محترم ملک محمد اسلم صاحب
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ -2 مئی 2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍مارچ 2014ء میں محترم ملک محمد اکرم صاحب مربی سلسلہ اپنے برادر اکبر مکرم ملک محمد اسلم صاحب ولد مکرم ملک پیر محمد صاحب کا مختصر ذکرخیر کرتے ہیں جو 28؍نومبر2013ء کو فضل عمر ہسپتال ربوہ میں وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے۔

مکرم محمد اسلم صاحب ضلع جہلم کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں 1944ء میں پیدا ہوئے۔ والدین تلاشِ روزگار کے سلسلے میں پہلے سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں اور پھر ضلع گجرات کے ایک گاؤں میں منتقل ہوگئے جہاں مرحوم نے سکول میں داخلہ لیا۔ لیکن ابھی دوسری جماعت میں ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اور گھر میں موجود مویشیوں کو سنبھالنے اور کاشتکاری کے کام میں مدد کے لیے ان کو سکول سے اٹھالیا گیا۔ بہرحال انہوں نے محنت سے سارے کام کو سنبھالا اور اپنے بڑے بھائی محترم ماسٹر ملک محمد اعظم صاحب اور بعدازاں خاکسار کو بھی تعلیم کے حصول میں ہر طرح معاونت کی۔

1960ء میں محترم ملک محمد اعظم صاحب نے احمدیت قبول کرلی اور پھر ٹیچر ٹریننگ حاصل کرکے ربوہ میں تعلیم الاسلام سکول میں بطور مدرس تعینات ہوگئے۔ اُنہی کی راہنمائی سے خاکسار کو بھی 1962ء میں احمدیت قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ لیکن اسلم بھائی تعلیم یافتہ نہیں تھے اس لیے اُن پر دعوت الی اللہ کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ وہ یہی کہتے تھے کہ تم دونوں نے والدہ صاحبہ کو چھوڑ دیا لیکن مَیں ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔

آخر ہماری والدہ محترمہ ربوہ آئیں تو یہاں ماحول کی برکت اور رمضان المبارک کے دوران مسجد مبارک میں علماء کے درس القرآن سن کر اتنی متأثر ہوئیں کہ اَن پڑھ ہونے کے باوجود احمدیت کی طرف مائل ہوگئیں اور چند ماہ بعد بیعت بھی کرلی۔ تاہم اسلم بھائی ربوہ آنے یا کوئی بات سننے کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔بالآخر اللہ تعالیٰ نے خوابوں کے ذریعے اُن پر صداقتِ احمدیت روشن فرمادی اور انہوں نے بھی 1964ء میں بیس سال کی عمر میں بیعت کرلی۔ پھر جلد ہی سب کچھ بیچ کر والدہ محترمہ کے ہمراہ ربوہ منتقل ہوگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہماری فیملی کو ایک بار پھر اکٹھا کردیا۔
ربوہ آنے کے کچھ عرصے بعد اسلم بھائی کو واپڈا میں حافظ آباد کے مقام پر سرکاری ملازمت مل گئی۔ مگر آپ کے دل میں ربوہ میں قیام کی ایسی تڑپ تھی کہ ایک سال بعد ہی خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے دفتر میں درجہ چہارم کی ایک آسامی کے لیے درخواست دے دی۔ انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آپ سرکاری ملازمت اور زیادہ تنخواہ چھوڑ کر معمولی مشاہرہ پرکیوں آنا چاہتے ہیں؟ آپ نے بتایا کہ نیا احمدی ہوں اور اس ماحول میں رہ کر جماعت کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ بہرحال انہیں رکھ لیا گیا اور ایوانِ محمود کا ہر شخص گواہ ہے کہ انہوں نے چالیس سال سے زائد عرصہ اپنے کیے ہوئے عہد کو خوب محنت اور دیانتداری سے نبھایا۔ اپنے محلّے میں بھی حفاظتِ مرکز کی ڈیوٹیاں اور وقارعمل وغیرہ میں شوق سے شامل ہوتے۔ جماعتی خدمات ہوں یا ضرورتمندوں کی مدد ہو، خندہ پیشانی سے ہر قسم کے تعاون کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔ نماز باجماعت کے پابند اور چندوں میں باقاعدہ تھے۔ بہت محنتی تھے۔ بےکار بیٹھنا اُن کے لیے مشکل ہوتا تھا۔ خدمتِ خلق کرنے کی وجہ سے ہردلعزیز تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کی نماز جنازہ میں ایک ہزار سے زیادہ افراد شامل ہوئے۔
