت کم تھی۔ وقف جدید کے مالی سال کے اختتام پر مجھے نیشنل سیکرٹری صاحب کا پیغام ملا کہ میرا ایک لاکھ تیس ہزار روپیہ کا وعدہ ابھی باقی ہے۔ میرے پاس صرف اتنی ہی رقم تھی جو میں نے چھوٹا سا کاروبار کرنے کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ میرے پاس اسی کے برابر رقم تھی لیکن اپنے لیے رکھی ہوئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے دل میں تھوڑی کشمکش ہوئی لیکن پھر میں نے اللہ پر توکّل کیا اور وہ ساری رقم جو تھی وہ وقف جدید میں دے دی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ایساکرنا ہوا کہ غیر متوقع طور پر مجھے سکول کی طرف سے بونس مل گیا جس کی مجھے اشد ضرورت تھی اور ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی ملی کہ میرا نام حکومت کی طرف سے سبسڈی (Subsidy)ملنےوالوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔ کہتی ہیں کہ مَیں ابھی اللہ تعالیٰ کا ٹھیک طرح شکر بھی ادا نہیں کر پائی تھی کہ فوری طور پر میرا یہ کام ہو گیا کہ اسی دوران میرا ٹیچر رجسٹریشن نمبر بھی جاری ہوگیا جس کا میں برسوں سے انتظار کر رہی تھی۔ کہتی ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل میرے اس چندے کی ادائیگی کی اہمیت کی وجہ سے ہوا ہے۔ پھر

کینیا جو مشرقی افریقہ کا ایک ملک ہے۔ انڈونیشیا اور کینیا میں ہزاروں میل کا فاصلہ ہے لیکن ہر جگہ سوچیں کیسی ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل کیسے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کو بھی نوازتا ہے۔ کینیا کے امیر صاحب نے ایک واقعہ لکھا کہ ایک معلم نے ان کو ایک خاتون کا واقعہ بیان کیا جو بڑی باقاعدگی سے چندوں کی ادائیگی کرتی ہیں اور باوجود اس کے کہ ان کی کوئی خاص آمدنی نہیں ہے لیکن چندوں کے معاملے میں بہت پکی ہیں ۔ ایسی حالت میں پتہ لگتا ہے کہ کتنی ضرورت ہے اور مال سے کتنی محبت ہوتی ہے یاہونی چاہیے لیکن اس وقت اللہ کی راہ میں مال نکالنا اصل میں دل نکالنا یا کلیجہ نکالنے کے برابر ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ بہرحال وہ لکھتے ہیں کہ اس سال ان کا وقف جدید کا وعدہ چار سو شلنگ تھا جو انہوں نے ادا کر دیا اور انہوں نے کہا کہ میرے پاس صرف یہی رقم تھی۔ اب میں بالکل خالی ہاتھ ہو گئی ہوں۔ جو کچھ تھا میں نے دے دیامگر اللہ تعالیٰ نے کیسا سلوک فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ایسی جگہوں سے رزق دیتا ہوں جہاں سے تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے خالی ہاتھ نہیں چھوڑا ۔جب انہوں نے کہا کہ میں خالی ہاتھ ہو گئی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے کہا میں تمہیں خالی ہاتھ نہیں چھوڑوں گا۔ کچھ دن بعد انہیں ان کی بیٹی کی طرف سے چودہ سو شلنگ اس وضاحت کے ساتھ ملے کہ اس رقم میں سے آپ چندہ ادا کر کے باقی اپنے اخراجات پورے کرلیں۔ اس کے بعد ان کے داماد نے فون کیا۔ وہاں یہ رواج ہے کہ شادی کے بعد بیٹی کا جو حق مہر ہے وہ والدین کو ملتا ہے تو اس نے حق مہر کی قیمت میں دو گائیں جن کی قیمت نوّے ہزار شلنگ بنتی تھی وہ ان کو بھیج دیں۔ صرف یہی نہیں ہوا۔ کہتی ہیں میں نے تو چار سو شلنگ دیے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے بےشمار اور غیرمعمولی طور پر نوازا اور ایسی جگہ سے نوازا جہاں سے مجھے کوئی توقع بھی نہیں تھی۔ پھر غیر متوقع طور پر رشتہ داروں اور باقی بچوں کی طر ف سے بھی انہیں تحائف اور ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے رقمیں پہنچنی شروع ہو گئیں جس پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس بات پر ان کا یقین کامل ہوا کہ یہ چندہ کی برکات تھیں ۔

چندوں کی ادائیگی سے ایک تو اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ کر لوگوں کے ایمان میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

گنی کناکری افریقہ کا ایک اَورملک ہے۔ وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ کُنْڈیا ریجن کا ایک گاؤں ہے وہاں ایک احمدی خاتون ہیں انہوں نے اپنااس سال کا وعدہ ایک لاکھ پچاس ہزار گنی فرانک لکھوایا تھا۔ سننے میں تو یہ لاکھوں لگتا ہے لیکن وہاں رقم کی قیمت کوئی نہیں۔ اس لیے یہ بہت معمولی رقم ہے۔ بہرحال کہتے ہیں کہ جب سال کے اختتام پر ہمارے لوکل مشنری ان کے گاؤں چندے کی وصولی کے لیے گئے تو وہ سبزی فروخت کرنے مارکیٹ گئی ہوئی تھیں ۔ وقت کم تھا تو یہ جو معلم تھے یہ ان مارکیٹ میں ان کے پاس چلے گئے اورانہیں بتایا کہ تمہارا یہ چندہ بقایا ہے اس میں سے جو تم نے وعدہ لکھوایا تھا۔ خاتون نے بڑے دکھ سے کہا۔ اس وقت تو اس کے پاس ادا کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ فی الحال چلے جائیں اور میں ان شاءاللہ ادا کر دوں گی۔ اب دیکھیں یہ ایک خاتون جو ایمان لائی ہے، اسلام اور احمدیت کو قبول کیا ہے تو ایمان میں کس طرح ترقی کی ہے ۔یہ نہیں کہ ٹال دیا کہ چلے جاؤ اس وقت میں نہیں دے سکتی بلکہ کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میں جلدی انتظام کر کے آپ کو پہنچا دوں گی۔ بہرحال ہمارے مبلغ وہاں سے چلے گئے۔ وہاں سے اگلے گاؤں گئے ۔وہاں سے ہو کے جب واپس آئے تو پھر اس عورت کے پاس آئے۔ اس نے ایک لاکھ فرانک پیش کیے اور کہنے لگی کہ آج میرے سارے دن کی کمائی یہی رقم ہے جو میں اللہ کی راہ میں پیش کرتی ہوں ۔ کہتی ہیں گو کئی دنوں سے ہمارے گھر میں کچھ اچھا کھانا نہیں پکا تھا۔ عام معمولی سا کھانا وہ بچوں کوکھلا دیتی ہیں۔ آج میرا ارادہ تھا کہ جو کچھ کماؤں گی تو اس سے بچوں کو اچھا کھانا کھلاؤں گی لیکن جیسا کہ آپ نے بھی کہا ہے اور میرا بھی تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں محبوب مال میں سے دی گئی قربانی ضائع نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تو ایسی جگہوں سے مہیا فرماتا ہے کہ انسان تصوّر بھی نہیں کر سکتا تو میں نے یہی سوچا ہے کہ میری قربانی ضائع نہیں ہو گی اور آج میں یہ ساری ادائیگی کر رہی ہوں ۔ تو لوکل مشنری کہتے ہیں کہ وہیں کھڑے تھے کہ اس دوران میں ہی اس عورت کو ان کے بیٹے کا فون آیا کہ میرے پاس کچھ چیزیں ہیں آپ کو دینے کے لیے کہ آپ فلاں جگہ میرے پاس آ جائیں اور لے جائیں ۔ اپنے بیٹے کوملنے گئی ہیں تو بیٹے نے انہیں پانچ لاکھ فرانک دیتے ہوئے کہا یہ گھر کے اخراجات کے لیے ہے۔ خاتون خوشی خوشی واپس آئیں اور واپس آکر یہ بات بتانی شروع کی کہ اتنے میں دوبارہ فون کی گھنٹی بجی۔ ایک دوسرے بیٹے نے جو دوسرے شہر میں رہتا تھا اس نے کہا کہ میں یہاں قریب ہی کھڑا ہوں اور کہیں جا رہا ہوں اس لیے آنہیں سکتا آپ میرے پاس آ جائیں میرے پاس آپ کے لیے ایک تحفہ ہے۔ جب وہ ملنے گئیں تو اس نے بھی تین لاکھ فرانک اپنی ماں کو دیے کہ یہ گھر کے اخراجات کے لیے ہیں ۔ خاتون نے واپس آ کر بتایا اور کہا کہ یہ صرف مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہی نہیں ہوا بلکہ میرے ایمان میں بھی ترقی ہوئی ہے اور میرا یقین مضبوط ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح جماعت کی خاطر قربانی کرنے کی وجہ سے مجھے نوازا ہے۔ میں اس بات سے یہ سمجھتی ہوں کہ جماعت یقینا ًحق پر ہے ۔اللہ تعالیٰ ایمانوں کو بھی مضبوط کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہم جو قربانی کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں ضرور قبول ہے۔ کہتی ہیں میں نے تو ایک لاکھ دیا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑھا کر کئی گنا دے دیا۔

پھر قازقستان کے شہر اکتاؤ (Aktau) کے ایک مخلص دوست علی بیک صاحب کا واقعہ ہے۔ بڑے باقاعدہ ہیں چندہ دینے میں۔ ہر مہینے وقت پر چندہ ادا کرتے ہیں ۔ کچھ عرصہ سے مجبوری کی وجہ سے چندہ نہیں دے پا رہے تھے یہاں تک کہ لازمی چندہ اور وقف جدید کا سال ختم ہونے پر اس کا چندہ بھی ادا نہیں کر سکے۔ بڑے پریشان تھے۔ ایک دن جمعہ کی نمازکے بعد خود ہی کہنے لگے کہ قرض بہت چڑھ گیا ہےجس کی وجہ سے بینک نے اکاؤنٹ ہی بند کر دیا تھا اور اسی وجہ سے میں چندہ بھی نہیں دے پا رہا۔ دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن جس کمپنی میں کام کرتا ہوں وہاں کے افسر نے ہمیں ایک اچھی رقم بطور بونس دی جس کا ہم ایک سال سے انتظار کر رہے تھے لیکن اس کے ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ بہرحال رقم مل گئی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے قرض بھی اتر گیا اور چندے کا بقایا بھی ادا کر دیا۔ علی بیک صاحب کہتے ہیں کہ میرا یہ پختہ یقین ہے کہ یہ فضل محض اس وجہ سے ہوا کہ میں اپنا چندہ ادا کر سکوں ۔

اللہ تعالیٰ کے ادھار نہ رکھنے اور غیر متوقع طور پر دینے کا ایک اور واقعہ

آسٹریلیا کے امیر صاحب نے لکھا ہے۔ اب یہ ایک جیسے ہی واقعات مختلف ملکوں کے واقعات ہیں۔ امیر صاحب کہتے ہیں کہ گولڈ کوسٹ کے ایک دوست ہیں جنہوں نے اپنا وقف جدید کا چندہ ایک ہزار ڈالر ادا کر دیا تھا۔ کہتے ہیں کہ میں نے انہیں توجہ دلائی اور کہا کہ اس تحریک میں مزید مالی قربانی پیش کریں ۔ عموماً بہت خوشحال تو نہیں لیکن درمیانے درجے کے جو خوشحال لوگ ہیں وہ بھی اتنی قربانی نہیں کرتے لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو قربانی کرتے بھی ہیں جیسا کہ انہوں نے کی۔ کہتے ہیں گو کہ غریبوں کی نسبت ان کا معیار وہ نہیں ہوتا لیکن پھر بھی اچھی قربانی کر جاتے ہیں ۔ بہرحال یہاںبہتر معاشی حالات میں رہنے والوں کا واقعہ بھی میں بیان کر رہا ہوں جو کہ جماعت کی خاطر قربانیاں کرتے ہیں ۔ اس دوست نے ایک ہزار ڈالر کا وعدہ کیا تھا اور ادا بھی کر دیا تھا۔ جب ان کو توجہ دلائی کہ مزید قربانی کریں تو انہوں نے چھ ہزار ڈالر مزید پیش کر دیے ۔چھ گنا بڑھا دیا اور اس طرح مجموعی طور پر سات ہزار ڈالر کی ادائیگی کر دی۔ اگلے دن ہی ان کی کال آئی اور بتایا کہ میری اہلیہ کو انشورنس کمپنی کی طرف سے ایک فون کال موصول ہوئی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ انشورنس کلیم جو ایک پراسیس میں تھا جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا و ہ ہمیں مل گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہمیں بارہ ہزار ڈالر کی رقم refund کی صورت میں مل گئی ہے۔ وہ دوست کہتے ہیں کہ میں نے چھ ہزار کی قربانی کی تھی اللہ تعالیٰ نے دو دن میں ہی دوگنی کر کے مجھے رقم لوٹا دی اور ایسے ذریعہ سے لوٹائی جہاں سے کوئی امید اور توقع نہیں تھی۔

پھر گنی بساؤ کے مبلغ غیر متوقع طور پر اللہ کی مدد کا نظارہ بیان کرتے ہوئے ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک مخلص احمدی ابوثانیہ صاحب ملک سے باہر تھے۔ بہت عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں کوئی مناسب ملازمت نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے وہ مالی دباؤ کا شکار تھے۔ پردیس میں انسان ہو، ملازمت نہ ہو ،مالی دباؤ ہو تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے ؟اور اس وقت اس کے ہاتھ میں اگر کوئی مال آئے تو اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اور اپنے پر خرچ کرتا ہے لیکن ان مخلصین کا حال دیکھیں کہتے ہیں کہ اسی دوران جماعت کی طرف سے چندے کی تحریک کی گئی۔ چنانچہ اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے ابوثانیہ نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی پیش کی اور جو کچھ تھا وہ دے دیا۔ اگرچہ اس وقت ان کے پاس خاص رقم بھی نہیں تھی اور وہی جو تھی وہ ان کی محبوب ترین تھی لیکن انہوں نے اسے اللہ کے راستے میں دے دیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی کو بہت جلد قبول کر لیا۔ چندے کی ادائیگی کو ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ ایک کمپنی کی طرف سے انہیں فون کال موصول ہوئی کہ انہیں بغیر کسی انٹرویو کے ملازمت پر رکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے درخواست دی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا انٹرویو کی ضرورت نہیں آ جاؤ۔ اس لیے وہ اپنے کام پر آ جائیں ۔ ابوثانیہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کی گئی قربانی کی برکت ہے اور اس کے وعدہ نصرت کی عملی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑھا کر دیتا ہے اور پھر غیر متوقع طور پر اس طرح دیا جس کی انہیں توقع بھی نہیں تھی۔

رشیا کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ اکرام جان صاحب ایک مخلص دوست ہیں۔ کہتے ہیں گذشتہ مہینے انہوں نے اپنا چندہ بھجوایا اور بڑے جذباتی رنگ میں بیان کیا کہ گذشتہ دو ماہ سے چندہ ادا نہیں کر سکاتھا اور بڑا فکر مند تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی سے محروم ہوں ۔اب دیکھیں یہ نئے احمدی ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے ہیں لیکن کتنی فکر ہے کہ ہم نے مالی قربانیاں کرنی ہیں کیونکہ ان کو یقین ہے کہ اسی سے ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل ہونے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ میں بہت دعا کر رہا تھا۔ لوگ اپنے کاروباروں کے لیے دعائیں کرتے ہیں لیکن ان کو اگر فکر تھی، مال کی فکر تھی تو اس لیے تھی کہ میں چندہ ادا کروں ۔ بہرحال کہتے ہیں میں نے بہت دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری مدد فرمائے تا کہ میں اس سعادت سے پیچھے نہ رہ جاؤں اور اللہ کی راہ میں قربانی کرنے سے محروم نہ رہ جاؤں ۔ ایک روز دفتر جاتے ہوئے راستے میں پھر خدا کے حضور بہت دعا کی کہ میری تنخواہ مجھے جلد مل جائے تاکہ میں چندہ ادا کر سکوں ۔ وہاں حالات بھی ایسے ہیں کہ تنخواہیں بھی رک جاتی ہیں۔ بہرحال کہتے ہیں دفتر پہنچا تو غیر متوقع طور پر مجھے اسی روز تنخواہ مل گئی اور میں نے فوری طور پر اپنا چندہ ادا کیا اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ میں قربانی سے محروم نہیں رہا۔

انڈیا سے وہاں کے انسپکٹر وقف جدید لکھتے ہیں کہ ایک جماعت جکور میں ایک صاحب ہیں وہ ان کے پاس گئے۔ ان کا سولہ ہزار روپے چندہ وقف جدید بقایا تھا ۔انہوں نے اپنی ایک بہت ضروری قسط کسی کام پر ادا کرنی تھی جس کے لیے انہوں نے یہ رقم رکھی ہوئی تھی۔ ہمارے پہنچنے پر انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی EMI کی جو قسط دینی ہے وہ تو دیکھی جائے گی وہی میں نے ادا کرنی ہے بعد میں ادا کر دوں گا اب چونکہ میرا بقایا ہے اور آپ لوگ میرے پاس آ بھی گئے ہیں تو پہلے میں آپ کو چندہ کا بقایا ادا کرتا ہوں۔ ہم نے ان سے کہا کہ آپ مشکل حالات میں ہیں۔ اس وقت آپ نصف ادا کر دیں باقی بعد میں دے دیں ۔ موصوف نے جواب دیا کہ پہلے اللہ تعالیٰ کے لیے نکالنا ہے باقی معاملات اللہ تعالیٰ بہتر کر دے گا۔ ان شاءاللہ۔ اگر میں تقویٰ سے کام لے رہا ہوں اور اللہ پر توکّل کر رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ بہتر سامان پیدا کر دے گا۔ بعد میں انہوں نے فون پہ ان کو اطلاع دی کہ ایک رقم جو کافی عرصہ سے رکی ہوئی تھی اور امیدنہیں تھی کہ وہ مجھے اتنی جلدی مل جائے گی وہ اچانک مل گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے چندے کی برکت سے سارے کام پورے کر دیے ۔میرے ایمان میں بھی اضافہ ہوا اور میں نے دیکھا کہ قربانی کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کیسا سلوک ہے۔

گوادے لوپ ساؤتھ امریکہ کا ایک ملک ہے۔ وہاں ایک نوجوان نومبائع جرمی ڈیڈنز (Jermy Dedans) ہیں۔ ان کی عمر اٹھائیس سال ہے۔ ابھی طالبعلم ہیں ۔ پڑھائی کے ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی کرتے ہیں۔ غریب ملک ہے۔ ان کو وقف جدید کی اہمیت اور برکات سے آگاہ کیا گیا۔ عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ جو نومبائع ہیں ان کو چندہ کی عادت ڈالنے کے لیے وقف جدید اور تحریک جدید میں شامل کیا جائے، اس کی طرف توجہ دلائی جائے۔ جب ان کو بتایا گیا تو وہ کہنے لگے کہ میری خواہش ہے کہ میں اس میں شامل ہو جاؤں لیکن ابھی میرے پاس بالکل بھی پیسے نہیں ہیں اور یہ بھی نہیں جانتا کہ مہینہ کیسے گزارنا ہے ۔اب ایسی حالت میں خواہش رکھنا جبکہ ہاتھ میں کچھ بھی نہ ہو اور پتہ بھی نہ ہو کہ مہینہ کیسے گزرے گا بہت مشکل کام ہے اور اگر آدمی کے پاس رقم آ جائے تو پہلے اپنے اوپر خرچ کرتا ہے لیکن ایمان لانے کے بعد ان لوگوں کے عجیب رویّے ہیں ۔ مبلغ نے ان کو کہا کہ آپ سٹوڈنٹ ہیں۔ زیادہ بڑی قربانی کی ضرورت نہیں ہے۔ بےشک ایک یا دو یورو دے دیں جتنی آپ کی توفیق ہے۔ اللہ تعالیٰ تو نیتوں کے مطابق ثواب دیتا ہے ۔چنانچہ کہتے ہیں کہ ایک ہفتے کے بعد وہ مشن ہاؤس آئے اور ایک سو ساٹھ یورو چندہ وقف جدید ادا کر دیا۔ کہنے لگے کہ جس دن وقف جدید کی قربانی کا ارادہ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اسی ہفتے میرے اموال میں برکت ڈال دی۔ جہاں میں پارٹ ٹائم جاب کر رہا تھا انہوں نے مجھے میری تنخواہ وقت سے پہلےدے دی اور زیادہ بھی دی۔ اب بلا وجہ زیادہ دے دی۔ کہتے ہیں مجھے خود نہیں سمجھ آئی کہ کیوں زیادہ دی ہے۔ پھر کچھ دن بعد دوبارہ بتایا کہ ایک اَور معجزہ ہوا ہے۔ کہتے ہیں جس دن میں نے ایک سو ساٹھ یورو ادا کیے تو میری خواہش تھی کہ مزید ادا کروں لیکن گنجائش نہیں تھی لیکن چندہ دینے کے کچھ دن بعد ہی غیر متوقع طور پر کافی اچھی رقم مل گئی۔ میں نے ایک ٹریننگ سینٹر سے کچھ پیسے وصول کرنے تھے جو باوجود کئی مرتبہ کہنے کے نہیں مل رہے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے چندے کی برکت سے میری وہ رقم بھی دلا دی۔چنانچہ موصوف نے مزید ایک سو چالیس وقف جدید میں ادا کر دیے تھے۔

کہاں تو یہ حالت ہے کہ فاقے کی زندگی گزر رہی ہے کہاں یہ حالت ہے کہ تین سو یورو چندہ بھی دےد یا۔ اسی طرح اور بھی بہت سارے واقعات ہیں ۔ بعض لوگوں کو غیر معمولی طور پر رقمیں مل گئیں ۔

قرغیزستان جماعت سے یولیا گوانوا (Yulia Govanova) صاحبہ کہتی ہیں کہ میں جہاں کام کرتی ہوں میں نے ان سے پوچھا کہ میری تنخواہ میں اضافہ ممکن ہے؟ توا نہوں نے مجھے بتایا کہ صرف بونس کی صورت میں ممکن ہے اور معلوم نہیں کہ بونس کتنا ملے گا۔ بہرحال کہتی ہیں اکتوبر کے مہینے میں جیسے ہی مجھے تنخواہ کا کچھ حصہ ملا تو سب سے پہلے میں نے اپنا وقف جدید کا چندہ ادا کر دیا اگرچہ ہمارے اپنے بہت زیادہ اخراجات تھے۔ یہیں تو اللہ تعالیٰ سے وعدے کی نشانی بھی ملتی ہے کہ اصل قربانی تو یہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کی نشانی ہے کہ جس چیز کو تم محبوب رکھتے ہو اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اس وقت ان کو یہ رقم محبوب تھی کیونکہ اس کی انہیں ضرورت تھی اور بہت سارے اخراجات تھے لیکن کہتی ہیں کہ سب سے پہلے میرے لیے ضروری تھا کہ جماعت سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کروں ۔ عین اسی مہینے کے آخر میں مجھے بتایا گیا کہ میری تنخواہ میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کے علاوہ میں کام کے معیار کے لحاظ سے ایک اضافی بونس بھی حاصل کر سکتی ہوں ۔ میں بہت حیران ہوئی کیونکہ مجھے بالکل توقع نہیں تھی کہ تنخواہ میں اتنا زیادہ اضافہ کر سکتے ہیں ۔ ایک دن قبل ہی اخراجات کا حساب کرتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ تنخواہ میں تقریباً اسی قدر رقم مزید ہونا ضروری ہے جو مجھے ملی ہے۔ میں پہلے وقف جدید کا چندہ ادا کر چکی تھی لیکن ان اخراجات میں جو کمی آ رہی تھی وہ اس اضافے سے پوری ہو گئی۔ کہتی ہیں میں اللہ کا بہت شکر کرتی ہوں اور اس بات پر مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو غیر معمولی فضل فرمایا ہے، جو غیر متوقع تھا وہ چندے کی برکت سے ہوا۔ کہتی ہیں میں ایک اور بات بھی بتا دوں کہ میرا ایک اَور کاروبار تھا جس کو کچھ عرصہ سے مَیں چلا رہی تھی لیکن اس میں کوئی ترقی نہیں ہو رہی تھی لیکن اس سال نومبر میں کہتی ہیں کہ اپنا وعدہ ادا کیا تو وعدہ پورا کرنے کے بعد دسمبر میں اس کاروبار میں میرا منافع دوگنا ہو گیا۔

اسی طرح انڈونیشیا سے بانڈونگ (Bandung) جماعت کی ایک ممبر رَحْمَہ صاحبہ ہیں۔ انڈونیشیا کی نیشنل میڈیا میں فری لانس رائٹر ہیں ۔ پڑھی لکھی خاتون ہیں ۔ کہتی ہیں اسی کام سے میں اپنی ضروریات پوری کرتی ہوں ۔ اس سال مضامین کے مسترد ہونے اور کتابوں کی کم فروخت کی وجہ سے میں اپنا وقف جدید کا وعدہ پورا نہیں کر سکی جس پر میں سخت بے چین اور اضطراب کا شکار تھی۔ میں نے اللہ پر توکّل کرتے ہوئے اپنی جمع پونجی سے کچھ بقایا جات ادا کیے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ! سب کچھ تیرا ہی ہے۔ تُو میرے دل سے یہ فکر دور کر دے کہ خرچ کس طرح پورے ہوں گے۔ ابھی میں نے نماز پڑھنے کے بعد جائے نماز بھی نہیں سمیٹی تھی کہ ایک دوست کا فون آیا جسے ارجنٹ (urgent)ترجمہ کے لیے میری مدد درکار تھی ۔چنانچہ کام مکمل ہونے پر اس دوست نے مجھے ایک لفافہ دیا جس میں موجود رقم بالکل اتنی ہی تھی جتنی مجھے وقف جدید کا وعدہ پورا کرنے کے لیے ضرورت تھی۔ میں نے اسی وقت وہ رقم وقف جدید میں ادا کر دی۔ پھر اللہ تعالیٰ کا فضل کچھ اس طرح ہوا کہ مَیں نے جو ایک کتاب لکھی تھی اس کے بارے میں مجھے ایڈیٹر کا پیغام ملا کہ میری کتاب بین الاقوامی سطح پر قبول کر لی گئی ہے ۔اور اب مجھے دس فیصد کی بجائے تیس فیصد رائلٹی ملے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میری قربانی کی برکت سے میرے بیٹے کے لیے میڈیکل کالج میں داخلے کی راہ بھی ہموار کر دی جو بظاہر ناممکن تھی۔ موصوفہ کہتی ہیں کہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب سے میں نے اپنی آمدنی میں سے سب سے پہلے چندہ جات کی رقم الگ کرنا شروع کی ہے اللہ تعالیٰ میرے تمام دنیاوی معاملات خود ہی حل فرماتا چلا جاتا ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کس طرح اللہ تعالیٰ پورا فرماتا ہے۔

اب میں بعض واقعات چھوڑتا ہوں اور وقف جدید کی اس سال کی کارگزاری بیان کردیتا ہوں یعنی جماعتوں کی طرف سے وصولیوں کی رپورٹیں جو آئی ہیں گو کہ رپورٹس پوری نہیں ہوتیں۔ آجکل کے حالات کے مطابق افریقہ میں خاص طور پر وہاں سے پوری طرح رپورٹیں نہیں آ سکتیں لیکن پھر بھی جو آئی ہیں وہ پیش کر دیتا ہوں ۔

وقف جدید کا یہ انہترواں (69)سال ہے۔ اٹھاسٹھواں (68) سال اختتام کو پہنچا اور نیا سال شروع ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قریباً 14 اعشاریہ نو سات (97) ملین یا تقریباً پندرہ ملین پاؤنڈ کی رقم لوگوں نے قربانی کی ہے گذشتہ سال کی نسبت یہ ایک اعشاریہ تین ملین پاؤنڈ زیادہ ہے الحمد للہ۔

کینیڈا اور برطانیہ جو ہیں اول اور دوم ہیں۔

برطانیہ نے اس سال مجموعی طور پر تو اوّل پوزیشن حاصل کی ہے لیکن کینیڈا نے بڑی کوشش کی ہے اور تقریباً وہ برطانیہ کے قریب ہی پہنچ گئے ہیں اوراس سال نمبر دو پہ آئے ہیں ۔ نمبر تین پہ جرمنی ہے ۔نمبر چار پہ امریکہ ہے۔ نمبر پانچ پہ بھارت ۔پھر آسٹریلیا۔پھر مڈل ایسٹ کی ایک جماعت ہے ۔پھر انڈونیشیا ہے۔پھر مڈل ایسٹ کی ایک جماعت ہے۔پھر دسویں نمبر پہ بیلجیم ہے۔

افریقہ میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے جو پہلی دس پوزیشنوں پہ جماعتیں ہیں، ملک ہیں ان کے نام اسی ترتیب کے حساب سے پڑھ دیتا ہوں۔ گھانا نمبر ایک۔پھر ماریشس،برکینا فاسو، تنزانیہ، نائیجیریا، لائبیریا، گیمبیا، سیرالیون، بینن، مالی ۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے

شاملین کی تعداد بھی پندرہ لاکھ سے زیادہ ہے۔

اس میں زیادہ کوشش کرنے والوں میں نائیجیریا۔ نائیجر۔ گیمبیا۔ گنی بساؤ۔ کانگو برازاویل ۔ آئیوری کوسٹ۔ سینٹرل افریقہ۔ کانگوکنشا سا۔یہ زیادہ قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے لوگوں کوشامل کرنے میںکافی کوشش کی ہے ۔

مجموعی وصولی کے لحاظ سے برطانیہ کی دس بڑی جماعتیں

جو ہیں ان میں نمبر ایک اسلام آباد ۔نمبر دو ووسٹر پارک (Worcester Park)۔نمبر تین ایش (Ash)۔ پھر وال سال (Walsall)۔ پھر آلڈر شاٹ ساؤتھ (Aldershot South)۔ فارنہم نارتھ (Farnham North)۔ پھر بورڈن (Bordon)، فارنہم ساؤتھ (Farnham South)، جلنگھم(Gillingham)پھر آلڈر شاٹ نارتھ (Aldershot North)

پانچ ریجن جو ہیں ان میں بھی نمبر ایک پہ اسلام آباد ہے۔پھر بیت الفتوح ہے ۔پھر مسجد فضل ۔پھر بیت الاحسان۔ پھر ویسٹ مڈلینڈز(West Midlands)۔

دفتر اطفال کا کیونکہ وقف جدید کا علیحدہ حساب ہوتا ہے اس میں بھی جو پوزیشن آئی ہےآلڈرشاٹ ساؤتھ (Aldershot South) نمبر ایک پہ ہے۔پھر آلڈر شاٹ نارتھ (Aldershot North)۔پھربورڈن (Bordon)۔پھر ایش (Ash)۔ چیم ساؤتھ (Cheam South)۔ فارنہم ساؤتھ (Farnham South)۔اسلام آباد ، روہیمپٹن ویل(Roehampton Vale)۔ مچم پارک(Mitcham Park)،وال سال(Walsall)

