مکرم یوسف لطیف صاحب آف بوسٹن

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍جون 2026ء)

یوسف لطیف صاحب

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ امریکہ برائے جنوری 2014ء میں ایفروامریکن احمدی بھائی مکرم یوسف لطیف صاحب آف بوسٹن کی وفات کے حوالے سے ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ آپ 23؍ستمبر2013ء کو 93؍سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مرحوم کا ذکرخیر اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا اور بعدازاں نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی۔

یوسف لطیف صاحب

حضورانور نے فرمایا کہ مکرم یوسف لطیف صاحب 9؍اکتوبر1920ء کو ٹینیسی کی سٹیٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتب پڑھنے کے بعد 1948ء میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ آپ کا شمار ابتدائی افریقن امریکن احمدیوں میں ہوتا ہے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ اس وقت میرا فرض بنتا تھا کہ میں بیعت کروں۔ اگر مَیں بیعت نہ کرتا تو میں خداتعالیٰ اور سچائی سے اپنا منہ موڑنے والا ہوتا۔
مکرم یوسف لطیف صاحب نے ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مختلف یونیورسٹیوں میں بطور پروفیسر پڑھاتے رہے۔ کئی کتب کے مصنف بھی تھے جن میں آپ کی اپنی سوانح بھی شامل ہے۔ ان کی قد آور شخصیت کی وجہ سے ان کی وفات کی خبر فوراً ہی امریکہ اور دنیابھر میں پھیل گئی اور امریکہ کے تمام بڑے اخبارات میں شائع ہوئی۔
صدر کلنٹن کی دعوت پر جب یہ وائٹ ہاؤس میں گئے تھے تو شلوار قمیض پہن کر گئے تھے۔ انہوں نے اپنے پیشے میں سب سے اونچا ایوارڈ حاصل کیا جو نوبل پرائز کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ چونکہ مرحوم احمدی تھے اس لیے دین پر کبھی کمپرومائز (compromise) نہیں کیا۔ موسیقی کے اوپر انہوں نے بہت کچھ لکھا لیکن کبھی ایسی جگہوں پر، ایسے فنکشنوں میں کبھی شامل نہیں ہوتے تھے جہاں شراب وغیرہ ہو۔ آپ کو حج اور عمرے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ مالی قربانی اور چندہ جات میں غیر معمولی قربانی پیش کرتے۔ لوکل سیکرٹری مال کہتے ہیں کہ ان کی عادت تھی کہ مہینے کے دوران جب بھی ان کو تنخواہ کا چیک ملتا تو سب سے پہلے اپنے لازمی چندہ جات ادا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ مجھے آج بھی اتنا ہی یقین ہے جتنا اُس وقت تھا جب میں نے بیعت کی تھی کہ احمدیت کا راستہ سچائی کا راستہ ہے اور یہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اس راستے پر چلنے والا کوئی شخص تباہ نہیں ہو سکتا۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس راستے پر چلنے سے مَیں اور میرا خاندان نجات پا جائیں گے۔ اور میرا ایمان ہے کہ احمدیت تمام انسانوں میں بھائی چارہ پیدا کرنے کی تعلیم پیش کرتی ہے۔
مرحوم کو قادیان اور ربوہ کی زیارت کا بھی موقع ملا۔ خلافت سے آپ کو والہانہ محبت تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ، حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ اور مجھے (یعنی حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کو) بھی مل چکے تھے۔ لندن بھی گذشتہ سال جلسہ پرآئے ہوئے تھے تو اس وقت بیمار تھے اور وہیل چیئر پر ہی تھے۔ بہت نیک اور نمازوں کے پابند تھے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی میں باقاعدہ تھے۔ نہایت شفیق اور ہر ایک سے پیار و محبت کا سلوک کرنے والے مخلص انسان تھے۔
احمدی احباب کے علاوہ غیر از جماعت دوستوں سے بھی بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔آپ کو لمبا عرصہ مختلف حیثیتوں سے جماعتی خدمات کی توفیق ملی۔ تبلیغ کا بہت شوق رکھتے تھے۔ جماعتی لٹریچر اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ جیب میں ہمہ وقت کچھ فلائرز وغیرہ رکھتے اور جہاز میں اپنے ہم سفروں میں تقسیم کرتے اپنے خرچ پر نابینا افراد کے لیے ‘‘اسلامی اصول کی فلاسفی’’ اور بچوں کی تربیت کے متعلق کتب انہوں نے شائع کیں۔ مرحوم موصی تھے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ محترمہ عائشہ لطیف صاحبہ اور ایک بیٹا مکرم یوسف لطیف صاحب بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں