محترم ثاقب زیروی صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل … ۲۰۲۶ء)

ثاقب زیروی صاحب

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 8؍مارچ 2014ء میں محترم ثاقب زیروی صاحب کا ذکرخیر اُن کی بھانجی مکرمہ نعیمہ سلہری صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم حکیم نظام جان صاحب نے ثاقب زیروی صاحب کی پیدائش سے قبل ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر حضرت امّاں جانؓ نے یہ بتائی ایک بچہ پیدا ہوگا جو فلاں فلاں خصوصیات کا حامل ہوگا۔ محترم ثاقب صاحب میں تمام خصوصیات نمایاں طور پر موجود تھیں۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میری پیدائش اکتوبر 1947ء میں سیالکوٹ میں ہوئی جہاں ہمارا گھرانہ ہجرت کے بعد عارضی طور پر قیام پذیر تھا۔ کچھ ہی عرصے بعد ٹیمپل روڈ لاہور کے ایک چھوٹے سے گھر میں حضرت مصلح موعودؓ کی اجازت اور دعاؤں سے ماموں جان نے لاہور رسالہ کا اجرا کردیا اور اس کی اوپر والی منزل میں اپنی فیملی کے ساتھ میری والدہ کی فیملی کو بھی بلالیا۔ مَیں نے اسی ماحول میں آنکھ کھولی۔ پاؤں چلتے چلتے لاہور کے دفتر میں پہنچ جاتے جہاں ماموں جان کے ساتھ ایک کاتب منشی لعل دین صاحب اور ایک قاصد چچا شریف موجود ہوتے۔ منشی صاحب کو قلم دوات سے لکھتا دیکھتے۔ وہ اپنی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے ہم بچوں کو ایک کاغذ پر قلم سے ا ب ج لکھ کر دیتے کہ بالکل اسی طرح کا لکھ کر لاؤ۔ مَیں ماموں جان سے پوچھتی کہ میرے لکھنے سے قلم سے ویسی چرچراہٹ کی آواز کیوں نہیں آتی جیسی منشی صاحب کے قلم سے لکھتے ہوئے آتی ہے۔ وہ کہتے کہ جب بالکل منشی صاحب جیسا لکھ سکوگی تو پھر یہ آواز آیا کرے گی۔ ہماری کوشش جاری رہتی۔
جب ہمیں پڑھنا آیا تو ماموں جان کے پاس آنے والے بچوں کے رسالے ہمارے حصے میں بھی آنے لگے۔ ماموں جان کہتے کہ چھوٹی سی کہانی لکھ کر دو گے تو لاہور رسالہ میں بچوں کے صفحہ پر چھپیں گی۔ جب کوئی کہانی نہ بنتی تو کسی رسالے میں سے ایک کہانی نقل کرکے دے دیتے۔ ماموں جان نے کبھی نہیں کہا کہ یہ نقل کرکے دی ہے۔ بلکہ فوراً ایک چھوٹی سی کہانی بناکر ہمارے نام سے چھاپ دیتے۔ ہمارا نام رسالہ میں چھپتا تو ہم خوشی سے پھولے نہ سماتے۔ پتہ ہی نہ چلا اور یہ خاموش تربیت سرایت کرتی چلی گئی۔
میرے نانا حضرت حکیم اللہ بخش خان صاحبؓ اور نانی عزیز بیگم صاحبہ کی بچوں کی عجیب تربیت تھی۔ ماموں جان کے ایک چھوٹے بھائی محمد بشیر زیروی صاحب اور بہن میری والدہ حفیظہ بیگم صاحبہ تھیں۔ ایک بڑے بھائی محمد اقبال عین عنفوانِ شباب میں وفات پاگئے تھے۔ ایک چھوٹی بہن فہمیدہ بھی کم سنی میں ہی فوت ہوگئی تھی۔ اپنے بہن بھائیوں سے آپ کا ایسا سلوک تھا کہ باپ معلوم دیتے تھے۔ چھوٹے بہن بھائی بھی بالکل بچوں کی طرح آخر دم تک اُن کی اطاعت کا دم بھرتے رہے۔ تینوں بہن بھائی اپنے والدین کے انتہائی فرمانبردار، نیک، تہجدگزار، احمدیت کے جاں نثار اور باہم گہری محبت رکھنے والے تھے۔ چنانچہ ٹیمپل روڈ پر ہی دو گھر چھوڑ کر جب ماموں جان کو ایک گھر الاٹ ہوا تو اُس میں آپ اپنے والدین، اپنی فیملی اور اپنے بھائی کی فیملی کے ساتھ منتقل ہوگئے۔ رسالے کا دفتر بیڈن روڈ پر ایک کرائے کے دفتر میں منتقل کردیا گیا۔ پرانے گھر اور دفتر میں میری والدہ رہنے لگیں۔