ٹوٹل پوزیشن میں نمبر دو پہ کینیڈا تھا۔ اس لحاظ سے کینیڈا کی جماعتوں

میں وان (Vaughan) نمبر ایک پہ ہے۔پھر پیس ولیج(Peace Village)۔ پھر کیلگری (Calgary)۔ پھر بریمپٹن ویسٹ (Brampton West)۔ وینکوور (Vancouver)۔ ٹورنٹو ویسٹ (Toronto West)۔ مسی ساگا (Mississauga)۔ برمپٹن ایسٹ (Brampton East) اور ٹورنٹو (Toronto)۔

کینیڈا کی دس بڑی جماعتیں جو ہیں ان میں ہملٹن (Hamilton) نمبر ایک پہ۔پھر ایڈمنٹن ویسٹ (Edmonton West)۔ حدیقہ احمد۔ ہملٹن ماؤنٹین (Hamilton Mountain)۔ آٹوا ویسٹ(Ottawa West)۔ رجائنا (Regina)۔ ایئرڈری (Airdrie)۔ انسفیل (Innisfil) اور ووڈ ریئل (Vaudreuil) اور سَڈبری (Sudbury)۔

ان کے اطفال میں امارتیں وان (Vaughan) نمبر ایک پہ ہیں۔ پھر ٹورنٹو ویسٹ (Toronto West)۔ پھر پیس ولیج (Peace Village)۔ کیلگری (Calgary)۔ برمپٹن ویسٹ (Brampton West)۔ برمپٹن ایسٹ (Brampton East)۔ وینکوور (Vancouver)۔ مسی ساگا (Mississauga)۔ ٹورنٹو(Toronto)۔

اور اطفال میں نمایاں جماعتوں میں ہیں: حدیقہ احمد نمبر ایک پہ، لنڈن ساؤتھ (London South)، ہملٹن (Hamilton)۔ وہاں کینیڈا میں بھی ایک لنڈن ہے ۔ ہملٹن نمبر تین، انسفل (Innisfil)، مونٹریال ویسٹ (Montreal West)۔ بیت الاحسان، سسکاٹون ساؤتھ ویسٹ (Saskatoon South West)۔ ڈرہم ایسٹ (Durham East)۔ ووڈ سٹاک (Woodstock)۔ ایبٹس فورڈ (Abbotsford)۔ برلنگٹن(Burlington)۔

جرمنی کی پانچ لوکل جماعتیں جو ہیں ان میں ہیمبرگ (Hamburg) نمبر ایک پہ ہے ۔فرینکفرٹ (Frankfurt) نمبر دو۔ ویزبادن (Wiesbaden) ۔پھر ریڈشٹڈ (Riedstadt) ۔پھر گراس گراؤ (Gross Gerau)

اور دس جماعتیں جو ہیں۔ پہلے پانچ لوکل امارات تھیں۔ اور جو دس جماعتیں ہیں وہ یہ ہیں ۔ روڈگاؤ (Rodgau)۔ نیدا (Nidda)۔ نوئے ویڈ (Neuwied)۔ روئیڈر مارک (Rödermark)۔ وائن گارٹن (Weingarten)۔ فلورس ہائیم (Florsheim)۔ برلن (Berlin)۔ کوبلنز(Koblenz)۔ مہدی آباد۔ پنے برگ (Pinneberg)۔

اطفال میں پانچ ریجن جو ہیں ان میں ویزبادن (Wiesbaden) نمبر ایک پہ۔ ہیمبرگ (Hamburg)۔ ہیسن ساؤتھ ایسٹ (Hessen South East)۔ مَن ہائم (Mannheim)۔ ویسٹ فالن (Westfalen)۔

امریکہ کی دس جماعتیں جو ہیں ان میں نارتھ ورجینیا (North Virginia) نمبر ایک پہ۔ میری لینڈ (Maryland)۔پھر لاس اینجلس (Los Angeles)۔ شکاگو (Chicago)۔ سیئٹل (Seattle)۔ سلیکون ویلی (Silicon Valley)۔ ڈیلس (Dallas)۔ ڈیٹرائٹ (Detroit)۔ ساؤتھ ورجینیا (South Virginia)۔ جارجیا کیرولائنا (Georgia Carolina)۔

اطفال میں میری لینڈ (Maryland) نمبر ایک پہ ۔ ایلبنی (Albany)۔ لاس اینجلس (Los Angeles)۔ نارتھ ورجینیا (North Virginia)۔ سیئٹل (Seattle)۔ شکاگو (Chicago)۔ جارجیا کرولائنا (Georgia Carolina)۔ ڈیلس (Dallas)۔ اوش کوش (Oshkosh)۔ ہیوسٹن (Houston)۔

پاکستان کی بھی پوزیشن ہے ۔ویسے جو ٹوٹل پوزیشن لی ہے وہ تو پانچویں بنتی ہے کیونکہ کرنسی کی قیمت وہاں بہت کم ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود

پاکستان میں باوجود نامساعد حالات کے قربانیوں کا معیار اللہ کے فضل سے بہت بلند ہوا ہے۔

