محترمہ امۃالکریم سیٹھی صاحبہ
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 26؍جنوری2026ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍مارچ 2014ء میں مکرمہ ص۔مظہر صاحبہ کے قلم سے اُن کی والدہ محترمہ امۃالکریم سیٹھی صاحبہ کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
آپ 3؍مارچ1947ء کو ایک فدائی احمدی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے چچا مکرم عبدالرشید احمد بٹ صاحب کو 1974ء کے فسادات میں شہید کردیا گیا تھا جبکہ والد مکرم عبدالحمید صاحب آف کنڈیارو (سندھ) 1981ء میں مخالفینِ احمدیت کے قاتلانہ حملہ میں شدید زخمی ہوگئے۔ آپ کی شادی مکرم منظورالحق سیٹھی صاحب آف جہلم سے ہوئی جو حضرت میاں محمد ابراہیم صاحبؓ جہلمی (یکے از313؍کبار صحابہؓ) کے پوتے اور مکرم عبدالحق سیٹھی صاحب کے بیٹے تھے۔
امی جان کی والدہ اُس وقت وفات پاگئی تھیں جب بچے چھوٹے تھے۔ اس کے بعد امی نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھا اور انہیں بہت پیار دیا۔ پھر ہمارے دادا جان اور دادی جان بھی جہلم سے ہمارے ہاں آگئے تو امی نے اُن کی بھی بہت خدمت کی۔
مرحومہ بہت نیک، تہجدگزار، روزانہ بےشمار نوافل ادا کرنے والی، دعاؤں اور تسبیحات میں مشغول رہنے والی خاتون تھیں۔ مسجد میں سب سے پہلے پہنچنا اور آخر پر باہر آنا معمول تھا۔ کثرت سے نفلی روزے رکھتیں۔ رمضان میں باقاعدہ روزے رکھتیں، تراویح پڑھ کر سو جاتیں اور بارہ بجے اُٹھ کر پھر نوافل اور تلاوت قرآن کریم میں مصروف رہتیں۔ کئی دَور ہر رمضان میں مکمل کرتیں۔ خود بھی ترجمے کے ساتھ سمجھ سمجھ کر قرآن کریم پڑھتیں اور دوسروں کو بھی اس کی نصیحت کرتیں۔
ہر مالی تحریک میں شامل ہوتیں۔ چندہ جات کی ادائیگی میں پہل کے علاوہ صدقات بھی کثرت سے کرتیں۔ غرباء کے لیے عیدی کے پیکٹ تیار کرواتیں۔ اپنے پاس آنے والی کسی ضرورتمند کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیا۔ گھر میں کام کرنے والیوں کا موسم کے مطابق بہت خیال رکھتیں۔ دو کام والیاں جو میری پیدائش سے پہلے سے ہیں، اُن کو نیچے نہیں بیٹھنے دیتی تھیں۔ وفات سے چند دن قبل ایک خادمہ کا نام لے کر کہا کہ اُس نے آج بہت کام کیا ہے اُسے دو انڈے ابال کر دودھ کے گلاس کے ساتھ دے آؤ۔
خلیفہ وقت سے بہت پیار کرتیں اور خطبات و خطابات بڑے غور سے سنتیں۔ خواہش تھی کہ ان کے سارے بچے واقفین زندگی ہوں۔ خود بھی خدمت دین میں ہمیشہ پیش پیش رہتیں۔ چندہ لینے کی ڈیوٹی لمبا عرصہ دی۔ دعوت الی اللہ ٹیم میں بھی شامل تھیں اور بڑے شوق سے تبلیغ کے لیے جایا کرتی تھیں۔