اُس زمانے میں ماموں جان پر ریڈیو پر تقاریر کرنے یا مشاعروں کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ اس کے نتیجے میں پھل اور تحائف ملتے تھے، کپڑوں کی مِل والے تھان بھی تحفے میں دیتے، ان سب چیزوں میں بہن اور بھائی کا بھی حصہ ہوتا۔ نامساعد حالات ہوئے تو بھی ماموں جان کو ہمیشہ شاندار دیکھا۔ کالی ٹوپی، اچکن اور کُھسّہ، سفید براق کپڑوں کے ساتھ۔ کتنی بھی مصروفیت ہو تو بھی عید پر ضرور تشریف لاتے اور حفظ مراتب کا خیال رکھتے ہوئے عیدی مرحمت فرماتے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی۔ بیٹی چند ماہ کی ہوکر انتقال کرگئی۔ سب بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ تربیت کے لیے زبانی نصیحت سے زیادہ خود اپنا نمونہ دکھانے کے قائل تھے۔ ممانی اقبال بیگم صاحبہ کچھ عرصے بعد ہی رعشہ کے مرض میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ اُن کے علاج کے لیے ماموں جان نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ علاج اور حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور اپنے کام سرانجام دینے کے قابل ہوگئیں۔
ماموں جان زندگی وقف تھے۔ اوڑھنا بچھونا جماعت تھا۔ کسی بھی وقت خلفائے کرام کی طرف سے بلاوا آتا تو پھر کوئی دوسرا خیال نہ آتا، فوراً چل پڑتے۔
آپ کے ہاں گھر پر شاعر بھی آتے، وکیل بھی، ڈاکٹر اور سیاستدان بھی، مذہبی شخصیات بھی۔ میرے خدا نے بھی میرے درویش ماموں کا ہمیشہ پردہ رکھا اور کبھی ان کا ہاتھ خالی نہیں دکھایا۔ بچوں کو نصیحتاً فرمایا کرتے تھے کہ ہم سرمایہ دار نہیں ہیں، ایک عزت کی پونجی ہے جو ساری زندگی کا سرمایہ ہے، اس کی حفاظت کرنا۔
مَیں نے ایم اے اسلامیات کرلیا تو لیکچرار بننے کی خواہش تھی۔ میرے والد لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے بہت حامی تھے اور پی ایچ ڈی کرنے کی طرف بھی مائل کرتے تھے۔ لیکن لاہور سے باہر ملازمت کے لیے کسی صورت تیار نہ تھے۔ ماموں جان تو سرے سے عورتوں کی ملازمت کے ہی خلاف تھے۔ میرے جنون کا یہ عالم تھا لمبی لمبی دعائیں کرتی کہ کسی مرکزی ادارے میں ہی کوئی انتظام ہوجائے۔ الحمدللہ کہ الفضل میں جامعہ نصرت برائے خواتین ربوہ میں اسلامیات کی لیکچرار کی آسامی خالی ہونے کا اشتہار نظر سے گزرا۔ فوراً اخبار ماموں جان کے سامنے رکھ دیا۔ وہ میرا اشتیاق بھانپ چکے تھے۔ اجازت بھی ملی اور حضرت چھوٹی آپا کو انہوں نے خط بھی لکھ دیا کہ میری بھانجی میں لکھنے پڑھنے کے جراثیم ہیں، اس سے کچھ کام لیں۔ چنانچہ میں ربوہ پہنچی تو حضرت چھوٹی آپا نے مجھے رسالہ مصباح میں ایڈیٹر کی نائبہ مقرر کردیا۔

ثاقب زیروی صاحب

جب میرا کوئی مضمون شائع ہوتا تو ماموں جان کا حوصلہ افزائی کا خط آتا اور مجھے لگتا کہ اس سے بہتر مضمون لکھا ہی نہیں گیا۔ پھر جامعہ نصرت کے اسلامیات نمبر کی تدوین بھی کی اور جلسہ سالانہ پر تقاریر کرنے کا موقع بھی ملا۔ درس و تدریس کے دوران قرآن کریم کا مکمل ترجمہ سیکھ جانا مرکز کی تربیت کا ہی نتیجہ تھا۔ سات سال مَیں نے وہاں پڑھایا۔ 1972ء میں کالج قومیائے گئے۔
1974ء کے ابتلا میں ماموں جان کو ہم نے انتہائی نڈر اور جرأت مند پایا۔ دوست احباب، غیرازجماعت رشتہ دار سب آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے چلے گئے، ریڈیو ٹی وی پر داخلہ بند ہوگیا، مشاعروں پر مدعو کرنا چھوڑ دیا گیا، ’’لاہور‘‘ رسالے پر مقدمات قائم ہونے لگے لیکن آپ کے پایہ ثبوت میںذرہ بھر لغزش نہ آئی۔ توکّل الٰہی، ثابت قدمی، ایمان کی پختگی، خلفائے احمدیت کے ساتھ عشق کی حد تک جاں نثاری کا چلتاپھرتا نمونہ تھے۔
31؍مارچ1975ء کو میرا نکاح اُن کے بڑے بیٹے طاہر محمود احمد زیروی کے ساتھ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے مسجد مبارک ربوہ میں پڑھایا۔ فروری 1976ء میں رخصتی ہوئی اور ایک ماہ بعد میرا تبادلہ لاہور ہوگیا۔ میرے والد کی وفات کے بعد ماموں جان نے کبھی مجھے باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ شادی کے بعد مَیں نے ایم اے اردو بھی کیا۔ انہوں نے ہر قدم پر میری مدد کی۔ علم و ادب کے قدردان تھے۔ کسی شعر سے لطف اٹھاتے اور سنانا چاہتے تو فوراً کہتے: چائے پلاؤ، دیکھو یہ شعر کس قدر خوبصورت ہے۔ کافی بڑی لائبریری تھی۔ ان کو کتاب دینے میں بالکل تأمل نہ تھا، بس پڑھنا شرط تھا۔
شادی کے بعد آپ نے پہلی نصیحت مجھے یہی کی کہ تمہاری والدہ کا گھر دو گھروں کے فرق سے ہے لیکن وہاں تک بھی پردے میں جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا عطا کیا۔ بچوں کی پیدائش پر آکر شہد چٹاتے، نام رکھتے، دعاؤں سے نوازتے اور خلیفہ وقت کی خدمت میں دعائیہ خط لکھتے۔ اپنے پوتے پوتیوں سے بہت محبت تھی۔ ان کی کامیابیوں پر خوش ہوتے اور انعام دیتے۔ بچوں کے رسائل ان کے لیے سنبھال کر رکھتے۔ بچے بیٹھے ہوتے تو کوئی تاریخی بات سمجھا دیتے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا ذکر تو ہر محفل میں ہی آجاتا۔
وہ ہمارے لیے ایک سائبان تھے، ہمیشہ میری غلطیوں پر چشم پوشی کی۔ 1996ء میں ان پر برین ہیمرج کا حملہ ہوا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی دردمندانہ تحریک پر تمام جماعت نے دعائیں بھی کیں۔ اللہ تعالیٰ نے شفا عطا فرمائی۔ ڈاکٹر جنرل محمودالحسن صاحب نے ان کے ہوش میں آنے پر ان کی یادداشت کا امتحان لینے کے لیے پوچھا کہ اپنا کوئی پسندیدہ شعر سنائیں۔ آپ نے سنایا ؎

رات کے پچھلے پہر جب اشک برساتا ہے دل
اشک کے ہر ایک قطرے میں نظر آتا ہے دل

اپنا تبصرہ بھیجیں