پاکستان میں اوّل نمبر پہ لاہور ہے۔پھر دوسرے نمبر پہ ربوہ ۔تیسرے پہ کراچی ۔

اور چندہ بالغان میں بالترتیب اضلاع کی پوزیشن یہ ہے۔ اسلام آباد پہلا ۔پھر فیصل آباد۔ پھر راولپنڈی۔ گجرات۔ سرگودھا۔ عمر کوٹ۔ ملتان۔ نارووال۔میرپور خاص۔ڈیرہ غازی خان۔

پہلی دس جماعتیں جو ہیں ان میں اسلام آباد شہر نمبر ایک پہ۔ پھر ٹاؤن شپ لاہور ۔ پھر ڈیفنس لاہور۔ پھر دارالذکر لاہور۔ سمن آباد لاہور۔ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور۔ بیت الفضل فیصل آباد۔ مغل پورہ لاہور۔ ملتان شہر۔ دہلی گیٹ لاہور۔

اطفال میں پاکستان کی جماعتوں کا جو مقابلہ ہے

ان میں نمبر ایک پہ لاہور۔نمبر دو پہ ربوہ ۔نمبر تین پہ کراچی

اور اضلاع کی پوزیشن ان کی یہ ہے اسلام آباد نمبر ایک۔فیصل آباد نمبر دو۔نارووال۔راولپنڈی۔ عمرکوٹ۔ سرگودھا۔ گجرات۔ میر پور خاص۔ لیہ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ۔

بھارت کی صوبہ جات میں جو پوزیشن ہے ان میں کیرالہ نمبرا یک پہ ہے۔تامل ناڈو۔ جموں کشمیر۔ تلنگانہ۔ کرناٹکا۔اڈیشہ۔پنجاب۔ ویسٹ بنگال۔ مہاراشٹرا۔اترپردیش۔

اور دس جماعتیں جو ہیں ان میں سے یہ ہیں کوئمبتور نمبر ایک پہ۔پھر حیدرآباد۔پھر قادیان۔پھر کالی کٹ۔ میلاپلا یام (Melapalayam)۔ بنگلور۔ منجیری۔ کولکتہ۔کیرنگ۔کیرولائی۔

وصولی کے لحاظ سے آسٹریلیا کی دس جماعتیں جو ہیں وہ ملبرن لانگ وارِن (Melbourne Langwarrin)۔ مارسڈن پارک (Marsden Park)۔ کاسل ہل(Castle Hill)۔ ملبرن بیروک (Melbourne Berwick)۔ ملبرن کلائیڈ (Melbourne Clyde)۔ پینرتھ(Penrith)۔ پرتھ (Perth)۔ ملبرن ویسٹ(Melbourne West)۔لوگن ایسٹ (Logan East)۔ میلبرن ایسٹ (Melbourne East) ہیں۔

اور بالغان میں ان کی جماعتیں یہ ہیں۔ ملبرن لانگ وارِن (Melbourne Langwarrin)۔مارسڈن پارک (Marsden Park)۔ کاسل ہل (Castle Hill)۔ملبرن بیروک (Melbourne Berwick)۔ ملبرن کلائیڈ (Melbourne Clyde)۔ پینرتھ(Penrith)۔ ملبرن ایسٹ (Melbourne East)۔پرتھ (Perth)۔ ملبرن ویسٹ (Melbourne West)۔ ایڈیلیڈ ویسٹ (Adelaide West)۔

اطفال میں ان لوگوں کی پوزیشن یہ ہے۔ نمبر ایک پہ لوگن ایسٹ (Logan East) ۔پھر ملبرن لانگ وارن (Melbourne Langwarrin)۔ ایڈیلیڈ ساؤتھ (Adelaide South)۔ ملبرن ویسٹ (Melbourne West)۔ لوگن ویسٹ (Logan West)۔ ملبرن بیروک (Melbourne Berwick)۔ کاسل ہل (Castle Hill)۔ پرتھ (Perth) اور پلمپٹن (Plumpton)۔ پھر پینرتھ (Penrith)۔

اللہ تعالیٰ ان سب قربانی کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔

بعض جماعتوں کے نام میں اس لیے پڑھ دیتا ہوں کہ ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ہماری کیا پوزیشن ہے ہمیں بتایا جائے اس لیے روایت کے مطابق پڑھا جاتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ

’’میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ جو شخص سچے دل سے خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اپنا مال صرف اس مال کو نہیں سمجھتا جو اس کے صندوق میں بند ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے تمام خزائن کو اپنے خزائن سمجھتا ہے اور امساک اس سے اس طرح دور ہو جاتا ہے‘‘ یعنی کنجوسی اس سے دور ہو جاتی ہے ’’جیسا کہ روشنی سے تاریکی دور ہو جاتی ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد3صفحہ324)

پس یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔ ہم نے تجربہ بھی کیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کو نوازتا چلا جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہی سارے خزانے ہیں ۔

حدیث میں بھی آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہی سارے خزانے ہیں وہ آخری جہان میں ان سے نوازے گا لیکن اس دنیا میں بھی نوازتا چلا جائے گا۔ یہی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی فرمایا ہے۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ہمیں نواز رہا ہے اور لوگ اس کے تجربے بھی کر رہے ہیں کچھ واقعات میں نے سنائے بھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہاں مالی قربانیوں کی توفیق آئندہ دیتا رہے وہاں ہمارے ایمان اور یقین میں بھی اضافہ کرتا چلا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں