میرا سفرِ احمدیت (مکمل کتابچہ)

خاندانی حالات

خاکسار کا نام چودھری اللہ دتہ پنوں ہے۔ والد محترم کا نام چودھری محمد خاں پنوں ، والدہ محترمہ کا نام زینب بی بی اور دادا کا نام چودھری بڈھے خاں پنوں ہے۔ خاکسار کے والد محترم کے بچپن میں ہی دادی جان وفات پا گئیں اور دادا جان بینائی سے محروم ہو گئے۔ اس طر ح والد صاحب اپنے چچا چودھری نواب دین پنوں اور چچی جو خالہ بھی تھیں، کے زیرِ کفالت چلے گئے۔ محترم والد صاحب کی شادی کے چند سال کے بعد ہی دادا جان چوہدری بڈھے خاں صاحب بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔

چودھری اللہ دتّہ پنوں صاحب

چودھری نواب دین صاحب بچپن سے ہی پانچ وقت کے نمازی تھے اور سنی عقیدہ رکھتے تھے۔ اپنی مسجد کے خطیب بھی تھے۔ خاکسار نے ان کو بہت چھوٹی عمر میں دیکھا۔ سفید باریش اور معزز شخصیت تھے۔
میری والدہ محترمہ پیر پرست تھیں اور بعض دفعہ علماءِ سُوء کے پرانے رسم و رواج سے متاثر ہو جاتی تھیں۔ مگر میرے والد محترم فرمایا کرتے تھے کہ مَیں نے ساری عمر اپنے خدا پر بھروسہ کیا ہے اور میرے سب کام خداتعالیٰ نے ہی کئے ہیں۔ خاکسار نے جب 1974ء میں بیعت کی تو اس وقت میرے والد محترم کی عمر تقریباً 85 برس سے زیادہ تھی لیکن ہوش و حواس بالکل درست تھے۔ خاکسار کو اس وقت تبلیغ کا شعور بالکل نہیں تھا۔ کاش ان کو حقیقت سے آگاہی کراسکتا تو جس قدر وہ سادہ اور مخلص اور پرہیزگار انسان تھے شاید وہ احمدیت میں شامل ہو جاتے۔ 1981ء میں وہ اس جہان فانی سے رخت سفر باندھ کر عالمِ جاودانی میں جا حاضر ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
خاکسار پاکستان بننے کے ایک سال بعد 1948ء میں تحصیل پسرور، ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں باسوپنوں میں ایک جٹ (پنوں ) زمیندار گھرانے میں پیدا ہوا۔ باسوپنوں خاکسار کے آباؤاجداد کا آباد کردہ گاؤں ہے۔ اسی گاؤں میں خاکسار پلا بڑھا، جوان ہوا، شادی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے نیک اولاد سے نوازا۔ سب سے بڑھ کر احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی جو سب سے بڑی نعمت ہے۔ خاکسار نے 2003ء تک یہیں مستقل سکونت رکھی، اگرچہ 1989ء کے بعد کچھ عرصہ شہر گوجرانوالہ بھی قیام رہا۔ 2003ء میں بڑھتی ہوئی شرانگیزی کے پیش نظراور مقامی امیر صاحب کے مشورہ پر گاؤں چھوڑ کر ربوہ منتقل ہونا پڑا اور اب لندن (انگلینڈ) میں رہائش پذیر ہوں۔
خاکساراور خاکسار کا چھوٹا بھائی عزیزم شوکت علی اپنے والدین کی بڑھاپے کی نرینہ اولاد ہیں۔ ہم سے بڑی آٹھ بہنیں تھیں۔ ان میں سے تین تو ہماری ولادت سے قبل ہی اللہ کو پیاری ہوگئیں تھیں۔ پانچ حیات رہیں اور ان میں سے چار نے احمدیت قبول کی۔الحمدللہ۔

چودھری اللہ دتہ پنوں صاحب اپنے صاحبزادوں کے ہمراہ

21سال کی عمر میں خاکسار کی شادی ایک اہلحدیث گھرانے میں ہوگئی۔ خاکسار کی شادی کو ابھی ڈیڑھ سال ہی گزرا ہو گا کہ گھر کے افراد خصوصاً میری والدہ كہنا شروع ہوگئیں کہ ابھی تک بچے کی امید نہیں ہوئی۔ چونکہ والدہ صاحبہ پیروں فقیروں کو مانتی تھیں لہذا کہنا شروع کر دیا کہ ہمیں فلاں پیر صاحب کے پاس جانا چاہیے۔ جب میرے تک یہ بات پہنچی تو میری زبان سے کافی سخت الفاظ پیرصاحب کے متعلق نکلے جس پر والدہ صاحبہ ناراض بھی ہوئیں۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے عرض کیا کہ مجھے اس اولاد کی ضرورت نہیں جو خالص خدا کی طرف منسوب نہ ہوتی ہو یا جس میں پیر کا نام شامل ہو۔ پھر ربّ العالمین نے خاکسار کے ماں باپ کی زندگی میں ہی ہمیں تین بیٹیاں اور تین بیٹے عطا فرمائے۔ اس کے بعد میرے والدین کبھی کسی غیر کا نام نہیں لیتے تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار ِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

حاجتیں پوری کریں گے کیا تیری عاجز بشر
کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے
(درِّثمین)

احمدیت کی بدولت خاکسار کے حالات میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ خاکسار کی قبولِ احمدیت سے پہلے اور بعد کی حالت میں اتنا ہی فرق ہے جتنا دن اور رات میں ہے۔جب خاکسارپر احمدیت کی برکت سے حقیقی اسلام کی کچھ ہی جھلکیاں ظاہر ہوئیں تو شکوک وشبہات جاتے رہے اور دل ایمان کی دولت سے بھر گیا۔ وہ شخص جس کو مذہب سے کوئی خاص رغبت نہ تھی احمدیت کی برکت سے وہ ایک کامیاب داعی الی اﷲ بن گیا۔ اﷲ تعالیٰ نے خاکسار کوتمام تر مشکلات و مصائب کے باوجود نہ صرف مخالفین کے شر سے محفوظ رکھا بلکہ خاکسار کی تبلیغی کاوشوں کو پھل لگاتے ہوئے تقریباً37افراد کواحمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب کی۔ الحمداللہ۔
چودھری نواب دین صاحب کے بڑے بیٹے چودھری احمد دین صاحب نے خاکسار کوبتایا کہ ان کو تقریباً 1944ء میں جب وہ ضلع قصور میں بوجہ ملازمت تعینات تھے ایک احمدی دوست کی وساطت سے احمدیت میں شمولیت کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس طرح چودھری احمد دین صاحب خدا تعالیٰ کے فضل سے گاؤں باسو پنوں سے احمدیت قبول کرنے والے پہلے احمدی ہوئے، لیکن چونکہ وہ ملازمت کی وجہ سے مع فیملی گاؤں سے باہررہتے تھے اس لیے جب خاکسار کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں شمولیت کا شرف بخشا تو خاکسار گاؤں کا پہلا رہائشی احمدی تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ باسوپنوں کی بنیاد ڈالی۔ چودھری صاحب ملازم پیشہ تھے بہت نیک اور مخلص انسان تھے۔ گورنمنٹ سروس کی وجہ سے مع بچے جہاں بھی تبادلہ ہوتا اسی شہر میں رہائش رکھتے تھے۔ گاؤں میں سوائے کسی تہوار کے بہت کم آتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پرائیویٹ جاب گوجرانوالہ میں اختیار کرلی اور وہیں رہائش رکھتے تھے۔ آخری عمر کا کچھ عرصہ زمیندارہ کی نگرانی کے لئے چند دن گاؤں میں بھی گزارتے تھے لیکن مستقل رہائش گوجرانوالہ میں ہی تھی۔ گوجرانوالہ میں امیر صاحب ضلع چوہدری مختار احمد ملہی صاحب کی عاملہ کے اہم رکن تھے۔ خدا کے فضل سے اکاؤنٹس کے شعبہ میں تجربہ کار تھے اور ضلعی عاملہ میں آڈٹ کرنے کی خدمات ان کے سپرد تھیں۔ جماعتی حساب رکھنے میں بڑی محنت اور خلوص سے کام کرتے تھے۔ جب چودھری احمد دین صاحب کی وفات ہوئی تو گوجرانوالہ میں ان کی نماز جنازہ امیر صاحب ضلع نے پڑھائی اور ان کی بہت ساری خوبیوں کا تذکرہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
کیا شان ہے حضرت مسیح محمدی ؑکی جس کی دعاؤں سے ایک ایسی اندھیر نگری میں نور کی شمع روشن ہوئی جس میں ہر طرف سے گندی گالیوں کے سوا کچھ بھی سنائی نہیں دیتا تھا۔ جھوٹے مقدمے اور لڑائی جھگڑے ہوتے تھے۔ کوئی فرد کبھی اپنے دینی نفع و نقصان کے متعلق نہیں سوچتا تھا۔ اگر سوچتا تھا تو یہ کہ دوسرا کیسے مرے گا یا جیل کیسے جائے گا۔
ہمارا گاؤں مکمل طور پر جٹ پنوں برادری پر مشتمل تھا اور گاؤں کے سارے زمیندار سکھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ سکھوں کے گھرانے یک صد سے زیادہ تھے۔ لیکن ہمارا کوئی تو ہوگا جس نے قربانی دی اور مسلمان ہوا۔ گاؤں باسوپنوں میں پنوں برادری کے تقریباً 12 گھرانوں میں سے خدا کے فضل سے2002ء تک 5 گھرانے احمدیت میں داخل ہو چکے تھے۔ الحمد للہ علیٰ ذلک۔ قربان جاؤں اس مالک حقیقی پر جس نے میرے جیسے ناچیز اور جاہل کو صراط مستقیم دکھائی کہ گھر سے نکلا ایک ٹیوب ویل کا پرزہ لینے لیکن یہ بہانہ بنا اور مسیح پاک علیہ السلام جیسی نعمت کی روشنی سے حصہ پانے والا بن گیا۔

مُلاّں کااسلام

احمدیت قبول کرنے سے پہلے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد دینِ اسلام کا جو چہرہ خاکسارنے دیکھا اس کی بنا پرخاکسار خدا کو حاضر ناظر جان کر گواہی دیتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بدولت ہی ہمیں حقیقی دینِ اسلام ملا جو آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں رائج کیا تھا۔ اس وجہ سے خاکسار کو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام وہی امام مہدی اور مسیح موعود ہیں جن کی آمد کا ذکر قرآنِ پاک میں اور احادیث مبارکہ سے ہمیں ملتا ہے۔
خاکسار چونکہ اسی معاشرے کا حصہ رہا ہے اس لئے خدا کے فضل سے کافی جان پہچان ہے کہ غیراحمدیوں کا مذہب کیا ہے، علم کیا ہے، عمل کیا ہے، عوام کیا کرتے ہیں، لیڈر کیا کرتے ہیں، اورعلماء کیا کرتے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں دو بڑے فرقے ہیں ایک سنّی اور ایک وہابی۔ خاکسار کو یاد ہے کہ جب یہ دونوں ایک دوسرے پر برستے تھے تو وعظ کے نام پر حدیث بیان کرتے تھے کہ آخری زمانے کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔ سنّی وہابی کو کہتا کہ وہ مخلوق آپ ہیں اور وہابی سنّی کو کہتا کہ وہ آپ ہیں، ہم تو دوسری حدیث والے ہیں جس میں ذكر ہے كہ میری امت كے علماء، بنی اسرائیل کے نبیوں جیسا مقام رکھتے ہیں۔ یہ سارا وعظ و کلام چونکہ سپیکروں میں ہوتا تھا اسلئے خاکسار یہ سنکر سوچتا رہتا کہ مولویوں کو کیوں بدترین مخلوق کہا گیا ہے حالانکہ اس زمانہ کی پولیس میں اکثریت بڑی ظالم ہے۔ غریبوں پر یہ لوگ بعض اوقات مال لینے کی خاطر بڑا ظلم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ مال کےکئ افسران رشوت لے کر کسی کا حق دوسرے کو دے دیتے ہیں۔ یہی حال پٹواری ، تحصیلدار وغیرہ یا واپڈا والوں كا ہے۔ بہرحال میری اس ناقص سوچ پر سب اس وقت کھلا جب 1974ء میں اپنی آنکھوں سے وہ دیکھا جو مولویوں نے احمدیوں سے کیا۔ ہماری مسجد اہلسنت والی تھی لیکن ان کا شرک سے بھرا علم و عمل دیکھ کر خاکسار نے اہلحدیث کی طرف آہستہ آہستہ رخ کرنا شروع کیا۔ جب کبھی جمعہ یا کسی نماز پر جانا ہوتا تو اہلحدیث مسجد میں جاتاکہ یہ لوگ شرک کے خلاف ہیں۔ یہ سمجھ کر باپ دادا کی مسجد کو ترک کیا۔
خاکسار اہلِ حدیث کی طرف آنے کی مثال ایک مزاحیہ واقعے سے دینا چاہتا ہے جو خاکسار نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا۔گاؤں میں ہمارے ہمسائے میں دو بھائی الٰہی بخش اور خدا بخش تھے۔ ان کی والدہ اور تائی دونوں عمر رسیدہ تھیں۔ پرانے زمانہ میں گاؤں میں لوگ دودھ صبح سے ہلکی سی آگ پر رکھتے تھے جوسارا دن آہستہ آہستہ گرم ہوتا اور اس طرح ملائی کی موٹی تہہ اوپر جم جاتی تھی۔ گاؤں کی عورتیں اس دودھ کا بڑا خیال کرتی تھیں۔ ایك روز پہلے ایک بھائی نے نظر بچا کر دودھ پی لیا۔ ماں کو پتہ چلا تو اس نے شور مچایا کہ ملائی بھی گئی اور سب کچھ خراب ہو گیا۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد دوسرے بھائی کو بھی موقعہ ملا تو وہ بھی دودھ پینے لگا تو اسكی تائی نے دیکھ لیا اور اس نے پنجابی میں فورًا شور مچانا شروع کیاکہ ’’ نی توں لائیے نوں روندی سیں خدائیا وی مر گیا ای‘‘( یعنی تم لایئے(الٰہی بخش) کو کوس رہی تھی، خدائیا (خدابخش) بھی کم نہیں نکلا)۔
مختصر یہ کہ اہلسنت والوں کو بیزار ہو کر چھوڑا کہ یہ قبروں خانقاہوں کو پوجتے ہیں۔ خدا کے علاوہ پیروں فقیروں سے حاجتیں پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک دیکھا کہ بعض لوگ دلہےكو بارات كے ساتھ لے کر پہلے خانقاہ پر لے جاتے جہاں وہ منت مانتا اور سہرا گانہ پہنتا تھا۔یہ رسم مکمل کرنے کے بعد پھر آگے اپنی منزل کی طرف قدم اٹھاتے تھے۔ سو میں نے یہ سب تماشے اچھی طرح مشاہدہ كئے اورپھر مجبورًا میں نے اہلحدیث مسجد کی طرف رخ کیا۔ تقریباً تین سال سے زیادہ عرصہ اہلحدیث والوں کی صحبت میں گزارنے کا موقعہ ملا۔ اس عرصہ میں جو کانوں نے سنا اور جو آنکھوں نے دیکھا اور جو دل نے سمجھا اس میں سے تھوڑا سا بیان کر دیتا ہوں۔
پہلی بات یہ تھی کہ اہلحدیث لوگ سخت دل تھے۔ رحم کرنا یا کسی پر ترس کرنا یا بھائی چارے کی فضاء قائم کرنا یہ سب ان کی تعلیم میں شامل نہیں تھا۔ وعظ و کلام میں بھی نہیں تھا۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بھی سخت تھے اور غیروں کے ساتھ تو خدا کی پناہ۔ ظلم و ستم سے گھبرانا ان کا شیوہ نہ تھا۔ ہمارے گاؤں میں ہر سال ایک دن کامیلہ ہوتا تھا۔ سنّی لوگ میلہ کرواتے تھے اور اہلحدیث مخالف ہوتے تھے۔ ایک دفعہ جب میلہ لگا ہوا تھا، رات دس گیارہ کا ٹائم تھا كہ اہلحدیث کے مولوی صاحب نے ایک ٹیم تیار کی جو تعدادمیں 30سے 35 لوگ ہوں گے۔ وہ رات کے اندھیرے میں اچانک میلے والوں پر ایک طرف سے حملہ آور ہوئے۔ بیچارے غریب مزدور پکوڑے اور مٹھائی وغیرہ کی چھوٹی چھوٹی دکانیں لگاکربیٹھے تھے۔ بعض دوکان والوں نے لاؤڈ سپیکر بھی لگائے ہوئے تھے جن پر آوازیں دیتے اور گانے وغیرہ چلاتے تھے۔ اس وقت میلے میں جو بھی لوگ موجود تھے، میلہ دیکھنے والے یا فروخت کرنے والے،وہ سب کے سب اس حملے کی زد میں آئے۔ لوگوں کو لاٹھیوں سے شدید زخمی کیا گیا۔ بیچارے پردیسی جو دور دراز سے اپنی روزی کمانے آئے تھے ان میں سے بعض کے سر پھٹے اوربعض کے بازو ٹوٹے۔ آخروہابی ان سب کا سامان اور پیسے وغیرہ لوٹ کر واپس چلے گئے۔
اہلِ حدیث کی مسجد کے اندر کی صورت حال کا بھی تھوڑا سا ذکر کرتاہوں۔ کچھ بزرگ عمررسیدہ نمازی تھے ان میں سے ایک قوم یا پیشہ کے لحاظ سے لوہار اور ایک حجام اور دو یا تین اور تھے۔ یہ چار پانچ بوڑھے اکثر نمازوں پر مسجد میں آتے تھے۔ حجام کا نام حاجی عمر دین تھا۔ خاکسار نے ایک دن مسجد میں نماز کے بعد حاجی صاحب سے پوچھا کہ حاجی صاحب کیا حال ہے۔ انہوں نے لمبی سانس لی اور کہا کہ چوہدری صاحب ہمارا کوئی حال نہیں۔ میں نے کہا حاجی صاحب کیا ہوا ہے۔ کہنے لگے کیا بتاؤں۔عرصہ دراز سے ہم مسجد میں خدا کے لئے آتے ہیں لیکن مولوی صاحب نے سب نمازیوں کا جینا حرام کیا ہے۔ سب ڈرتے ہیں اورکوئی بھی بولتا نہیں۔ کہنے لگے کہ جب سخت گرمی ہوتی ہے تو اندر ہال میں نماز ہوتی ہے اور اگر کوئی کھڑکی کھول دے تو مولوی صاحب فورًا کھڑکی کو بند کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی تحقیق شروع کر دیتے ہیں کہ کس نے کھولی تھی۔پتہ چلنے پر شامت آجاتی ہے۔ ایسا ہی سردیوں میں ہوتا ہے کہ سخت سردی میں کھڑکی کھلی رکھی جاتی ہے۔ اگر بند کریں تو پھر اس کا رد عمل ہوتاہے۔ چوہدری صاحب آپ بتائیں کہ ہم غریب لوگ کیا کریں۔ عمر کے لحاظ سے کمزوری سے سردی گرمی برداشت بھی نہیں ہوتی۔ خاکسار نے کہا کہ حاجی صاحب کچھ لوگ اکٹھے ہو کر مولوی صاحب سے درخواست کریں۔حاجی صاحب کہنے لگے كہ یہ سب تو پہلے کئی دفعہ ہو چکا ہے۔ مولوی صاحب نہیں مانتے۔خاکسار نے کہا حاجی صاحب کچھ تو کریں۔اس پر حاجی صاحب نے بتایا کہ اب کچھ عرصہ سے ہم سب بوڑھے مل کر ایک کام کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ جب مولوی صاحب نماز سے فارغ ہو کر محراب سے نکل کر باہر کی طرف ہوتے ہیں اور ہماری طرف ان کا پیچھا ہو جاتا ہے تو ہم سب مل کر اپنے قمیض کی جھولیاں دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کرتے ہیں کہ “مولا کریم ! ایس مولوی نوں چھیتی چُک لے تے ساڈی جیند چھٹ جائے‘‘(یعنی اے خدا اس مولوی کو جلدی اٹھا لو تاکہ ہماری جان چھوٹ جائے۔) کہنے لگے کہ اس کے بغیر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے۔
یہ مولوی صاحب مقامی زمیندار تھے اور لمبی چوڑی برادری والے تھے۔ اہلحدیث مسجد انہوں نے خود بنوائی تھی۔ سیاست میں بھی زبردست حصہ رکھتے تھے۔ اس لئے عام لوگ ان کے سامنے بے بس تھے۔
پھر ان اہلِ حدیث لوگوں میں ایك بات جنون کی حد تک تھی اور یہ کہ جب نماز کے لئے جماعت کھڑی ہوتی تو پہلی بات تو یہ کہ کسی کے سر پر کوئی ٹوپی یا پگڑی یا کوئی کپڑا نہیں ہوتا تھا اور اگر گرمیوں کی دھوپ کی شدت یا سردیوں میں سردی سے بچنے کی وجہ سے کسی کے سر پر کپڑا ہو بھی تو وہ نماز کھڑی ہونے پر اتار کر اپنے آگے پھینک دیتا اور سر ننگا کر کے نماز شروع کرتا۔ ایک دفعہ خاکسار نے مولوی صاحب سے جاننا چاہا کہ یہ سر کو ننگا کرکے کیوں نماز پڑھتے ہو تو جواب میں فرمایا کہ سر کوئی”پرائیویٹ پارٹ ” تو نہیں جسے ڈھانک کر نماز پڑھی جائے۔
دوسرا کام جو دوران نماز ضروری ہوتا تھا وہ یہ تھا کہ کسی نے شلوار پہنی ہو یا تہبند باندھا ہو وہ اتنا اوپر کر لیتا تھا کہ کم از کم 9انچ یعنی ایک فٹ کے قریب ٹانگیں ننگی رکھتا تھا۔ اگر کسی کا تھوڑا نیچے رہ جائے تو برا مناتے تھے۔
تیسرا بڑا اہم رکن یہ تھا کہ نماز کھڑی ہوتے ہی ایک دوسرے کے ساتھ پاؤں ملانے کے لئے ٹانگیں کھولتے کھولتے اتنا فاصلہ بڑھ جاتا تھا کہ بعض کے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان دو فٹ سےزیادہ کا فاصلہ میں نے بچشم خود دیکھا ہے۔ سجدہ کر کے کھڑے ہوتے تو پھر وہی کام شروع کر دیتے۔ ایک دوسرے کی طرف پاؤں پھسلاتے ہوئے جوڑنے کی کوشش جاری رہتی۔ نماز کی طرف یا خدا تعالیٰ سے گریہ و زاری کرنے کا بالکل کبھی بھی خیال نہیں رکھتے تھے۔ صرف یونہی پاؤں جوڑنے کے چکر میں نماز گزرتی تھی۔ ایک دفعہ مسجد کے صحن میں نماز ہو رہی تھی۔ صحن کی ایک طرف کی دیوار تقریباً ڈھائی یا تین فٹ اونچی تھی۔ ایک شیر محمد نامی بابا جی بھی نماز میں شامل تھے۔ وہ مذہبی آدمی نہیں تھے۔ وہ سنی وہابی دونوں طرف جب کبھی موقع ملے نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس وقت وہ دیوار کے ساتھ تھے۔ ایک رکعت نماز تک تو انہوں نے برداشت کیا۔ جب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے تو ساتھ والے نمازی نے پھر پاؤں ان کی طرف پھسلاتے ہوئے بابا جی كو بالکل دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ جتنا بابا جی اپنے پاؤں سکیڑتے گئے اتنا ہی وہ ان کے پاؤں کے ساتھ اپنا پاؤں لگا کر دباتا گیا۔ آخر کار بابا جی بیچارے نماز چھوڑ کر گالیاں دیتے ہوئے دیوار پھلانگ کر چلے گئے۔
اہلحدیث کے ایک مولوی حبیب الرحمن یزدانی صاحب تھے۔ وہ جنرل ضیاء الحق کے دورِحکومت میں لاہور میں خطاب کرتے ہوئے بم دھماکہ کی زد میں آگئے تھے۔ ہمارے گاؤں میں بھی ہر سال اہل حدیث كا جلسہ ہوتا تو ان کو بھی مقامی مولوی صاحب بلاتے تھے۔ یوں ان کے کافی وعظ سننے کا موقعہ ملا۔ وہ سنی اور شیعہ کو بھی کافی نشانہ بناتے تھے۔ تقریر پنجابی میں کرتے تھے۔ سنی مولوی کو ملوانا کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ ان کا ایک بڑا مشہور تکیہ کلام تھا کہ ملوانیا! توں فیل ہویا کتا پاس ہو یا ،پڑھو لاالہ الا اللہ۔ (اےملّاں تم فیل ہو گئے جبکہ کتا اپنے مالک کی وفا داری کے امتحان میں پاس ہو گیا)
خاکسار کے پاس علم وعمل تو کوئی نہیں تھا لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کہ سنّی بھی دیکھے اور وہابی بھی دیکھے، اورچھوٹے مولویوں كوبھی سنا اور بڑے مولویوں كو بھی سنا، اور ان کے ساتھ شامل بھی رہا، لیکن دل نے تسلی نہ پکڑی اور مطمئن نہ ہوا۔ آخرخود اس قادر کریم نے اپنے فضل سے حقیقت کی طرف آنے کی توفیق عطا فرمائی اور اس كا سبب 1974ء کا سال تھا۔ نیز ان کے جلسے بھی دیکھے اور سنے لیکن کم از کم میرے کانوں نے کسی مولوی کی كہیں بھی كوئی ایسی تقریر نہیں سنی جو طعن اور طنز اور گالیوں سے خالی ہو اور خا لصۃًاللہ اور رسول کی شان كے بیان پر مشتمل ہو یا ان کے احکامات كی حقیقت و حكمت كے ذكر پر مبنی ہو۔
ہمارے ایک بزرگ چوہدری عنایت اللہ صاحب آف رتہ جٹھول 1993ء میں بیعت کر کے احمدیت کی آغوش میں آئے تھے۔ اس سے پہلے وہ اہلحدیث فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ایک مرتبہ وہ سیالکوٹ کی کسی مسجد میں نماز جمعہ کے لئے چلے گئے۔ سیالکوٹ ضلع ہے اس لئے اکثر وہاں ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ نمبردار بھی تھے اس لئے اکثر کسی نہ کسی کام کی غرض سے جاتے رہتے تھے۔ بہرکیف گھنٹہ ڈیڑھ تك مولوی صاحب خطبہ دیتے رہےجب نماز سے فارغ ہوئے تو چوہدری عنایت صاحب مولوی صاحب کے پاس سلام کر کے بیٹھ گئے۔ کہنے لگے مولوی صاحب میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں ، مولوی نے اجازت دی تو کہنے لگے مجھے یہ بتا دیں کہ اتنا لمبا عرصہ ہم فرش پر بیٹھ کر آپ کی طرف پوری توجہ سے دیکھتے رہے۔ کمر بھی درد کرنے لگ گئی ہے۔ آپ صرف یہ بتا دیں کہ ہم نے اس جمعہ سے اور آپ کے خطاب سے کیا حاصل کیا ہے۔ میں ایک مسافر ہوں۔ جتنا وقت آپ کے سامنے بیٹھ کر ثواب حاصل کرنے کی خاطر ضائع کیااتنے میں مَیں نے واپس اپنے گاؤں پہنچ جانا تھا۔ مولوی صاحب نے کہا کیا مطلب ہے آپ کا؟کہنے لگے کہ آپ نے ہمیں کوئی اللہ تعالیٰ کا حکم بتایا ہو تا یا رسول کریم ﷺ کی کوئی حدیث یا کوئی اسوہ یا سنت نبوی بیان كی ہوتی۔ آپ كا وعظ سن سن كرہماری کمریں دکھنے لگی ہیں مگر آپ نے سوائے طعنہ زنی اور دوسروں کو برا کہنے کے کیا سنایا۔ اب ہم اپنے گھروں کو اس جمعہ سے کیا لے کر واپس جائیں۔ جواب دیں۔ چند اور لوگوں نے بھی ان كی تائید میں باتیں کیں اور مولوی پتھر سا بن کر خاموش رہا۔ چوہدری عنایت اللہ صاحب اس کے بعد احمدی ہو گئے تھے۔ آگے ان کا تفصیل سے ذکر آئے گا۔
آخری زمانہ کے یہ علماءِ سُوءجنہوں نے امام آخرالزمان کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،خاکسار ان کے درمیان 26سال کی عمر تک رہ کر ان کے ہر قسم کے گند کا پورا مشاہدہ اورتجربہ کر کے گواہی دیتا ہے کہ ان کے باطن مکمل طور پر سیاہ ہیں۔ جہاں بھی ان کے نفس کو دنیا کا گند نظر آئے وہاں یہ ہر قسم کا ظلم کرنے پر ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔خاکسارنے ان ملّاؤں کو بڑے قریب سے بلکہ ان کے درمیان رہ کر ان کی کرتوتوں کی بہت اچھی طرح واقفیت حاصل کی ہے۔ ان کی بے حیائیاں لکھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ہمارے علاقے کے متعدد مولوی ،جن کا تعلق دونوں فرقوں یعنی سنّی ا وروہابیوں سے تھا،کئی بار بے حیائی میں بدنام ہوئے۔ بلکہ ایک تو پسرور میں اس وقت پکڑا گیا جب وہ گھناؤنی حرکت میں ملوث تھاپھر كئی روز تھانے میں بھی بند رہا۔ جب لوگ احمدیت میں داخل ہو رہے تھے تو یہ لوگ ہماری مخالفت میں سپیکروں میں ہمیں گالیاں دینے میں گرم جوش تھے۔ اس طرح خدا نے ان کی انتہائی ذلت کے سامان کئے اور ان کی ذلت تحصیل اور پورے ضلع میں سنائی دی اور دیکھی گئی۔

قبول احمدیت

یہ سن 1974ء کا واقعہ ہے۔ ایک دن ہمارے ٹیوب ویل میں جس سے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے کوئی خرابی آگئی۔ مکینک کو بلا کر دکھایا تو اس نے انجن سے ایک پرزہ نکال کر دیا اور کہا کہ یہ نیا لے آئیں تب یہ ٹھیک ہو گا اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ نیز یہ کہ پرانا پرزہ ساتھ لے جائیں اور اس کے ساتھ ملا کر نیا لے آئیں۔ اور یہ پرزہ گوجرانوالہ میں فلاں ایڈریس پر فلاں دوكان سے ملے گا۔ خاکسار اگلے دن وہ پرزہ لینے گوجرانوالہ چلا گیا۔ گوجرانوالہ پہنچ کر ایک کافی کشادہ سڑک والا بازار تھا جس سے میں گزر رہا تھا تو آگے دیکھا کہ سیاہ رنگ کا دھواں اٹھ رہا ہے اور لوگوں کا ایک بہت بڑ اہجوم ہے جو دور تک پھیلا ہوا تھا۔ سڑک مکمل طور پر اس ہجوم نے بلاک کی ہوئی تھی اور اکثر لوگ لاٹھیوں اور ڈنڈوں والے نظر آتے تھے اور بڑی بھیانک قسم کی آوازیں نکال رہے تھے۔ اکثریت لمبی داڑھیوں والوں کی تھی۔ خاکسار جب دھویں کے کچھ قریب پہنچا تو وہ ایک ڈبل سٹوری مکان تھا جس کو آگ لگی ہوئی تھی اور لگاتار جل رہا تھا۔ یہ منظر بڑا خوفناک تھا۔ آگے جانے کے لئے راستہ نہیں مل رہا تھا۔ خاکسار یہ سب كچھ دیکھ کر بڑا پریشان تھا۔ لوگ نعرے لگا رہے ہیں اور ڈراؤنی ڈراؤنی آوزیں نکال رہے ہیں مگر آگ بجھانے کی کوئی کوشش نظر نہیں آرہی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ كیاہو رہا ہے۔ یہ سب لوگ آگ پر قابو پانے کی کوشش كیوں نہیں کرتے، ممکن ہےاسے بجھانے میں کامیاب ہو جائیں۔ آخر خاکسار نے ایک آدمی سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے؟ آگ بجھاتے کیوں نہیں؟ تو وہ کہنے لگا’ پہلوان جی اے بجھان لی لائی اے‘(یعنی جناب! یہ آگ بجھانے کے لئے تو نہیں لگائی گئ)۔ میں نے پوچھا کہ پھر کس لئے لگائی ہے تو وہ کہنے لگا کہ یہ مرزائی ہیں اس لئے ان کے گھروں کا صفایا کر کے ان کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس ملک میں ان کے فتنہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے۔ خاکسار نے جب یہ سب سنا اور دیکھا تو رونگٹے کھڑے ہوگئے اور بہت پریشان ہو اکہ یا خدایا یہ کیسی مخلوق ہے جو نہتے انسانوں پر یہ ظلم و ستم کر کے نعرے بلند کر رہی ہے۔ اتنی زیادہ تعداد میں وہ خونی بھیڑیئے ایسا خوفناک منظر پیش کر رہے تھے کہ اسے دیکھ کر کوئی بھی انسان جس میں تھوڑی سی بھی انسانیت ہو میرا نہیں خیال کہ اسے برداشت کر سکتا ہو۔ وہ اتنا خوفناک اور بھیانک نظارہ تھا کہ خاکسارکے لئے اس وقت کچھ کہنا اور بولنا مشکل تھا۔ میں اپنے آپ پر ضبط کرتے ہوئے اس ہجوم سے آگے گزرنے کی کوشش میں آخر کار کامیاب ہوا اور وہ پرزہ اور دیگر ضرورت کا سامان خرید كر اسی پریشانی كے عالم میں خدا خدا کر کے واپس گھر پہنچا۔
خیال آیا کہ مولویوں سے مل کر یہ سارا ماجرہ بیان کروں اور پوچھوں کہ یہ کیسا اسلام ہے اور كیسا دین ہے جو لوگوں كو اس قدر ظلم سكھاتا ہے؟ ہم تو یہ سنتے آئے ہیں کہ کسی پرندے کا گھونسلا بھی اسكی جگہ سے نہیں اتارنا چاہیےاور نہ اسے خراب کرنا چاہیے كیونكہ ایسا كرنا گناہ ہوتا ہے۔ کجا یہ تعلیم اور كجا یہ کہ انسانوں کے گھر جلا کر نعرے لگائے جائیں اور خوشی سے بھنگڑے ڈالے جائیں۔ پھر بڑے دکھ سے یہ بھی خیال دل سے گزرا کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو سب انسانوں بلکہ جانوروں پر بھی رحم فرماتے تھے۔ کبھی نہیں سنا کہ صحابہ ؓ کو حکم دیا ہو کہ فلاں یہودی کا گھر جلا دو یا کسی صحابیؓ نے کوئی ایسا نمونہ دکھایا ہو جو ظلم کے زمرے میں آتا ہو۔
مجھے اس وقت یہ علم نہیں تھا کہ وہ جلتا ہوا مکان کس کی ملکیت ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ حضرت حکیم نظام جان صاحب مرحوم کا تھا۔ اب تو ان کے صاحبزادے مکرم سعادت جان صاحب میرے دوست ہیں اور انصاراللہ یو کے میں کارکن ہیں۔
خاکسار ابھی کسی مولوی کے پاس یہ سوال پوچھنے نہیں پہنچا تھا کہ ایک دن اچانک ساتھ والے گاؤں موضع لودھی ججہ کے لیاقت علی ججہ صاحب نامی ایک دوست سے ملاقات ہوگئی۔ دل میں چونکہ اس ہولناك واقعہ كا خیال رہتا تھا اس لئے باتوں باتوں میں خاکسار نے ان سے سارا واقعہ كہہ ڈالا اور بتایا کہ میں یہ دیکھ کر بڑا پریشان ہوں۔ لیاقت علی صاحب جواب میں کہنے لگے کہ آپ نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ خواہ مخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔ جو کچھ میں گوجرانوالہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں وہ میں بتاتا ہوں۔ کہنے لگے کہ میں گوجرانوالہ میں ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ ایك روز کام کے دوران ہی ادھر ایک جلوس آگیا۔ ہم نے جلوس کی وجہ سے سب کام بند کر دیا اور تماشہ دیکھنے چلے گئے۔ جلوس میں سب سے آگے زیادہ تعداد میں نوجوان اور کچھ مولوی تھے اور کچھ لوگ اور مولوی جلوس كے پچھلے حصہ میں تھے۔ جو مرزائی ان کے ہاتھ آجاتا اسے آگے والے بڑی بے رحمی سے تیز دھار آلوں اور ڈنڈوں سے مارتے بلکہ جان سے مار کر دم لیتے تھے۔ اور جو مولوی پیچھے تھے ان کے ہاتھ میں لکڑی کے بالے تھے جن سے مکان کی چھت ڈالتے ہیں۔اگر کوئی زخمی بلکہ شدید زخمی ہوتا جس کا ابھی سانس جاری ہوتا اس کو وہ مولوی تب تک بالوں سے مار تے جب تک اس کی سسکیاں اور سانس مکمل طور پر بند نہ ہو جاتی اورپھر آگے چلے جاتے۔
یہ ظلم کی ایک اور داستان تھی جو خاکسار کے سامنے آئی اور جس سے میرے سینے میں مزید ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اس طرح کے دردناک قصے خود ان نامراد ملّاؤں سے ہی سنے ہوئے تھے کہ کس طرح مکہ کے مشرکوں اور کافروں نے ہمارے آقاو مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ماننے والوں کے ساتھ ظلم ستم کئے تھے۔ پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ جن کو یہ رحمۃ للعالمین کہتے ہیں وہ اسوہ حسنہ بھی انہی مولویوں کی زبانی سنتے آئے تھے۔ پھر یہ لوگ اس زمانے میں امام مہدی علیہ السلام کے آنے کا ذکر بھی کبھی کبھی کر دیتے تھے۔ یہ سب باتیں دل و دماغ میں سوچوں کی صورت میں چلتی رہتی تھیں اور 80 فیصد دل گواہی دیتا تھا کہ یہ ظلم کرنے والاگروہ جھوٹا ہے اور مظلوم حق پر ہیں۔
اس کے بعد اپنے گاؤں کے ایک مولوی صاحب سے میں نے گوجرانوالہ شہرکے یہ مشاہدات بیان کئے تو مولوی صاحب نے جواب میں کہا کہ آپ کومعلوم نہیں کہ یہ لوگ تو مرتد ہو چکے ہیں۔انہوں نے رسول کریم ﷺ کو چھوڑ کر نیا نبی بنا لیا ہے اور کلمہ بھی اسی نئے ’’ قادیانی نبی‘‘ کا پڑھتے ہیں۔ ان کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرنا اورمال و جان سے محروم کرنا بہت بڑا جہاد ہے۔ یہ تو انگریزوں نے ہمارے مذہب اسلام میں بہت بڑا فتنہ چھوڑا ہے اور ہم سب نے مل کراس فتنے کا قلع قمع کرنا ہے اورجو اس کو ختم کرنے میں حصہ لے گا وہ جنت میں جائے گا۔
خاکساراہل سنت والجماعت سے منسلک تھااوروہ مولوی بھی اہل سنت كا تھا۔ میں نے اس کی ساری باتیں سنیں اور واپس آکر ایک اہلحدیث مولوی احمد حسن صاحب جو بہت بڑے عالم دین سمجھے جاتے تھے،سے ملااور سارا قصہ انہیں سنایا۔ مگر جو جواب پہلے مولوی نے دیا تھا وہی ان سے سننے کو ملا بلکہ یہ صاحب تو پہلے مولوی سے بھی کچھ آگے نکل گئے۔ ان دونوں مولویوں کی باتیں سن کر خاکسار کا دل دکھ سے اور بھی بھر گیاکہ یہ مولوی اتنے ظالم ہیں کہ انسانوں پر ظلم کر کے لوگوں کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ اُس وقت خاکسار کی عمر 26سال تھی اوردین کا کچھ زیادہ فہم نہیں تھا۔عملی حالت بھی کمزور تھی۔ بس کبھی جمعہ کی نماز پریا کسی اور نماز پر شاذ کے طور پرمسجد چلا جاتا۔ سکول کی تعلیم بھی پرائمری تک ہی تھی۔ قرآن کر یم ناظرہ پڑھ سکتاتھا۔ الغرض دین کی طرف کوئی قابل ذکر رغبت نہ تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ گوجرانوالہ كا یہ واقعہ میرے دل سے نکلتا نہیں تھا۔
کچھ دنوں کے بعد خاکسارنے اپنے گاؤں کے قریب معروف قصبہ قلعہ کالروالہ کے ایک احمدی دوست سے جماعت احمدیہ کے خلاف الزامات کے بارے میں وضاحت پوچھی۔ انہوں نے بتایا کہ مولوی جو بھی احمدیوں کے متعلق بیان کرتے ہیں سب جھوٹ ہے۔ ہم تو جو پیشگوئیاں رسول کریم ﷺ نے آنے والے مسیح کے متعلق کی ہیں اوراُس کا جو مقام اورمرتبہ بیان کیاہے، اس سے ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔مزید یہ کہ آنے والے کے متعلق جو کچھ بھی ہماراایمان ہے، مخالفین بھی وہی عقیدہ رکھتے ہیں ،فرق صرف یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ آنے والا آ چکا اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ’ وہ ‘ نہیں ہے ،بلکہ کسی اور نے ابھی آناہے۔ مختصر یہ کہ ان صاحب نے خاکسار کو قرآن کریم سے وفات مسیح اور ختم نبوت کے متعلق کچھ حوالہ جات نکال کردیئے جو خاکسارکو احمدیت کے قریب لانے کے لئے کافی ثابت ہوئے۔
تقریباً ایک ماہ بعد خاکسار نے ایک احمدی بھائی محمد نوازصاحب سے احمدیت میں داخل ہونے کا طریقہ دریافت کیا۔ انہوں نے بتایاکہ ایک بیعت فارم ہوتا ہے اسے پُر كركے اس پر دستخط کریں تو احمدیت میں شمولیت ہوجاتی ہے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ یہ فارم کہاں سے ملے گا؟ انہوں نے کہا کہ میں خود آپ کے لئے فارم لا کر دستخط کروا لوں گا۔تقریباً ایک ماہ بعد وہ بیعت فارم لے آئے۔ جب خاکسار بیعت فارم پر دستخط کرنے لگا تو میری اہلیہ صفیہ بیگم صاحبہ نے پوچھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے؟میں نے بتایا کہ امام مہدی ؑ کی بیعت کرنے لگا ہوں۔اس پر میری بیوی نے کہا کہ پھرآپ اکیلے کیوں کرتے ہیں مجھے بھی ساتھ شامل کریں۔ خاکسار نے کہا کہ میں نے حقیقت کا کچھ نہ کچھ پتہ چلالیا ہے مگر آپ تو ابھی بالکل لاعلم ہیں۔ کہنے لگیں کہ آپ کو جو پتہ چلا ہے میرے لئے بھی وہی کافی ہے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بیعت فارم بھی ایک کی بجائے دو تھے۔ پس دونوں فارم پر کئے اور مکرم محمد نواز صاحب کے حوالے کر دیئے۔
ہم میاں بیوی بہت خوش ہوئے کہ ہم ظالمو ں سے نکل کر مظلوموں میں شامل ہو گئے ہیں۔ 1974ء سے 1989ء تک ہم اسی خوشی میں رہے کہ ہم احمدی ہیں۔مگرگاؤں میں الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے نظامِ جماعت سے منسلک نہ ہو سکے۔ لہٰذا نہ یہ پتہ تھا کہ چندہ نام کی بھی کوئی چیز ہے ،نہ یہ معلوم تھا کہ سیاسی الیکشن میں حصہ نہیں لینا ، نہ یہ خبرتھی کہ غیر احمدیوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھنی ،اورنہ یہ علم تھا کہ دنیاوی رسم و رواج سے دامن بچانا ہے۔صرف اتنا علم تھا کہ ہم نے امام مہدی ؑ کو مان لیا ہے۔ہم نے جب عام لوگوں اور مولویوں کو یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے احمدیت قبول کی ہے اور آپ لوگوں کے ہی ظلم و ستم دیکھنے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے تو وہ کوئی خاص ردِعمل نہیں دکھاتے تھے۔
1989ء میں خاکسار بچوں کی تعلیم کے لئے گوجرانوالہ میں عارضی طور پرایک مکان کرایہ پرلے کر رہائش پذیر ہوا۔ وہاں چوہدری احمد دین صاحب رہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ باغبان پورہ میں ہماری جامع مسجد ہے۔ جمعہ کے لئے وہاں آیا کریں، ملاقات بھی ہوتی رہے گی۔چنانچہ مسجد جانے کی وجہ سے جماعت سے تعلق استوار ہوا اور علم ہوا کہ احمدیت کے کیا قواعد و ضوابط ہیں۔چندہ کیا ہے۔ غیروں سے ہمارا کیا فرق ہے۔ نمازوں میں باقاعدگی ، مرکز،نظامِ خلافت ،وغیرہ کی کیا اہمیت ہے۔
اسی دوران ایک کتاب مل گئی جس کانام تھا ’’احمدیہ پاکٹ بک ‘‘۔ خاکسار اس کو پڑھتا رہا اوراللہ تعالیٰ کے فضل سے دو تین دفعہ مطالعہ کرنے کے بعد یقین ہو گیا کہ ان شاء اللہ کوئی بھی مخالف اب مجھ پر دلائل سے غالب نہیں آسکے گا۔

تبلیغی سرگرمیاں

خاکسار کا پیشہ چونکہ زمیندارہ تھا اس لئے شہر میں اپنے بچوں کو اسکولوں میں ایڈجسٹ کروانے کے بعد زیادہ وقت اپنے گاؤں میں فصلوں کی دیکھ بھال کے لئے صرف ہوتا رہا۔ ہفتہ دس دن بعد بچوں سے ملنے شہر آجاتا اورباقی وقت گاؤں میں گزارتا۔ اسی دوران خاکسار نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کرنا شروع كی۔اوّلاًزیادہ قریب رہنے والے دوستوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں تک پیغام پہنچایا۔ جب بھی موقعہ ملتا بات چیت شروع کر دیتاتھا۔ بعض نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس کو تو بس اب ایک ہی کام رہ گیا ہے۔ جب دیکھو ایک ہی بات کرتا رہتا ہے۔ مقامی لوگ چونکہ کم علمی کی وجہ سے خود اعتمادی نہیں رکھتے تھے اس لئے بعض کہہ دیتے تھے کہ ہم اپنے مولوی صاحب سے آپ کی بات کرواتے ہیں پھر پتہ چلے گا کہ کون سچا ہے۔ اس طرح کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مولوی صاحب سے دو دو تین تین گھنٹے بات ہوتی۔ بات چیت کسی بیٹھک یا حویلی میں ہوتی اورمقامی لوگ ارد گرد بیٹھ جاتے۔ خاکسار سوال کرتا، مولوی کے جوابات سنتا اور پھر اپنی دلیل پیش کرتا۔ عرصہ تین سال تک گاؤں کے دونوں فرقوں کے مولویوں ، امانت علی صاحب( سنی) اور احمد حسن صاحب (اہلحدیث) سے بات چیت ہوتی رہی۔دونوں طرف کی عوام میں سے سعید فطرت لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کے فضل سے بدلنے لگے۔اس عرصہ میں مولوی صاحبان اخلاق کے دائرہ میں رہتے ہوئے بات کرتے اور عزت بھی کرتے رہے۔
آخر کار 1993ء کا سال آیا۔ شروع سال میں ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت نمائی سے چھ لوگ بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوگئے۔ خاکسارنے وہ چھ فارم قلعہ کالر والہ جماعت میں مربی سلسہ مكرم احمد محمود صاحب کو دیے۔ مربی صاحب نے خاکسار سے پوچھا کہ آپ نے کب بیعت کی تھی؟میں نے عرض کیا کہ 1974ء میں۔ کچھ دنوں بعد مربی صاحب ہمارے گھر آئے اور فرمانے لگے کہ یہ نئے چھ فارم تومرکزمیں رجسٹرکر وا دیئے ہیں لیکن آپکی بیعت کا وہاں کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ 1974ء کی بجائے 73 سے لے کر 1976ء تک چیک کروایا ہے کہیں بھی نہیں۔ لہذا آپ میاں بیوی دوبارہ سے بیعت فارم پُرکریں۔ اس طرح خاکسار کا احمدیت میں شمولیت کا ریکارڈ 1993ء سے ہے۔
ان چھ نومبائعین کی جب مولویوں کو خبر پہنچی تو چنگاریاں نکلنی شروع ہوئیں اور مخالفت شروع ہوگئی۔ سپیکروں میں گاؤں کے مولوی احمدیت پردرس دینے لگے۔ خاکسار ایک دفعہ صبح سویرے گھر سے اپنی حویلی میں مویشیوں کا چارہ وغیرہ چیک کرنے آیا تو لاؤڈ سپیکرمیں فل آوازمیں ایک مولوی صاحب درس دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بڑی گندی زبان استعمال کر رہے تھے۔ ان دنوں خاکسارملّاں کی گالیوں کا عادی نہیں تھا نیز دل میں خیال تھا کہ میرے سیاسی مخالف بھی گاؤں میں میرے اثرورسوخ کی وجہ سے کھل کر سامنے نہیں آئیں گے اور اپنی پارٹی کے لوگ تو اپنے ہی ہیں۔ چنانچہ جب مولوی نے اپنے درس میں حضرت مسیح موعود ؑ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہنے شروع کئے تو خاکسار کی برداشت کا پیمانہ اس خیال سے لبریز ہو گیا کہ لوگ کیا کہیں گے، کیا مونہہ دکھاؤں گا لوگوں کو، یہ تو بڑی بے عزتی کی بات ہے وغیرہ۔سوچا ابھی مسجد میں جا کر مولوی کا وہ حشر کرتا ہوں کہ دنیا دیکھے اور آئندہ کے لئے نصیحت حاصل کرے۔ خاکسار غصہ سے بے قابو ہو کر تیار ہوا ہی تھا کہ فوراً اس پیارے آقا مسیح الزماں کے خدا نے خاکسار کے دل پر اپنے فضل کی ٹھنڈی برف رکھ دی۔ وہ برف یہ تھی کہ حضرت مصلح موعود ؓ کایہ شعر یاد آگیا کہ:

جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے نکلتا ہے
پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو دل جلتے ہیں جل جانے دو
(کلامِ محمود)

ساتھ ہی سوچاکہ اگر یہ قدم اٹھاؤں گا تو یہ تو حضرت صاحب کے حکم کی نافرمانی ہو گی۔اس خیال کے ساتھ ہی اطمینان ِ قلب ہو گیا اور اس وقت سے آج تک پھر کبھی بھی اس طرح کی بے صبری طاری نہیں ہوئی۔ یہ سب اس خدا کے کام ہیں ورنہ تو ضعف ہی ضعف ہے۔ وہ ذات ہی ہے جو سہارا دے تو قدم آگے چلتا ہے ورنہ گرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتا۔

تیری وفا ہے پوری، ہم میں ہے عیب ِدوری
طاعت بھی ہے ادھوری، ہم پر بلا یہی ہے
(درِّثمین)

پاکٹ بک احمدیہ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی برکت رکھ دی تھی کہ جب بھی اور جدھر بھی اس کو لے کر نکلتا ،ہر تیر نشانے پر لگتا۔ ان دنوں ہر وقت ایک نشہ سا رہتا تھاجس میں بہت لذت تھی۔ دنیا کے کاموں میں جی نہیں لگتا تھا۔ ہر گھڑی یہی خیال اور سوچ رہتی کہ کل کس طرف گیاتھااور کس کس سے بات ہوئی تھی اورآج کس طرف جانا چاہیئے۔ کالے رنگ کاشاپر (پلاسٹک بیگ) تھا جس میں وہ کتاب ہوتی۔ صبح ناشتہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کبھی اپنے گاؤں اورکبھی کسی ساتھ والے گاؤں چلا جاتا۔ انہی کوششوں کی بدولت اﷲ تعالیٰ کے فضل سے موضع رتہ جٹھول کے چوہدری عنایت اللہ صاحب نمبر داربیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوگئے۔ اسی طرح موضع لودھی ججہ کے چوہدری امانت علی صاحب نے بھی بیعت کرلی۔ ساتھ ساتھ لاؤڈ سپیکر وں پر مولویوں کا درس بھی جاری رہااور مخالفت بھی۔ الغرض یہ سلسلہ آگے پھیلتا گیا۔ خاکسار کو وہ نقشہ، وہ دن، جو آج بھی ایک پرسرور نظارہ بن کر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں، یاد کرکے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر سے کوئی ایسی توفیق بخشے۔ آمین
ایک دفعہ موضع داتہ زید کا کی مسجد میں نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے تھے کہ چوہدری ناصر احمد باجوہ صاحب نے جو اس وقت امیر حلقہ تھے، خاکسار کے متعلق تبلیغ کرنے اور پھل ملنے کے حوالہ سے ذکر کرکے احباب کو مخاطب کرکے کہا کہ سب کو تبلیغ کرنی چاہئے۔ اس پر ایک بزرگ مکرم محمد علی صاحب خاکسار کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ چودھری صاحب آپ کے پاس کیا بوٹی ہے وہ ہمیں بھی دیں۔ خاکسار نے عرض کی کہ اس وقت جو زبردست ہتھیار ہے وہ حضور پُرنور حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی تازہ دعائیں ہیں۔ اس کے علاوہ حضور انورؒ نے ایک اور بات بھی بتائی ہے کہ لوہا گرم ہو چکا ہے اب صرف احمدی احباب نے اس پرچوٹ لگانی ہے تو میں تو صرف ان کے حکم کے مطابق چوٹ لگاتا ہوں اور کچھ نہیں کرتا۔
1993ء میں بیعت کرنے والے چھ نو مبائعین میں ایک محمد بشیر پنوں صاحب بھی تھے۔ ان کی اہلیہ گاؤں کے مولویوں کے درس کا اثر قبول کرتے ہوئے کہ اب ان کا نکاح ٹوٹ گیا ہے بچے چھوڑ کر میکے چلی گئیں۔ خاکسار نے محمد بشیر کو حوصلہ دکھانے کی تلقین کی اور ان کے اور ان کے بچوں کے کھانے پینے کا بندوبست اپنے گھر سے کروا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے خاص مدد فرمائی کہ ایک ماہ نہیں گزرا تھاکہ ان کی اہلیہ واپس آگئیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خاکسار حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو دعائیہ خط لکھ رہا تھا۔ اس وقت تک ابھی گیارہ بیعتیں ہوئی تھیں جن کا ذکر اس خط میں بھی کیا تھا۔ خط مکمل ہونے کے بعد چیک کیا تو گیارہ کی بجائے غلطی سے بارہ لکھا گیا تھا۔ خاکسار ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ نیا خط بنا لوں یا لفظ کاٹ کر درستی کروں کہ اتنے میں محمد بشیر پنوں صاحب کی اہلیہ ہمارے گھر آئیں اور خاکسار کو سلام كرنے کے بعد کہنے لگیں كہ بھائی جی کچھ پریشان لگتے ہو کیا بات ہے؟ خاکسار نے کہا کہ ایسی توکوئی بات نہیں۔ کہنے لگیں کہ جب میں آ رہی تھی تودیکھا کہ آپ قلم منہ کو لگا کر کافی دیر تك کچھ سوچ رہے تھے۔ اس پر خاکسار نے ان کو وجہ بتائی تو کہنے لگیں کہ جو لکھاہے وہی رہنے دو، میں بھی بیعت کرنا چاہتی ہوں۔ خاکسار نے کہا کہ ابھی تو کچھ عرصہ ہوا كہ آپ اپنے میاں كے بیعت كرنے پر گھر چھوڑ کر چلی گئیں تھی، اب کیا ہوا ہے؟ کہنے لگیں اُس وقت مجھے سمجھ نہیں آئی تھی مگراب خدا کے فضل سے میں جان چکی ہوں کہ مولوی جو کہتے ہیں وہ درست نہیں۔ پھر انہوں نے قسم کھائی کہ میں نے ضرور بیعت کرنی ہے۔ بیعت فارم جو پہلے ہی میرے پاس موجود تھا پُر کیا اورخط پر جوتعداد لکھی گئی تھی وہ اپنی جگہ پر قائم رہی۔ الحمدللہ۔

یا صدقِ محمد عربی ہے یا احمدِ ہندی کی ہے وفا
باقی تو پرانے قصے ہیں زندہ ہیں یہی افسانے دو
(کلامِ محمود)

خاكسار كے مذکورہ بالاخط کے جواب میں حضور انور رحمہ اللہ کی طرف سے جو خط موصول ہوا تھا اس کی نقل مطبوعہ کتاب میں دی گئی ہے۔

محمد بشیرپنوں صاحب کے پڑدادا نے سکھ مذہب چھوڑ کراسلام قبول کیا تھا۔ محمد بشیر صاحب كے بڑے بھائی سید احمدصاحب مولویوں سے مل کر ہماری مخالفت میں پیش پیش رہتے تھے۔ایک دفعہ انکی سب سے بڑی بہن،جو ان کے خاندان میں زیادہ بااثر تھیں ، محمد بشیرصاحب کے گھر آئیں تا كہ انہیں واپس اپنے مذہب میں لائیں۔قیاس ہے کہ سید احمد صاحب نے ہی انھیں بھیجا تھا۔ وہ محمد بشیر صاحب کو نصیحت کرنے لگیں کہ آپ کافر ہو گئے ہیں۔یہ بہت بڑا گناہ ہے اسے چھوڑیں۔ پھر کہنے لگیں:” وے بشیر!توں اپنے پیو ول نہ ویکھیا۔ وے توں اپنے دادے ول نہ ویکھیا۔۔” ( یعنی اے بشیر!تم نے اپنے باپ کی طرف بھی نہ دیکھا۔ تم نے اپنے دادا کی طرف بھی نہ دیکھا) یہ كہہ كر وہ خاموش ہو گئیں۔محمد بشیر صاحب نے کہا کہ بہن رک کیوں گئی ہو؟پڑ دادا کا بھی تو نام لو۔ انہوں نے کیوں اپنا مذہب تبدیل کر کے اسلام قبول کیا؟کیا پہلے والا مذہب زیادہ بہتر تھا ؟ اگر اس وقت پڑدادا نے قربانی دی تھی تو اب اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی ہے۔ آپ لوگ جو چاہے کرلیں میں نے اما مِ وقت کو مان لیا ہے اور اب انکا ر نہیں کر سکتا۔
مکرم محمد بشیر پنوں صاحب نے خاکسار کے بعد گاؤں میں سب سے پہلے بیعت کی تھی۔ان کے لئے مخالفین نے طرح طرح کی مشکلات پیدا کیں۔ ان کی گنے کی فصل تھی جس سے بیلنے کے ذریعہ رس نکال کر گڑ یا شکر بنایا جاتا ہے۔ اس دور میں یہ رواج تھا کہ كسی ایك كے ڈیرے پربیلنا ہوتا تھا اور ارد گرد کے سب کسان اس كے ہاں باری باری اپنا اپنا گنا بیلنے کا کام کرلیتے تھے۔لیکن بشیر صاحب کو اس سے روک دیا گیا۔خاکسار کوپتہ چلا تو میں نے اس ڈیرے والوں سے پوچھا کہ انہیں کیوں روکتے ہو؟انہوں نے کہا کہ ہمیں دھمکیاں دی گئیں ہیں کہ اگر بشیر نے آپ کے بیلنے كو استعمال كیا تو پھر تیار رہنا ،ہم آپ کا برا حشر کریں گے۔خاکسار نے پوچھا کہ اس کاقصور کیاہے ؟کہنے لگے کہ ’یہ مرزائی ہے‘۔ خاکسار نے کہا کہ احمدی تو مَیں بھی ہوں اور خاکسار کی ہی تبلیغ سےوہ اللہ تعالیٰ كے فضل سے اس سچی راہ پر آیا ہے۔ آپ لوگ مجھے کیوں نہیں روکتے؟ کہنے لگے کہ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ پانی ہمیشہ نچلی طرف کو بہتا ہے۔ آپ سے ابھی ہم کچھ جھجک محسوس کرتے ہیں۔
اس پر خاکسار کو خیال آیا کہ دیکھو یہ مخالفین بھی قدیم مذاہب والوں کے طریقوں سے انیس بیس کا بھی فرق نہیں کرتے۔وہ لوگ بھی شروع میں غلاموں اور اپنے زعم میں کمزور لوگوں کو تنگ کرتے تھےاور یہ بھی انہیں کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔
اس کے بعد خاکسار بشیر صاحب کو ساتھ لے کر ایک گاؤں موضع کھیرے گیاجہاں خاکسار کے کچھ غیر احمدی دوست اور عزیز رہتے تھے۔ ان سے بیلنا خریدا۔ اگلے روز وہ لوگ خود ہی بیلنا ریڑھی پر ڈال كرمحمد بشیر کے ڈیرے پر لے آئے۔یوں مولاکریم نے یہ مشکل آسان کر دی۔
خدا کے فضل سے دو تین برس میں مکرم محمد بشیر صاحب کی ساری فیملی جماعت میں شامل ہو گئی تھی۔ دو بیٹوں کی شادی احمدیہ گھرانوں میں ہو چکی ہے۔ ایک بیٹا اور بیٹی ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مولا کریم ان سب کو ایمان کی دولت سے نوازے رکھے اور دنیاوی لحاظ سے بھی ہر مشکل آسان فرمائے اور سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ جب محمد بشیر پنوں صاحب احمدیت میں شامل ہوئے تو ان کے بڑے بھائی سید احمد صاحب نے مولویوں سے مل کر مخالفت کا بیڑااٹھایا۔ ازل سے خدا کی تقدیر ہے كہ وہ دونوں اطراف میں کام کرتی ہے، یعنی ایک مخالفوں کی رسوائی اور دوسرے حق پرستوں کی ترقی کے سامان۔ ان حاسدوں کو بھی خدا تعالی نے بعینہٖ ایسا ہی کرکے دکھایا۔ وہ لوگ اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے لیکن ہُوا اس کے الٹ اور محمد بشیر صاحب كاسب سے چھوٹا بھائی مکرم محمد ریاض پنوں بھی بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہو گیا۔ وہ ماشاءاللہ نڈر اوردلیر آدمی ہے۔ وہ مخالفت میں پیش پیش اپنے بڑے بھائی سید احمد کے متعلق کہتا تھا کہ یہ لوگ ذرا میری طرف آکر تودیکھیں۔
محمد ریاض پنوں صاحب راج گیری کا کام بھی جانتے تھے۔جب ہم لوگ مسجد کی تعمیر کر رہے تھے تو وہ تعمیر مکمل ہونے تک مسلسل دوسرے مستری کے ساتھ کام کرتے رہے اور مزدوری کا ایک پیسہ بھی نہ لیا۔ بلکہ مربی ہاؤس بنانے كے لئےانہوں نے اپنی تقریباً دو مرلہ ملحقہ جگہ بھی جماعت کے نام عطیہ کر دی۔ ان کے چار بیٹے ہیں جو سب کے سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں شامل ہیں اور ان کی شادیاں بھی احمدی گھرانوں میں ہوئی ہیں۔ لیکن ان کی اہلیہ اور تین بیٹیاں کوشش کے باوجود بدقسمتی سے غیراحمدی ہی رہیں۔ شاید ان کے مقدر میں یہ نعمت نہیں ہے۔ مکرم محمد ریاض صاحب نے خاکسار کو اپنا ایک خواب سنایا تھا کہ ایک تیل سے بھرا ہوا کڑاہ ہے جس کے نیچے آگ جل رہی ہے اور اس ابلتے ہوئے تیل میں چار لاشیں تلی جا رہی ہیں۔ پھر خود ہی خواب کی تعبیر کرتے ہوئے كہا وہ چارلا شیں میری بیوی اور تین بیٹیاں ہی ہیں۔
ایک دفعہ مکرم محمد ریاض صاحب کی اہلیہ صاحبہ بیمار ہو گئیں۔ انہوں نے خاکسار سے مشورہ كیا تو خاکسار نے اسے ہومیوپیتھی دوائی لینے کو کہا۔ ہمارے گاؤں کے ایک ہومیو ڈاکٹر محمد سلیم صاحب گورنمنٹ ہسپتال میں پریکٹس کرتے تھے اور شام كو گوجرانوالہ میں اپنے نجی کلینک پر بیٹھتے تھے اور پریکٹس کی وجہ سے رہائش بھی اپنے گاؤں باسو پنوں كی بجائے گوجرانوالہ میں ہی رکھتے تھے۔ محمد ریاض صاحب کے اصرار پر خاکسار بھی ان کے ساتھ ان كی اہلیہ كو لے کر ڈاکٹر محمد سلیم کے کلینک پر گوجرانوالہ گیا۔ كلینک میں مریضوں کے علاوہ ایک مولوی صاحب بھی تشریف فرما تھے۔ محمد امجد ان کا نام ہے اوروہ ہمارے قریبی گاؤں موضع رتہ جٹھول کے رہنے والے ہیں۔ان دنوں میں یہ مولوی صاحب ہمارے گاؤں کی مسجد اہلحدیث کے خطیب تھے اور گاؤں میں ڈاکٹر کے سب رشتے دار اور برادری والے ان کے معتقد تھے۔ ہم لوگ ابھی كلینك میں بیٹھے ہی تھے کہ مولوی صاحب نے موقع کو غنیمت جانا اور کہنے لگے کہ آپ لوگوں کا کیا مذہب ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور قرآن کو مانتے بھی نہیں؟ خاکسار نے کہا کہ ہم توا ﷲکے فضل سے قرآنِ کریم پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ کہنے لگے ابھی یہیں سب کچھ کھل جائے گا۔ قران کہتا ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ بتائیں کیاآپ کا جنوں پر ایمان ہے؟ خاکسار نے کہا مولوی صاحب قرآن کریم میں کہاں لکھا ہے کہ جنوں پر ایمان لاؤ؟ اگر کہیں یہ حکم ہے تو ہمیں بھی بتائیں، ہم ضرور انشاء اللہ ایمان لائیں گے۔اس پرمولوی صاحب نے قرآن کریم کے دو تین اور حوالے پیش کئے جہاں جن کا لفظ ملتا ہے لیکن جنوں پر ایمان لانے کی کوئی دلیل پیش نہ کر سکے۔ تاہم انہوں نے ایک قصہ سنا دیا کہ میرے فلاں استاد مولوی صاحب کے پاس ایک’ جن‘ رہتا تھا جس کا نام کمالہ تھا۔ کمالے نے قرآن کریم مولوی صاحب سے پڑھا تھا اس لئے مولوی صاحب کی بڑی عزت اور احترام کرتا تھا۔ میرے استاد صاحب نے کمالے کا ایک واقعہ بیان كرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے ہمسائے میں تیلی قوم کا ایك شخص رہتا تھا۔اس کے پاس ایک بیل تھا جس کو وہ کولہو میں جوت کر تیل نکالتااور اپنا روزگار چلاتا تھا۔اس تیلی نے ہماری ہمسائیگی میں رہتے ہوئے ہمیں مختلف طریقوں سے تنگ کرنا شروع کردیا۔ کافی دفعہ سمجھانے پر بھی باز نہ آیا تومیں نے (یعنی استاد مولوی صاحب نے )کمالے کو بتایا کہ یہ تیلی ہمیں تنگ کرتا ہے۔ کمالہ یہ بات سنتے ہی گیا اورتیلی کا بیل اور تیل نکالنے والا کولہو دونوں اٹھا کر اوپر آسمان کی طرف لے گیا اور پھر زمین کی طرف گرا دئیے۔ چنانچہ بیل اورکولہو دونوں ریزہ ریزہ ہو گئے۔ اس کے بعد تیلی میرےقدموں میں آکرگر گیا اور سچے دل سے معافی مانگی تب جا کراسكی جان چھوٹی۔
مولوی امجد صاحب کی بات مکمل ہونے پر خاکسار نے كہا کہ مولوی صاحب آپ کے فلاں مولوی صاحب جو بڑے عالم مانے جاتے ہیں کافی عرصے سے جیل میں قید ہیں، ان کی ضمانت کیوں نہیں ہو رہی؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ ان کو رہائی ملے؟ مولوی صاحب نے كہا کہ ہم تو پوری کوشش كر رہے ہیں مگر چھوٹی عدالتوں نے ضمانت منسوخ کی ہوئی ہے اور اب ہم ہائیکورٹ جارہے ہیں۔ خاکسار نے کہا کہ مولوی صاحب آجکل سخت گرمی ہے اور آپ کو معلوم ہےکہ اتنی سخت گرمی میں جیل میں قیدیوں کا بہت برا حال ہوتا ہے۔بجائے اس کے کہ آپ ہائیکورٹ میں لمبا عرصہ اپیلیں دائر کریں اور خواہ مخواہ روپے پیسے کا بھی ضیاع کرتے پھریں،آپ کمالے کو کیوں نہیں حکم دیتے كہ جیل سے آپ كے مولوی صاحب كو اٹھا کر لےآۓ۔ بیل اور کوہلو کے مقابلہ میں تو مولوی صاحب کا وزن بہت ہلکا ہو گا۔ یہ آسان طریقہ چھوڑ کر مشکل میں کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ مولوی امجد صاحب اس بات کے جواب میں بالكل خاموش ہوگئے۔ اس پرکلینک میں بیٹھے مریضوں نے بھی کان کھڑے کر لئے اور مولوی صاحب سے جواب طلب کرنےلگے۔لیکن مولوی تو مٹی کا ڈھیر بن کر رہ گیا اور ڈاکٹر صاحب بھی(جومولوی كے معتقد تھے) انکی سبكی دیكھ كر پریشانی كے عالم میں ہونٹوں پر زبان پھیرتے رہے۔
اصل میں مولوی کو علم تھا کہ محمد ریاض ایک نومبائع ہے اور اس كے ساتھ اس کی بیوی ہے جوغیراحمدی ہے اور میرا یہ كہنا كہ آپ احمدی لوگ قرآن کو نہیں مانتے، ان کے احمدیت پر ایمان میں خرابی کاباعث بن سكتا ہے۔ لیکن مسیح زماں ؑ کے خدا نے اس شرپسند مولوی كا سارا مكر خود اُسی پرا لٹا دیا۔ الحمدللہ ۔
خاکسار کی ایک بڑی ہمشیرہ عزیزہ بیگم صاحبہ اپنے خاوند اور بچوں کے ہمراہ گاؤں باسوپنوں میں ہی رہائش پذیر تھیں۔ ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اور ان سب کا تعلق اہلحدیث فرقہ سے تھا۔ خاکسار اور ہمشیرہ كی عمروں کا فرق اتنا زیادہ ہے کہ ان کا بڑا بیٹا احسان اللہ، خاکسار کا ہم عمر ہے۔ قضائے الہٰی سے خاکسار کے بہنوئی فوت ہو گئے۔ اس وقت ان کا یہ بڑا بیٹا کراچی میں تھا اور چھوٹا بیٹا منور احمد راولپنڈی میں محکمہ واپڈا میں ملازم تھا اور درمیانہ بیٹا ثناءاللہ گاؤں میں ہی رہائش پذیر تھا۔ثناء اللہ نے لمبی داڑھی رکھی ہوئی تھی اور مخالفت میں مولویوں کے ساتھ رہتا تھا لیکن اس کی مخالفت دشمنی کی حد تک نہ تھی۔ ہمشیرہ كے دونوں بیٹوں کوجو گاؤں میں نہیں تھے، وفات کی اطلاع تو کردی گئی لیکن آمد و رفت کے وسائل محدود ہونے کی وجہ سے کافی ٹائم لگنا تھا۔ اس عرصہ میں خاکسار نے غسل اورکفن وغیرہ کا انتظام کروایا۔ اب دل میں یہ فکر پیداہوئی کہ ہم نے اس غیراحمدی رشتہ دار کا جنازہ تو پڑھنا نہیں اورادھر مولوی اور ان کے چیلے بھی بہت سرگرم ہیں اور اب انہیں شرارت کا زبردست موقع ملنے والا ہے۔ ہماری بہن كاایک بیٹا تو پہلے ہی ان مولویوں نے ساتھ ملایا ہوا ہے اور اب یہ لوگ ہماری بہن اور ان کی باقی اولاد کو بھی ہم سے دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ زیادہ فکر کی وجہ یہ بھی تھی کہ گاؤں میں یہ پہلا واقعہ ہونے والا تھا کہ کوئی پاس ہوتے ہوئے بھی اپنے عزیز کا جنازہ نہ پڑھے بلكہ علیحدہ ہو کر کھڑا رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں کو تھامے رکھا۔ جب جنازہ کے لئے صفیں سیدھی ہونےلگیں تو خاکسار نو مبائعین کو ساتھ لے کر علیحدہ ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ اس وقت ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھتے تھے اور وہ لوگ مع امام ہماری طرف دیکھتے تھے۔ جنازہ پڑھنا توشاید ان سب کوبھول گیاتھا۔ سلام پھیرتے ہی کھسر پھسر شروع ہو گئی اور قبرستان سے واپسی پر شرپسندوں نے میرے بھانجوں كو کھل کر کہنا شروع کردیا کہ یہ آپ کے کیسے ماموں ہیں جنہوں نے آپ کے باپ کا جنازہ تک نہیں پڑھا۔ پھرمخالفین روزانہ افسوس کے لئے ان كے گھر جاتے اور بات صرف جنازہ نہ پڑھنے پر کرتے تاکہ نفرتیں پیدا کی جائیں۔ مگر ہُوا اس کے برعکس کیونکہ اوپر والے کی تدبیر ہمیشہ بہتر ہوتی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ ابھی اس واقعہ کو عرصہ چھ ماہ نہیں گزرا تھا کہ خاکسار کا بھانجا مکرم منور احمد صاحب مع اہلیہ نسیم بیگم صاحبہ اور آپا عزیزہ بیگم صاحبہ بھی بیعت کرکے احمدیت میں شامل ہوگئے۔ اِس وقت منور احمد صاحب مع اہلِ خانہ گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے حلقہ کے پریذیڈنٹ اور گوجرانوالہ شہر کے وقف جدید کے سیکرٹری ہیں۔ یہ سب خدا کے فضل ہیں۔
منور احمد صاحب کی اہلیہ كی بیعت کا واقعہ بڑا ایمان افروز ہے۔ ان دنوں منور صاحب سروس کی وجہ سے صرف چھٹیوں میں ہی گاؤں آتے تھے جبكہ ان کی اہلیہ اور والدہ گاؤں میں ہی رہتے تھے۔ ان كا بڑا بھائی ثناءاللہ جو مخالف احمدیت تھا ،بھی اسی گھر کے ایک علیحدہ حصے میں اپنے بیوی بچوں سمیت رہتا تھا۔ خاکسار جب بھی ان کے گھر بغرض تبلیغ جاتا ثناءﷲ آگے سے روک بن جاتا۔ ان دونوں گھروں کے درمیانی صحن میں چار فٹ کی دیوار تھی۔ جب بھی اس کے کانوں میں خاکسار کی آواز آتی فوراً دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر مداخلت کرنا شروع کر دیتا۔ نسیم بیگم ( اہلیہ منور احمد صاحب) کبھی تو خاکسار کی بتائی ہوئی قرآنی آیات کا مطالعہ کرتی اور کبھی ثناءاللہ کی پیش کردہ حدیثوں کا غلط مفہوم لے کر کنفیوز ہوجاتی تھی۔ اس طرح کافی مشکل رہی۔ آخرخاکسار نے نسیم بیگم کوکہا کہ میں مسیح علیہ السلام کا حق پر ہونا پیش کرتا ہوں اور ثناءاللہ آپ کے سامنے اس كے برعكس پیش كرتا ہے، آپ دونوں کا فیصلہ اپنے خدا سے لے لیں۔ دردِ دل سے خدا کے حضور دعا کریں۔ وہ کہنے لگیں کہ حقیقت تو کافی حد تک اُسی میں نظر آتی ہے جو آپ کہتے ہیں لیکن شک پھر بھی نہیں جاتا، لہذا میں دعا سے ہی کام لوں گی۔ کچھ دن کے وقفہ كے بعد خاکسار ان کے گھر گیا تو وہ فوراً کہنے لگی کہ بیعت فارم لائیں، میں نے بیعت کرنی ہے۔ میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ چار آدمی بہت ہی ڈراؤنی شکلوں والے ہیں اورانہوں نے ثناءاللہ کو پکڑرکھا ہے اور گھسیٹ کر لے جا رہے ہیں۔ میں بہت ڈر رہی ہوں اور ساتھ آوازیں دے رہی ہوں کہ اس کو چھوڑ دو لیکن وہ بالکل نہیں سنتے۔ پھر انہوں نے ثناءاللہ كو ایک دیوار کے ساتھ لگا کر اتنے زور سے دبایا کہ اس کے ہاتھوں سے پیپ بہنے لگی اور ہاتھ الٹے ہو گئے۔ جب چھوڑا تو اس كی گردن لٹک گئی جیسے ختم ہوچکا ہو۔
نسیم بیگم كے میاں مکرم منور احمد صاحب چونکہ سروس کی وجہ سے گھر پر موجود نہیں تھے اس لئے خاکسار نے کہا کہ اپنے میاں کوتو آنے دو، ان سے بھی بات کر لو پھر بیعت کرنا۔ وہ کہنے لگی کہ میاں صاحب بھی تو زیر ِ تبلیغ ہیں وہ مخالفت نہیں کرتے۔آپ اور میں دونوں مل کر ان کو سمجھائیں گے تو وہ بھی سمجھ جائیں گے۔ میں نے تو آج ہی بیعت کرنی ہے۔ آخر اسی وقت مکرمہ نسیم بیگم صاحبہ نے بیعت کر کے حق کو پا لیا اورساتھ یہ بھی بتایا کہ خواب والی رات سے پہلے عصر یا مغرب کے وقت ثناء اللہ نے حضرت مسیح موعود ؑ کی شان میں گندی زبان چلائی تھی۔
مکرمہ نسیم بیگم صاحبہ کو بیعت کرنے کے بعداسی رات پھر ایك خواب آئی کہ ان پر بارش ہوئی جبکہ اور کسی جگہ بارش ہوتی نظر نہیں آئی۔
اس كے تقریباً ایک ماہ میں مکرم منور احمد صاحب اور آپا عزیزہ بھی احمدیت میں شامل ہو گئے۔ وہ اس وقت ٹرانسفر ہو کر واپڈا دفترگوجرانوالہ آ چکے تھے۔ یہ ڈویژن کا دفتر ہے شایداسے چیف آفس کہتے ہیں۔احمدی ہونے کے کچھ عرصہ بعد آہستہ آہستہ دفتر میں سب کو پتہ چلتا گیا کہ یہ احمدی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چارمولوی بھی چیف آفس میں سروس کرتے تھے۔ دفتر کی مسجدمیں ظہر کے وقت نمازی جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے اور میں علیحدہ پڑھتا۔ ان مولویوں نے مجھے مسجد سے روکنا شروع کیا لیکن میں مسجد میں ہی نماز پڑھتا رہا۔پھر انہوں نے ڈائریکٹر ایڈمن پر زور ڈالا تو اس نے مجھے کہا کہ منور صاحب کوئی بات نہیں، آپ چھٹی کے بعد گھر جا کر عصر کے ساتھ ظہر بھی پڑھ لیا کریں۔ منور صاحب کہتے ہیں کہ اس كے بعد میں گھر جا کرنمازیں جمع کر کے پڑھتا رہا لیکن دل کو بہت تکلیف پہنچی۔اس بات کو ابھی عرصہ ایک ماہ یاکچھ زیادہ ہوا ہو گا کہ ان مولویوں کا جو لیڈر تھا اس کی سند جعلی نکلی جس پر وہ سروس سے فارغ کر دیا گیا اور سب تنخواہیں واپس کرانے كیلئے اس پر مقدمہ بھی ہوا۔ باقی تین کی ٹرانسفر ہو گئی۔تب سے میں اسی مسجد میں نماز پڑھتا ہوں۔ الحمد للہ۔
مکرم منور احمد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے جماعتی خدمات بجا لانے کی بہت توفیق دی ہے۔ کئی شعبوں میں کام کرتے آرہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ساری فیملی کو اپنے خاص فضل سے نوازے اور ہر مشکل آسان فرمائے۔اس وقت مع اہل وعیال گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ ماشاء اللہ بچے بھی بڑے ذہین اورجماعت کے ساتھ مخلص ہیں۔ بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہے اور باقی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی خادم ِ دین بنائے۔آمین
چوہدری عنایت اللہ صاحب آف رتہ جٹھول بھی انہیں دنوں میں احمدیت کی آغوش میں آئے تھے۔ وہ خاکسار کے بڑ ے گہرے دوست تھے۔ ان کی عمر اُس وقت تقریباً 70سال تھی۔ وہ مجھے میرے نام سے پکارتے تھے یاکبھی بیٹا بھی کہتے تھے اور میں ان کو چاچا جی کہتا تھا۔ ان کے چھ بیٹے ہیں۔ سب کی سیاست میں کافی دلچسپی ہے۔سارے پڑھے لکھے ہیں۔ ایک ہائیکورٹ کا وکیل ہے۔خاکسار ان سب کو تبلیغ کرتا رہتا تھا اور وہ بھی احمدیت کو اچھا جانتے تھے اور مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ کان لگا کر بات کو سنتے ،سمجھتے اور تائید بھی کرتے تھے۔ صرف دنیا ان کے آگے رکاوٹ بنی ورنہ سب کچھ جان چکے تھے۔ ایک دن خاکسار نے ان میں سے محمد ادریس كو (جو کونسلر بھی منتخب ہوتے رہے ہیں) مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ اب کوئی کسر باقی ہے؟اگر کوئی شک ہے تو بتائیں۔ کہنے لگے کہ اب احمدیت کے سچے ہونے میں تو کوئی شک باقی نہیں رہا لیکن میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں کہ ہم لوگ جس طرح کی دنیاداری میں مبتلا ہیں ،کیا احمدیت میں شامل ہو کر یہ سب چھوڑنا نہیں پڑے گا؟ جہاں تک میں سمجھا ہوں یہ ایک صاف ستھری جماعت ہے۔ اپنی اس حالت میں احمدی ہو کر تومیں صرف اس جماعت کی بدنامی کا موجب ہی بنوں گا۔ابھی کچھ مجبوریاں ہیں اس لئے میرا وعدہ ہے کہ زندگی رہی تو جب کبھی اس گند (دنیاداری)سے نجات پاؤں گا تو ضرور اس جماعت میں شمولیت اختیار کروں گا۔
چاچا جی عنایت اللہ صاحب کا ایک بیٹا نصیر احمد سکول ٹیچر ہے۔ وہ ایک دفعہ کہنے لگا کہ اگر آپ ہمارے گاؤں کے مولوی صاحب سے احمدیت کے موضوع پر بات کریں تو اس سے ہم لوگوں کو بھی فائدہ ہو گا۔ خاکسار نے کہا کہ ماسٹر صاحب میں نے مانا کہ آپ لوگ بڑے چودھری ہیں، تھانہ اورکچہری میں بھی آپ کا بہت اثرو رسوخ ہے، لیکن آ پ نہیں جانتے کہ آج کل مولویوں کا فتنہ بہت بھاری ہے اور آپ ان کو کنٹرول نہیں کر سکیں گے۔ یہ سن کروہ اس وقت تو ٹل گئے لیکن دل ہی دل میں انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ ضرور ان مولویوں سے بات ہو کر رہے گی اور موقع کی تلاش میں رہنے لگے۔ خاکسار کا اکثر ان کے ہاں آنا جانا رہتا تھا۔ ایک دن صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ان کے ڈیرے پر گیا تو وہ وہاں موجود تھے۔ کہنے لگے کہ میں آپ کے لئے ناشتہ لاتا ہوں۔ خاکسار نے کہا کہ مجھے ضرورت نہیں، میں ناشتہ کرکے آیا ہوں۔ ویسے بھی میں نے ابھی اگلے گاؤں کوٹلی کھیرے پہنچنا ہے۔ کہنے لگے کہ مجھے بھی وہاں ایک کام ہے۔ آپ میرے ساتھ ہی آجائیں۔جاتے ہوئے سکول میں حاضری لگا کر آگے نکل جاتے ہیں۔ ماسٹر صاحب اہلحدیث تھے اوران کے پرائمری سکول کے ساتھ ہی فرقہ اہلحدیث کا مدرسہ بھی تھا۔ ہم جب سکول پہنچے تو ماسٹر صاحب خاکسار کو صحن میں کرسی پر بٹھا کر خود کمرے میں چلے گئے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیسے جلدی جلدی سب کچھ ہوا۔ ابھی دس پندرہ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ کچھ لوگ چارپائیاں اٹھائے آرہے تھے اور ان كے ساتھ مولوی صاحب بھی بغل میں ایک بڑی ساری تفسیرِ قرآن اٹھائے ہوئے تھے۔ سکول کے سارے ماسٹر صاحبان ملا کر دس پندرہ لوگ جمع ہو گئے۔اب کوئی چارہ نہ تھا۔اللہ تعالیٰ کی مدد ہی اس کے خاص پیاروں کی مقبول دعاؤں کے طفیل شامل حال ہوئی۔ خاکسار نے مولوی سے کہا کہ آپ عالم ہیں اورمیں تو ایک زراعت پیشہ آدمی ہوں اوراتنا پڑھا لکھا بھی نہیں ہوں۔ہاں میں احمدی ضرور ہوں اورامام مہدی کو ماننے والا ہوں۔ آپ سے سوال ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر زندہ مع جسم مانتے ہیں۔ذرا ہمیں قرآن کریم سے سمجھا دیں اور وہ آیت ہم سب لوگوں کو دکھا بھی دیں۔مولوی نے فوراً مَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ……(النساء: 158) والی آیت نکال کر پڑھی اور سب حاضرین کو دکھابھی دی۔ خاکسار نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ خود پڑھیں اور مولوی صاحب سے بھی پوچھیں کہ کہاں ہے عربی کا وہ لفظ جس سے زندہ، جسم اور آسمان کا ترجمہ لیا گیا ہے۔پھر خاکسار نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ کیا کوئی اور نبی بھی مع جسم خاكی زندہ آسمان پر گیا ہے؟مولوی نے کہا کہ نہیں، صرف عیسیٰ ؑ ہی گئے ہیں۔اس پر خاکسار نے مولوی سے سورۃ مریم کی آیت نمبر58 (جس میں حضرت ادریس ؑ کے متعلق رفع کا لفظ آیا ہے) پڑھنے کو کہا اورمتعلقہ صفحہ سب لوگوں کو دکھایا اورسب نے اس کو پڑھا۔ پھر خاکسار نے مولوی صاحب سمیت سب حاضرین سے سوال کیا کہ اگر لفظِ رفع سے ایک نبی مع جسم زندہ آسمان پرجا سکتا ہے تو دوسرا کیوں نہیں جا سکتا حالانكہ دونوں كیلئے لفظ رفع استعمال ہوا ہے؟ ناظرین نے مولوی سے بار بار جواب طلب کیالیکن مولوی پتھر کا بت بن کر رہ گیا۔ نظریں جھکی ہوئی اور مردہ کی سی حالت۔ خاکسار کا دل اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گا رہا تھا۔ اس پرمقامی گاؤں کے ایک ماسٹر خالق احمدصاحب چارپائی پر کھڑے ہوگئے اور دونوں بازو اوپر کر کے پنجابی میں کہنے لگے: “اوئے لوکو! ہن تے ساڈی ہڈترمی اے ناجے ہن وی نہ منئیں تے” (یعنی اے لوگو اب تو ہماری ہٹ دھرمی ہوگی اگر اب بھی ہم قبول نہ کریں )۔
اس مدرسہ کے انچارج مولوی عبدالقیوم صاحب اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔ جب اس واقعہ کی تفصیلی خبر انہیں ملی تو وہ ماسٹر نصیر احمد صاحب کے ڈیرے پر پہنچ کر واویلا کرنے لگے کہ ہماری بڑی بے عزتی ہوئی ہے۔ میں نے سات سال لگا کر جامعہ پاس کیا ہوا ہےاور بیس سال سے مدرسہ چلا رہا ہوں۔آج تک کوئی ہمارے سامنے ٹھہر نہیں سکا، لیکن آج ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، اس لئے پھرایک دفعہ ہمارے درمیان بات کرواؤ۔ ماسٹر صاحب نے کہا ٹھیک ہے۔ آپ سے وعدہ کرتا ہوں كہ جب بھی موقعہ ملا ضرور کرواؤں گا۔ خاکسار کو ان کے منصوبے کا کوئی علم نہ تھا۔ کچھ دنوں کے بعد جب حسب معمول ماسٹر صاحب كے ڈیرے پر گیا تو وہ وہاں مل گئے۔ایک دو اور آدمی بھی تھے۔ کہنے لگے کہ میں نے گھر میں چائے وغیرہ کا کہہ دیا ہے مل کر پئیں گے اور ساتھ گپ شپ بھی ہوتی رہے گی۔یہ کہہ کر خود غائب ہو گئے۔کافی دیر بعد واپس آئے تو آکر حقیقت سنائی کہ میں نے مولوی قیوم سے وعدہ کیا تھا کہ اسے آپ سے ملواؤں گا لیکن اب جب جا کر میں نے مولوی سے کہا ہے کہ میرے ساتھ آئیں چوہدری صاحب آپ سے بات كرنے كیلئے ڈیرے پر بیٹھے ہیں تو مولوی نے كہا ہے کہ مجھے جانے دیں تا كہ موضع موریکے ججہ سے مولوی اکرم ججہ صاحب کو بھی لے آؤں کیوں کہ مرزائیوں کے پاس بہت علم ہوتا ہے۔ ماسٹر صاحب کہنے لگے کہ مجھے مولوی کی اس بات پر بہت غصہ آیا ہے اور میں اس كے ساتھ سخت گالی گلوچ کر کے آیا ہوں۔
چاچا جی عنایت اللہ صاحب کے موضع کھیوہ باجوہ کے رہنے والے کچھ دوست انہیں اور ان کے بیٹوں کو ملنے اكثر ان کے گاؤں رتہ جٹھول آتے رہتے تھے۔ خاکسار بھی اکثر وہاں جایا کرتا تھا اس طرح ان کے دوستوں كے ساتھ بھی احمدیت پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ ایک دن ان كے دوست کہنے لگے کہ ہمارے گاؤں میں ایک مولوی صاحب ہیں جو بڑے نیک اور حیا دار ہیں اور باقی علماء کی طرح فساد نہیں کرتے اور علم بھی کافی رکھتے ہیں اورفاضل پاس ہیں۔ ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ کسی دن شام کا کھانا ہمارے پاس کھائیں اور رات کو مولوی صاحب سے بڑے آرام سے گفتگوبھی ہوجائے گی۔ یہ بات سن کر مکرم عنایت اللہ صاحب اور ان کے صاحبزادوں نے بھی زور دیا کہ جانا چاہئے اور اتوار کا دن طے پایا۔ مقررہ دن شام کے قریب ہم لوگ موضع کھیوہ باجوہ میں محبوب احمد صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ ماسٹر ارشد صاحب بڑے مخلص احمدی، داعی الی اللہ اور جماعتی ورکر ہیں ،بھی موضع کھیوہ باجوہ میں رہتے ہیں۔ ان کو بھی کہیں سے پتہ چلا تو وہ بھی آگئے۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب دوست چارپائیوں پر بیٹھ گئے تو مولوی صاحب بھی تشریف لے آئے۔ مولوی صاحب کا نام محمد بوٹا تھا۔ان سے گفتگو شروع ہوئی تو بات کبھی وفات مسیح پرہوتی اور کبھی خاتم النبیّین پر۔ جب مولوی صاحب کو کسی ایک لائن پر لانے کی کوشش کی جاتی تووہ فوراً لائن تبدیل کر جاتے۔ اُس کے پیچھے چلتے تو وہ تیسری طرف رخ کر لیتے۔اسی حالت میں رات کا تقریبا تیسرا پہر ہوگیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے قریب آکر ہماری مدد فرمائی۔وہ اس طرح کہ مولوی صاحب کہنے لگے کہ حدیث میں آیا ہے کہ جب امام مہدی آئے گا تو سب سے پہلے چالیس ابدال اس کی بیعت کریں گے۔چلو اس بات پر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ ابدال جنہوں نے مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی ہے ہمیں دکھا دیں۔ اگر دكھا دیں تو ہم بھی آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔ خاکسار نے لوگوں کو مخاطب کر کے كہا کہ جو کچھ مولوی صاحب نے فرمایا ہے كیا آپ نے ٹھیک طرح سمجھا ہے؟ سب نے کہا ہاں۔ خاکسار نے كہا تو پھراس بات پر گواہ رہنا۔پھر میں نے مولوی صاحب کو مخاطب کیا اور كہاکہ آپ عالم ہیں، ہمیں بتائیں كہ ابدال کیا ہوتے ہیں؟مولوی صاحب خاموش رہے۔ پھر دوبارہ عرض کیا کہ خاموش کیوں ہیں تو مولوی صاحب نے فرمایا کہ اصل میں مجھے ابدال کے معنوں کا علم نہیں ہے ،اگر کوئی غلط جواب دوں تو مناسب نہ ہو گا۔ مولوی صاحب کی صاف گوئی پر ہمیں خوشی ہوئی کہ اس زمانہ کے باقی مولویوں کی نسبت ان میں ایک اچھی بات تو نظر آئی ہے۔ اس کے بعد خاکسار نے عرض کیا کہ ابدال کے معنی ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں امید ہے کہ آپ بھی ہم سے اتفاق کریں گے۔خاکسار نے بتایاکہ اللہ تعالیٰ ضرورتِ زمانہ کے عین مطابق لوگوں کی ہدایت کی غرض سے جب کسی کودنیا میں مبعوث فرماتا ہے تو اول وقت میں جو لوگ اس پر ایمان لا کر اپنے آپ میں مکمل تبدیلی کرلیتے ہیں انہیں ابدال کہتے ہیں۔ جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے زمانہ اول میں سینکڑوں ہزاروں ابدال بنائے تھے اور یہ سلسلہ آج تك جاری ہے۔ آپ ﷺ کی امت میں جب امام مہدیؑ آئے اور انہیں بیعت لینے کا اذ ن ہوا تو سب سے پہلے ان کے ابدال اعظم نے بیعت کی اور اسی دن اور اسی وقت باقی انتالیس ابدال نے بھی آپ كی بیعت کی۔ آپ نے جو حدیث بیان کی ہے اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی پوری فرمائی ہے۔ ہم اس کے لئے جو بھی ثبوت آپ چاہیں مہیا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اب تو آپ کافرض بنتا ہے کہ اپنے ساتھیوں سمیت امام مہدی ؑ پر ایمان لا کر اپنے مولا کریم كےسامنے سرخرو ہو جائیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ساری چالاکیاں جو مولوی صاحب نے ابتدا ء میں کی تھیں سب جاتی رہیں اور وہ گردن جھکا کر تھوڑی دیر بعدہی چلے گئے۔

نور دکھلا کے ترا سب کو کیا ملزم و خوار
سب کا دل آتشِ سوزاں میں جلایا ہم نے
(درِّثمین)

مکرم چوہدری عنایت اﷲ جٹھول صاحب آف رتہ جٹھول سے خاکسار کی گہری دوستی اور بہت زیادہ میل جول تھا۔ رتہ جٹھول ہمارے گاؤں باسوپنوں کے قریب ہی ایک بڑا گاؤں ہے جہاں تین نمبردار تھے جن میں سے چوہدری عنایت اﷲصاحب سب سے بڑی پتّی کے نمبردار تھے۔تقریباً سن ۹۱ـ۱۹۹۰ء میں چوہدری صاحب نے احمدیت کے متعلق تحقیق شروع کی جس كیلئے زیادہ تر قرآنِ کریم كا ہی مطالعہ کرتے تھے۔۱۹۹۳ء میں ایک دن ہم دونوں ان کے ڈیرے پر بیٹھے تھے کہ خاکسار نے عرض کیا کہ چاچا جی (خاکسار چوہدری عنایت اﷲصاحب کو چاچا جی کہتا تھا) بڑے لمبے عرصے سے آپ مطالعہ کر رہے ہیں اور آپ کی گفتگو سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ حقیقت تک پہنچ چکے ہیں تو اب دیر کس بات کی ہے؟ کہنے لگے کہ واقعی مجھے یقین ہو چکا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑ ہی امام مہدی ہیں۔خاکسار نے عرض کیا کہ میرے پاس بیعت فارم موجود ہیں ابھی پُر کر لیں۔ کہنے لگے کہ ابھی نہیں ، کل آنا پھر کروں گا۔اگلے دن جب ملاقات کی تو کہنے لگے کہ نکالو بیعت فارم۔ پھر بڑی محبت سے فارم پُر کیا اور دستخط کر کے دعا کی۔ خاکسار نے پوچھا کہ یہ کام کل ہی کر لیتے۔ کہنے لگے کہ ساری عمر گناہوں میں گزری۔ اب خدا کے مہدی پر ایمان لانے سے پہلے سچے دل سے توبہ کرنے اورخدا سے معافی مانگنے کے لیے وقت لیا تھا۔
چوہدری صاحب بیعت کرنے کے بعدعلی لاعلان کہا کرتے تھے کہ وہ احمدیت میں شامل ہو چکے ہیں اور یہی حقیقی اسلام ہے۔ان کے ڈیرے پر لوگوں کا بہت آنا جانا تھا۔ انکی تبلیغ پولیس، کچہری اور وکیلوں تک بھی پہنچتی رہتی تھی۔مولوی خاص کر انکا شکار ہوا کرتے تھے۔ مولویوں سے وہ زیادہ تر یہ سوال کیا کرتے تھے کہ بتاؤ ’قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا‘ ( بنی اسرائیل: ۹۴) کا کیا مطلب ہے؟ پھر بار بار ان سے جواب طلب کرتے تو مولوی حضرات حیلے بہانے سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے۔خاکسار نے کئی دفعہ دیکھا کہ مولوی حضرات چوہدری صاحب کو دور سے دیکھ کر ہی راستہ بدلنے کی کوشش کرتے۔ہمارے گاؤں باسوپنوں میں بھی چوہدری صاحب کا کافی آنا جانا تھا کیونکہ وہ جماعت باسوپنوں کے ممبر تھے اور جمعہ پڑھنے ضرور آیا کرتے تھے۔ہمارے گاؤں کے اہلحدیث مولوی احمد حسن صاحب سے خاص ملنے جایا کرتے تھے اورالسلام علیکم کہنے کے بعد کہتے: “مولویو، تواڈی رب نے مت مار دتی اے۔دن چڑھیا اے پر تواڈے تے رات اے کیونکہ تُسی چودھویں صدی دے مولوی او” (یعنی مولویو! تمھاری تو اللہ تعالی نے عقل مار دی ہے کہ دن کی روشنی میں بھی آپ پر رات کی تاریکی طاری ہے۔اس كیوجہ یہ ہے كہ آپ چودھویں صدی کے مولوی ہیں)
بیعت کے وقت چوہدری صاحب کی عمر تقریباً ۷۰ برس تھی۔آپ ۲۳ ستمبر ۲۰۱۵ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ انا للہ و انا لیہ راجعون۔اسطرح آپ تا دمِ مرگ تقریباً ۲۲ سال تك نہایت اخلاص سے بیعت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔آپ اپنے گاؤں میں واحد احمدی تھے اور ابھی تک آپ کی آل اولاد میں سے کسی کو بھی احمدیت قبول کرنے کی توفیق نہیں ملی۔نا مساعد حالات کے باوجودآپ نے اپنی ۲۲ سالہ احمدیہ زندگی بغیر کسی خوف کے شیر کی طرح گزاری۔ مرحوم کو غالباً تین مرتبہ جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔ صوم و صلٰوۃ اور صدقہ و خیرات کی پابندی کرنے والے تھے۔ موصی بھی تھے۔خاکسار نے ایک دفعہ توجہ دلائی کہ اپنی زندگی میں ہی وصیت ادا کر دیں تو بہتر ہے۔ کہنے لگے کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں لیکن میری کچھ زمین متنازعہ ہے اور اسکا کیس سول کورٹ میں چل رہا ہے۔اُس پر حق بھی میرا ہے اس لیے فیصلہ بھی ان شاءَ اللہ میرے ہی حق میں ہو گا۔ میں چاہتا ہوں کہ فیصلہ ہونے کے بعد ایک ہی دفعہ ساری وصیت کی ادایئگی کر دوں۔کچھ عرصہ بعد فیصلہ مرحوم کے حق میں ہو گیا لیکن دوسرے فریق نے پھر اپیل کر دی اور معاملہ پھر لٹک گیا۔ اس کے بعد مرحوم نے مزید انتظار نہ کیا اور جو زمین کلیئر تھی اسکا تخمینہ لگانے کے لیے مرکزمیں درخواست دے دی جو کہ منظور ہوئی۔ تخمینہ بھی لگوایا گیا لیکن افسوس ادائیگی سے پہلے ہی آپ بیمار ہو گئے اور بیماری کا اثر بھی دماغ پر ہوا جسکی وجہ سے مکمل ہوش و حواس قائم نہ رہے۔تقریباً تین سال چوہدری صاحب کے بیماری کی حالت میں گزرے۔ وفات سے چند روز پہلے خاکسار نے انکے چھوٹے بیٹے مکرم ظفر اقبال جٹھول صاحب کو فون کیا اور مرحوم سے بات کروانے کو کہا۔ جب ان سے بات کی اور حال پوچھا تو کہنے لگے ’اللہ دیاں بڑیاں رحمتاں نے، تے توں کدوں آویں گا؟‘ (یعنی اللہ کی بہت رحمتیں ہیں اور تم کب یہاں آؤ گے؟)۔ یہ خاکسار کی ان سے آخری بات چیت تھی۔اس کے چند روز بعد سیالکوٹ ہسپتال میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ خاکسار انکے بیٹے سے مسلسل رابطے میں تھا اور ان سے بار بار درخواست کرتا رہا کہ انکی وصیت ادا کردیں اور ان کی تدفین ربوہ میں کریں۔ پہلے تو وہ مان گئے اور تیار بھی تھے كہ میّت گاؤں لانے کی بجائے سیالکوٹ سے سیدھا ربوہ لے جائیں گے۔ اسی بناء پر خاکسار نے امیر صاحب ضلع سیالکوٹ سے رابطہ کیا کہ کفن اور غسل وغیرہ کا انتظام کروا دیں۔لیکن بعد میں ان لوگوں کا پروگرام بدل گیا او ركہنے لگے کہ گاؤں جا کر پھر ربوہ جائیں گے۔ جب وہ اپنے گاؤں پہنچے تو ہمارے گاؤں باسو پنوں میں معلّم صاحب ، صدرصاحب اور سیکرٹری صاحب مال کو اطلاع کی گئی کہ رسید بک ساتھ لیتے آئیں تاکہ دسواں حصہ وصیت کا ادا کرنے کے بعد ربوہ لےجا کر تدفین کی جا سکے۔ اس اطلاع پر گاؤں سے کافی تعداد میں احمدی احباب وہاں پہنچ گئے۔ غسل بھی معلم صاحب کی نگرانی میں دیا گیا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا غیر احمدی لوگوں کا ہجوم بہت بڑھتا گیا۔ پھر اچانک ان كے ورثاءکا پروگرام بدل گیا اور انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے فارم پر ہی تدفین کرنی ہے۔ اب وہاں پر اس مرحوم احمدی کی اکیلی قبر ہے۔ یہ اكیلی قبر قریب سے گزرتی شارع عام سے نظر آتی ہےاور راہگیروں کو پتا چل جاتا ہو گا کہ یہ ایک احمدی کی قبر ہے۔ اسطرح مرحوم کی قبربھی احمدیت کے پرچار کا باعث بن رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔(آمین)
ہمارے گاؤں باسو پنوں کے ایک شخص ماسٹر جمیل احمد صاحب تھے جو ہمارے گاؤں كے مولوی احمد حسن اہلحدیث کے نائب بھی تھے اور سکول میں پڑھاتے بھی تھے۔ ان کے ساتھ خاکسار کی اکثر مذہبی حوالہ سے بات چلتی رہتی تھی اور وہ خاکسار کےساتھ کچھ دوستی کا رنگ بھی رکھتے تھے۔ایک دن خاکسار نے ان سے سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام كے ساتھ سوال و جواب کے حوالے سے جواب چاہا اورمجبور کیااوریہ بھی کہا کہ آپ کو عوام کو سچائی سےجھوٹ کی طرف لےجا کر کیا ملے گا۔ اس پر انہوں نے خود تو کوئی جواب نہ دیاالبتہ خاکسار کو کہا کہ میرے ساتھ مولوی احمد حسن صاحب کے پاس مسجد میں چلیں ان سے جواب لیتے ہیں۔اس وقت غالباً عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ خاکسار ان کے ساتھ ان کی مسجد میں چلا گیا جہاں مولوی صاحب موجود تھے اوراتفاق سے قرآن کریم بھی ان کے سامنے چھوٹے سٹینڈ پرموجود تھا۔ ماسٹر جمیل صاحب نے جاتے ہی کہا کہ مولوی صاحب قرآن کریم آپ کے سامنے ہے مجھے یا تو اس سوال کا جواب دیں ورنہ میں بھی مرزائی ہونے لگا ہوں۔یہ سنتے ہی مولوی صاحب جوش سے کھڑے ہوگئے اورجلدی سے تہبند کَس کر ماسٹر صاحب کی طرف لپکے اور کہاکہ تم مرزائی بن کر تو دیکھو۔اگر میں نے تمہاری گردن نہ اتار دی تو میرا حسب نسب مشکوک۔ خاکسار نے کہا کہ مولوی صاحب آپ لاؤڈ سپیکر پرتو اپنی مرضی سے روزانہ یکطرفہ فتوے دیتے ہوئے تھکتے نہیں۔ اب ماسٹر صاحب بڑے مان سے آپ کے پاس آئے ہیں کہ میرے استاد جواب دیں گے تو آپ آگ بگولہ ہو گئے ہیں۔كہنے لگے چوہدری صاحب اس وقت میں آپ سے کوئی بات نہیں کر سکتا۔
موضع کوٹلی کھیرے کے رہنے والے مکرم عبدالحق وڑائچ صاحب کافی عرصہ سے خاکسار کے زیر ِ تبلیغ تھے۔یہ ہمارے رشتہ داروں میں سے تھے۔ ایک دن خاکسار کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ موضع الاوری چک میں میرے بہنوئی مکرم فیض الرسول نے اپنے مولوی صاحب سے آپ کی بات کروانے کے لئے دن اور وقت طے کر لیا ہے اور میری ڈیوٹی لگائی ہے کہ آپ کو ساتھ لے کر اس دن اور ٹائم پر ان کے گاؤں پہنچوں۔ خاکسار یہ سن کر سمجھ گیا کہ یہ پروگرام مکرم عبدالحق صاحب کو احمدیت سے بچانے کے لئے ہوا ہے کیونکہ عبدالحق صاحب اپنے عزیزوں سے احمدیت کے حق میں باتیں کیا کرتے تھے۔خاکسار نے اللہ کا نام لے کر وعدہ کیا کہ انشاء اللہ چلیں گے۔حضور انور کو دعا کے لئے خط ارسال کیا اور مقررہ دن پرہم دونوں چل پڑے۔ گیارہ بجے دن کا وقت مقرر تھا اور تقریباً 10 میل کا سفر تھا اور خدا کے فضل سے ہم وقت پروہاں پہنچ گئے۔ عبدالحق صاحب کے عزیزوں کے گھر بیٹھے اور مولوی صاحب کو بلانے کے لئے آدمی گیا۔اس نے واپس آکر کہاکہ جی وہ بس آرہے ہیں۔انتظار کرتے ہوئے بارہ بج گئے تو کسی اور کو بلانے کے لئے کہا گیا۔ وہ گیا اور آكر کہا کہ جی وہ آرہے ہیں۔ ہر گھنٹہ کے بعد یہی كچھ ہوتا رہا۔آخر فیض الرسول صاحب خود گئے اور واپس آکر معذرت کرنے لگے کہ وہ کسی بڑے عالم کو لینے دوسرے گاؤں چلے گئے ہیں۔ چار بج چکے تھے۔خاکسار نے مکرم عبدالحق صاحب سے عرض کی کہ اب کیا کرنا ہے۔ کہنے لگے چلو واپس چلتے ہیں۔ یہ مولوی جھوٹے ہیں۔ واپس آکرعبدالحق صاحب نے بیعت کر لی اور تا وفات احمدیت پر پکے رہے، الحمدللہ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
خاکسار پہلے یہ ذکر کر چکا ہے کہ 1989ء میں خاكسار بچوں کی تعلیم کی غرض سے عارضی طور پر گوجرانوالہ شفٹ ہوا تھا۔ رہائش کے لئے جو مکان کرایہ پر ملا اس کا ایڈریس تھا: گلی نمبر 21،کشمیری بازار، وحدت کالونی۔ گلی آگے سے بند تھی۔بازار اور گلی کے کارنر پر فاروقیہ نام کی ایک مسجد تھی۔ اس بند گلی میں دونوں اطراف پر چھ یا سات گھر تھے۔ گلی میں اور مسجد کے ارد گردرہائش پذیر سب لمبی لمبی داڑھیوں والے نظر آتے تھے۔ خاکسار اپنے گھر میں نماز ادا کرتا تھا۔ ایک دو ماہ کے بعد محلّے کی کچھ عورتیں ہمارے گھر آنا شروع ہوئیں یہ پتہ کرنے کے لئے کہ یہ بندہ نماز پڑھتا بھی ہے کہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کو وہ داڑھیوں والے بھجواتے ہوں گے کہ اگر یہ نمازی ہے تو اتنی قریب مسجد میں آكر نماز ادا كرنے كی بجائے اکیلا کیوں نماز پڑھتا ہے۔ خاکسار کو بھی معلوم ہو چکا تھا کہ یہ سب دیوبندی فرقہ کے ظالم ختم نبوّت والے ہیں۔پھر نماز عصر کے بعد ان کا معمول بن گیا کہ مسجد کے باہر کارنر پر آٹھ دس مولوی گھیرا بنا کر کھڑے كھڑے گفتگو كرتے رہتے۔ ہمارے ساتھ والے گھر میں جو مولوی صاحب تھے ان کا بڑا بیٹاحافظ محمّدشبیر آرمی میں سروس کرتا تھا۔ خاکسار کے ساتھ وہ بڑے اچھے اخلاق سے پیش آتا تھا۔ایک دفعہ وہ دو ماہ کی چھٹی پرآیا ہوا تھاکہ خاکسار ایک دن اچانک بیمار ہو گیا۔بچے کو بازار سے رکشہ لینے کے لئے بھیجا کہ ہسپتال جا سکوں تو جاتے ہوئے بچے کو حافظ شبیر صاحب مل گئے۔استفسار پر بچے نے حافظ صاحب کو بتایا کہ ابو جی بیمار ہیں تو وہ حافظ صاحب خود رکشہ لے کر آگئے اور کہا کہ چلیں میں بھی آپ كے ساتھ ہسپتال چلتا ہوں۔خاکسار کو دو دن کے لیے اسپتال داخل کر لیا گیا اوروہ دو دن حافظ صاحب بھی ساتھ ہی رہے۔اس دوران حافظ صاحب نے خاکسارسے پوچھا کہ آپ گھر میں نماز پڑھتے ہیں۔ ساتھ ہی تو مسجد ہے مسجد میں کیوں نہیں آتے۔ خاکسار نے کہا کہ حافظ صاحب آپ مسلمان ہیں اور آپ کے نزدیک ہم کافر ہیں۔ آپ کافروں کو اپنی مسجد میں داخل ہونے کی اجازت کیسے دیں گے؟ وہ کہنے لگے کہ یہ کیا بات ہوئی۔ خاکسار نے بتایا کہ ہم لو گ احمدی مسلمان ہیں اور آپ لوگ ہمیں کافر خیال کرتے ہیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ آپ اپنے عقائد بتائیں۔ خاکسار نے بتائے تو وہ کہنے لگے کہ جو آپ نے بتایا ہے کیا وہ سچ ہے ؟ میں نے کہاکہ ہاں ، یہ بالکل حقیقت ہے۔ پھر خاکسار نے کہا کہ یہاں سے فارغ ہو کر جاتے ہیں تواپنے فرقے کے ترجمے والا قرآن لے آنا، ہمارے گھر بیٹھ کر تفصیل سے بات کریں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ کئی دفعہ ہم دونوں ہماری تفسیر صغیر بھی اور ان لوگون کا اپنا قرآن بھی كھول كر سامنے ركھ لیتے اور ختم نبوت اور وفاتِ مسیح پر بات کرتے رہے۔ آخر انہوں نے بتایا کہ ہمارے مولوی بڑی دیر سے آپ کے متعلق شک میں ہیں کہ یہ بندہ قادیانی لگتا ہے۔
ایک دن خاکسار گاؤں جانے لگا تو حافظ صاحب کہنے لگے کہ میں بھی ساتھ جانا چاہتا ہوں۔آپ کا گاؤں بھی دیکھ لوں گا اور سیر بھی ہو جائے گی۔ اس عرصہ میں حافظ صاحب سے دوستی بھی ہو گئی تھی۔ وہ میرے ساتھ سفر میں بھی سوال جواب کرتے رہے۔ گاؤں پہنچے تو رات کو بھی كھل كر بات ہوئی۔حافظ صاحب کے شکوک تقریباً جاتے رہے۔ صبح جمعۃ المبارک تھا۔ حافظ صاحب گاؤں کی سنی مسجد میں جمعہ پڑھنے گئے۔ داڑھی والا مولوی دیکھ کر مقامی مولوی نے پوچھا کہ آپ کس کے مہمان ہیں تو حافظ صاحب نے خاکسار کا نام لیا۔ اس پر مولوی نے کہا وہ تو مرزائی ہیں۔ حافظ صاحب نے کہا کہ پھر کیا ہوا۔ نیز کہا کہ آپ لوگوں کے رویے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ سچے ہیں۔ ہفتہ کو ہم دونوں واپس گوجرانوالہ چلے آئے۔ کچھ عرصہ کے بعد حافظ صاحب دوبارہ خاکسار کے ساتھ گاؤں آئے اور بیعت فارم پر کر دیا۔
احمدی ہونے کے بعد جب بھی موقعہ ملتا تھا وہ گاؤں آجاتے اور امامت بھی کرواتے تھے۔وہ قاری تھے اور بڑی اچھی قِرَاءَت کرتے تھے اور افراد جماعت ان كی تلاوت سے بڑے لطف اندوز ہوتے تھے۔ایک دفعہ خاکسار ان کو ساتھ لے کر حلقہ امارت آف داتا زیدکا گیا۔وہاں بھی مغرب کی نماز کی امامت حافظ صاحب نے کرائی اور احباب بڑے خوش ہوئے۔بلکہ ایک خادم مکرم ظہیر احمد صاحب مسجد کے صحن میں چکر کاٹ رہے تھے اور ساتھ یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بنا بنایا مولوی دیا ہے۔ امیر صاحب نے حضور انور کا بابرکت رومال حافظ صاحب کو تحفہ میں دیا اور دعا بھی کی۔
جب حافظ صاحب ابھی نئے نئے احمدی ہوئے تھے تو ایک دفعہ خاکسار نے ان کو کہا کہ آپ کے لوگ توبڑے ظالم ہیں، جب انہیں آپ كے احمدی ہو جانے كا علم ہوا تو کیا ہو گا ؟کہنے لگے كچھ بھی ہو لیکن انہیں اپنے احمدی ہونے کے متعلق بتاؤں گا ضرور۔اس پر سب نے مل کر بڑی مشکل سے ان کے جذبات ٹھنڈے کئے کہ حکمت ِ عملی ضروری ہے۔ حافظ صاحب کے والدصاحب كو جب بھی موقعہ ملتا خاكسار سے جان بوجھ کر کہتے کہ میں بھی 1974ء میں مرزائیوں کو مارنے اور گھر جلانے میں شامل تھا۔ اس پر خاکسار کے دل کو تکلیف پہنچتی تھی۔ کچھ ہی عرصہ بعدوہ گوجرانوالہ فیروزوالا روڈ پر کھڑ ے تھے کہ ایک ویگن کی ٹکر سے جاں بحق ہو گئے۔

تم دیکھو گے كہ انہی میں سے قطراتِ محبت ٹپکیں گے
بادل آفات و مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو
(کلامِ محمود)

خاکسار کی سب سے بڑی بہن مکرمہ محمد بی بی صاحبہ احمدیت میں شامل ہو چکی تھیں۔ ان کا ایک بیٹا میرا ہم عمر تھا اور موضع تتلے عالی ضلع گجرانوالہ میں ہائی سکول میں ٹیچر تھا۔خاکسار سے جب بھی ملاقات ہوتی تواحمدیت پر خوب بحث کرتا۔ سچ کے سامنے بے بس ہو كر جاتا اور پھر پوری تیاری کر کے واپس آتا اور لاجواب ہو کر جاتا۔ایک دفعہ اس نے خاکسار کو تتلے عالی بلایا اور کہا کہ میرا ایک دوست جو میرے سکول میں ہی ٹیچر ہے ،اسکے گھر جانا ہے۔ خاکسار نے پوچھا کہ شرارت تو نہ کرے گا تو اس نے تسلی دی۔ مغرب کے بعد ہم دونوں اس کے گھر چلے گئے۔میاں صاحب کے نام سے معروف یہ شخص پرویزی فرقہ سے تعلق رکھتا تھا جس کا مجھے علم نہ تھا۔ گفتگو شروع ہونے پر جب میں وفاتِ مسیح پر قرآنی آیات کے ساتھ حدیث سے تشریح کرنے کی کوشش کروں تب بھی اور جب خاتم النبیین پر حدیث سے تشریح کرتا تب بھی میاں صاحب بڑے آرام سے کہہ دیتے کہ میں حدیث کو نہیں مانتا۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ خاکسار کا اہل ِ قرآن فرقہ کے کسی شخص سے واسطہ پڑا تھا۔ مجھے ان کے کسی عقیدہ کے بارہ میں بھی علم نہیں تھا۔ پھر وہ میاں صاحب چالاک بھی کافی تھے۔ خاکسار کے دل میں گھبراہٹ سی محسوس ہوئی۔اتنے میں ایک لڑکا جس کی عمر کوئی بیس برس کی ہو گی آکر بیٹھ گیا۔ خیال آیا کہ شاید یہ بھی میاں صاحب کا كوئی سپورٹر ہے۔ اس وقت میاں صاحب بات کر رہے تھے۔ جب ان کی بات ختم ہوئی تو خاکسار نے جواب دینا شروع کیا۔ اس نوجوان نے محسوس کیا کہ میرا جواب اتنا معقول نہیں ہے۔ چنانچہ فوراً اس نے میاں صاحب کوجواب دینا شروع كر دیا۔ اس كے بعد جب بھی كوئی اور مسئلہ چھڑتا وہ فوراً بڑے اچھے جواب کے ساتھ میاں صاحب کو بے بس کر دیتا۔ رات تقریباً بارہ بجے تک یہ سلسلہ جاری رہا اور میاں صاحب لا جواب ہوتے رہے۔ یہ کس کا کام تھا ؟ حضرت مسیح موعود ؑ کےاس مولا کریم کا جس نے ان سے غلبہ کا وعدہ کیا تھااور جو ان كی مدد کے لئے فرشتے اتارتا ہے۔
وہ نوجوان مکرم محمد رفیع احمد بٹ صاحب آف تتلے عالی تھے جو کہ ایك مخلص احمدی گھرانہ کےنہایت مخلص داعی الی اللہ ہیں۔وہ میاں صاحب سے دوستی کا بھی رنگ رکھتے تھے اور سکول میں ان کے شاگرد بھی رہ چکے تھے۔اگلی صبح وہ خاکسار کو اپنے گھر لے گئے۔ ناشتہ کروایا اور اپنا تفصیلی تعارف بھی۔اس کے بعد آج تک ان سے رابطہ رہا ہے۔ ایک دفعہ ربوہ ملنے کے لئے آئے تو بتایا کہ ان میاں صاحب کی2 بیٹیوں کو قبول احمدیت کی توفیق مل چکی ہے۔ اب تو خدا کے فضل سے باقی دو بیٹیاں بھی احمدی ہو چکی ہیں۔ اور ان میں سے 2 ڈاکٹر بن چکی ہیں۔سب باقاعدگی سے چندہ دیتی ہیں۔یہ سب خدا کے فضل ہیں۔

کیا کروں تعریف حسن ِ یار کی اور کیا لکھوں
اک ادا سے ہو گیا میں سیلِ نفسِ دُوں سے پار
(درِّثمین)

خاکسار کی ہمشیرہ محمد بی بی کا بیٹا جوتتلے عالی میں سکول ٹیچر تھا، اسكو تواحمدیت کی نعمت نہ ملی لیکن اس کے چھوٹے بھائی مکرم ذکاء اللہ باجوہ صاحب نے احمدیت قبول کی اور بڑے مخلص احمدی بنے۔ خاکسار اور مکرم منور احمد صاحب (جو آپا عزیزہ کے بیٹے اور ذکاء اﷲ صاحب کے خالہ زاد ہیں ) دونوں ذکاء اللہ کو تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ جن دنوں مکرم ذکاء اللہ صاحب کافی قریب آچکے تھے لیکن ابھی بیعت کرنے کو تیار نہ تھے، ہمیں پتہ چلا کہ مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کا گوجرانوالہ گل روڈ والی مسجد میں مذاکرہ ہو رہا ہے۔ ہم بھی مکرم ذکاء اللہ صاحب کو ساتھ لے کر مذاکرہ میں شامل ہوگئے۔ مذاکرہ کے پروگرام میں شریک ہونے والوں کی کافی تعداد تھی جس میں دو مولوی بھی مہمان تھے۔ غیر از جماعت کی طرف سے بہت زیادہ سوال وجواب ہوئے۔ بڑا دلچسپ پروگرام تھا۔ دونوں مولویوں نے بھی کافی سوال کیے جن کے جواب حافظ صاحب نے باحوالہ دئیے۔ جب مولویوں کے ہاتھ سے سب کچھ نکلنے لگا اور وہاں موجود غیر احمدی مہمان متاثر ہونے لگے تو مولوی حضرات حسبِ عادت کافی گرم ہو گئے۔ مکرم حافظ صاحب نے ان کے غصے کے جواب میں کہا کہ گالیں پھُلانا اور منہ سے جھاگ نکالناحضرت محمد ﷺ کا اسوہ نہیں ہے۔ اس کے بعد مکرم ذکاء اللہ باجوہ صاحب بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے۔

ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج
جس کی فطرت نیک ہے آئے گا وہ انجام کار
(درِّثمین)

ایک اور ایمان افروز واقعہ اس طرح پیش آیا کہ یو کے (UK)کے سالانہ جلسہ 2001ء (جوجرمنی میں ہوا تھا) کے موقعہ پرخاکسار نے حضور خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے اختتامی خطاب پرگاؤں کے غیر احمدی مہمانوں کو دعوت دی۔عورتوں اور مردوں کو ملا کر حاضرین کی تعداد چالیس سے زائدتھی۔ دو عدد دیگیں پلاؤکی اور زردہ کی کھانے کے لئے تیار کروائی گئیں۔ حضور رحمہ اللہ کا روح پرور خطاب تھا۔دو ٹیبل اوپرنیچے رکھ کر ٹیلی ویژن کواونچاکیا گیا اور آواز اونچی کرنے کے لئے سپیکر لگائے گئے۔ اسی طرح بڑے بڑے بلب لگا كر کافی تیزروشنیاں بھی کی گئیں۔ یہ سارا انتظام خاکسارکے بیٹے عاصم شہزادپنوں (جو اس وقت مقامی قائد مجلس خدام الاحمدیہ بھی تھے)نے مقامی خدام کی مدد سے گھر کے اگلے صحن میں چاردیواری کے اندرکیا۔کرسیاں کم پڑنے کی وجہ سے کچھ لوگوں کو کھڑے ہو کرحضور انور کا خطاب سننا پڑا۔ گھر کی چھت پرلجنہ کے لئے ایک ٹی وی رکھا گیاتھا۔ اسی طرح بن بلائے بھی کافی عورتیں ہمسائیوں کی چھتوں پر بیٹھ کر حضور کا خطاب سنتی رہیں۔یہ ایک بہت ہی روح پرور نظارہ تھا جس سے دل نے خوب لطف اٹھایا، الحمدللہ۔
اگلی صبح فجر کے بعد سپیکروں کی زور دار گونج تھی جس میں مولوی حضرات یہ اعلان کر رہے تھے کہ جس جس نے بھی یہ خطاب سنا تھا، خواہ وہ عورتیں اور وہ مرد ہوں جو ان مرزائیوں كے گھر گئے تھے اور خواہ وہ عورتیں ہوں جو ان مرزائیوں كے گھر تو نہیں گئی تھیں مگر اپنی چھتوں پر سے سنتی رہیں ،ان سب کے نکاح ٹوٹ گئے ہیں اور رات کو جو كھا نا انہوں ان لوگوں كے گھر سے کھایاتھا ، وہ بھی حرام تھا۔ہمارے خلاف یہ بدزبانی ایک لمبا عرصہ تک چلتی رہی۔ مولوی حضرات دور دور تک اس واقعہ کو اچھالتے گئے اور شریر لوگوں کا ٹولہ تعداد میں بڑھتا گیا۔متعلقہ تھانہ میں بھی مقدمہ درج کرنے کے لئے دباؤ ڈالاگیا اور تحصیل پسرور کے ڈی ایس پی کے دفتر کے سامنے جلوس بھی جا پہنچا۔ ڈپٹی صاحب پسرور سے رابطہ کیا گیا ا ور بتایا گیا کہ یہ شیطان اور شریر لوگ فتنہ فساد برپا کرتے ہیں۔ہم نے تواپنی چاردیواری کے اندر بیٹھ کرٹی وی پر جلسہ دیکھا تھا اور سب مہمان اپنی خوشی سے آئے تھے کسی کو زبردستی نہیں لایا گیا تھا۔ اس پر ڈپٹی صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ کوشش کریں گے کہ پرچہ نہ ہو، سوائے اس کے کہ پانی سر سے گزرنے لگے۔ اسی طرح ہمارے ایک بھائی چوہدری فاروق احمدپنوں صاحب نے ان شریر لیڈر وں میں سے ایک کے بھائی کو مداخلت کر کے معاملہ کو ختم کروانے کا کہا۔ کچھ تو اس شخص نے حالات کو کنٹرول کیا اور کچھ ڈپٹی صاحب بھی پاؤں پر کھڑے رہے۔ اس طرح مولا کریم نے اس آگ سے نجات بخشی جو اس شیطانی ٹولہ نے بھڑکائی تھی ۔

ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز
جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم ِاغیار کا
(درِّثمین)

قیام جماعت احمدیہ باسو پنوں اور تعمیرِمسجد

وقت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو پھیرتا رہا اور ہماری تعداد بڑھتی رہی۔اس ضمن میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللّہ تعالیٰ کی طرف سے لکھا گیاجوابی دعائیہ خط جس میں تیس (30)بیعتوں کا ذکر ہے،اس کی کاپی ا گلے صفحے پر دی گئی ہے۔سال1998ء میں غالباً مئی کا مہینہ تھا تو ہمارے امیر صاحب ضلع مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب دورے پرموضع گھٹیالیاں تشریف لائے تو خاکسار نے عرض کیا کہ کیااب ہماری علیحدہ جماعت نہیں بن سکتی؟ (اس وقت تک ہم جماعت داتا زیدکا میں شامل تھے) امیر صاحب ضلع نے مقامی امیر صاحب سے افراد کی تعداد معلوم کرنے پر فرمایا کہ جماعت تو اس سے پہلے ہی بنا دینی چاہئے تھی۔اس کے بعد جون کے مہینہ میں امیر صاحب مقامی نے ہمارے ہاں انتخاب کروایا اور 1998ء میں جماعت احمدیہ باسوپنوں کا قیام عمل میں آیا اور خاکسار اس جماعت کا پریذیڈنٹ منتخب ہوا۔
اسی سال ایک چھوٹی سی مسجد گھر کے صحن میں بنانے کی توفیق بھی ملی۔خاکسار کے گھر کا فرنٹ والا صحن کافی بڑا تھا۔ دوستوں سے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا گیاکہ صحن کی مشرق کی طرف مسجد کا ہال تعمیر کیا جائے۔ بنیادیں کھودنے کے بعد مربی صاحب ضلع مکرم افضال احمد صاحب نے پہلی اینٹ رکھی اور اس طرح تعمیرکا کام شروع ہوگیا۔ جگہ کا انتقال پہلے ہی مرکزی انجمن کے نام ہو چکا تھا۔وہ دن غربت کے تھے۔بچے ابھی پڑھتے تھے اور زمیندارے سے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل تھا۔ جو دوست احمدیت میں شامل ہوئے تھے وہ مالی لحاظ سے خاکسار سے بھی زیادہ کمزور تھے۔ اس لئے مرکز سے بھی مالی مدد کی درخواست کی گئی تھی۔
گرمیوں کے دن تھے جب مسجد کی تعمیر کا کام ہوا۔ٹرالی والا اینٹیں لاكر گیٹ کے اندر خاکسار کی ملحقہ حویلی میں گراتا تھا جہاں سے اینٹوں كو اٹھا كر آگے پہچانا ہوتا تھا۔ جب دیگر احمدی دوست اپنے اپنے کام کاج کے لئے کھیتوں میں چلے جاتے تو حویلی کا گیٹ بند کر کے پردہ کر كے ہم گھر کے سب افراد بیٹیاں بیٹے مع ان کی والدہ بلکہ خاکسار کی ایک بہوبھی جس کی شادی کو ابھی چند دن ہی ہوئے تھے، اینٹیں آگے لے جانے كا كام كرتے۔ دوپہر کو اینٹیں گرم ہونے کی وجہ سے ہاتھ جلتے تو ہم چھوٹے چھوٹے کپڑے ہاتھوں میں لے کر یہ کام کرتے۔ زیادہ تر کوشش ہوتی کہ یہ کام رات کو کیا جائے۔خاکسار ساتھ ساتھ سب كو باتیں بھی سناتا جاتا کہ یہ کام کرنے کی اللہ تعالیٰ جن کو توفیق دے وہ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں۔

جب خدا تعالیٰ کے فضل سے مرکزی ہال کی دیواریں مکمل ہو گئیں اور ابھی چھت، دروازے ،کھڑکیاں اور فرش پلستر وغیرہ باقی تھے کہ پیسے ختم ہوگئے۔مرکز سے جو مالی مدد كی منظوری ہوئی وہ غالباً 29600/روپے تھے لیکن اس وقت تک ہمیں ملے نہیں تھے۔ اگرچہ مسجد کی تعمیر کو ہم نے راز میں رکھنے کی کوشش کی تھی لیكن مخالفین كی طرف سے مخالفت كی فکر تھی۔ لیكن اللہ تعالیٰ جو ہمیشہ سے کارسازہے نے مدد فرمائی۔ قلعہ کالر والا کے ایک احمدی مجاہد مکرم طارق احمد بٹ صاحب كو جب خاکسار نے دوران ِ گفتگو مسجد کے حوالہ سے بتایا کہ چھت ڈالنے میں مالی دشواری ہے اور مخالفین کی طرف سے فکر بھی بہت ہے تو انہوں نے فوراً کہا کہ میرے پاس کچھ رقم ہے جو میں نے فلاں کاروبار کرنے کے لئے جمع کی ہے اس رقم سے جلدی سے چھت ڈال لیں اور مرکز سے جب رقم ملےمجھے واپس کر دیں۔ اگلے روزوہ رقم لے کرآگئے اور ہم ایک ساتھ چھت کا سامان لینے چلے گئے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ رہ کر سارا سامان خریدا بلکہ چھت مکمل ہونے پر جب چھت پر ٹائیلیں لگانی تھیں تو قلعہ کالر والا سے دو تین خدام کے ہمراہ آئے او رچھت ڈالنے کے دوران ٹائیلوں کو ساتھ ساتھ رنگ کر تے جاتے۔ اسطرح انہوں نے وقارِعمل میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ مزدوری کرنا ان کا پیشہ تھا۔ غریب آدمی تھے۔ چھوٹے پیمانے پر کوئی کام کرنا چاہتے تھے۔ غالباً مبلغ17000روپے تھے جو اس وقت انہوں نے جذبہ ایثار و قربانی سے سرشار ہوكر خدا کی خاطر لگا دئیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے مال میں بے انتہابرکت دے ،آمین۔
مسجد کے ہال کے مشرق کی طرف قادر مسیح صاحب کا گھر تھا جن سے ہمارے اچھے تعلقات تھے۔ ان کو ہم نے پہلے ہی بتادیاتھا کہ ہم مسجد کے لئے یہ ہال تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ سنا ہے آپ اپنا گھر فروخت کر کے گوجرانوالہ جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ خبر درست ہے۔ اس پر خاکسار نے ان سے زبانی وعدہ لیا کہ جب بھی وہ اپنا گھر فروخت کریں گےہمارے علاوہ کسی اور کو فروخت نہ کریں گے۔ ہم نےانہیں بتایا کہ یہ ہماری مجبوری ہے کیونکہ مسجد کی لمبائی 36فٹ ہے اور عرض 14فٹ اور اس کے دروازے مشرق کی طرف لگیں گے اور صحن بھی مشرق کی طرف ہو گا۔وقتی طورپر ہم نے ایک دروازہ جنوبی طرف گلی میں اور ایک مغربی جانب خاکسار کے گھر کے صحن میں لگایاتا کہ خواتین گھر کی طرف سےنماز و غیرہ كیلئے آسکیں۔قادر مسیح صاحب اپنے وعدے پر پورا رہے اوراپنا گھر ہمیں فروخت کیا اس پر وہ جگہ بھی انجمن کے نام کروادی گئی۔ اب وہاں خدا کے فضل کے ساتھ مربی ہاؤس بھی بنا ہے اور مسجد کے ہال کا صحن بھی ہے اور معلم صاحب بھی موجود ہیں۔مکرم قادر مسیح صاحب نے ہماری ہر بات کو صیغہ رازمیں رکھا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزاد ے۔ آمین۔

کرتا ہے معجزوں سے وہ یار دیں کو تازہ
اسلام کے چمن کی بادِ صبا یہی ہے
(درِّثمین)

مسجدکی تعمیر میں خاکسار کے علاوہ جن افراد نے مالی معاونت کی ،ان کے نام درج ذیل ہیں۔
1۔ مکرمہ نیئر سلطانہ صاحبہ دختر چوہدری احمد دین پنوں صاحب آف لندن یو کے
2۔ چوہدری ریاض احمدپنوں صاحب موضع باسو پنوں (وقارِعمل میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا)
3۔ چوہدری شوکت علی پنوں صاحب موضع باسو پنوں (وقارِعمل میں بھی حصہ لیا)
4۔ چوہدری محمد شہباز پنوں صاحب موضع باسو پنوں (وقارِعمل میں بھی حصہ لیا)
5۔ چوہدری عنایت اللہ صاحب جٹھول موضع رتہ جٹھول
6۔ مکرم و محترم جناب شفیق الرحمن صاحب مربی سلسلہ (ربوہ) حال نیوزی لینڈ مشنری انچارج
7۔ مکرم چوہدری فاروق احمد پنوں صاحب (انہوں نے قبرستان کے لیے جگہ بھی وقف کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے، آمین)
8۔ مکرم چوھدری افضال احمد کاہلوں صاحب (مرحوم)
9۔ مکرم اختر ججہ صاحب آف گھنوکے ججہ

حال ہی میں خاکسار، چھوٹے بھائی مکرم شوکت علی صاحب اور خاکسار کے بچوں کو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے اسی مسجد کی تعمیر و توسیع کے اخراجات اٹھانے کی توفیق بخشی جبکہ احباب جماعت باسوپنوں نے بڑھ چڑھ کر مسجد کی تعمیرو تزیّن میں حصہ لیا۔ حالیہ توسیع شدہ مسجد کی تصویر ذیل میں پیش خدمت ہے۔

ہماری جماعت قائم ہونے سے کوئی چھ یاسات ماہ پہلے خاکسار کو خواب میں ایک واضح آواز سنائی دی کہ : ’’پنج ست سورتاں یاد کر لے ‘‘(یعنی پانچ سات سورتیں یاد کر لو)۔ اس پر عمل کرتے ہوئے میں نے قرآن کریم کی چھوٹی چھوٹی دس سورتیں زبانی یاد کر لیں۔جماعت کے قیام کے بعد باجماعت نماز کے لئے امام الصلوٰۃبن کر سورتیں پڑھنے پر خاکسارکا بلند شان والے قادرِ مطلق اور اس کے فرستادہ کی سچائی پرایمان اور بھی مضبوط ہو گیا۔

ہم نے نہ عہد پالا، یاری میں رخنہ ڈالا
پر تُو ہے فضل والا، ہم پر کُھلا یہی ہے
(درِّثمین)

مَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ

مخالفینِ حق، ازل سے سچوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے آئے ہیں اور خدا تعالیٰ ہمیشہ سے انہیں ناکام ونا مراد کرتا رہا ہے۔خاکسار اﷲ تعالیٰ کی اس قدرت کا چشم دید گواہ ہے کہ بارہا اس رحیم خدا نے اپنے پیارے مسیحؑ کے ماننے والوں کو نہ صرف مخالفین کی سازشوں سے محفوظ رکھابلکہ ذلت و رسوائی بھی مخالفین کے حصے میں آئی۔اس ضمن میں چند واقعات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔
موضع باسو پنوں کی آبادی اس وقت تقریباً 300سے زائد گھرانوں پر مشتمل ہے جن میں کثیر تعداد سنی اور وہابی عقیدہ رکھنے والوں کی ہے۔ احمدی قلیل تعداد میں ہیں۔ ہمارے گاؤں کے ماسٹر محمد جمیل صاحب (جو فرقہ اہل حدیث سے تعلق رکھتے ہیں اور مولوی احمد حسن صاحب کے نائب تھے) خاکسار کے ساتھ بظاہر دوستی کا رنگ رکھتے تھے لیکن مولوی صاحب كےنائب ہونے کا حق بھی خوب ادا کرتے تھے۔ داڑھی کافی لمبی رکھتے تھے بلکہ بعض لوگ تو مذاق سے انہیں کہتے تھے ماسٹر صاحب! آپ داڑھی کو کھاد ڈالتے ہیں؟ مقامی گاؤں میں پرائمری سکول کے ٹیچر ہونے کے علاوہ مقامی ڈاکخانہ بھی ان کے پاس تھا۔ گاؤں کے اکثر لوگوں کو شکایت رہتی تھی کہ چٹھیاں جوہمیں ملتی ہیں وہ کھلی ہوئی ہوتی ہیں اور بہت لیٹ ملتی ہیں یا گم ہو جاتی ہیں۔ ان دنوں چند نومبائعین جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے۔ جب کوئی نو مبائع اکیلا ماسٹر صاحب کو مل جاتا تو پہلے تو اس کو ورغلانے کی کوشش کرتے۔ جب وہ جھانسے میں آتا ہوا دکھائی نہ دیتا تو ماسٹر صاحب حضرت مسیح موعودؑ کی شان میں گستاخی کرتے۔ جب خاکسار سے ملاقات ہوتی تو صاف انکار کر دیتے کہ میں نے تو ایسے نہیں کہا تھا۔ ان كی احمدیت مخالفت كا ایک واقعہ اسطرح پیش آیا کہ خاکسار کے گاؤں میں مَلک برادری کے تین چار گھر ہیں۔ اس برادری سے خاکسار کے خاندانی تعلقات چلے آرہے ہیں۔ پیشہ کے لحاظ سے یہ لوگ تیلی ہیں اور عرصہ درازسے ان کا تیل نکالنے والے کولہو سے روزگار چل رہا تھا۔ کولہو کے ارد گرد کافی بڑی خالی جگہ اور درخت وغیرہ تھے۔ مخالفت کا دور تھا اور مَلکوں کی بیٹی کی شادی آگئی۔مَلک صاحب کا ایک بھتیجا تھا جو گوجرانوالہ میں دینی مدرسہ سے تعلیم حاصل کر کے وہیں رہائش پذیر تھا اور اس کا شمار اہلحدیث کے بہت بڑے عالموں میں ہوتا تھا اس لئے جب وہ گاؤں آتا تھا تو لوگ اس کا بہت عزت و احترام کرتے تھے۔ اہلحدیث تو اپنی مسجد میں اس کو تقریر کرنے پربھی مجبورکرتے تھے۔اس کا نام مولوی محمد اعظم تھا۔ خاکسار جب شادی میں شرکت کے لیے گیا تو مولوی اعظم صاحب بھی وہاں موجود تھے اور ملاقات بھی سب سے پہلے انہی سے ہوئی۔ خاکسار نے جب السلام علیکم کہا تو چارپائی پر بیٹھے ہوئے مولوی صاحب کھڑے ہوکر گلے ملے اوربازو پکڑ کر اپنے ساتھ چارپائی پر بٹھالیا۔ کسی نے ایک بڑی ساری پلیٹ میں امرود کاٹ کر مولوی صاحب کے آگے ركھے تو مولوی صاحب نے خاکسار کو بھی کھانے کی دعوت دی۔ مولوی صاحب اور خاکسار مل کر امرود کھاتے رہے اور ایک دوسرے سے خیر خیریت بھی دریافت کرتے رہے۔ اس وقت تك بارات نہیں پہنچی تھی اور ہمارے ارد گرد بیٹھے لوگ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ ان کی تعداد ایک سو سے کم نہیں تھی اوران میں دونوں فرقوں کے لوگ موجود تھے۔یہ نظارہ دیکھ کر چھوٹے مولوی اور ان کے چیلے سب کے سب بے جان نظر آرہے تھے۔ خاکسار کو اس وقت جتنی طلب تھی اس سے کہیں زیادہ امرود کھائے اور بار بار حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے خدا کی قدرت نمائی کی طرف دھیان جاتا رہا۔ تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد خاکسار نے مولوی صاحب سے اجازت چاہی کہ برات آنے پر خاکسار دوبارہ حاضر ہو گا۔
كوئی دو گھنٹے کے بعد جب پتہ چلا کہ بارات آگئی ہے تو خاکسار پھر شادی والے گھر کی طرف روانہ ہوا۔راستے میں ایک غیر احمدی دوست کرامت علی واہلہ صاحب مل گئے۔ وہ بھی شادی كی اس تقریب میں موجودتھے۔ کہنے لگے کہ ابھی کوئی کسر باقی رہ گئی ہے جو نکالنے جا رہے ہو ؟ خاکسار نے پوچھا کہ ایسا کیا ہوا ہے؟ كہنے لگے کہ جب آپ مولوی صاحب سے اجازت لے کر چلے گئے تھے تو فوراً ایک گروپ کی طرف سے ماسٹر جمیل نے تحریر لکھ کر مولوی اعظم صاحب کودی کہ ہم یہ فتویٰ لینا چاہتے ہیں کہ کیا مرزائیوں کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے۔ وہ تحریر پڑھتے ہی مولوی صاحب آگ بگولہ ہو گئے اورچارپائی سےاتر كر کھڑے ہو كر کہا کہ میں جب بھی گاؤں باسو پنوں آتا ہوں تیلی بن جاتا ہوں (تیلی نسبتاً نچلی ذات والے سمجھے جاتے تھے)آپ لوگوں نے میرے مقام کو نہیں پہچانا اور مجھے عام مولوی جان کر یہ حرکت کی ہے۔ اس پر مولوی صاحب کے معتقد بھی طیش میں آگئے اور دونوں اطراف سے ہنگامہ آرائی ہوگئی جو طول پکڑ گئی۔ ایک مقامی مولوی کے پاس لاٹھی تھی ،وہ اسے لے كر دوسروں پر حملہ آورہو گیا اور بڑی مشکل سے سارا معاملہ تھمنے میں آیا ہے۔
سارا قصہ سنانے کے بعد کرامت واہلہ صاحب نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اب آپ شادی میں نہ ہی جائیں تو بہتر ہے۔ خاکسار نے کہا کہ مَلک میرے محسن ہیں۔ انہوں نے مجھے دعوت دی ہے۔ گاؤں کی بیٹی کامعاملہ ہے میں تو ضرور جاؤں گا۔ خاکسار جب وہاں گیا تو فوراً ہی کھانا شروع ہو گیا۔ کھانے كے دوران خاکسار کے پاس ایک مقامی مولوی کا بیٹا بیٹھا ہوا تھا جو دینی مدرسہ کا طالب علم تھا اور ابھی پورا مولوی نہیں بنا تھا۔ خاکسار نے اس کو مذاق سے کہا میرا خیال ہے کہ ہم دونوں ایک پلیٹ میں اکٹھے کھاتے ہیں۔ اس پر وہ ہنس کر دونوں ہاتھ جو ڑ کرپنجابی میں کہنے لگا :’ چا چا جی مینوں ولاؤ، نہیں تے میں ماریا جاواں گا‘(یعنی چچا جی مجھے معاف رکھیں نہیں تو میں مارا جاؤں گا) اس تمام عرصہ میں خاکسار نے دیكھا كہ وہاں پر موجود سب لوگ سخت مرجھائے ہوئے ہیں گویا كہ وہ خوشی پر نہیں بلكہ كسی افسوس پر آئے ہوئے ہوں۔

کبھی وہ خاک ہو کر دشمنوں کے سر پہ پڑتی ہے
کبھی ہو کر وہ پانی اُن پہ اک طوفان لاتی ہے
(درِّثمین)

اوپر والا واقعہ ان دنوں کاہے جب سنی اور وہابی دونوں فرقے آپس میں مشورے کر رہے تھے کہ ہم احمدیوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ اس واقعہ سے یہ لوگ اپنے منصوبے میں تقریباً ایک سال سے بھی زیادہ لیٹ ہو گئے۔ دوبارہ جب ان کا منصوبہ بنا تو پھر مولا کریم نے ان کو ناکام کیا۔ الحمدللہ۔
ماسٹر محمد جمیل صاحب کا ایک بیٹا محمد اقبال نامی تھا۔ وہ ان دنوں ایم اے انگلش کر رہا تھا۔ ماسٹر صاحب کو اس سے بڑی توقعات تھیں اس لئے ہر طرح اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک دن دونوں باپ بیٹا ہمارے دروازے پر آئے۔ خاکسار جا کر ملا تو كہنے لگے کہ ہم نے آپ کا واٹر پمپ دیکھنا ہے۔ شنید ہے کہ کوئی نیا ماڈل ہے۔ ہم بھی لگوانا چاہتے ہیں۔ خاکسار نے اجازت دے دی۔ واٹر پمپ دیکھنے کے بعد ماسٹر صاحب کہنے لگے كہ ہمیں وہ ’ننگیاں‘ بھی دکھا دیں جو آپ لوگ دیکھتے ہیں۔ان کا اشارہ اس ڈش انٹینا کی طرف تھا جو ہم نے MTAدیکھنے کی غرض سے لگایا ہوا تھا۔ سارے گاؤں میں ڈش انٹینا صرف ہماری چھت پر تھا اور کسی کے پاس نہیں تھا۔شرپسند لوگ احمدیوں پرالزام لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے اور انہوں نے مشہور كیا ہوا تھا کہ احمدی چینل پر بے پردہ عورتیں ناچتی ہیں۔ اسی لئے ماسٹر صاحب نے مجھے کہا تھا کہ ہمیں “ننگیاں” بھی دکھا دیں۔
خاکسارنے باپ بیٹے کو TV والے کمرے میں لے جا کر MTA لگایا تو خداتعالیٰ کی شان کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا روح پرور خطاب لگا ہوا تھا۔ ہم تینوں صوفے پر بیٹھ گئے۔ پیارے آقا کا خطاب روحوں پر گہرا اثر کرنے لگا تو ماسٹر صاحب کو اپنے برخواردار کی فکر لاحق ہوئی کیونکہ وہ اس روح پرور خطاب کو ہمہ تن گوش ہو کر سن رہا تھا۔ ماسٹر صاحب نے جلد ہی کہنا شروع کر دیا كہ بالیا اٹھ چلئے (یعنی اقبال اٹھو چلیں)۔مگر اقبال ماسٹر صاحب کے کہنے پر کوئی غور نہ كرتا۔ ماسٹر صاحب بار بار کہتے بالیا اٹھ چلئے مگر وہ نہ سنتا۔انہیں ڈر تھا کہ کہیں یہ پرکشش خطاب اقبال کو اپنی طرف کھینچ نہ لے۔ آخر کار اسےمجبور کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ ماسٹر صاحب بیچارے نہیں جانتے تھے کہ وہ اپنے بیٹے کو بچانے کی بجائے اس کی زندگی خراب کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
اس واقعہ کے بعد جب کبھی میری اقبال سے بات ہوتی تو وہ غور سے سنتا تھا۔بعض اوقات تائید بھی کرتا بلكہ اپنے باپ کو بھی تعصب سے پاک ہو کر سوچنے اور غور کرنے کو کہتا۔ اس پر ماسٹر صاحب نے اقبال کو خاکسار سے شائداکیلے ملنے سے روک دیا ہو۔کیونکہ خاکسار نے جب بھی اقبال کو اس كے گھر سے بلانا تو فورًا ماسٹرصاحب نے خود آکربہانہ کرنا کہ وہ گھر پر نہیں ہے یا مصروف ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ماسٹر صاحب کے استاد مولوی احمد حسن صاحب صبح کے وقت درس کے نام پر ہمارے خلاف شدید غلیظ زبان استعمال کر رہے تھے اور ان کی آواز لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ دور دور تک سنائی دیتی تھی۔ اسی دوران ہمارے ایک عزیز چوہدری رحمت علی پنوں صاحب ایک دوسرے گاؤں سے آرہے تھے۔ وہ ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے لیکن زیر تبلیغ تھے۔ مولوی کی غلیظ زبان سن کر انہیں بھی بہت رنج ہوا او ر ان كا دل سخت دکھا۔ جب وہ ہمارے گاؤں کے قریب پہنچے تو ان كے راستے پر پہلا گھر ان ماسٹر جمیل صاحب کا پڑتا تھا۔ ماسٹر صاحب اپنے استاد کی تقریر گھر سے باہرنكل کر انجوائے کر رہے تھے کہ چوہدری رحمت علی صاحب بھی ادھر پہنچ گئے۔ چوہدری صاحب کو اکثر لوگ ’’بابا جی‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔چوہدری صاحب جب قریب سے گزرنے لگے تو ماسٹر صاحب نے طنزًا کہا کہ بابا جی آپ بھی مرزائی ہیں یا نہیں۔ بابا جی یہ سنتے ہی جوش میں آ گئے اور ماسٹر صاحب اور مولوی صاحب کے متعلق وہی زبان بولنی شروع کردی جو زبان مولوی صاحب تقریر میں استعمال کر رہے تھے۔ماسٹر صاحب بھی ہاتھ میں ایک ڈنڈا لے آئے جبکہ بابا جی کے پاس پہلے سے ہی ڈنڈا موجود تھا۔یہ شور سن کر کافی لوگ اکٹھے ہو گئے اور دونوں سے بات کر کے معاملہ ٹھنڈا کیا۔
اس کے بعد بابا جی سیدھے خاکسار کے پاس آئے اور سارا ماجرا سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ میری بیعت کرواؤ، میں نے ابھی بیعت کرنی ہے۔خاکسار نے کہا کہ ابھی آپ کو مکمل معلومات نہیں ہیں اور ابھی جھگڑا کر کے بھی آئے ہیں۔ اپنے آپ کو ذرا ٹھنڈا کریں۔ لیکن وہ کہنے لگے کہ میں ماسٹر صاحب کو کہہ کر آیا ہوں کہ ’’میں احمدی ہوں ‘‘، جو کرنا ہے کر لو، اس لئے میں ابھی بیعت کروں گا۔ چنانچہ چوہدری رحمت علی صاحب اسی وقت بیعت فارم پر کر کے سلسلہ احمدیہ میں شامل ہو گئے اور ابھی تک استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نمازیں اور چندے ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، آمین۔
گاؤں کے پرائمری سکول میں کل 5 ٹیچر تھے۔ ماسٹر جمیل صاحب سب سے سینئر تھے۔ 3ٹیچر مقامی تھے اور ایک ٹیچر قریبی گاؤں کے تھے۔ ان سب نے لمبی لمبی داڑھیاں رکھی ہوئی تھیں۔ سکول میں مذہبی منافرت پھیلاتے تھے اوراصل ڈیوٹی کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں تھی۔ ہمارے گاؤں اور موضع رتہ جٹھول کے بارڈر پر ایک ہائی سکول تھا اس میں بھی اہلحدیث فرقہ کے ایک مولوی عبدالقیوم تھے اوروہ بھی ماسٹر جمیل کا کردار ادا کرتے تھے۔
ماسٹر جمیل صاحب کافی لمبا عرصہ تک اپنی کارکردگی اور اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے۔ آخر کار مولیٰ کریم کی گرفت بھی ظاہر ہوئی۔ ہوا یہ کہ انکے بھتیجے کے ہاتھوں ایک شخص کا قتل ہو گیا اور FIRمحمد اقبال ابن ماسٹر جمیل کے خلاف بھی درج ہوئی۔ بھتیجا مفرور ہو گیا اور محمد اقبال قتل کے الزام میں جیل چلا گیا۔ ماسٹر صاحب نے گھر کی دولت لٹائی، ہر طرح سے بھاگ دوڑ کر کے سفارشات بھی کروائیں لیکن محمد اقبال کی رہائی کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔ خاکسار 2003 میں ربوہ نقل مكانی كر چکا تھا۔ ماسٹر صاحب موضع کھیوہ باجوہ کے ہمارے ایک احمدی دوست ماسٹر محمد ارشد صاحب کو ساتھ لے کر خاکسار کے پاس ربوہ پہنچے۔ ماسٹر ارشد صاحب ایک جماعتی ورکر کے علاوہ محکمہ تعلیم کی یونین کے عہدیدار بھی تھے اور ماسٹر جمیل بھی چونکہ تعلیم کے محکمہ سے منسلک تھے اس لیے ان کی آپس میں جان پہچان تھی۔ رات کو Sitting Room میں بیٹھے تھے كہ ماسٹر ارشد صاحب فرمانے لگے کہ آپ کو پتہ چلا ہو گا کہ ماسٹر جمیل صاحب کافی عرصہ سے بڑی مصیبت میں ہیں اور ان کا سرمایہ بھی انكا بیٹا ہی ہے جو ایک سنگین نوعیت کے مقدمہ میں پھنس چکا ہے۔ ماسٹر صاحب كہتے ہیں کہ چوہدری صاحب (خاکسار ) کے فلاں رشتہ دار مخالف فریق سے صلح کروا سکتے ہیں۔ اگر چوہدری صاحب میری مدد کریں تو میرے بیٹے کو اس مصیبت سے رہائی مل سکتی ہے یعنی جان بچ سکتی ہے۔ ماسٹرارشد صاحب یہ بات کر کے خاموش ہو گئے اورپھر ماسٹر جمیل صاحب کہنےلگے کہ آپ کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ خدارااس معاملہ میں میری ضرور مدد کریں۔ خاکسار نے ماسٹر صاحب كے گزشتہ كرتوتوں کے بارے میں کوئی بات نہ کی بلکہ وہ خود ہی انكا ذكر کرتے رہے۔ خاکسار نے ان سے وعدہ کیا کہ اپنی پوری کوشش کروں گا۔اس کے بعد خاکسار نے اپنے اس عزیز سے کہا کہ کوشش کریں صلح ہو جائے۔ ایک ماہ بعد ماسٹر جمیل صاحب دوبارہ اکیلے آئے اور پھر بہت اصرار کرتے رہے۔ مَیں نے انہیں یقین دلایا کہ اپنا وعدہ پورا کرنے کی میری کوشش جاری ہے اور ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔ آخر کار صلح ہو گئی اور ماسٹر جمیل صاحب کا بیٹا رہا ہو گیا۔ كچھ عرصہ گاؤں میں آکر ٹھیک ٹھاك رہا پھر اسےڈپریشن سا ہو گیا۔ اب اسی حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔تاہم ماسٹر صاحب اسےاحمدی ہونے سے بچانے میں کامیاب ہوگئے۔
اُدھر مخالفین اپنا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دور دراز تک اپنے جوہر دکھانے لگے تھے۔ ہمارے گاؤں کے ارد گرد 9گاؤں کے مولویوں کی تو پکّی ڈیوٹی تھی کہ وہ باقی اوقات کے علاوہ صبح كے درس میں بھی نہایت اونچی آواز میں سپیکر کھول کر جماعت کے خلاف زہر اگلتے رہیں۔ اس کے علاوہ بھی نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کوششیں جاری رہتیں۔ اسی دوران گاؤں کے سنّی اور وہابی مولویوں اور شریر لوگوں نے مل کر ہمارا بائیکاٹ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ قبرستان میں اکھٹے ہونے کے لئے اتوار کا دن مقرر ہوا۔ہفتے کے روز عصر اور مغرب کے درمیان ایک غیر احمدی دوست رانا عبدالقدیر صاحب خاکسار کے پاس حویلی میں اس بات پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے۔ خاکسار نے ان سے کہا کہ مخلوق جو مرضی کرے کوئی نقصان نہیں ، اگر خالق ساتھ ہو۔پھر کہا کہ چھوڑو ان باتوں کو، چلو ذرا ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ، ایک بچے کی دوائی لینی ہے۔ ڈاکٹر کا کلینک گاؤں کے ایک کونے پر تھا۔جس راستہ سے ڈاکٹر کی طرف جانا تھا ادھر كچھ خالی جگہ تھی جہاں محلہ والے اکثر فارغ وقت میں بیٹھتے تھے۔گاؤں كےاس طرف زیادہ آبادی اہلحدیث كی تھی۔ابھی ہم چلتے ہوئے اس جگہ نہیں پہنچے تھے کہ اچانک ایک گلی سے مولوی امانت (جو کہ سنی جماعت کا امام تھا) ہمارے ساتھ آ ملا۔ ہم لوگ اس جگہ سے جہاں اہلحدیث بیٹھے ہوئے تھے خاموشی سے گزرےاور دیکھنے والوں کو ایسے محسوس ہوا کہ ہم تینوں اكٹھ كر كےجا رہے ہیں۔ اس سنی مولوی نے بھی ڈاکٹر سے کوئی دوائی لینی تھی اس لئے ہم تینوں اکٹھے ڈاکٹر کے پاس پہنچے۔راستے میں نہ مولوی سے ہم نے بات كی اور نہ ہی اس نے ہم سے كلام كیا۔فارغ ہو کر ہم دونوں چلے آئے اور وہ بھی چلا گیا ہو گا لیکن وہ اہلحدیث ٹولہ جس نے ہمیں جاتے ہوئے دیکھا تھا اس کو پکا یقین ہو گیا کہ سنّی مولوی ہما رے ساتھ مل گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا كہ اہلحدیث مولوی نے رات کو ہی سپیکر چلا كر گالم گلوچ کیا اور مشرکوں اور قبروں سے مانگنے والوں کی مذمت کی۔تھوڑی ہی دیر کے بعد سنّی مولوی بھی شروع ہو گیا اور دونوں کا کچھ ایسا وعظ ہوتا رہا کہ بائیکاٹ كا پروگرام خود مخالفین پر الٹ گیا۔

بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ
کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب ا ور خوار
(درِّثمین)

اسی طرح ایک اور ابتلا سے بھی خدا تعالیٰ نے اپنی حفاظت میں رکھا۔ ایک نامور اشتہاری، کرائے کا قاتل اور مفرورجس کا نام بلّا بٹ تھا، اور اغواء برائے تاوان اور ڈکیتیاں کرنا اس کا معمول تھا،اس نے اپنے سولہ سترہ ساتھیوں سمیت ہماری زمینوں کے ساتھ والے ڈیرے پر پڑاؤ کیا۔یہ لوگ جدید اسلحہ سے لیس تھے اورہر وقت سات آٹھ گھوڑیاں ساتھ رکھتے تھے۔یہ لوگ تین ٹائم یا دو ٹائم کھانے کے لئے جس کوبھی آرڈر کرتے وہ ان کو مہیا کر تا تھا۔ جس کی گندم کی فصلوں میں چاہتے گھوڑیاں چراتے، کسی کی مجال نہ تھی کہ اف تك بھی کر ے۔ یہ حالات دیکھ کر خاکسار کو بہت فکر ہوتی۔زیادہ فکر اس لئے بھی تھی کہ ہمارے سب سے بڑے مخالف مولوی کا بیٹا اس قانون شکن اشتہاری کا بڑا گہرا دوست تھااور روزانہ رات کوان مجرموں کے پاس پہنچ جاتاتھا۔یہ لوگ کسی خفیہ جگہ پررات گزارتے تھے۔
ایک غیر احمدی دوست مکرم محمد یحییٰ صاحب کے ساتھ میرے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ایك دن آكر کہنے لگے کہ مجھے بلّا بٹ کا پیغام آیا ہے کہ چار دن میں مبلغ ڈھائی لاکھ روپے کا بندو بست کر دوں۔ خاکسار نے پوچھا کہ میں آپکی کیا مدد کر سکتا ہوں ؟ کہنے لگے کہ اگر آپ چوہدری غلام نبی آف سوداگر پور کے پاس جا کر بات کریں تو بچت ہو سکتی ہےکیونکہ سنا ہے کہ بلا بٹ ان کی بات کبھی نہیں ٹالتا۔ خاکسار کے سیاست کے زمانہ میں چوہدری غلام نبی سے گہرے تعلقات رہے تھے۔ خاکسار نے ان كے پاس جاكر یہ ڈھائی لاکھ والا قصہ سنایا تو انہوں نے کہا پہلے آپ یہ بتائیں کہ بلے بٹ نے كہیں آپ کو توتنگ نہیں كیا یا كوئی نقصان تو نہیں پہنچایا؟خاکسا ر نے کہا کہ ابھی تک تو سب ٹھیک ہے لیکن سب سے زیادہ خطرہ بھی میں ہی محسوس کرتا ہوں کیونکہ میرے سب سے بڑے مذہبی دشمن کا بیٹا بلےبٹ کا دوست ہے اور وہ راتوں کو ان کے پاس ہی رہتا ہے۔ اس پر چوہدری غلام نبی صاحب کہنے لگے کہ آپ ذرا بھر بھی فکر نہ کریں ،ان کی ایسی کی تیسی، میں بلا بٹ کے ساتھ رابطے میں رہتا ہوں۔ آپ کے گاؤں پہنچنے سے پہلے ہی میں نے اس کو آپ کے متعلق آگاہ کر دیا تھا کہ ادھر میرا ایک دوست ہے اور یہ اس کا نام ہے۔چوہدری صاحب کہنے لگے کہ اس کے بعد خود بلے بٹ نے انہیں کئی دفعہ بتایا ہے کہ آپ کے دوست کے گھر پرکافی بڑے سائز کا ڈش انٹینا ہے جو چھت پر سے دور سے نظر آتا ہے۔اسی طرح گھر کا حدود اربعہ بھی اس نے بتایا تھا بلکہ خاکسار کا حلیہ بھی اس نے بتایا تھا۔ اور وہ تو آپ کی عزت کرتا ہے۔ پھر کہا کہ آپ تسلی رکھیں۔ اس نے آپ کے ساتھ دوست سے جو رقم مانگی ہے وہ بھی نہیں مانگے گا۔یوں ہر طرح کی تسلی ہونے پر ہم واپس آگئے۔ ہم گھر بیٹھے تھے اورحضرت مسیح موعودؑ کے خدا نے خود ہماری حفاظت کے سامان پیدافرمادئیے جب کہ دوسرے لوگوں کی فصلیں تباہ ہوئیں۔ بہتوں سے کئی دن تک حکماً روٹیاں منگوائی گئیں۔كئیوں کوبے عزت کیا جاتا رہا۔ کئی لوگوں کو مارا پیٹا بھی گیا۔جبراً رقمیں وصول کی گئیں۔ غلام نبی صاحب نے بتایا کہ آپ کے مخالفوں نے بہت کوشش کی تھی كہ اس كو آپ كا نقصان كرنے پر اكسائیں مگر وہ ان کو ٹال مٹول کر دیا کرتا تھا۔

یا رب ہے تیرا احساں میں تیرے در پہ قرباں
تو نے دیا ہے ایماں ، تو ہر زماں نگہباں
(درِّثمین)

ہمارے گاؤں کے ایک محمد الیاس صاحب بھی مخالفت میں کسی سے کم نہیں تھے، بلکہ سب سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک دفعہ جماعت کے مخالف مولوی صاحبان نے ہم پر توہینِ قرآن کا مقدمہ بنانے کا منصوبہ بنایا جس کا مدعی شاید الیاس صاحب کو مقرر کیاجانا تھا۔ چونکہ ان کا گھر ہمارے گھر کے ساتھ ملا ہوا تھا اس لئے وہ بھی “ہمسائیگی کا حق” ادا کرنے کی چارہ جوئی کرنے لگے۔انہوں نے اپنی ساس رسول بی بی صاحبہ كو ( جو ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں) ہمارے گھر بھیجا۔ وہ آكر کہنے لگیں کہ آپ لوگوں نے کیوں قرآن کریم کُوڑے کے ڈھیر پر پھینکا ہے؟ نعوذباللہ۔ قرآن کریم ہماری مقدس کتاب ہے۔آپ نے یہ بہت بری حرکت کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم بہت حیران ہوئے کہ یہ کیا کہہ رہی ہے۔بہت سمجھانے کے باوجود وہ عورت یہی کہتی رہی کہ میں نے خود دیکھا ہے بلکہ کوڑے سے اٹھا کر بھی لے گئی ہوں۔وہ اسی طرح واویلا کرتی ہوئی چلی گئی۔اس وقت ہمیں کچھ پتہ لگا کہ اس عورت نے ایسا کیوں کیا ہے لیکن بعد میں جب ان کا منصوبہ نہ جانے كیسے خود بخود ناکام ہو ا تو پتہ چلا کہ اصل میں ہم پر مقدمہ بنانے کے لئے اس عورت کوہمارے گھر بھیجا گیا تھا۔
مخالفت عروج پر تھی تو خاکسار کی اہلیہ مکرمہ صفیہ بیگم صاحبہ نے خواب میں دیکھا کہ تین جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ ایک ہماری اپنی چھت پر ہے ،ایک مکرم منور احمد صاحب کے گھر پر( جن کا ذکرپہلے گزرچکا ہے) اور ایک اور گھر پر ہے جو بھول گیا۔ پھر ایک اور موقعہ پرمیری اہلیہ كو خواب میں ایک واضح آواز سنائی دی کہ اپنے گھر میں وہ آیت لکھ کر لگاؤ جو اس انگوٹھی پر لکھی ہوتی ہے جو احمدی پہنتے ہیں۔چنانچہ اس خواب پر عمل کرتے ہوئے وہ آیت )أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُۥ [39:37] (بڑے الفاظ میں لکھ کر فریم کروا کر گھر میں لگوا دی گئی۔

ہر اک بے چارگی میں بے بسی میں اپنی رحمت کا
جو دل پر ہاتھ رکھتا ہے خداوندا فقط تو ہے
(عبیداﷲعلیم)

نام نہاد ملاؤں اور ان کے چیلوں کا آنکھوں دیکھا حال

خاکسار اب نام نہاد ملاں اور انکے چیلوں کا جو مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، آنکھوں دیکھا حال مختصرًا بیان کرنا چاہتا ہے۔ خاکسار کے علاوہ ان کے حالات کے مقامی گاؤں والے بھی گواہ ہیں۔
مکرم محمد بشیرپنوں صاحب کے مخالف بھائی سیداحمد کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ ایک طرف تو خدا نے اس مخالف کو یہ نظارہ دکھایا کہ اسکا دوسرا بھائی مکرم محمد ریاض پنوں بھی بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہو گیا اور دوسری طرف یہ کہ اس نے کہا تھا کہ وہ یہ فتنہ ختم کر کے رہے گا جس كیلئے ہر طرح کا حربہ بروئے کار لائے گا۔ یا کم از کم ہم لوگوں کو گاؤں سے ضرورنکال كر رہے گا۔ خاکسارخدا کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہے کہ ہم گاؤں میں ہی تھے کہ وہ اپنا رہائشی مکان فروخت کر کے گاؤں سے چلا گیا۔نہ صرف وہ گیا بلکہ اس کا ایک ساتھی مولوی محمد بشیرارائیں بھی (جواکثر سپیکر میں بد زبانی کیا کرتا تھا) گھر اور زمین فروخت کر کے گاؤں چھوڑ كر چلا گیا۔ تقریباً تین چار برس کے بعد سید احمد بھی گاؤں آیا ہوا تھا اور خاکسار بھی ربوہ سے گاؤں گیا ہوا تھا۔اسےپتہ چلا تووہ خود خاکسار کو ملنے ہمارے گھر آیا اور بڑی دیر تک بیٹھا رہا اورچائے وغیرہ پی۔ اس سے اگلے دن پھر حویلی میں آگیا تو خاکسار نے پوچھا کہ بتاؤ بچے کیا کرتے ہیں۔ اس پر اس نے کچھ مایوسی سی ظاہر کی۔خاکسار نے محسوس کیا کہ اسےكوئی جسمانی تکلیف ہے۔پوچھا کہ بتاؤ کیا پریشانی ہے۔جذباتی ہو کر كہنے لگا کہ میرا میرے بیٹوں سے جھگڑا ہوا ہے۔ ایک بیٹا میرے ساتھ ہے اورتین میرے خلاف ہیں اور میری بیوی بھی ان کی ساتھی ہے۔اُس ایک کو میں ساتھ لے آیا ہوں اور کسی کا گھر عارضی طورپر رہائش کے لئے لیا ہے۔ اب ادھر ہی رہوں گا۔ مختصر یہ کہ وہ ایک سال تک گاؤں میں کسی کے مکان میں رہا ، پھر چلا گیا۔ اب اس کی بیوی تو وفات پا چکی ہے اور خود وہ سانگلہ ہل میں اپنے زندگی کے دن گزار رہا ہے۔خاکسار مکرم سید احمد صاحب کے لیے خاص ہمدردی رکھتا ہے اور ان کے بچوں کے لیے بھی دعا ہے کہ مولا کریم ان سب کو احمدیت کی نعمت سے نوازے اور ان پر رحم فرمائے۔ آمین۔

جاہ و عزت تو گئے ، كِبر نہ چھوٹا مُسْلِم
بھوت تو چھوڑ گیا تجھ کو پہ سایہ نہ گیا
(کلامِ محمود)

ایک دفعہ دومقامی مولویوں نے مل کر باہر سے دو تین مولوی بلائے اور ساری رات جلسہ کے نام پر مسجد کے سپیکر میں حضرت مسیح موعو د ؑ کی شان میں گستاخی کرتے رہے۔ ایک مقامی حاسد اور جاہل محمد الیاس (جسکاذکر پہلے بھی گزر چکا ہے) نے تو حد کر دی جس سے ہمارے دل شدید زخمی ہوئے۔وہ ہمارے لئے بہت مشکل وقت تھا۔ اسی الیاس نے کچھ عرصہ بعد خاکسار کے بیٹے محمد عمران پنوں پر قاتلانہ حملہ بھی کیا تھا لیکن مارنے والےسے بچانے والا بہتر ہے۔ محمد عمران كھالے میں كھڑا كھیت كو پانی لگا رہا تھا كہ اس سفاك نے چپكے سے پیچھے سے كَسّی سے اس پر وار كرنے کی کوشش کی مگر جونہی اس نے كسّی اٹھائی تو عمران كے مطابق اسکے دل میں ڈالا گیا كہ كوئی حملہ كر رہا ہے۔ چنانچہ اس نے جلدی سےپیچھے مڑ كر كسّی پكڑ لی اور چھین لی۔ قریب تھا كہ اس سے اس ظالم كا كام تمام كر دیتا كہ معًا اس كے دل میں ڈالا گیا كہ میں انتقام كیوں لوں جبكہ خدا كا انتقام میرے انتقام سے كہیں بڑھ كر ہوگا۔ چنانچہ عمران نےاسے چھوڑ دیا۔
اس واقعہ پرایک سال نہ گزرا تھا کہ وہ الیاس ٹوکہ مشین پرچارہ کتر رہا تھا اوراس کی بیٹی مشین میں چارہ ڈا ل رہی تھی۔ اچانك چارے کے ساتھ بچی کا ہاتھ پھنس کرمشین میں چلا گیا۔ بچی چیختی چلاتی رہی لیکن وہ ظالم گردن نیچےکركے بڑے زور سے ٹوکا چلاتا گیا۔ جب اوپرنظر اٹھا کر دیکھا تو بچی کا پنجہ کٹ چکا تھا۔
اس كے تھوڑا عرصہ بعد اس کے ایک بچے نے جوئیں مارنے والی دوائی پی لی۔ڈاکٹروں كے علاج سے بچے کی جان تو بچ گئی لیکن آفت نے ابھی باپ کا پیچھا نہ چھوڑا تھا۔ کچھ ہی عرصہ بعد اس کی اہلیہ کو دورے پڑنے شروع ہوگئے۔ علاج کے لئے کبھی تعویذوں والوں کی طرف اور کبھی جن نکالنے والوں کی طرف دوڑ لگتی رہی۔ پھر اس نے بھینس کا ایک بچہ(کٹّا) بطور صدقہ ذبح کر اکے مولویوں سے ختم وغیرہ بھی پڑھوائے اور اپنی طرز سے دعائیں کروائیں تا آفات ٹل جائیں۔ لیکن بیچارے کوعقل نہ آئی کہ یہ آفتیں آنے کی کیا وجہ ہے۔ ایک بات ضرور ہے کہ ان واقعات کے بعد اس کی طرف سے مخالفت كی كوئی آواز نہیں سنی گئی۔
اہلسنت مولوی امانت علی صاحب دیہاتوں سے جنس خرید کر منڈی میں فروخت کیاکرتے تھے۔ایک دفعہ وہ ایک قریبی گاؤں لودھی ججہ میں بغرض خرید مونجی گئے۔ اس گاؤں میں خاکسار کے کچھ دوست بھی تھے۔جب مولوی صاحب ان کے ڈیرے سے گزرنے لگے توانہوں نے انہیں روک لیا اور بٹھا کر پوچھا کہ مولوی صاحب بتائیں كہ چوھدری اﷲدتہ نے ( یعنی خاکسار نے ) آپ کا یا اُس کے باپ نے آپ کے باپ کا آج تک کچھ بگاڑا ہے؟ مولوی نے کہا نہیں۔انہوں نے کہا کہ یاد کرو کہ کچھ اچھا ئیاں تو ہوں گی جو انہوں نے آپ سے اور آپ کے باپ سے بھی کی ہیں۔ اگر آپ کو یاد نہ ہوں تو ہم یاد کروا دیتے ہیں۔ اس پر مولوی صاحب کہنے لگے کہ مجھے سب یاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یاد ہیں تو آپ شریروں سے مل کر ان کی مخالفت کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہو اور لاؤڈ سپیکروں میں شور مچاتے ہو، کیا یہ صحیح ہے؟ پھر انہوں نے کہا کہ کئی دن ہوئے ہیں میرے بھتیجے آپ کا انتظارکر رہے ہیں کہ مونجی کا سیزن ہے اب مولوی ضرور ہمارے گاؤں آئے گا۔ چوہدری اللہ دتہ تو احمدی ہے اس لئے خاموش ہے لیکن ہم تو احمدی نہیں ہیں۔ ہمیں مولوی نظر آگیا تو اسکی خوب خبر لیں گے۔ مولوی صاحب کہنے لگے کہ آپ انہیں سمجھائیں كہ میرا تو کاروبار ہے اور آنا جانا میری مجبوری ہے۔ انہوں نے کہا مولوی صاحب آپ بعد کی بات کر رہے ہیں مجھے تو خطرہ ہے کہ اگر انہیں ابھی پتہ چل گیا تو میں انہیں روک نہیں پاؤں گا۔ مولوی صاحب نے کہا توپھر اس کا حل کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک ہی حل ہے کہ چوہدری اﷲدتہ صاحب سے معذرت کر لو۔ مولوی صاحب نے كہا كہ مجھے ان کے پاس لے چلیں۔ انہوں نے كہا كہ مولوی صاحب آپ اس و قت یہاں سے جلدواپس چلے جائیں، میں مغرب کے بعد آكرآپ كوان كے ہاں لے چلوں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مولوی صاحب نے میرے گھر آۓ اور چائے بھی پی اور آئندہ کے لئے وعدہ کیا کہ کبھی ایسا نہیں کروں گا۔
پھر اس کے بعد مولوی صاحب میرے ہاں آتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ آئے تو ان سے کھانے پینے کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ لسی پلا دیں۔ خاکسار جگ میں لسی اور گلاس لے کر مولوی صاحب كے پاس آیا ہی تھا كہ خاکسار کا بھانجا ثناء اﷲ (جو اہلحدیث فرقہ سے تعلق رکھتا تھا) بھی وہاں آن پہنچا۔ مولوی صاحب نے خاکسار کو انگلی سے اشارہ کیا کہ ابھی لسی گلاس میں نہ ڈالیں۔ کافی دیر بیٹھے رہے جب وہ چلا گیا تو مولوی صاحب نے وہ لسّی پیٹ بھر کر پی۔
ایک اور مولوی صاحب احمد حسن تھے۔و ہ اپنے فرقہ کے مقامی طور پر لیڈر تھے اور خاکسار کے احمدی ہونے سے پہلے اِن سے اچھے تعلقات تھے۔انہوں نے اور ان کے ایک صاحبزادے نے بھی ہمارے خلاف بڑے زور شور سے جوہر دکھائے تھے۔خاکسار ایک دن گوجرانوالہ میں بچوں کو ملنے گیا ہوا تھاكہ مولوی صاحب کا فون گھر کے نمبر پر آیا کہ میں پونڈاوالہ سٹاپ پر کھڑا ہوں، مجھے یہاں سے لے جائیں۔ خاکسار نے اپنے بیٹے محمد عاصم کو کہا کہ جاؤ مولوی صاحب کو لے آؤ۔مولوی صاحب آئے تودیکھا كہ انكی سانس پھولی ہوئی تھی اور کمزوری بہت زیادہ تھی۔انہیں کچھ ہلکا پھلکا کھانے کو دیا، چائے پلائی اور پوچھا کہ مولوی صاحب یہ اچانک کیا ہو گیا ہے آپ کو۔ کہنے لگے کہ اولاد کی وجہ سے گھریلو حالات كچھ ایسے ہوئے ہیں کہ کیا بتاؤں۔ خاکسار نے کہا کہ چلیں ابھی کسی اچھے سے ڈاکٹرسے چیک اپ کرواتے ہیں۔کہنے لگے میرا علاج کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے۔ بار بار کہنے پر بھی نہ مانے۔ پھر پوچھا کہ ادھر کس غرض سے آنا ہوا ؟ كہنے لگے کہ صرف آپ کو ملنے کو جی چاہ رہا تھا اور کوئی غرض نہ تھی۔ خاکسار نے عرض کی کہ مولوی صاحب میں تو گاؤں میں ہی رہتا ہوں۔یہاں تو کل ہی آیا ہوں اور صبح میں نے پھر گاؤں چلے جانا ہے۔ آپ مجھے ادھر ہی پیغام بھجوا دیتے میں خود آپ کے پاس چلا آتا۔ اتنی دور اس حالت میں آنے كی کیوں تکلیف اٹھائی ہے۔ کچھ دیر بعد کہنے لگے کہ مجھے بس سٹاپ تک پہنچا دیں، میں واپس گاؤں جانا چاہتا ہوں۔ایک دو دفعہ كہا کہ اس حالت میں اکیلے نہ جائیں، صبح میرے ساتھ چلے جائیں لیکن انہوں نے بہت ضدکی کہ ضرور جانا ہے۔ پھرخاکسار کا بیٹا مولوی صاحب کو بس پر بٹھا کر آیا۔
اس کے بعد ان کی حالت آہستہ آہستہ خراب ہوتی گئی اورسنا تھا کہ گھر میں ایک کمرے میں ہی رہتے ہیں۔ جو بھی تیمار داری كیلئے جاتا ہے اسے گھر والےملنے نہیں دیتے۔ خاکسار نے بھی کئی دفعہ ملاقات کا ارادہ کیا تھا لیکن اسی وجہ سے پھر ان کی خبر گیری نہ کر سکا۔ کم از کم دو سال تک اسی حالت میں زندہ رہ كر راہی ملك عدم ہوئے۔

انبیاء سے بغض بھی اے غافلو اچھا نہیں
دور تر ہٹ جاؤ اس سے، ہے یہ شیروں کی کچھار
اس میں کیا خوبی کہ پڑ کر آگ میں پھر صاف ہوں
خوش نصیبی ہو اگر اب سے کرو دل کی سنوار
(درِّثمین)

اہلِ خانہ کے حوالے سے چند واقعات

خاکسار نے اپنی ایک بہو (رضیہ بیگم) کا ذکر کیا تھا کہ وہ ابھی چند دن شادی کو ہوئے تھے کہ مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتی تھی۔اس کے والد صاحب کا نام مکرم چوہدری رحمت علی پنوں ہے اور وہ گاؤں میں ہمارے ہمسائے ہیں۔ ان کی پانچ بیٹیاں ہیں اور نرینہ اولاد كوئی نہیں۔ خاکسار کی یہ بہو ان کی سب سے چھوٹی بیٹی ہے۔ یہ بچی بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوگئی تھی مگر اس کے والدین ابھی غیر احمدی تھے كہ ایک دن خاکسار کے چھوٹے بھائی مکرم شوکت علی پنوں صاحب نے کہا کہ رضیہ بیگم کے والدین اس کا رشتہ غیراحمدیوں میں کر رہے ہیں۔ خاکسار کویہ بات سن کر تکلیف پہنچی۔سوچا کیا کریں اورکیسے انہیں روکا جائے۔ خاکسار کے کسی بچے کی بھی اس وقت تك شادی نہیں ہو ئی تھی۔ آخر کار یہ راہ نکلی کہ اگر خاكسار كے بیٹے محمد عمران کے لئے ان سے رشتہ لے لیا جائے تو یہ معاملہ حل ہو سکتا ہے۔یہ کام مشکل تھا کیونکہ خاکسار کی سب سے بڑی دو بیٹیاں اور ان سے چھوٹا بیٹامحمد عاصم شہزاد ابھی غیر شادی شدہ تھے اور محمد عمران تو چوتھے نمبر پر تھا۔ اس کے باوجود ضمیر نے اجازت نہ دی کہ کوئی احمد ی لڑکی کسی غیر احمد ی کے گھر جائے اور ضائع ہو جائے۔خاکسار نے اپنے بھائی کو کہا کہ ان کے گھر جاؤ اور كہو كہ ہم محمد عمران کے لئے یہ رشتہ لینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میرے بھائی نے اپنی اہلیہ كو ساتھ لے كر ان سے بات کی تو بہو کے والدنے خاکسار کے متعلق پوچھا کہ كیاچوہدری صاحب مان جائیں گے ؟ میرے بھائی نے کہا کہ ہم جو کہہ رہے ہیں ان کی مرضی سے ہی کہہ رہے ہیں۔اس کے باوجود انہوں نے خاکسار سے اس بات کی تصدیق کرائی اور رشتے پر راضی ہو گئے۔ چند دن بعد نکاح ہوا اورہم لڑکی کوگھر لے آئے۔ خدا کا فضل ہے کہ اس بہو کے ساتھ ہمیں سب سے زیادہ وقت گزارنے کا موقعہ ملا ہے لیکن یہ کبھی محسوس نہیں ہوا کہ یہ کوئی غیر ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ شروع سے ہی یہ ہمارے گھر کا فرد رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دو بیٹوں اور چار بیٹیوں سے نوازا ہے، جن میں سے پانچ خدا کے فضل سے وقفِ نو کی مبارک تحریک میں شامل ہیں۔ شادی کے بعد اس کے والدین بھی احمدی ہو گئے تھے۔
بڑے بیٹے محمدعاصم شہزاد کی شادی 2000ء میں ہوئی۔ اس کے سسر مکرم چوہدری محمد امین مہار صاحب جب پہلی دفعہ ہمارے گھر تشریف لائے وہ اس وقت انسپکٹر پولیس تھے اور بعد میں D.S.Pکے رینک سے ریٹائر ہوئے۔ رشتہ کے متعلق بات ہوئی تو خاکسار نے ان سے کہا کہ محکمہ پولیس کی انکم (income)سے ڈر لگتا ہے۔ اس کا انہوں نے بڑا پیارا جواب دیا کہ میں نے تین سال پہلے گوجرانوالہ میں ایک سادہ سا مکان رہائش کے لئے بنایا ہے لیکن بوجہ مالی مشکل کے ابھی تک اسکے اندر کے دروازے نہیں لگوا سکا۔ جس پولیس انکم کی بات آپ کرتے ہیں اس سے تو کوٹھیاں بھی بنا سکتا تھا۔ ان کی یہ بات دل کو لگی اور رشتہ طے پاگیا اور خدا نے بڑے فضل کئے۔خاکسار کی اہلیہ جو بیماری كی وجہ سے بہت ضعیف ہو گئی تھیں۔یہ بہو( مکرمہ عائشہ صدیقہ صاحبہ) عرصہ دراز سے مسلسل ان كی خدمت کی توفیق پا رہی ہے۔ علاوہ ازیں خاکسار کی تین بیٹیاں مع بچوں کے جب یکے بعد دیگرے لندن آئیں تو جب تک وہ سیٹل ہو کر اپنے اپنے گھر نہیں شفٹ ہو گئیں ،مکرمہ عائشہ صدیقہ صاحبہ نے انہیں کئی مہینے تك اپنے گھر میں آرام دہ رہائش فراہم کی جبكہ وہ خود اور ان کے بچے اور میاں عزیزم محمد عاصم شہزاد زمین پر سوتے رہے۔ یہ سب اس مولا کریم کے فضل ہیں۔ محمد عاصم شہزاد کو اللہ تعالی نے تین بیٹیوں اور دو بیٹوں سے نوازا ہے۔یہ سب خدا کے فضل سے وقفِ نو کی مبارک تحریک میں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اس بابرکت تحریک میں شمولیت کاحق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

کیونکر ہو شکر تیرا ،تیرا ہے جو ہے میرا
تو نے ہر اک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا
جب تیرا نور آیا ، جاتا رہا اندھیرا
یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
(درِّثمین)

جن دنوں خدا سے تبلیغ کرنیکی توفیق ملتی تھی گھر آکر بیوی بچوں سے دن بھر کے حالات بیان کیا کرتا تھا۔ خاص طورپر تبلیغ کے حوالے سے جو بھی بات ہوتی تھی اورجس سے بھی ہوتی تھی سب واقعہ تفصیل كے ساتھ سنا دیا کرتا تھا۔اس سے بچوں اور بچیوں کواللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ فائدہ ہوا۔یہاں تک کہ بڑی دونوں بیٹیوں اور بیٹے محمد عاصم شہزادنے تو وفاتِ مسیح پر قرآن کریم کی ا ٓیات اور دوسرے مشہور حوالےیاد کر لئے تھے۔ دونوں بڑی بیٹیوں ثمینہ کوثر اور حمیرہ کوثرمیں تبلیغ کا اتنا شوق اور لگن پیدا ہوئی کہ اکثر دیکھتا تھا کہ گھر میں کسی نہ کسی خاتون کو بلا کر تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا ہوتاتھا۔ جب انہیں پتہ چلتا کہ فلاں صاحب ابو کے ملنے والے ہیں تو ان کی عورتوں کو گھر بلاكر ان کی خاطر تواضع كرتیں اور ساتھ تبلیغ بھی۔ جو مرد حضرات خاکسار کے زیر ِ تبلیغ ہوتے تھے ان کی عورتوں کا بغض دور کرنے میں یہ دونوں بیٹیاں خاکسار کی بہت مدد کرتی تھیں۔
سب سے چھوٹی بیٹی عظمیٰ پروین نے جب یو کے میں اسائلم کیا تو بتایا کہ مجھے انٹر ویومیں بہت زیادہ جماعتی سوال کئے گئے تھے۔اس وقت یاد آتا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فضل کے علاوہ ابو جی کی تبلیغ کا زمانہ میں نے نہ دیكھا ہوتا تو شاید ان سب سوالوں کا صحیح جواب نہ دے سکتی۔ الحمدللہ۔
اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے بچوں میں رحم کا جذبہ بھی خود ڈال دیا ہے۔کسی کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے۔ تقریباً 2008کا پاکستان ربوہ کا واقعہ ہے كہ ایک چاند رات میں نماز عشاء کے بعد ایک شخص خاکسار کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک ہزار روپے بطور قرض چاہیئں۔ پوچھا کہ اس وقت کیا ایمرجنسی ہے؟كہا میرے دو بیٹوں کو کئی سالوں سے خون لگتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں ابھی یہ سلسلہ جاری رہنا ہے۔اُس وقت خاکسار کے پاس ایک ہزار روپے موجود نہیں تھے لیکن اس آدمی کی ضرورت فوری نوعیت کی تھی۔ خاکسار نے اس سے عرض کی کہ ٹھہرو میں گھر سے پتہ کرتا ہوں۔ گھر میں اس وقت تینوں بیٹیاں موجود تھیں۔جب گھر میں بات کی تو سب نے مل کر مجھے پانچ ہزار روپے دیئے اور بتایا کہ بھائی عاصم (خاکسار کا بیٹا )کی طرف سے آج ہی عیدی ملی تھی۔ ہمارے لیے اس سے بڑھ کر عید کی خوشی نہیں ہو سکتی کہ یہ پیسے اس شخص كی ضرورت میں کام آئیں۔ اور ہم نے یہ پیسے واپس نہیں لینے۔ اس شرط كے ساتھ تو وہ صاحب پیسے لینے كوتیار نہ تھے مگر خاکسار نے انکی جیب میں ڈال ہی دیئے۔
خاکسار نے اپنی اولاد کے متعلق جو یہ تحریر کیا ہے اس کا مقصد ہر گز اپنے بچوں کی کوئی تعریف کرنا نہیں بلکہ اس مولا کریم کے احسانات بیان کر نا ہے جس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ اگر خاکسار یا خاکسار کی اولاد بھی کسی جاہل اور جھوٹے پیر کی طرف یا كسی شیطان صفت ملاں کی طرف منسوب ہوتے تو یقینا اسی طرح تباہ و برباد ہو جاتے جس طرح خدا تعالی کے برگزیدہ پیارے حضرت مسیح پاک علیہ السلام و مہدی آخر الزماں کا انکار کرنے والے جھوٹے پیر اور شر پسند ملاں اور ان کے پیرو کار ذلت اور رسوائی كے گڑھے میں بڑی تیزی سے گر كر تباہ ہو رہے ہیں۔ خاکسار کو تو اس بلند شان والے قادر مطلق خدا کا شکر کرنے کے لئے الفاظ نہیں ملتے جس نے اپنے برگزیدہ کی برکات سے حصہ عنایت فرما کر اس ناکارہ کو بھی نوازا ہے۔ الحمدللہ۔

تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم
کس عمل پہ مجھ کو دی ہے خلعتِ قرب و جوار
میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف
پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار
(درِّثمین)

خاکسار کی بڑی بیٹی ثمینہ ندیم کی شادی دسمبر 1999ء میں ہوئی تھی۔ اس وقت اس کے میاں مکرم ندیم ظفر وڑائچ صاحب اپنے دو بھائیوں سمیت پیپلز کالونی گوجرانوالہ شہر میں بغرض کاروبار کرائے کے گھروں میں علیحدہ علیحدہ رہتے تھے۔ جس گھر میں ثمینہ ندیم رہائش پذیر ہوئیں وہ مذہبی تعصب ركھنے والے لوگوں كے محلہ میں واقع تھا اور قریب ہی ان لوگوں کا دینی مدرسہ بھی تھا۔گھر کے اوپر نیچے دو حصے تھے۔ اوپر والے حصہ میں ثمینہ ندیم اور نیچے خود مالک مکان رہتے تھے۔ بیٹی نے بتایا کہ ابھی گھر میں رہائش اختیار کئے كوئی ڈیڑھ ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ مدرسہ کے زنانہ حصہ کی انچارج، دو اورعورتوں اور مالک مکان کی اہلیہ کو ساتھ لیکر آئی اور مجھے نیچے بلایا۔مدرسہ کی انچارج کہنے لگی کہ کیا آپ مرزائیوں کے متعلق جانتی ہیں کہ وہ بہت برے لوگ ہیں۔ وہ حضرت محمد ﷺ کے منکر ہیں اور انہوں نے مرزا قادیانی کو نیا نبی بنا لیا ہے۔یہاں تک میں سب کچھ خاموشی سے سنتی رہی اور ساتھ کچھ گھبرا بھی گئی کہ میرے ارد گرد یہ چار عورتیں ہیں، پتہ نہیں یہ کیا کریں گی۔یہ سوچ كرنظریں اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھیں۔ لیكن جب گفتگو کے دوران اس نے حضرت مسیح موعود ؑ کی شان میں گندی زبان بولی تو پھر خدا جانے میری وہ گھبراہٹ کہاں چلی گئی۔ میں نے بڑے جوش اور اونچی آواز میں مدرسہ کی انچارج کو(جس سے وہ باقی عورتیں بڑی عزت سے پیش آ رہی تھیں) کہا کہ’’ بکواس بند کر۔خبردار جو ایک لفظ بھی آگے بولنے کی جرات کی‘‘۔ میرے مولا کریم نے ایسا رعب طاری کیا کہ ایک منٹ تک سب خاموش رہیں۔ پھر وہ عورت دھیمی آواز میں بولی کہ کیا آپ کا بھی اسی گروپ سے تعلق ہے؟ میں نے کہا ہاں ، الحمدللہ میں احمدی ہوں۔ وہ مجھے کہنے لگی کہ پھر تمیز سے تو بات کرنی تھی۔ میں نے کہا کہ تمیز کے تو آپ نے پرخچے اڑا دئیے ہیں۔جس پیارے نبی ﷺ کا ہمیں منکر بتاتی ہو اُس کے حکم کو تو آپ نے توڑا ہے۔انہوں نے تو فرمایا ہے کہ کسی کے جھوٹے رہبر کو بھی گالی مت دو کیوں کہ پھر وہ تمہارے سچے کو گالی دے گا۔ پھر وہ کہنے لگی کہ اچھا تم اپنا ایک عالم بلاؤ اور ہم اپنا بلاتے ہیں تا دونوں فریق پاس بیٹھ کر توجہ سے گفتگو سنیں، اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ کون سچا ہے۔میں نے کہا کہ پہلے تم لوگوں نے ہماری زبانوں کو تالے لگوائے ہیں اور اب کہتی ہو بات کروا لیتے ہیں۔اگر آپ لوگ سچے ہوتے اور قرآن کریم آپ کے ساتھ ہوتا اور پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات آپ لوگوں کے حق میں گواہی دیتے تو پھرآپ کو یہ کالے قانون ہمارے خلاف پاس کروانے کی ضرورت ہی كیا تھی؟
باقی دوعورتوں کا تو مجھے علم نہیں لیکن خدا کے فضل سے اس ساری گفتگو کا اثر مالک مکان کی اہلیہ پر ضرور ہوتا نظر آرہا تھا۔اس واقعہ کے بعد اس نے میرے پاس دو تین دفعہ آكر اس بات کا اظہار کیا کہ لوگ غلط کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ کھانا پینا حرام ہے۔اور پھر میرے سے کھانا لے کر کھایا بھی کرتی تھی۔ حالانکہ شکایت بھی شاید اسی نے کی ہو گی کیوں کہ ہم جمعہ کے وقت موٹر سائیکل پرباغبان پورہ میں واقع اپنی مسجدمیں جایاکرتے تھے جبکہ ان لوگوں کی مسجد بالکل ہمارے مكان كے ساتھ ہی تھی۔واللہ اعلم۔ پھر جب محلہ والوں نے مالک مکان کو ہمیں مكان سے نكالنے پر مجبور کیا تو اسكی بیوی اس بات پر معذرت بھی کرتی تھی۔ چار پانچ دن میں ہم نے مکان بدل لیا۔
میرے سسرال والوں نے مجھے کچھ محسوس بھی کروایا کہ گوجرانوالہ کے حالات پہلے ہی بڑے خراب ہیں، تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔میں نے انہیں جواب دیاکہ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے کہ کوئی احمدیت کی سچائی کے متعلق سوال کرے اور میں چپ رہوں اورپھر اپنے آقا کی شان میں گستاخی بھی برداشت کروں۔ الحمدللہ کہ میرے میاں نے میرے ساتھ اتفاق کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزاء خیر دے۔ آمین۔

سنیں گے ہر گز نہ غیر کی ہم، نہ اس کے دھوکے میں آئیں گے ہم
بس ایک تیرے حضور میں ہی سرِ اطاعت جھکائیں گے ہم
(کلامِ محمود)

گاؤں سے ہجرت

مارچ 2003ء میں امیر صاحب حلقہ چوہدری ناصر احمد باجوہ صاحب( مرحوم )کے مشورہ پر خاکسار اپنے گاؤں باسو پنوں سے ربوہ شفٹ ہو گیا۔خاکسار کے بعد خاکسار کے چھوٹے بھائی مکرم شوکت علی پنوں صاحب (جنہوں نے مع اہلیہ بیعت كی تھی)2003ء سے لے کر ہمارے گاؤں كی جماعت کے پریذیڈنٹ منتخب ہوتے آرہے ہیں۔
اُن دنوں حالات کچھ اس طرح تھے کہ موضع گھٹیالیاں میں فجر کی نماز كے وقت احمدیہ مسجد میں پانچ احمدی افراد شہید کر دیئے گئے تھےاور کچھ شدید زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ كے کچھ عرصہ بعد ہی موضع داتہ زید کا کا ایک مشہور شرپسند اپنے کچھ ساتھیوں سمیت ہمارے گاؤں کے مولویوں اور شرپسندوں سے مل کر مختلف طریقوں سے لوگوں کو اکسانے لگا۔ا س کے علاوہ اجنبی شکلوں والے مولوی، اور کندھوں پر رائفلیں لئے تین تین چارچار آدمیوں کے ٹولے جن كی ٹانگیں کیچڑ سے بھری ہوئی ہوتی تھیں، رات كے وقت مخالفین کے ڈیرو ں پر آتے جاتے دیکھے گئے تھے۔ پھر دھمکیاں بھی ملنی شروع ہوگئیں۔ ہمارے امیر حلقہ چوہدری ناصر احمد باجوہ صاحب (مرحوم) بڑے نیک، دانااور دوراندیش تھے۔ شاید ان كے پاس خاکسار سے زیادہ معلومات ہوں۔ بہر حال انہوں نے خاکسارکو ہمدردانہ انداز میں مشورہ دیا کہ چھ ماہ کے لئے گاؤں سے چلے جائیں۔ خاکسار نے عرض کیا کہ اکیلا تو نہیں جا سکتا ،بچے بھی لے جاؤں گا، اس لئے ایك ماہ كا وقت تو ہونا چاہیئے۔ اس پروہ رضا مند ہوگئے۔ خاکسار کے پاس دوسری جگہ جا کر رہنے کے لئے خرچ نہ تھا۔ ایک غیر از جماعت سے کہا کہ میں نے کچھ زرعی زمین فروخت کرنی ہے آپ لے لیں۔ وہ رضا مند ہو گیا۔ 99کنال زمین فروخت کی جس سے ربوہ میں ایک رہائشی مکان خریدا اور بڑے بیٹے محمد عاصم شہزادکوانگلینڈبھیج دیا۔ چھوٹے بھائی مکرم شوکت علی پنوں صاحب کو قائم مقام صدر بنادیاگیا اور خاکسار مع فیملی سب جماعت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد كركےربوہ رہائش پذیر ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاکسار کو 1990ء تا مارچ 2003ء تقریباً تیرہ سال تك مسلسل دعوت الی اللہ کی توفیق ملتی رہی۔ خاکسار پہلے بیان کر چکا ہے کہ میں پرائمری پاس ہوں۔ناظرہ قرآن کریم پڑھ سکتا ہوں۔ كوئی زیادہ عبادت گزار بھی نہیں ہوں۔ زندگی گناہوں سے بھری پڑی ہے۔ان ساری کمزوریوں کے باوجود حضرت مسیح موعود ؑ کی نصرت کا وعدہ کرنے والے خدا نے مجھ جیسے ناچیز کے ذریعہ موضع باسوپنوں ضلع سیالکوٹ میں 1998ء میں ایک نئی جماعت قائم کرادی۔ جماعت باسو پنوں سے اس وقت تک 8 3 احمدی ہجرت کر چکے ہیں اور تجنید کے حساب سے وہاں موجود افرادکی تعداد 35ہے ، اس طرح کل تعداد 73 بنتی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت جماعت باسو پنوں میں دس افراد وصیت کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں بلکہ کچھ تو حصہ جائیداد کی ادائیگی بھی کر چکے ہیں۔ مسجد کے علاوہ 2010ء میں وہاں مربی ہاؤس بھی تعمیر ہوچکا ہے اور اب وہاں معلم صاحب بھی موجود ہیں۔ان ساری باتوں پر غور کیا جائے تو انسانی عقل کے مطابق یہ محال ہے کہ ایک ان پڑھ آدمی یہ سب کر سكے۔صرف ایک طرح ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ اور آپ کے خلفاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ جو معجزات دن رات دکھا رہا ہے یہ بھی اس کی ایک جھلک ہے۔ اس سے باری تعالیٰ کا فتح مبین کا وعدہ مسیح محمدی ؑکے حق میں پورا ہوتا نظر آتا ہے۔

تیرا یہ سب کرم ہے تو رحمتِ اتم ہے
کیوں کر ہو حمد تیری کب طاقتِ قلم ہے
(درِّثمین)

خاکسار کو ربوہ میں دارالنصر غربی اقبال میں 2005سے جون 2010ء تک زعیم انصار اللہ اور جولائی 2010ء تا 22مارچ2011ء صدر محلہ خدمت کی توفیق ملی۔ خاکسار کے پوتے پوتیوں ، نواسے نواسیوں میں سے 13 وقفِ نو کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں۔ بڑا بیٹا محمد عاصم شہزاد 2003ء سے لندن میں ایم ٹی اے (MTA) انٹر نیشنل میں خدمت کی توفیق پا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسے خدام الاحمدیہ میں بھی تقریباً دس سال سے کسی نہ کسی رنگ میں خدمت کی توفیق ملی ہے۔اس وقت بطورِ صدر جماعت لوئر مورڈن خدمت کی توفیق پا رہا ہے۔

خدمتِ دین کو اک فضل الہٰی جانو
اس کے بدلے میں کبھی طالب ِ انعام نہ ہو
(کلامِ محمود)

مارچ 2003ء میں خاکسارنے اپنا گاؤں چھوڑا تھا۔ اس وقت گھر سے نکلتے ہوئے سب افراد کے آنسو بہہ رہے تھے کہ ہم اپنے آباء اجدادکا خاندانی مقام اور گھر بار چھوڑکے جا رہے ہیں۔ ہمارا قصور کیا ہے؟ کس جرم میں ہمیں گھر بار چھوڑ نا پڑ رہا ہے؟ اس وقت یہ پتہ نہیں تھا کہ ہمارا مولا کریم جو ازل سے مظلوموں کے ساتھ ہے ، ہمیں بہتری کی طرف لے کر جا رہا ہے۔خاکسار کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور سب کے سب مع اپنی اپنی فیملی كے اس وقت لندن بیت الفتوح کے ارد گرد رہائش پذیر ہیں اور خاکسار بھی 22مارچ 2011ء سے مع اہلیہ ادھر ہی رہ رہا ہے۔ سب سے چھوٹا بیٹا محمد احمد فزکس میں پی ایچ ڈی کرچکا ہے اور اسے 2014ء کے جلسہ سالانہUKکے موقع پرحضرت خلیفتہ الخامس ایداللہ تعالیٰ بنصرِہ العزیز کے دستِ مبارک سے ایوارڈ بھی ملا تھا۔ اس کے علاوہ بھی خدا تعالیٰ کے بے حساب فضل ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ اب دعا ہے کہ اﷲ ہمیں ہمیشہ اپنا حقیقی شکر بجا لانے کی توفیق دے۔ آمین

كیونكر ہو شكر تیرا ، تیرا ہے جو ہے میرا
تو نے ہر اك كرم سے گھر بھر دیا ہے میرا
جب تیرا نو ر آیا جاتا رہا اندھیرا
یہ روز كر مبارك سبحان من یرانی
(درِّثمین)

ذیل میں ان احباب کے نام دیئے جاتے ہیں جنہیں ہمارے گاؤں اور اس كے ارد گر د كے علاقہ میں بیعت کرکے جماعت میں شمولیت کی توفیق ملی۔
1۔ خاکسار اللہ دتہ پنوں آف باسوپنوں
2۔ مكرمہ صفیہ بیگم اہلیہ اللہ دتہ پنوں آف باسوپنوں
3۔ ثمینہ کوثر (موجودہ نام ثمینہ ندیم) دختر اللہ دتہ پنوں
4۔ حمیرہ کوثر دختر اللہ دتہ پنوں
5۔ محمد عاصم شہزاد پنوں ابن اللہ دتہ پنوں
6۔ محمد عمران پنوں ابن اللہ دتہ پنوں
7۔ عظمیٰ پروین بنت اللہ دتہ پنوں
8۔ محمد احمد پنوں ابن اللہ دتہ پنوں
9۔ مكرم محمد بشیر پنوں صاحب (مرحوم)
10۔ مكرمہ صفیہ بی بی ا ہلیہ محمد بشیرپنوں
11۔ جاوید احمد پنوں ا بن محمد بشیر پنوں (مرحوم)
12۔ سہیل احمد پنوں ابن محمد بشیر پنوں
13۔ ابو بکر پنوں ابن محمد بشیر پنوں
14۔ مكرم چوہدری عنایت اللہ صاحب نمبر دارآف رتہ جٹھول ضلع سیالکوٹ (مرحوم)
15۔ مکرم عبدالحق وڑائچ صاحب آف کھیرے (مرحوم)
16۔ مکرم محمد ریاض پنوں صاحب
17۔ ذیشان احمد ابن محمد ریاض پنوں صاحب
18۔ راشد احمد پنوں ابن محمد ریاض پنوں صاحب
19۔ یاسر احمد پنوں ابن محمد ریاض پنوں صاحب
20۔ شکیل احمد پنوں ابن محمد ریاض پنوں صاحب
21۔ مكرم شبیر احمد صاحب آف گوجرانوالہ
22۔ مکرم منور احمد انجم صاحب آف باسوپنوں
23۔ مکرمہ نسیم بیگم صاحبہ اہلیہ منور احمد صاحب
24۔ مکرمہ آپا عزیزہ صاحبہ والدہ منور احمد (مرحومہ)
25۔ مكرم ناظر حسین وڑائچ صاحب آف موضع کھیرے
26۔ مکرمہ ثریا بیگم صاحبہ اہلیہ ناظر حسین وڑائچ صاحب
27۔ مکرم شوکت علی پنوں
28۔ مکرمہ کلثوم بی بی صاحبہ اہلیہ شوکت علی پنوں
29۔ مکرم رحمت علی پنوں صاحب آف باسوپنوں (مرحوم)
30۔ مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ رحمت علی پنوں صاحب
31۔ مکرمہ رضیہ بیگم صاحبہ دختر رحمت علی پنوں (اہلیہ محمد عمران پنوں )
32۔ مکرم امانت علی ججہ صاحب
33۔ مکرم محمد الہٰی وڑائچ صاحب
34۔ مکرمہ محمد بی بی آف گوجرانوالہ( خاکسار کی سب سے بڑی ہمشیرہ ) (مرحومہ)
35۔ بابر احمد صاحب ابن ناظر حسین وڑائچ (مرحوم)
36۔ مكرمہ سمیعہ بیگم صاحبہ دختر ناظر حسین وڑائچ صاحب
37۔ مکرم ذکاء اللہ باجوہ صاحب
جو نام لکھے ہیں ان کے علاوہ تیرہ چودہ نام اور بھی ہیں لیکن بیعت کرنے کے کچھ عرصہ بعد ان کی حالت کچھ غیر یقینی سی ہو گئی، چندوں کے حوالہ سے بھی اور اس کے علاوہ بھی،کچھ نے غیر وں میں شادیاں کر لیں اور مختلف لحاظ سے پیچھے ہی رہ گئے ،اس لئے اس لسٹ میں ان کے نام نہیں لکھے۔ دعا ہے كہ خدا تعالیٰ انہیں پھر راہِ راست پر لے آئے۔ آمین
خاکسار نے جما عت احمدیہ باسو پنوں کے حوالے سے جو مختصرواقعات تحریر کئے ہیں یہ سن 1990سے 19مارچ 2003ء تک كے ہیں کیوں کہ اس کے بعد خاکسار ربوہ شفٹ ہو گیا تھا۔ اس عرصہ کے دوران حلقہ كی امارت اور ضلعی امارت بھی، نیز خاص طور پر قائد ضلع خدام الاحمدیہ اور مربیان كرام ہم نومبائعین کی تربیت اور حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ایک دفعہ موضع گھٹیالیاں میں اجتماع ہوا جس میں ہم لوگ بھی شامل ہوئے۔فارغ ہونے تک اندھیرا ہو گیا تھا اورسفر بھی سات آٹھ میل سے زیادہ تھا۔ اس وقت مکرم ریاض احمد بسرا ء صاحب شہید موضع گھٹیالیاں نے ذاتی طور پر سواری کا بندو بست کر كے ہمیں ہمارے گاؤں پہنچایا۔ پھر شہید مرحوم نے ہمارے گاؤں میں آکرکم از کم دو یا تین دفعہ وقفہ وقفہ سے میڈیکل کیمپس لگوائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
مکرم مظفر احمدکاہلوں صاحب قائد ضلع خدام الاحمدیہ کئی دفعہ ہمارے گاؤں تشریف لائے۔دوستی کا رنگ رکھتے تھے اور تبلیغ بھی بڑے زبردست انداز میں کرتے تھے۔
پھر مکرم ماسٹراعجاز احمد صاحب جو موجودہ امیر ضلع ہیں اور قائدضلع خدام الاحمدیہ بھی رہے ہیں ، دو دفعہ ہماری حوصلہ افزائی کے لئے ہمارے ہاں تشریف لائے۔وہ تو ماشاء اللہ ضلع امیر کی حیثیت سے بھی ہماری چھوٹی سی جماعت کے تین چار دورے کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اجر عظیم دے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔آمین۔
مکرم بشیر احمد رحمانی صاحب آف قلعہ کالروالہ، ماسٹر محمد سرور صاحب (مرحوم) آ ف قلعہ کالروالہ، موجودہ امیر حلقہ مکرم ماسٹر حمید اللہ صاحب، سابقہ امیر حلقہ مکرم چوہدری ناصر احمد باجوہ صاحب او ر مربیان خصوصاًمکرم مربی شفیق الرحمان صاحب حال مشنری انچارج نیوزی لینڈ اورمکرم مربی آصف خلیل صاحب حال دفتر امور عامہ ربوہ ، یہ سب احباب ان افراد میں شامل ہیں جو خاص طور پر ہماری تعلیم و تربیت اور ہر طرح کی معاونت کرتے رہے اوردل و جان سے خدا کی خاطر ہم لوگوں سے محبت کا سلوک كرتے رہے۔ اﷲتعالیٰ سب کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔

حق اور باطل کی تمیز

صد بار قربان جاؤں اس بن مانگے دینے والے پر جس نے راستہ میں ہی چلتے چلتے اس زمانہ کی سب سے بڑی نعمت عطا فرمائی۔ یہ نعمت اگر علم سے ملنی ہوتی یا کسی عمل سے ملنی ہوتی تو میرے جیسا جاہل تو اس کو حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جب وہ عطا کرنے پر آتا ہے تو پھر اس کا شمار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ خاکسار کا تو کبھی وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ہم جیسے گنوارلوگوں کو رب کریم راہ چلتے، خون خوار بھیڑیوں کا ظلم دکھا کر عقیدہ کے لحاظ سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے حقیقی اسلام کی طرف لے آئے گا۔ اس نے اتنی بڑی عطا اتنی آسانی سے فرمائی کہ اس کا شکر ادا کرنے کے لئے الفاظ کہاں سے لاؤں۔ رہی عملی حالت تو اگر وہ میرے جیسے گنہگار کو اپنے فضل سے پردہ پوشی فرماتے ہوئے اپنی رحمت سے بخش دے تو وہ بخشن ہار ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کےاگرچہ دل کو خدا کے فضل سے بے حد سکون ملا اوراطمینان قلب ہواتھا لیکن ابھی ایمان کی مزید مضبوطی کی بڑی سخت ضرورت تھی۔ اسكی بھی وقت کے ساتھ ساتھ مولا کریم سے عنایت ہوتی رہی۔ 1989ء میں جماعتی لٹریچر كا مطالعہ پاکٹ بک احمدیہ سے شروع ہوا۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی خزانے لوٹنے کا بھی کچھ موقعہ ملا۔ پھر ان خزانوں میں سے تربیتی امور کے مطالعہ كے علاوہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام كے کشوف و الہامات اورخدائی وحی وغیرہ کےمطالعہ کی بھی کسی قدر توفیق ملتی رہی۔ پھر حضرت رسول عربی ﷺ کی مسیح آخرالزماں کے متعلق پیشگوئیوںمیں سے کچھ پڑھنے کی توفیق پائی۔ پھر قرآن کریم سے جو ملا وہ بھی امام مہدی علیہ السلام کی تحریروں کی وجہ سے خوب کھل گیا۔ اس طرح خداتعالیٰ نے ایمان کو بڑھانے کے سامان مہیا کئے۔پھر جوں جوں نشانات دیكھے ایمان بھی پختہ ہوتا رہا۔ یہ ساری کہانی بیان كرنا تو میرے بس کی بات نہیں لیکن چند نشانات کا ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ شاید خاکسارجیسے دیہاتیوں کے لیے فائدہ مندثابت ہوں۔
آخری زمانہ میں طاعون کی پیشگوئی حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک نشان تھا۔یہ پیشگوئی قرآن کریم میں بھی ہے اور حضرت رسول کریم ﷺ نے بھی ذكر فرمایا ہے۔خدا کایہ قول اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں،یعنی جب دعویٰ کرنے والا موجود تھا، بڑی شان سے پورا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے کے حق میں اس نشان کو ایسا دکھایا کہ ساری دنیا اس کی گواہ بن گئی۔ خدا کے پیارے برگزیدہ نے اس وقت فرمایا کہ اگر اس بلا سے بچنا چاہتے ہو تو اس زمانہ کے نوح کی کشتی میں سوار ہو جاؤکیونکہ یہ وعدہ میرے ساتھ خدا نے کیا ہے۔ میرے انکار کی وجہ سے یہ عذاب آیا ہے اس لئے جو ایمان لائیگا وہ بچایا جائے گا۔
یہ طاعون ہندوستان میں سخت عذاب بنكر لمبا عرصہ تباہی مچاتی رہی۔ خاکسار نے چھوٹی عمر میں اپنے والد صاحب سے بھی طاعون کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔کہتے تھے کہ اس زمانہ میں مسلمان قبرستان میں ہی ہر وقت قبریں کھودتے رہتے تھے اور ہندو اپنے مردے جلانے میں مصروف رہتے تھے۔اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ۔
پھر چاند اور سورج کا رمضان المبارک کے مہینہ میں معین تاریخوں میں گرہن لگنا اور دعوے دار کا موجود ہونا آپ علیہ السلام كی صداقت كا بہت بڑا نشان ہے۔اس نشان کا ذکر بھی قران شریف میں پیشگوئیوں کے رنگ میں موجود ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسیح موعود علیہ السلام کے لئے آخری زمانے میں اس نشان كے ظاہر ہونے کا ذکر بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے حتی تک فرمایا کہ یہ نشان مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیا گیا۔ مزید یہ کہ جب ابھی یہ نشان ظاہر نہیں ہوا تھا مخالفین خود حضرت مسیح موعودؑعلیہ الصلاۃ و السلام سے یہ نشان مانگتے تھے کیونکہ ان کو علم تھا کہ اس نشان کا ذکر قرآن پاک میں بھی اور حدیث میں بھی بڑا واضح موجود ہے۔ لیكن جب قادر کریم نے اپنی قدرت سے سب کو یہ نشان دکھا دیا اور چاند کو اور سورج کو بعینہ اسی طرح گرہن لگ گیا جیسے پیشگوئیوں میں مذكور تھا اور ساری دنیا گواہ بن گئی اور تاریخ نے بھی اس نشان كو دیگر سب نشانات كی طرح جوآپ علیہ السلام کے حق میں واضح طور پر خدا نے ظاہر کئے تھے محفوظ كر دیا ،تو مولوی حضرات ایمان لانے كی بجائے رونے لگ گئے کہ ایسا کیوں ہوا ہے اور آج تک رو رہے ہیں اور روتے رہیں گے، انشاء اللہ۔ کیوں ؟ اس لئے كہ نبیوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كو آسمان تلے بدترین مخلوق قرار دیا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشانات اور پیشگوئیاں جو خدا کے فضل سے سب کے سب روشن نشان ہیں ،یہ تو سب روحانی خزائن اور دیگر سینکڑوں کتب میں مذكور ہیں۔ ان میں سے بعض كا یہاں ذكر كرنے سے خاکسار کا صرف یہ مقصد ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے وقت کے ساتھ ساتھ خاكسار كو ایمانی توانائی دینے كیلئے ان نسخوں سے حصہ دیا۔ خاکسار کے نزدیک اگر كوئی زیادہ تردد نہ کرنا چاہے اور حق كا سچا متلاشی ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا سے علم پاکر جو پیشگوئیاں فرمائی ہیں ان پر اگر وہ تھوڑا سا بھی غور کرنے کی زحمت کرے تو وہ حق کو پانے میں کامیاب ہو جائے گا اگر اللہ تعالیٰ چاہے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کے بغیر تو کوئی چارہ نہیں۔ اگرچہ سبھی پیشگوئیاں خدا ہی کے بتانے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمائیں اور سب ہی عظیم ہیں لیكن ایک بہت اعلیٰ و ارفع پیشگوئی اور نشان جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عطا فرمایا وہ حضرت مصلح موعودؓ کی صورت میں ہے یعنی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ خدا تعالیٰ نےآپ كو فرمایا کہ میں تجھے تیری ہی ذریت سے لڑکا عطا کروں گا جو فلاں فلاں صفات کا مالک ہو گا۔ اس بیٹے كی صفات تو درجنوں ہیں جن کی تفصیل بہت سی کتب میں درج ہے لیكن میں یہاں مختصراً ذکر کر تا ہوں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ 25 سال کی عمر میں خلافت پر فائز ہوئے اور یوں آپ 1914ء سے لے کر 1965ء میں وفات تک قریباً باون سالہ طویل عرصہ تك مسلسل اصلاح خلق کرتے رہے۔ قرآن کریم کی تفسیر صغیر بھی لکھی اور تفسیر کبیربھی جو دس جلدوں پر مشتمل ہےاور ساری دنیامیں تفسیر کبیر كی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ اور بڑی بڑی کتابیں بھی لکھیں۔ پھر جماعتی نظام کو ایسا مستحکم کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کی مشابہت واضح نظر آتی ہے۔ صرف ان دو صفات پراگر ایمانداری سے نظر ڈالی جائے تو کسی اور تحقیق کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایمان لانے کے لئے اور ایمان مضبوط ہونے کے لئے یہ کافی ہیں۔ انسان اپنی طرف سے کیسے یہ دعویٰ کر سکتا ہے میرے گھر میں میری ذریت سے ضرور لڑکا پیدا ہو گا۔ پھر اگر اتفاق سے لڑکا پیدا ہو بھی جائے تو اس کو لمبی عمر تک زندہ کون رکھے گا۔ اوراگر اتفاق سے زندہ رہ بھی جائے تو یہ درجنوں صفات جو روز روشن کی طرح چمکتی ہوئی آپ رضی اللہ عنہ میں سب كو نظر آتی ہیں ان کو اس لڑكے میں کون پورا کرے گا۔
یہ انکار کرنے والے ملّاں جو دین کے رہبر بنے ہوئے ہیں یہ سادہ لوح انسانوں کو ورغلا کر حق اور سچائی پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں رات دن مصروف ہیں۔ دین کے ان ٹھیکیداروں نے 1974ء میں جو ظلم و ستم جماعت احمدیہ پر کئے اور کروائے ان كاتو خاکسار بچشم خود گواہ ہے بلكہ انہی ظلموں كو دیكھ كر ہی تو خدانے مجھے حق جاننے کی توفیق دی۔ افسوس صرف ان کے اس کردار پر ہی نہیں کہ یہ وقت کے ا مام کو ماننے میں ناکام ہوئے ہیں بلکہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار بلکہ مخالفت میں سر توڑ کوششوں اور ظلموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ شہرت، عزت اور رزق كی خاطر ، چھوٹے ملاں نے بڑے ملاں کو اور بڑے ملاں نے اپنے اپنے سیاسی لیڈر کو چن لیا ہے اور انہی كے زیر سایہ رہتے ہیں۔ اسی طرح باقی لوگوں نے بھی دوسرے انسانوں کو اپنے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور مختلف طریقوں سے ان كی پوجا پاٹ میں مصروف ہیں۔
سن 1974ء سے پہلے کا نقشہ خاکسار کو اچھی طرح یاد ہے۔ اس زمانہ میں ہم سب زمیندارلوگ باہر اپنی اپنی زمینوں کھیتوں پر رات کے وقت اپنے مویشی وغیرہ رکھتے تھے۔ دن رات زمینوں میں کاشتکاری کرتے اور رات کو ڈیرہ وغیرہ پر رہتے تھے۔سر عام اپنے اپنے ڈیرہ کے باہر کھلے آسمان کے نیچے رات کو بلا جھجک سوتے تھے۔کبھی کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتےتھے۔ پھر کھانے کی ہر چیز اصلی اور خالص ملتی تھی۔ لوگ پرسکون زندگی بسر کرتے نظر آتے تھے۔ کسی نے کہیں سفر پر جانا ہوتا تو وہ اکیلا ہی رات کے آخری حصہ میں سفر پر نكل پڑتا تھا۔سفر بھی زیادہ تر کچے راستوں پر پیدل ہوتے تھے لیکن کوئی گھبراہٹ یا فکر نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح لوگ زیادہ تر محبت پیار سے رہتے ہوئے نظر آتے تھے۔ شرم و حیا بھی نظر آتی تھی۔ گورنمنٹ سروس کرنے والا خواہ کسی محکمہ میں ہوتا تھا وہ اپنی ڈیوٹی کا کچھ نہ کچھ خیال کرتا تھا کہ وہ تنخواہ لیتا ہے۔ کم از کم اپنے بچوں كو رزق حلال كھلانے کا خیال کرتا تھا۔ لوگ کم از کم دوسرے کی بیٹی کو اپنی بیٹی خیال کرتے تھے۔جب ہم چھوٹے تھے تو اگر کسی وقت آندھی چلتی اور گردو غبار مل کر اگر اس کا رنگ لال ہوتا تو لوگ کہنا شروع کر دیتے تھے کہ کہیں خون ہو گیا ہے یعنی کوئی بندہ قتل ہوا ہے۔ اس لئے یہ اس ظلم کی وجہ سے طوفان آیا۔ کئی دفعہ ایسی آندھیوں كے وقت اپنے کانوں سے ہم نے یہ آوازیں بچپن میں سنی ہیں۔ اگر آج سے موازنہ کریں تو اس کے علاوہ اور بھی بہت سے امور میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔
1974ء اور اس کے بعد کیا خاص وجہ ہوئی جس سے پاکستان کے حالات اتنی تیزی سے بگڑے كہ جیسے یکدم پانسہ ہی پلٹ گیا ہو۔ وہ وجہ یہ ہوئی كہ وہ ملّاں جنہیں حدیثوں میں سور اور بندر کہا گیا ہے ان کی شرارتوں میں تیزی شروع ہوئی اور وقت کے حکمرانوں سے مل کر قومی اسمبلی پاکستان سے جماعت احمدیہ کو غیر مسلم ہونے کا بل پاس کروایا گیا۔ باقی غیر مسلم تو خود کو غیر مسلم کہتے ہیں لیکن جماعت احمدیہ جو حقیقی مسلم ہونے کا اقرار کرتی تھی اورہے اس پرجبرًا یہ قانون ٹھونسا گیا كہ نہیں تم غیر مسلم ہو۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا۔ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں كے صرف بائیکاٹ كا معاہدہ کیا تھا اور وہ بھی چند قبیلوں نے مل کر۔ان كی كوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی، نہ ہی کوئی بل کسی اسمبلی نے پاس کیاتھا۔
لیکن پاکستان کے ملاؤں کے سینے اس بل سے بھی ٹھنڈے نہ ہوئے بلکہ ان كےسینوں کا دوزخ مزید بھڑکنے لگا۔ اس عرصہ میں حکومت کا تختہ الٹ کر ایک فرعون صفت ڈکٹیٹر آگیا اورتھوڑی ہی دیر بعد ملّاں نے اس کی پوجا پاٹ شروع كر دی اور جماعت احمدیہ کا مسئلہ اس كے سامنے رکھا اور كہا کہ ان كے خلاف اسمبلی نے كام بہت کیا ہے مگر یہ تو ابھی بھی اسی طرح اسلام کے سارے ارکان بجا لا رہے ہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ متحرک ہیں۔ مائی باپ! ہمارا یہ مسئلہ ضرور حل کریں ہم زندگی بھر آپ کا یہ احسان نہیں بھولیں گے اور آپ کی حکومت کو بھی زیادہ مضبوط کریں گے۔ اس پراس فرعون نے آرڈیننس بنا کر قانون جاری کر دیا کہ احمدی لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہیں پڑھ سکتے، السلام علیکم نہیں کہہ سکتے، تبلیغ نہیں کر سکتے، حتی کہ اركان اسلام میں سے کوئی بھی رکن ادا نہیں کر سکتے۔ اورخلاف ورزی کرنے پر دفعات جاری کر دیں۔اس کالے قانون کی وجہ سے کلمہ توحید پڑھنے اور کلمہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے بیج اپنے سینوں پر سجانے كی پاداش میں سینکڑوں احمدی جیلوں میں بند کر دیے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
یوں ان نام نہاد علماء نے دو دفعہ مختلف وقتوں میں اپنے اپنے وقت کی حکومت سے مل کر اس عمل سےگویا خدا کو خوش کرنا چاہا۔ لیکن نہ ملاں کو سمجھ آئی اور نہ عوام الناس نے اس بات پر غور کیا کہ خدا تعالیٰ بجائے خوش ہونے کے سخت ناراض كیوں ہو گیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جماعت احمدیہ کے خلاف اسمبلی سے قانون پاس کرا كے بڑامعرکہ مارا اور بڑے فخر سے كہا کہ میں نے نوے سالہ مسئلہ حل کر دیا ہے مگر اس عمل كے بعد خدا تعالیٰ نے خوش ہو کر اس کے ساتھ کیا سلوک فرمایا؟ جو معاملہ اللہ تعالیٰ نے بھٹو صاحب کے ساتھ كیا كیا وہ سب کے سامنے نہیں ہے؟ کیا ساری دنیا نہیں جانتی کہ بھٹو صاحب نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں مسلمانوں کے بہتر فرقوں كے نام نہاد علماء اور اكثر شراب نوش سیاستدانوں سے جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دلوا کر 72 فرقوں کو مسلمان ہونے کی سند دی اور احمدیوں پر غیر مسلم ہونے کی مہر لگا کر فخریہ كہا کہ میں نے 90سالہ مسئلہ حل کیا ہے او ر اسلام كی عظیم تاریخی خدمت كی ہے۔ کیا اس بہت بڑے دینی کارنامہ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ بھٹو صاحب پر اتنا خوش ہوا کہ انہیں پھانسی کی صورت میں انعام دیا؟ پھرانكے دونوں بیٹے اور وہ بیٹی جس سے بہت زیادہ پیار کرتے تھےسبھی قتل ہوئے۔ خدا تعالیٰ نےتو ساری دنیا کو یہ واضح طور پر نشان دکھا کر ثابت کیا کہ جو میرے محبوب بندوں پرظلم کرتے اور پھر اس پر دنیا والوں كے سامنے فخر کرتے اور اپنی طاقت پر اتراتے ہیں، میں انہیں اپنی طاقت اور قدرت كی قہری تجلی دکھا کر اپنی خدائی دنیا پر واضح طور پر ثابت کرتا ہوں۔ یہی میرا قانون ہے۔
سویہ بات ثابت شدہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب اپنے بندے کو زمین پر تعینات کرتا ہے تو اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی خاص تائید ات ہوتی ہیں ورنہ تو مخالفین اسے اسی وقت تباہ و برباد کر دیں جب وہ دعویٰ کرتا ہے اور اکیلا ہوتا ہے۔ لیکن جس کو وہ خود بھیجتا ہے اس پر ہر وقت نگاہ رکھے ہوئے ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی بھی حفاظت فرما کر اورانہیں کامیاب كركے ترقی کی طرف رواں دواں رکھتا ہے۔
ہاں یہ بات بھی ثابت شدہ ہے كہ جب سےخدا تعالیٰ نے انسانوں کی اصلاح كیلئے سلسلۂ انبیاء جاری کیا ہےایمان لانے والوں کو قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ جماعت احمدیہ کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں۔قرآن کریم میں اس کی كئی مثالیں موجود ہیں۔ ہر دور کے نبی کے ساتھ جو خدا کی طرف سے انسانوں کی بھلائی کے لئے آیا وہی سلوک کیا گیا تھا جو آج جماعت احمدیہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ چودھویں صدی سے پہلے کے علماء تو امام مہدی علیہ السلام کے آنے کے انتظار میں دعائیں کرتے تھے اور اپنے وعظ و کلام میں دیوانہ وار پکار پکار کر کہتے تھے کہ اے اللہ جلد اس امت میں اپنے اس پیارے کو نازل فرما تاکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے پیارے دین اسلام کو وہ پھر دنیا میں حقیقی رنگ میں رائج فرمائے اور بکھرے ہوئے مسلمانوں کو حَکَم و عدل بن کے اکٹھا کرے تا دنیا میں اسلام کا غلبہ ہو۔ لیکن جب خدا تعالیٰ نے اسے نازل فرمایا تو وہی ہوا جو پہلوں کے ساتھ ہوتا رہا تھا۔ شروع سے لے کر تاریخ انبیاء دیكھیں تو معلوم ہوگا كہ ہر موسٰی کے ساتھ فرعون آئے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی رسول مقبول ﷺ کا بھی مکہ میں اس وقت كے فرعونوں نے کس قدر گھیرا تنگ كیا ؟کونسا ظلم تھا جو انہوں نے آپ پر اور مؤمنوں پر نہ کیا۔یہ کھلی حقیقت ہے کہ ہمیشہ سے ایک طرف خدائی سلسلہ ہوتا ہے اور دوسری طرف صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے لوگ، جو آنے والے کی پہچان نہیں کر سکتے اور متکبر ہوتے ہیں اور جلدی میں مخالفت پر اتر آتے ہیں اور اپنی دنیا کی چمکتی ہوئی دکانوں کو چھوڑ نہیں سکتے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے وقت میں ابوجہل وغیرہ تھے۔
آپ دیکھیں كہ یہ ملاں لوگ جب کوئی جواب نہ دے سکیں تو کہتے ہیں ہمارے پاس قرآن موجود ہے، حدیث موجود ہے، اس لئے مہدی ہو یا کوئی اور ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سادہ لوگوں کا یہ حق بنتا ہے کہ ملاں سے سوال تو کریں کہ جب اللہ ایک ہے،رسول ایک ہے ، قرآن ایک ہے ،اسلام ایک ہے تو 72 فرقوں میں كیوں بٹے ہوئے ہو اور كیوں لڑ رہے ہو؟ان 72 كو كون دوبارہ متحد كرے گا اور كیسے كرے گا؟حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں آپ كے ماننے والے تو ایک ہی گروہ تھا 72 گروہ نہ تھے۔ چودہویں اور پندرہویں صدی کے یہ بداعمال ملاں، جنہیں كسی ظلم اور كسی بے حیائی سے ذرہ بھی شرم نہیں آتی اور جو دنیا کے کیڑے بنے ہوئے ہیں، یہ بھلاقرآن کریم کی تعلیم کو كیسے سمجھ سکیں گے۔ قرآن کریم کو تو صرف اس نے سمجھا ہے جس کو خدا نے سمجھایا ہے۔
پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بنی اسرائیل 72فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے تو میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ اور یہ كہ آخری زمانہ کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔ انہی سے فتنے اٹھیں گےاور انہی کی طرف لوٹاۓ جائیں گے۔ یہ امت بالکل یہودیوں کے مشابہہ ہو جائے گی۔ جیسے ایک جوتی دوسری جوتی سے ملتی ہے اور اس میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ایسا ہی یہودیوں اور مسلمانوں کی عملی حالت اور اعتقادی حالت بالكل ایک دوسرےجیسی نظر آئے گی۔
اب آئیے عقیدہ کے لحاظ سے بھی دونوں امتوں میں مشابہت پر تھوڑا سا غور کرلیں۔یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مانا اور ان کی شریعت پرایمان لائے۔ اسی شریعت یعنی توریت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی تھی کہ فلا ں زمانہ میں یہود ی قوم میں مسیح آئے گا اور فلاں فلاں نشان کے ساتھ آئے گا۔ الغرض اس کے آنے کے متعلق تفصیلی ذکر فرمایا۔ پھر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان میں مسیح بن كر مبعوث ہوئے تو انہوں نے پکار پکار کر فرمایا کہ میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ میں نبی ہوں اور میں توریت کی ہی تعلیم کو جس سے آپ لوگ بھٹک چکے ہو، اس كی درست شكل میں تمہارے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ میں موسوی امت کا نبی ہوں اورصرف بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا ہوں اور تمہارے لئے مجھے ماننا ضروری ہے۔ لیکن یہودکے علماء كہلانے والوں نے جواب دیا کہ آپ جھوٹے ہیں (نعوذباللہ) کیونکہ ہمارے پاس آنے والے کے متعلق جو نشانات او رعلامات ہیں وہ آپ کے متعلق پوری نہیں ہوئیں۔ مسیح کے آنے سے پہلے تو ایلیا نبی نے آنا تھا جو زندہ آسمان پر گیا ہوا ہے اوروہ ابھی آسمان سے اترا نہیں تو آپ کہاں سے مسیح بن كر آگئے؟
اسی طرح اس وقت کے درندہ صفت علماء یہود اور اس وقت كےفرعونوں نے ایمان لانے کی بجائے متحد ہوكر آپ كو صلیب پر چڑھانے کا منصوبہ بنا یا اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوگئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جیسے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکالا ایسے ہی صلیب کے پیٹ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی زندہ بچایا۔یہ ایک لمبی تفصیل ہے۔ مختصر یہ كہ اس معصوم نبی پر ظلم کرنے میں اس وقت کے یہود كے علماء سوء نے کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔
خدارا تھوڑا سا تو غور کریں۔ آخر ایک دن خدا کے سامنے پیش ہو کر جوابدہ ہونا ہے۔ کیا بتائیں گے جب پوچھا جائے گا كہ كیا تم نے اپنی زندگی میں یہ آواز سنی تھی کہ امام مہدی علیہ السلام نے قادیان ہندوستان میں دعویٰ کیا ہے کہ میں ہی وہ مسیح محمدی ہوں جس کے متعلق ہمارے آقا و مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی اور جس كے متعلق مجد دین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال مبارکہ سے اندازہ کركے لکھا کہ اس کا ظہور چودہویں صدی میں ہو گا، اسی لئے جب تک چودہویں صدی ختم نہیں ہوئی تھی سب علماء اپنی تقریروں میں کہتے آئے ہیں کہ امام مہدی چودہویں صدی میں نازل ہوں گے۔مگر اب یہ حال ہے کہ ان علماء نے اس کا ذکر کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ ان لوگوں نے اپنی امت كے سچے مسیح كو تو مانا نہیں اورخیالی مسیح كی انتظا رمیں وقت گنوا دیا۔ اب کیا کریں یہ لوگ۔ اب تو یہ بے بس ہو گئے ہیں بالكل ویسے جیسے یہود ہیں جنہوں نے اپنے مسیح کو مانا نہیں اور وقت گنوا بیٹھے۔
سو اکثر مسلمانوں کی یہودیوں جیسی حالت دیكھ كر یہ ماننا پڑے گا کہ احادیث میں اس بارہ میں جو پیشگوئیاں ہیں وہ سب کی سب واضح طور پر پوری ہو چکی ہیں اور دونوں امتوں كی مشابہت كی پیشگوئی پوری ہونے كی تصدیق تو آپ کے علامہ ڈاکٹر اقبال نے بھی کی ہوئی ہے جنہوں نے ایک شعر میں كہا ہے كہ

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں آنے والے نبی مسیح، حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کے بعد چودہویں صدی میں آئے تھے اوریہود نے آپ كاانکار کیا اور آپ پر شدید ظلم کیا۔ بالكل اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم كا امتی نبی جسے مسیح محمدی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور مسیح ابن مریم کے مشابہہ ہونے کی وجہ سے ابن مریم بھی كہلایا ، بھی چودہویں صدی میں آیا اور اسكی بھی علماء سوء نے مخالفت كی اور حکومتوں کو مخالفت او ر ظلم پر اكسایا ۔ دلیل یہ دی کہ مسیح موعود کے نزول كے جو نشانات بتائے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔ بنی اسرائیل کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے ہیں بلكہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور انہوں نے آسمان سے نازل ہونا ہے اور ان كی آمد كے بعد امام مہدی بھی ظاہر ہو گا۔یعنی جو جواب یہودی علماء نے دے کر حضرت مسیح علیہ السلام كا انکار کیا تھا وہی جواب آج کے یہودی صفت علماء نے دے كر امت محمدیہ کے مسیح كے انکار کی راہ اختیار کی۔
پھر یہ بات بھی بڑی غور طلب ہے کہ جس وقت بھٹو صاحب نے قومی اسمبلی میں کئی دنوں تك سب فرقوں کے پیشواؤں کو اپنا اپنا زور لگانے کا موقعہ دیا اور اس کے بعد پہلے سے طے شدہ منصوبہ كے مطابق جماعت احمدیہ کے خلاف قانون پاس کروایا ، اس وقت ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الثالث حضرت مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ نے ان لوگوں كو خوب كھول كر فرمایا تھا کہ حضرت رسول عربی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا ہے کہ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور میری امت پر وہ زمانہ بھی آئے گا کہ یہ تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی اور ان میں سے ایک فرقہ ناجی یعنی حق اور سچائی پر ہو گا اور نجات پانے والا ہوگا اور باقی سب كے سب فی النار یعنی آگ میں ہوں گے اور جھوٹے ہوں گے۔ یہ فتویٰ ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ لیکن پاکستان کی قومی اسمبلی جو فیصلہ سنانے جا رہی ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بالکل الٹ ہے یعنی بہتر فرقوں کو ناجی قرار دیا جارہا ہے اور ایک یعنی صرف جماعت احمدیہ کو جھوٹا قرار دیا جارہا ہے۔ یہ ہمارے خلاف سو بار فیصلہ دیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ہمارے فیصلے کرنے والا تو خدا اور اس كا رسول ہے۔ ہمیں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی ضرورت ہے۔کسی اور کے فیصلوں كی تو ہمیں كوڑی كی بھی پرواہ نہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس ہے کہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے اور اسلام کے رہبر كہلانے والے علماء جنہوں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ساری دنیا کو اپنے پیچھے لگایا ہو اہے،انہوں نے ایک حکمران سے مل کر قومی اسمبلی سے اس پاك رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) کے فیصلے کے خلاف فیصلہ صادر كروایا جس کے متعلق خدا خود فرماتا ہے کہ اگر میں نے اس پیارے کو پیدا کرنا نہ ہوتا تو میں یہ دنیا ہی نہ بناتا۔ ایسافیصلہ دینے والوں کو تو دیواروں سے سر ٹكرا ٹكرا كر مر جانا چاہیے تھا لیکن بجائے سخت شرمسار ہونے كے وہ بہت خوش ہوئے اور خوش ہیں!!!
خدا ترس مسلمانوں کو چاہیے کہ پوری طرح غور کریں کہ ہمارا دین کیا ہے، ہمارا اسلام کیا ہے۔ انہیں چاہئے كہ علماء سوء سے پیچھا چھڑا کر اپنے خدا کی طرف رجوع کریں۔ رب کریم نے اپنا رحم فرماتے ہوئے ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جیسی جو نعمت اتاری ہے اس کی تعلیم پر عمل پیرا ہوں۔ اس سے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بھی پہچان ہو گی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور ان کے احکامات كی حكمت کا بھی پتہ چلے گا اور معلوم ہوگا کہ خداوند قدوس نے ہمیں پیدا کر کے دنیا میں كس مقصد کیلئے بھیجا ہے۔ یعنی اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پرغور کریں گے تواسلام اپنی اسی اصلی حالت میں نظر آئے گا جس طرح اول زمانہ میں پیارے آقا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے جاری فرمایا تھا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب امام مہدی کی خبر تم تک پہنچے تو ضروراس كے پاس جانا اور اسے میرا سلام پہنچانا خواہ كتنی بھی مشکل ہو اور خواہ تمہیں برف کے پہاڑوں پر سے رینگ کر جانا پڑے۔
دیکھو میرے بھائیو! کتنا پیارا یہ حکم ہے اورکتنا پیارا یہ پیغام ہے ، ہمارے سب كے سب سے پیارؐے کی طرف سے۔ ذرا سوچو کہ کتنی بڑی بدقسمتی ہے اگر ہم اس پر غور نہ کریں اور ہركوئی اسی گند میں اٹکا رہے جس میں وہ پڑا ہوا ہے اور تھوڑے دن دنیا میں رہ کر خالی ہاتھ لوٹ جائے۔ پھر توافسوس سے ہاتھ ملنا ہوگا كیونكہ گذرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔
پھر قومی اسمبلی کی وہ کارروائی جس میں ہمارے تیسرے خلیفہ اسمبلی میں موجود رہے اور ان بہتر فرقوں کے نام نہاد ملاؤں كے ہر ہر سوال كا جو اب بڑی خوش اسلوبی اور تفصیل سے اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق دیتے رہے، اگر یہ لوگ سچے اور دیانت دار تھے تو پھر اس کارروائی کو کیوں چھپائے ركھا ؟اور اسے ایسا گم کیا اور اس پر اتنا لمبا بین لگایا کہ نصف صدی گزرگئی۔ گویا اس كاروائی كے وقت كےلوگوں کی اکثریت اگلے جہان چلی گئی۔ ذرا سوچیں کہ اگر یہ لوگ اپنے دلائل میں صادق تھے تو انہیں تو بار بار اس کارروائی کو دنیا کے سامنے میڈیا اوراخباروں میں شائع کرنا چاہیے تھا کہ دیکھو ہم کیسے سچےثابت ہوئے ہیں۔ اب سنا ہے کہ جو بین لگایا تھا اس کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ کون سی برائی ہے جو انہوں نے نہیں کی کہ جھوٹ بولنے سے خدا کا خوف کریں گے۔ جھوٹ تو ان كی مرغوب غذا ہے۔جھوٹ پر تو یہ فخر کرتے ہیں۔ جھوٹ كو تو یہ دین كی تائید میں استعمال كرنا جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کا جھوٹ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام كے دعوٰی کے وقت سے ہی بڑے زور سے ساتھ ساتھ چلتا آرہا ہے۔ ہزاروں جھوٹے الزامات ان ملاؤں نے تحریروں میں اور تقریروں میں لگائے لیکن خدا تعالیٰ ساتھ ساتھ ان کے جھوٹ کا پول دنیا پر كھولتاآرہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کوبڑے زور سے ظاہر کرتا آرہا ہے اور کرتا رہے گا۔ انشاء اللہ۔
جب خاکسار احمدیت میں شامل ہوا تھا تو باقی الزامات کے علاوہ ایک یہ بھی تھا کہ احمدی ہونے سے پیسے ملتے ہیں۔ یہ بات ملاؤں نے سادہ لوح عوام میں پھیلائی ہوئی ہے۔ اس بات کا یہ لوگ اپنی تقریروں میں اکثر ذکر کرتے تھے اور بہت سے سادہ لوگ ان کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں۔ خاکسار کے ساتھ بھی اس طرح كے دو واقعات پیش آئے۔ پہلا واقعہ ہمارے گاؤں کے مکرم اللہ رکھا صاحب كا ہے۔ وہ بہت ہی سادہ انسان ہیں۔ایک دن خاکسار سے ملے اور کہنے لگے کہ چوہدری صاحب میں آپ سے علیحدگی میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا ابھی آئیں علیحدہ بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر انہوں نے علیحدگی میں کہا کہ میں بھی احمدی ہونا چاہتا ہوں۔خاکسار نے كہا کہ یہ خیال آپ کو اچانک کیسے آگیا؟ پہلے تو کہتے رہے کہ میرا دل چاہ رہا ہے، مجھے احمدیت اچھی لگتی ہے لیكن جب میں نے کہا كہ كیا آپ کو پتہ ہے کہ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے تو کہنے لگے کہ یہ تو مجھے نہیں پتہ۔ میں نے کہا پھر کیسے آپ کو احمدیت اچھی لگتی ہے۔ آخر كہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ اس جماعت میں پیسے ملتے ہیں، سوچا ہم بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
دوسرا واقعہ خاکسار کے سسرال کا ہے۔ وہاں كے ایک عبد المجید صاحب نے بھی اسی طرح خیال ظاہر کیا تھا۔ خاکسار نے ان دونوں کو اچھی طرح سمجھایا کہ تم جن لوگوں سے اس طرح کی باتیں سنتے ہو وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ آپ اپنا عقیدہ اس لالچ میں نہ بدلیں۔ ہم تو خود چندہ ادا کرتے ہیں اور یہ مالی قربانی ہے جو خدا کی خاطر کی جاتی ہے۔
مجھے رب کریم نے چھبیس برس یعنی عین جوانی میں اپنے مہدی کو پہچاننے كی توفیق عطا كی ہے اور میں نے پوری طرح معلوم كیا ہے کہ ان ظالم ملاؤں نے آج تک جتنےالزامات حضرت مسیح پاک علیہ السلام پر لگائے ہیں وہ سب کے سب جھوٹ ہیں۔ اور میں خدا کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام وہی مسیح محمدیؑ اور وہی امام مہدی ہیں جن کے متعلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں میں اور قرآن کریم میں پیشگوئیاں ہیں اور جن کے متعلق ذكر ہے كہ آخری زمانہ كے بگاڑ كے وقت وہ امت کی اصلاح اور غلبہ اسلام كا كام كریں گے۔
میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ امام وقت پر ایمان لانے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ سے ہی ملی اور پھر اسی کی نظر کرم سے مزید پختگی بھی آتی رہی۔ خاکسار کی یہ کوشش ہے کہ مختصرًا وہ گزارشات عرض کرے جن کا تعلق 1974ء کے بعد کے زمانہ سے ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ زمانہ خاکسار کے مشاہدہ سے بھی گزرا ہے اور اس زمانہ کے اكثر لوگوں نے بھی ضیاء الحق کا وہ کارنامہ دیكھا ہوا ہے جو اس نے ملاں کو خوش کرنے کی خاطر اور خودامیر المومنین بننے اور اقتدار کے مزوں كو طول دینے کیلئےسرانجام دیا تھا۔ اس نے مولویوں کو تسلی دی کہ آپ لوگوں نے بڑا نیك کام بھٹو صاحب سے شروع کروایا تھا۔بھٹو صاحب تو اب اس دنیا میں نہیں رہے لیكن آپ لوگ اس کا افسوس نہ کریں میں حاضر ہوں۔ آپ جو کہتے ہیں میں کرنے کو تیار ہوں۔ اس پر مولوی حضرات بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد تدبیریں شروع ہو گئیں کہ احمدیوں كو غیر مسلم تو بنایا تھا لیکن مقصد حاصل نہ ہوسكا۔ جماعت احمدیہ تو مسلمانوں والے سارے کام جاری و ساری رکھے ہوئے ہے۔ چنانچہ 1984ء میں ضیاء نے جماعت احمدیہ کے خلاف آرڈیننس جاری کر دیئے اور قانون پاس كردیا اور دفعات جاری کر دیں کہ جو احمدی بھی کلمہ طیبہ پڑھتا ہوا، یا السلام علیکم کہتا ہوا، یا قرآن كریم پڑھتا ہوا، یا تبلیغ اسلام کرتا ہوا ، یا کسی بھی شعائرِاسلام پر عمل کرتا ہواپایاگیا، وہ فلاں فلاں دفعات کے مطابق سزاپائے گا۔ اس کے بعد ہزاروں احمدی جیلوں میں بندكئے گئے اور بیسیوں كو بڑی بےدردی سےشہید كیا گیا۔
اے پاکستانی بھائیو! خدا کے لئے کچھ تو سوچو۔ کہاں ہیں ہمارے باپ دادا۔ اس عارضی دنیا سے سب نے کوچ کرنا ہے۔ میں بھی پاکستانی ہوں۔ آپ ہمارے بھائی ہیں۔اتنا شعور تو آپ لوگوں میں ضرور ہوگا کہ جیلوں میں سزاوار تو ہوتے ہیں شراب پینے والے،یا چوری کرنے والے ،یا زنا کرنے والے ،یا قتل کرنے والے ، یا انسانوں کی روزمرہ خوراک میں ملاوٹ کر کے انسانوں کا قتل کرنے والے۔ یا پھر نابالغ بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی كرنے کے بعد گندے نالوں اور نہروں میں پھینکنے والے درندے جرائم کی پاداش میں جیل جاتے ہیں۔ لیکن ہم جماعت احمدیہ کے لوگ کیوں جیلوں میں ڈالے گئے؟ ہمار ا قصور یہ تھا كہ ہم نے کلمہ پڑھا تھا۔ احمدی جب جیل جاتا تھا اور جاتاہے تو دوسرے قیدی پوچھ کر حیران ہوتے ہیں کہ آپ السلام علیکم پر جیل کیسے آگئے، یہ تو عجیب بات سنی ہے!
پھر اور بھی دلچسپ بات سنئے۔ باقی سب مجرموں کی ضمانتیں بڑے آرام سے ہو جاتی ہیں، جرم چھوٹا ہو یا بڑا۔ لیکن احمدی کی ضمانت پر جج صاحبان کہہ دیتے ہیں كہ جرم تو کوئی بھی نہیں لیکن عدالت کے دروازے پربہت سارے ملاں جمع ہو ئے ہوئے ہیں اوردھمکیاں دے رہے ہیں اس لئے آپ کی ضمانت منسوخ کرتا ہوں۔
اب ذرا غور تو کریں کہ جماعت احمدیہ کی مثال کس کے ساتھ ملتی ہے۔ حضرت بلال ؓ كا جرم یہ تھا کہ کلمہ پڑھا تھا اور اس جرم کی سزا ان کو ملی۔ جو كوئی مکہ میں کلمہ پڑھتا تھا اس کو ضرور سزا ملتی تھی۔ ابوجہل کو تو سزا نہیں ملتی تھی بلکہ وہ اور اس کا گروہ تو سزا دینے والے تھے۔یہ موٹی سی بات ہے اس کے لئے کسی لمبی چوڑی تعلیم کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ موٹی سی بات سمجھ نہیں آتی تو اس کے بعد تو و ہی بات ہے جو قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بہرے ہیں، گونگے ہیں ، اندھے ہیں۔ ظاہری کان آنکھ اور زبان تو موجود تھی لیکن دنیا میں مگن تھے کہ یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔
میرے بھائیو! اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق جب اپنےکسی بندے کومخلوق کی بھلائی کے لیے مبعوث فرماتا ہے تو پھر اس بھیجے ہوئے کی طرف ہو جانےاور اسی كے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے سے ہی خدا ملتا ہے۔ موسٰیؑ کے دور میں اس كے رستے سے اور عیسیٰؑ کے دور میں اس كے رستہ سےلوگوں كو خدا ملا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو زمانے ہیں ایک اول اور ایک آخری۔ یہ دوسرا اور آخری زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی دور ہے جو آپ كےاسی امتی نبی اور امام مہدی کے ذریعہ سے چل رہا ہے۔ آج اس امتی كے راستہ سے ہوكرچلو گے تو خدا ملے گا ورنہ آج امت مسلمہ کی حالت سب کے سامنے ہے۔

وہی طائروں کے جھرمٹ جو ہوا میں جھولتے تھے
وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں
(عبیداللہ علیم)

ضیاءالحق اور ملاں کی بات چل رہی تھی۔ ضیاء نے بدنام زمانہ آرڈیننس جاری کرنے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا فرعون ہونے کا مکمل کردار ادا كرنے كیلئے اور خود خدا بننے کی پوری کوشش کرتے ہوئے ، ملاؤں كے ساتھ ملكر ظلمِ عظیم كرنے کا منصوبہ بنایا۔ملاؤں نے اپنےایک ساتھی اسلم قریشی کو ایران کی طرف خفیہ طریقہ سے سرحد پار کروا دی اور اخباروں اور میڈیا میں اعلان شروع کر دیئے کہ ہمارے مولوی اسلم قریشی کو احمدیوں نے اغوا کر کے قتل کر دیا ہے۔ دوسری طرف ضیاء الحق صاحب کو کہا کہ ہم نے تو اپنا کام کر دیا ہے اب سب کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس جرم میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ وقت کو شامل تفتیش کر کے اب جو چاہو کرسكتے ہو۔ اب جماعت احمدیہ کا پاکستان سے نام و نشان مٹانے میں کوئی بھی مشکل نہیں رہے گی۔ یہ اس فرعونی ٹولے کا ایك بہت ہی خطرناک منصوبہ تھا۔
مخالفین جب بھی اللہ تعالیٰ کے کسی نبی کے خلاف یا اس کے ماننے والوں کے خلاف اس قسم کے منصوبے کرتے تھے تو قرآن كریم میں ان کے منصوبوں کو مکر کہہ کر پکارا گیا ہے کہ انہوں نے بھی مکر کیا اور اللہ کہتا ہے کہ پھر میں نے بھی ان کے مکرکا جواب دیا اور میں بہترین مكر یعنی تدبیر کرنے والا ہوں اور مخالفین كو ہمیشہ ناکام كرتا ہوں۔ مولویوں اور فرعون وقت كے ان مكروں كیوجہ سے ان دنوں جماعت احمدیہ کو بڑی مشکلات پیش آئیں۔آئی جی پولیس کی طرف سے بڑی سخت ہدایات تھی۔ بے شمار احمدیوں پر اتنا تشدد کیاگیا کہ ان دنوں کو یاد كرےكے اب بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس ظلم كی شدت بڑھتی گئی۔ ملاؤں کے جلسے جلوس بھی شدت اختیار کرتے گئے۔ملاں منظور چنیوٹی نے تواسقدر جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی كہ ایک جلسے میں پرجوش خطاب كرتے ہوئےكہا کہ اگر اسلم قریشی احمدیوں سے برآمد نہ ہوا تو میں سرعام اپنے سینہ میں گولی کھا لوں گا۔ احمدیوں پر مظالم دن بدن بڑھتے گئےاور فرعون وقت نے جماعت كے خلاف بدنام زمانہ آرڈینینس جاری كر دیا۔ اس پرجماعت احمدیہ کے بزرگوں نے اپنے پیارے خلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کو مشورہ دیا کہ آپ یہاں سے ہجرت فرما جائیں آپ كی جان كو شدید خطرہ ہے۔ آپ كی ہجرت کےبعد ہمارے ٹکڑے بھی کر دیئے جائیں گے تو ہم صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے لیکن آپ کو کانٹا بھی چبھے یہ ہم گوارا نہیں كر سكتے۔اس تجویز کو حضور انور نے نامنظورفرما دیا۔ لیکن پھر مزید غور و فکر كیا گیا کہ جمعہ کے روز حضور انور خطبہ ارشاد فرمائیں گے تو نئےآرڈیننس كے مطابق قانون شكن شمار ہوں گے۔ یہ سب مشکلات سامنے رکھتے ہوئے حضور انور اپنے مولا کریم سے تسلی پاکرہجرت پر راضی ہوگئے۔
اس وقت تک ضیاء الحق نے خفیہ ایجنسی کے فوجیوں کے ذریعہ سے ملك سے باہر جانے كے تمام راستوں پر پہرے اور ناکے لگوا دئیے تھے اور پاکستان کے تمام ایئرپورٹس پر جماعت احمدیہ کے خلیفہ کا نام دے کر پابندی لگوا دی تھی اوراس طرح ہوائی راستہ بند کر دیا تھا۔ اسی طرح اس نےجماعت كے مركز ربوہ (جہاں ہمارے آقا کی رہائش تھی) کے ارگرد خصوصی پہرے لگوا دئیے۔
اے میرے بھائیو! جنہوں نے ابھی تک امام مہدی علیہ السلام کی پہچان نہیں کی اور ابھی تك ملّاں کو ہی اسلام کا رہبر جانتے ہو ،آپ سے درخواست ہے کہ خدا تعالیٰ کی کسی ایک قدرت نمائی پر ہی غور کر لو۔وہ خدا جو شروع سے اپنے پیاروں کی حفاظت فرماتا آرہا ہے اس كے بالمقابل اگر ساری دنیا کی حکومتیں بھی زور لگا لیں تو وہ اس کے بندے کا جس کے وہ ساتھ ہو بال بھی بیکا نہیں کر سکتیں۔ دیکھو جب ہمارے پیارے نبی، نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی تو کفار مکہ نے بھی سب راستے بند کر کے پہرے لگائے ہوئے تھے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑےوقارسے ان پہریداروں کے پاس سے گزر کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے كر مکہ سے نکل گئے۔اس وقت ان پہریداروں کی ظاہری آنکھیں دیکھ رہی تھیں لیکن دماغ کی آنکھوں کو خدا نے اندھا کر دیا تھا۔ پھر جب غارِ ثور میں تین دن تک چھپے رہے تو کفار مکہ کھوجی کو لے کر وہاں بھی پہنچ گئے۔کھوجی نے غار پر جا کر کہا کہ یہاں سے آگے نہیں گئے۔ یا تویہاں سے آسمان پر چڑھے ہیں یا زمین نے نگل لیا ہے۔ وہاں پھر اللہ تعالیٰ نے كفار مكہ کے دماغوں کی آنکھوں کو اندھا کر دیا۔ غار كے اندر سے باہر كھڑےکفار کے پاؤں نظر آتے تھےمگر سب نے یہی کہا کہ غار كے منہ پر مکڑی کا جالہ لگا ہوا ہے کوئی اندر جاتا تو جالہ ٹوٹ جاتا وغیرہ وغیرہ۔ اور کسی کو خیال نہ آیا کہ تھوڑا سا نیچے جھک کر غار كے اندرہی دیکھ لیں۔یہ سب خدا کا فعل ہے۔ جب دشمن مکر کرے تو خدا بھی کہتا ہے مَکَرُوْا ومَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ المْاكِرِیْنَ یعنی انہوں نے تدبیر كی او راللہ نے بھی تدبیر كی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
بات چل رہی تھی کہ ہجرت كا فیصلہ ہونے پرہمارے پیارے آقا، حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ دعاؤں کے ساتھ اپنے مولا کریم پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے نماز فجر سے پہلے مع اپنے اہل و عیال اور اپنے روایتی لباس اور پگڑی کے ساتھ، پروقار طریقے سے ربوہ سے لالیاں كی طرف روانہ ہوئے اور پھر لالیاں سے جھنگ كی طرف مڑے۔ دو تین کاریں تھیں۔ لالیاں سے ابھی تھوڑا سا آگے گئے تھے کہ ایک جگہ سڑک پرمرمت كا كام ہو رہا تھا۔ خراب راستہ کی وجہ سے وہاں سےگاڑی بالکل آہستہ گزری۔ وہاں بھکاریوں کے روپ میں کچھ فوجی پڑے تھے۔ انہوں نے فقیروں والے چولےپہنے ہوئے تھے لیکن ان كے فوجی بوٹ جو واضح نظر آرہے تھے بتارہے تھے كہ وہ یقینا خفیہ ایجنسی کے فوجی تھے۔ اگلی گاڑی كے ڈرائیور نے کچی جگہ پر گاڑی کو تھوڑا تیز کیا تاکہ گردو غبار اڑنے کی وجہ سے پیچھے والی گاڑی زیادہ نظر نہ آئے كیونکہ حضور انور اس گاڑی میں سوار تھے۔ پہلی گاڑی کو ان لوگوں نے ہاتھ کے اشارہ سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔ چونکہ وہ فقیر بنے ہوئے تھے اس لئے قافلے کی ایک گاڑی میں سوار ایك دوست نے نوٹوں کی گڈی کھول کر ان فقیروں کی طرف اڑا دی۔ وہ لاچار نوٹ اکٹھے کرنے میں مصروف ہوگئے اوراتنے میں سب گاڑیاں خدا کے فضل سے آگے نکل گئیں۔
آگے جا کر قافلے نے کراچی کا رخ کیا کیونکہ وہاں سے ایمسٹرڈم ، ہالینڈ جانا تھا۔كراچی ا ئرپورٹ پر ایك اور بہت بڑی مشکل آ ن كھڑی ہوئی کیونکہ جنرل ضیاء نے ای سی ایل کے ذریعہ امام جماعت احمدیہ كے بیرون ملك سفر پرپابندی لگائی ہوئی تھی۔ لیکن دوسری طرف اس فرعون کے مقابلہ پر سب قدرتوں كا مالك خدا کھڑا تھا اور فرعونوں کے مقدر میں ہمیشہ سے شکست ہی رہی ہے۔ ہمارے پیارے امام حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ نے کراچی ایئر پورٹ پرامیگریشن والوں كواپنا پاسپورٹ دیا اور انہوں نے چیک کیا تو دیكھا كہ اس پر واضح طور پر لكھا تھا کہ یہ جماعت احمدیہ کے سربراہ یعنی ان كے خلیفہ ہیں۔ لیکن جب انہوں نے پابندی والا اپنا ریکارڈ دیکھا تو اس میں جو نام تھا وہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب كا تھا یعنی جماعت احمدیہ کے تیسرے خلیفہ کا نام تھا۔ رات کا وقت تھا۔امیگریشن والوں نے فون اٹھایا اور اسلام آباد رابطہ كرنے كی كوشش كی مگر ناكام ہوئے۔ رابطہ كی یہ كوششیں بار بار ہوئیں مگر ہر بار ناكام رہیں۔ مگر جہاز کی اڑان کا ٹائم ہو گیا بلكہ جہاز لیٹ ہوگیا تھا۔ لا چارانہیں اجازت دینی پڑی اور حضور انور جہاز میں تشریف لے گئے اور جہاز اڑ گیا۔ اس طرح ہمارے پیارے آقا اللہ تعالی كی خاص حفاظت میں روانہ ہوكر پہلے ایمسٹر ڈم اور پھر لندن پہنچ گئے۔ الحمد للہ۔
اب غور کرنے کا مقام ہے کہ یہ سب كچھ کس نے کیا؟ خدا نے یا کسی اورنے؟ خدا كے علاوہ کونسی طاقت ہے جو ایسا کرتی یا کر سکتی ہے؟ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ تو تقریبا دو سال پہلےاللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔ لیکن دو سال بعد بھی جب پابندی لگائی گئی تو خدا نے جنرل ضیاء سےپابندی والے كاغذ پر حضرت مرزا ناصر احمد كا نام لكھوا دیا۔ ا س كے دماغ کی آنکھیں کس نے اندھی کیں؟ خدا نے یا کسی اور نے؟ بتاؤ اور سوچو اورسمجھو۔ اپنا دماغ استعمال کرو اور ملاں نےعقلوں پر جوپردہ ڈالا ہوا ہے اسے خدارا اتارو اور خدا تعالیٰ کو پہچان کر اس سے ڈرو اور اس پر سچا ایمان لاؤ۔ اگرامیگریشن والے اسلام آبادسے رابطہ کرنے میں كامیاب ہو جاتے اورجنرل ضیاء کو علم ہو جاتا تو اس نے تو موقعہ پر ہی روكنے كےآرڈر جاری کر دینے تھے۔ لیکن ایسا نہ پہلےکبھی ہوا ہے اور نہ اس دن ہوسكتا تھا اور نہ كبھی آئندہ ہو گا کیونکہ جو خدا کی طرف سے ہو خدا اسکا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑتا۔ یہ خدا كا فرمان ہے۔ جیسے کفارِ مکہ معمولی مکڑی کے جالے کی وجہ سے نیچے جھک کر نہ دیکھ پائے ایسے ہی رابطہ كرنے والےاسلام آباد كے فرعون سے رابطہ نہ كرسكے کیونکہ یہ ہجرت کرنے والا اسی ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور امتی نبی اور اما م مہدی حضر ت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب علیہ السلام کا خلیفہ تھا۔
خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین اور محکم ایمان لانے کے لئے اس بات پر بھی غور فرمائیں کہ جب کفار مکہ کے مظالم صحابہؓ پر کلمہ پڑھنے کے نتیجہ میں بڑھتے گئے تو رسول کریم ﷺ نے صحابہؓ ؓ کو حکم دیا کہ ایک ایک دو دو کر کےہجرت کرتے جائیں کیونکہ کفار مکہ کےتیزی سے بڑھتے ہوئے ظلم برداشت سے باہر ہوتے جارہے تھے۔ لیکن خود نبیوں کے سردار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی تک ہجرت کا حکم نہیں ملا تھا۔ یہ حکم اس وقت ملا جب کفار کی طرف سے مکمل طور پر ناکے لگا کر سب راستے بند کر دیئے گئے اورمختلف قبیلوں کے سرداروں نے مل کر آپ كےقتل کا منصوبہ بنایا۔ یہ تفصیل تو بہت لمبی ہے لیکن خاکسار کا مطلب صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس موقعہ سے دو چار ماہ پہلے ہجرت کا حکم نازل فرماتا تو وہ ہجرت بڑے آرام اور سکون سے ہوجاتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آسانی سے مدینہ تشریف لے جاتے۔ لیکن اس صورت میں نہ تو خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان ظاہر ہوتا اور نہ ہی کفار مکہ کی طاقت متکبری اورفرعونیت کے منصوبے خاک میں ملتے۔ خدا تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہی قانون دیکھنے والوں کوملتا آیا ہے اور یہی قانون جاری ہے۔ اسی طرح ضیاء الحق کو طاقت کا گھمنڈ بھی جب عروج پر تھا اور جب اس نے ہر طرف سے ہر طرح کا گھیراؤ کر کےپہرے لگا دئیےاور ائیرپورٹس پر ای سی ایل (ECL)میں نام ڈال کر اپنا منصوبہ مکمل کر لیا اور سمجھا کہ اب احمدیوں کی جان میرے ہاتھ میں ہے اور اپنے خیال میں خدا بن بیٹھا ، تب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رب کریم کے اذن سے ہجرت کی اور نہایت پروقار طریقے سے باعزت طور پر خدا کے فضل سے لندن پہنچ گئے۔ اگر آپ دو چار ماہ پہلے ہجرت کرتے تو خدا تعالیٰ کا قادر ہونا لوگ کیسے دیکھتے او ر میرے جیسے گنہگاروں کے ایمان كی مضبوطی کیسے ہوتی؟ کیا یہ سب کچھ خدا پر ایمان لانے کے لئے کافی نہیں ہے؟ حضرت مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ کو وفات پائے تو تقریبا دو سال كا عرصہ گزر گیا تھا اور مولوی حضرات كئی مہینوں سے دن رات اپنی تقریروں اور اخباروں میں اور میڈیا میں حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ( جو جون 1982ء سے خلافت پر فائز تھے) كے خلاف آپ كا نام لے لے كر لوگوں اور حكومت كو بھڑكاتے آ رہے تھے، لیکن جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی ہجرت كے وقت مکڑی کا جالاروك بن گیا، اِسی طرح اِس ہجرت كے وقت ای سی ایل میں نام حضرت مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ کا ڈال دیا گیا اور پابندی لگا دی گئی۔ پھر جس طرح غار سے نكلنے كے بعد سراقہ بن مالک نے گھوڑا دوڑاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ہوا اس کے الٹ، اسی طرح كراچی ائر پورٹ والوں كی طرف سے اسلام آباد رابطہ کرنے کی بے حد کوششیں ہوئیں لیکن ضیاء الحق کی ساری ٹیمیں گہری نیند سوگئیں۔
خدا را سوچیں كہ كیا یہ سب اتفاقات ہیں؟
اللہ تعالیٰ کا کوئی کام بھی اپنے پیاروں کے لئے حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔وہ اپنے سب کام اپنے ہاتھ سے کرتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ کی ہجرت بظاہر جماعت پاکستان کے لیے بہت بڑا صدمہ تھی مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی ترقی کے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ انسانی سوچ وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ خدا تعالی كے ان سب فضلوں میں سے ایک نمایاں فضل اسكی وہ عنایت ہے جو مسلم ٹیلیویژن احمدیہ MTA انٹرنیشنل کی صور ت میں جماعت پر ہوئی جس سے ساری دنیا میں تبلیغ اسلام اوردنیا کی اصلاح اور قرآن کریم کی حقیقی تعلیم پھیلانے كا كام چوبیس گھنٹےجاری رہتا ہے۔اس چینل كےدیگر پروگراموں کےعلاوہ ہمارے پیارے امام موجودہ خلیفۃ المسیح حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ہر خطبہ جمعہ لائیو نشر ہوتا ہے۔ یہ چینل بیک وقت چوبیس گھنٹے ساری دنیا میں دیکھا جاتا ہے۔اس پر کسی قسم کا کوئی دنیاو ی اشتہار نہیں دیا جاتا۔ یہ چینل صرف اور صرف اس آخری شریعت کو پیش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی صورت میں نازل فرمائی ہے اور جو قیامت تک جاری و ساری رہنی ہے اور جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہونی۔ یہ ہمارا ایمان ہے اور اسی شریعت كو اس كی اصل شكل میں دوبارہ پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نازل فرما یا اور آپ نے پھر اسے اسكی پہلی اور اصلی حالت میں ہمارے سامنے اور ساری دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ ایم ٹی اے چینل بھی اسی مشن کا حصہ ہے۔ خدا کے فضل سے اب وہ سارے آثار ظاہر ہو رہے ہیں اورجماعت احمدیہ کاہر فرد پر امید ہے کہ خدا نےقران کریم میں جو وعدہ كیا ہے کہ اسلام دنیا پر غالب آئے گا وہ وعدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اب مزید شان سے پورا ہو کر رہے گا۔ اس کے علاوہ بھی اوربے شمار ذرائع غلبہ اسلام كیلئے خدا نے ہجرت کے بعد عطا فرمائے جن کے تفصیلی بیان کیلئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے۔ یہاں صرف تصویر کا دوسرا رخ مختصر بیان کر دیتا ہوں۔
حضرت خلیفہ رابع رحمہ اللہ كی ہجرت کے بعد بھی جنرل ضیاء نے احمدیوں پر ظلموں میں کمی نہ آنے دی۔ احمدی احباب پر اسلم قریشی کیس میں جو تشدد کیا گیا اس كا کیا بیان کروں۔ پھر ضیاء نے اپنے کالے قانون پر سختی سے عمل کرواتے ہوئے جماعت احمدیہ کی مساجد پر سے ہمارے پیارے خدا او ر پیارے رسول كے نام كا کلمہ ختم كروایا۔ پاکستان میں جہاں بھی احمدیہ مساجد پر یہ پیارا كلمہ نظر آیا ان سب جگہوں پر مجسٹریٹ اور پولیس بھیج کر بڑی بے دردی سے کہیں سیاہی یا رنگ پھیر کر اسے مٹایااور کہیں ہتھوڑے اور چھینی کے وار کر کے توڑا۔ کچھ واقعات اس طرح بھی پیش آئے کہ اس پیارے کلمہ کو توڑنے یا مٹانے والے عیسائی ہوتے تھے۔ ایک جگہ ایك عیسائی نے جب کلمہ توڑا تو محمدؐ کے نام کو تو اس نے بڑی بے رحمی سے چوٹ لگا کر چھینی سے کاٹ کر نیچے گرا دیا لیکن اللہ کا نام نہ کاٹا۔ جب پوچھا گیا کہ اللہ کا نام تم نے کیوں نہیں کاٹا تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کو تو میں بھی مانتا ہوں اور اس پر ایمان رکھتا ہوں اس لئے اس کا نام کاٹ کر میں بے حرمتی نہیں کر سکتا۔ مگر نام نہاد ملاں اور علماء سوء كو شرم نہ آئی۔ انہیں کیوں شرم آئے، و ہ تو خدا کی لعنت کے نیچے آچکے ہیں۔ افسوس تو باقی عوام پر ہے جو اتنی بے حس ہو چکی ہے كہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ملاں خدا کی نظر سے گر چکے ہیں پھر بھی ہوش کے ناخن نہیں لیتی۔ اس لئےجب ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں تو عوام بھی ساتھ ہی پستی ہے۔ خداتعالیٰ کی نظر شفقت تو ساتھ ساتھ ہوتی رہتی ہے كیونكہ وہ غضب میں دھیما ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ میرے پیارے کس حد تک صبر کرتے ہیں اور ظالم اپنے ظلم میں کہاں تك جاتے ہیں۔ ہمیشہ سے خدا کا قانون اسی طرح ہے کہ ظالم کی پکڑ میں دیر تو ہوتی ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ وہ ظالم ہمیشہ ظلم کرتا رہے اور خدا اس کو نہ پکڑے۔

کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطہء زمیں پر
وہی خطہء زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں
(عبیداللہ علیم)

جنرل ضیاء یہ بھی بیان دیتے رہے کہ جماعت احمدیہ یا کلمہ پڑھ لے یا ملک چھوڑ دے۔ اس كے جواب میں ہمارے پیارے امام حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ملک کسی کے باپ کا نہیں اور نہ کسی کی جاگیر ہے۔ ملک بنانے میں تو قائد اعظم کے ساتھ مل کر سب سے زیادہ حصہ جماعت احمدیہ نے ڈالا ہے۔ باقی رہا کلمہ تو کلمہ تو ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی پڑھیں گے۔ آپ لوگوں کا کلمہ نہیں پڑھیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا کلمہ پڑھنے کے نتیجہ میں ہی تو ہم ہر طرح سے ستائے گئے ہیں۔ اب اور کونسا کلمہ ہمیں پڑھانا چاہتے ہو؟
پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ جنرل ضیاء امیر المومنین بننے کے چکر میں تھا۔ اسكا خیال تھا کہ مولوی خوش ہو گئے تومجھے امیرالمومنین بنا لیں گے۔ یہ خدا کو مکمل بھول چکا تھا اور اپنے خیال میں خدائی طاقت اپنے ہاتھ لے بیٹھا تھا۔ان حالات میں حضور نے اسےان الفاظ میں وارننگ دی کہ ’’ جماعت احمدیہ کا ایک مولیٰ ہے اور زمین و آسمان کا خدا ہمارا مولا ہے۔ لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔ خدا کی قسم جب ہمارا مو لیٰ ہماری مدد کو آئے گا تو کوئی تمہاری مدد نہیں کر سکے گا۔خدا کی تقدیر جب تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کرے گی تو تمہارے نام ونشان مٹا دیئے جائیں گے اورہمیشہ دنیا تمہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ یاد کرے گی۔‘‘ ( خطبہ جمعہ 4 1دسمبر 1984ء)
مگر ضیاء الحق پر کچھ اثر نہ ہوا۔ آخرا س كے ظلموں كو حد سے بڑھتا ہوا دیكھ كر ہمارے پیارے امام خلیفہ وقت نے اپنے خطبات کے ذریعہ اور تحریری طور پر بھی جنرل ضیاء كو خصوصًا اور سب ملاؤں اور علماء سوء كے بڑے بڑوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔ پھر اپنے خطبات میں اس کی مزید وضاحت فرماتے اور یاد دہانی کرواتے رہے۔ علماء سوء نے تو مختلف بہانوں سے راہ فرار اختیار کی لیکن جنرل ضیاء نے جب دعوت مباہلہ كے بعد پاكستان كے نہتے احمدیوں پر ظلموں كو او ر تیز كردیا تو ہمارے پیارے امام نے اس كے بارہ میں فرمایا کہ وہ: ’’چیلنج قبول کریں یا نہ کریں چونکہ تمام اَئِمَّۃُ الْمُكَفِّرِین کے امام ہیں اور تمام اذیت دینے والوں میں سب سے زیادہ ذمہ داری اس ایک شخص پرعائد ہوتی ہے۔۔۔ایسے شخص کا زبان سے چیلنج قبول کرنا ضروری نہیں ہوا کرتا۔اس کا اپنے ظلم و ستم میں اسی طرح جاری رہنا اس بات کا نشان ہوتا ہے کہ اس نے چیلنج کو قبول کر لیا ہے‘‘( خطبہ جمعہ 1 جولائی 1988ء)۔ اس کے بعد ضیاءالحق کی موت سے صرف پانچ دن پہلے حضور نے اپنی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’ جس قوم کو ہم مخاطب کر رہے ہیں آج، جس کو ہم نے مباہلے کی دعوت دی ہے، بد قسمتی سے ان کے مقدر میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا دن دیکھنا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس رنگ میں مجھے یہ پیغام نہ دیتا کہ’History repeats itself ۔اس میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے، مجرموں کو خدا ضرور سزا دے گا‘۔‘‘( خطبہ جمعہ 12 اگست 1988ء)۔
اس خطبہ کے صرف 5 دن بعد 17 اگست 1988ء كوجنرل ضیاء الحق کا جہاز کریش ہوا اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ جمعہ 4 1 دسمبر 1984ء میں بیان کردہ الفاظ کے مطابق اسکا انجام ہوا اور خدا نے اسے ویسے ہی عبرت کا نشان بنا دیا جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرعون کو مع جرنیلوں کے پانی کا عذاب دے کر دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنایا تھا۔

تمہیں مٹانے کا زعم لے کر، اٹھے ہیں جو آگ کے بگولے
خدا اڑا دے گا خاک ان کی، کرے گا رسوائے عام کہنا
(کلام طاہر 1986)

اب اگر کوئی کہے کہ بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی اور ضیاء الحق صاحب جہاز گرنے سے جل گئے تو اس میں کونسی عجیب بات ہے؟ روزانہ لوگوں کو پھانسی دی جاتی ہیں اور بہت سارے لوگ جہاز کریش ہو کر مر جاتے ہیں تو اس میں کون سا عجوبہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ ایسا ہوتا رہتا ہے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اگر خدا ہے اور ہمیشہ سے اس کی کوئی جماعت دنیا میں ہوتی ہے اور اگر وہ اپنی جماعت کا ہمیشہ مددگار رہا ہے تو پھر یہ دیکھنا پڑے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ دعویٰ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں امتی نبی ہونے کا انعام عنایت فرمایا ہے اور میں وہی امام مہدی اور مسیح ہوں جس کا ذکر بار بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث میں فرمایا ہے۔ اور جماعت احمدیہ ایمان رکھتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خد انے کھڑا کیا ہے۔ لہٰذا یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے اور یہ ٹیم خد انے تیار کی ہے۔ جبكہ دوسرا فریق كہتا ہے کہ جماعت احمدیہ خدا کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ہم خدا كی چنیدہ جماعت ہیں اور نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جھوٹے ہیں اور ہم سچے ہیں کیونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ گویااب معاملہ یہ ہوا کہ دونوں فریقوں کا یہ دعویٰ کہ ہم خدا کے ساتھ ہیں اور خدا ہماری ٹیم کی مدد کرتا ہے۔ اب فیصلہ کرنا تو بڑا آسان ہوگیا۔ نہ اس کے لئے کسی علم کی ضرورت رہی اور نہ کسی باریکی میں جانا پڑا۔سادہ سے سادہ انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ دنیا میں ہمیشہ سے لوگوں كا یہی طریق رہا ہے کہ جس کا کوئی ہووہ خیرخواہی اور ہمدردی اور مدد بھی اسی ہی کی کرتا ہے۔ اگر بندے ایسا كرتے ہیں تو خدا ایسا کیوں نہ کرے گا۔ حضرت آدم علیہ السلام كے وقت میں اس نے آدم کی مددكی اور ابلیس کی مخالفت کی۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مدد کی اور نمرود کی مخالفت کی۔ پھر پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑھ کر مدد فرمائی اور ابوجہل کی ٹیم کی مخالفت كی اور ابوجہل کو دو بچوں کے ہاتھوں قتل کروا کر اس کے تکبر کو خاک میں ملادیا۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ابوجہل کی بربادی سے پہلے کوئی انسان کبھی قتل نہیں ہوا تھا!؟ موت تو نیک و بد سب کو آتی ہے۔ اسی طرح بیمار بھی سب ہوتے ہیں۔ مگر جب دو فریقوں کا مقابلہ اس بات پر ہو کہ خدا کس کے ساتھ ہے تو پھر خدا جس کے ساتھ ہو اس كے مخالف فریق كے خلاف اسكی مدد كركے اپنا ساتھ ہونا ظاہر کرتا ہے۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور قرآن کریم نے بہت سارے انبیاء کے حوالے سے واضح طور پر اس بات کو کھول کر بیان فرمایا ہے كہ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کی مدد فرمائی اور ان كےدشمنوں کو برباد اورہلاك کیا۔ بالكل اسی طرح پر یہ بڑے بڑے نشان ہیں جو خدا نے احمدیت كی حمایت میں دنیا کو دکھائے۔ كیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ بھٹو صاحب نے اپنے خیال میں خدا کی طرف سے اس كے دین كی حمایت میں کھڑے ہو کر اپنی طاقت سے ایک جھوٹے فرقے کو اسلام سے باہر نکال پھینکا کہ یہ جھوٹے لوگ(نعوذباللہ) ہمارے خالص اسلام میں کہیں ملاوٹ نہ کر دیں۔ پھر ضیاء الحق نے بھی اپنے زعم میں خدا کی طرف سے ہوكر خدا کی مدد کرتے ہوئے ” قادیانیوں کا بیج” تک ختم کرنے کے لئے اپنی پوری قوت لگا دی۔ لیکن نعوذ باللہ، خدا اتنا بے وفا نکلا کہ اپنے دین كےان دونوں عظیم مدد گاروں کا اس نے قلع قمع کر دیا اور دوسرے فریق کو دن دوگنی اور رات چگنی ترقی دیتا چلا گیا۔
خاکسار کوئی عالم دین نہیں ہے۔ ایک بالکل سادہ انسان ہے۔ میں نے یہ سب کچھ نیك نیتی سے دیکھا اور صدق دل سے اس پرغور کیا تو خدا تعالیٰ نے بازو پکڑ کر اپنی ہستی پر بذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقی ایمان لانے کی توفیق عطافرما دی۔ ہم لوگ جانتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ پر اس سے پہلے جو ایمان رکھتے تھے اس ایمان میں اور آج کے ایمان جوامام مہدی علیہ السلام کو مان کرملاہے زمین وآسمان كا فرق ہے۔ ایسے لگتا ہے كہ پہلے تو ایمان تھا ہی نہیں، ایک رسم تھی لیكن اب وہ رسم حقیقت میں بدل چکی ہے۔ اسی طرح باقی سب ارکان ایمان اورارکانِ اسلام بھی اس سے پہلےایك رسم تھے مگر اب خدا نے وہ حقیقت میں بدل دیئے ہیں۔ یہ اس بندے کی برکات ہیں جس کو خدانے اس زمانہ میں دنیا میں کھڑا کیا ہے۔
میں دوبارہ اصل بات كی طرف لوٹتا ہوں۔ 1974ء اور 1984ءکے بعد بھی ظالم ملاّں لوگوں کو ہدایت سے روکنے کی پوری کوشش كرتے رہے۔ جماعت احمدیہ پر جھوٹے الزامات کی بھرمار جاری رکھی اور احمدیوں کو قتل کرنے پر لوگوں کو اکساتے رہے اور ظلم کا دور دورہ جاری رکھا۔ جماعت احمدیہ کے افراد کے قتل کے لئے لوگوں كوجہاد اور جنت کی خوشخبریاں دیتے رہے۔ مگر ان کے ظلموں کی آگ اب بڑھتے بڑھتے ایسی بھڑک اٹھی ہے کہ آج درجنوں مسلم ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں۔ ان ملاؤں اور ان کے ہمنواؤں کے ظلم ہی ہیں جن کی پاداش میں پاکستان خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کرنے بلکہ مخالفت میں ظلم ڈھانے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ كے عذاب كی زد میں ہے۔ اب توبات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ملک کی گلیوں بازاروں شہروں دیہاتوں ویرانوں اور جنگلوں سب کو عذاب الٰہی نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اب تو ڈھونڈنے پر بھی کوئی ایسا گناہ نہیں ملتا جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بظاہر منسوب ہونے والی اس قوم میں نہ پایا جاتا ہو۔لیكن ملاّں کو اسكی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ تو بڑے شوق سے میڈیا پر آکر باتیں كرنے اور تصویریں بنوانے میں مصروف ہیں۔

کوئی اور تو نہیں ہے پسِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں
(عبیداللہ علیم)

قدرت ثانیہ

اب خاکسار حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ایک عظیم الشان نشان کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے کیونکہ جب تک دنیا رہے گی یہ نشان بھی خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے لئے ایک عظیم نعمت كے طور پر قائم رہے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔ لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔”
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ305، مطبوعہ اسلام انٹرنیشنل پبلیکیشنز لمیٹڈ یوکے، 2009)
رسالہ الوصیت دسمبر 1905ء کی تصنیف ہے۔ اس میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وہ الہامات درج فرمائے ہیں جن سے ظاہر ہوتاہے کہ آپ کی وفات قریب ہے۔ نبی کی وفات سے اس کی قوم میں جو زلزلہ پیدا ہوتا ہے اس کے متعلق حضور ؑ نے جماعت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ وہ دو قدرتیں دکھلاتا ہے۔
(1) پہلی قدرت نبی کا وجود ہوتا ہے۔ (2) اور نبی کی وفات کے بعد قدرت ثانیہ کا ظہور ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کھڑاکر کے مسلمانوں کی کمزوری کی حالت کو طاقت بخشی۔
اب دیکھو کہ 1905ء میں خدا کا یہ بندہ پیشگوئی کرتا ہے کہ میرے بعد خلافت قائم ہو گی اور تین سال گزرنے کے بعد بعینہٖ اسی طرح ہوا جس طرح خداتعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح پاک علیہ السلام کو خبر دی۔ اب خداتعالیٰ کے فضل سے خلافت قائم ہوئے ایک سو دس سال ہوچکے اور یہ نظام خلافت قائم ودائم ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ قائم رہے گا کیونکہ ہمیشگی کا مفہوم بھی اس پیشگوئی میں شامل ہے۔ جماعت احمدیہ کا خدا کے فضل سے اس بات پر پختہ ایمان ہے کیونکہ زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں لیکن خدا کے وعدے ٹل نہیں سكتے بلكہ ضرور پورے ہوتے ہیں۔
سو بھائیو اب بھی اپنی سوچ کو ملاں كے قبضہ سے آزاد كركے خدا کی طرف کرنے کی کوشش کرو تو انشاء اللہ خدا آپ کو بھی توفیق دے سکتا ہے کیونکہ وہ پیارا خدا سب کا ہے۔جو بھی اس کی طرف سچے دل سے رجوع کرے اسے وہ خالی ہاتھ واپس نہیں کرتا۔ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے تو ہزاروں نشان ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا پر روز روشن کی طرح ظاہر فرمائے اور ظاہر فرماتا چلا جا رہا ہے۔

صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں
اک نشان کافی ہے گر دل میں ہے خوفِ کردگار
(درثمین)

جماعت احمدیہ کو تو خدا تعالیٰ نے عرصہ سو سال سے خلافت جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی جس کے سائے تلے یہ فوج جو خدا تعالیٰ کی فوج ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ساری دنیا میں بلند سے بلند تر كرنے میں دن رات مصروف عمل ہے۔ یہ عمل ہمیشہ جاری رہے گا یہاں تک کہ دین اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے۔ جب سے خدا تعالیٰ نےجماعت احمدیہ كو قائم فرمایا ہے وہ اس مشن كی تكمیل کے لئے مسلسل مصروف عمل ہے۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم كے آخری زمانے کا یہ دور وہی زمانہ ہے جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ اسلام کاصرف نام باقی رہ جائے گا اور اسكی حقیقت باقی نہ رہے گی۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو امام مہدی علیہ السلام کے آنے کی خوشخبری بھی دی تھی کہ وہ پہلوان دین اسلام کو حقیقی طور پر دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور اس كے ہاتھ پرغلبہ اسلام ہو گا۔ دیکھو بھائیو، خدا تعالیٰ نے اب یہ خلافت کا نظام ہمیشہ کے لئے جاری فرما دیا ہے۔ یہ وہی خدا کی رسی ہے جس کے بارہ میں قرآن کریم میں حکم ہے کہ خدا کی رسی کو جمع ہو کر مضبوطی سے پکڑ لو۔ اس رسی کو آج جماعت احمدیہ نے مضبوطی سے پکڑا ہو اہے اور اسی رسی کی وجہ سے جمع بھی ہے اور اسی رسی کی وجہ سے یہ جماعت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام پر حقیقی رنگ میں ایمان رکھتے ہوئے سو سال سے زائد عرصہ سے قائم ودائم ہے۔یہ جماعت اپنے رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر اپنی جانوں كے نذرانے بھی پیش كر رہی ہے اور اپنے مال و عزت کو بھی قربان کررہی ہے۔ ظالم ملاّں لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے احمدیوں کے متعلق غلط الزامات لگاتے ہوئے ان معصوموں کا خون بہانے پر اکساتے آئے ہیں اورآج تک سینکڑوں احمدی ان كے ظالم پروپیگنڈا كی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور ابھی تك یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ ملاّں جن کے مقدر میں ہدایت نہیں ہے آپ لوگ ان کی تقلید کی بجائے ان سے پلہ چھڑاكرخدا سے ڈرتے ہوئےسوچیں اور دیکھیں کہ کیا جماعت احمدیہ کے پاس خلافت ہے کہ نہیں جیساكہ بانئ جماعت احمدیہ نے پیشگوئی كی تھی۔ اورکیا جماعت احمدیہ نے خود ہی یہ خلافت قائم کر لی ہے؟اگر ایسی بات ہے تو پھر آپ کیوں یہ کام نہیں کرتےجبکہ كئی دفعہ اس بات پر آپ كے ہاں غور بھی ہو چکا ہے بلكہ قیام خلافت كیلئے زبردست تحریكیں بھی چل چكی ہیں اور بار بار كوششیں بھی ہو چكی ہیں۔ لیکن ہر بار آپ فیل ہو کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے ناکام رہے ہیں کہ یہ کام صرف اور صرف خدا کرتا ہے۔
مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کے پچاس سے زیادہ ملکوں میں حکومتیں ہیں۔ اگر یہ کام اسلامی ممالک کے یہ سربراہان نہیں کر سکے تو پھر ہزاروں بلکہ لاکھوں ملاّں جو اسلامی ریاستوں میں موجود ہیں ان کو کیوں نہیں کہتےكہ بھائیو قرآن شریف کا بڑا اہم حکم ہے کہ اللہ کی رسی کو جمع ہو کر مضبوطی سے پکڑو اورہمارے پاس تو اللہ کی کوئی ایک رسی ہے نہیں جسے ہم پکڑیں۔ وہ آپ کو جواب دیں گے کہ ہمارے پاس قرآن کریم موجود ہے یہی اللہ کی رسی ہے۔ تو آپ ملاّں كو بتائیں کہ حکم یہ ہے کہ رسی کو جمع ہو کر متحد ہوكرپکڑنا ہے تو ایک رسی کو کیسے پکڑیں۔یہاں تو اس رسی كے 72 ٹکڑے ہو چکے ہیں جو کہ آپ کی مہربانی سے ہوئے ہیں۔ جب قرآن نازل ہوا تھا تو ایک رسی تھی۔پھر صحابہ کے زمانہ میں بھی سب نے ایک ہو کر اس کو پکڑے رکھا۔ اب 72 بہتر ٹولے ہیں جو سب کے سب ایک دوسرے پر تحریری طور پر بھی اور تقریروں میں بھی کفر کے فتوے جاری کر چکے ہیں۔اب ایک مسجد میں نماز تو درکنار ایک ملک میں عیدیں بھی ایک دن كو نہیں پڑھی جاتیں اور کہنے کو سب مسلمان کہلاتے ہیں۔ آپ لوگ اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ جس گھر میں بڑی شدت سے تفرقہ پیدا ہو جائے کیا وہ پھر اپنی اصلی شان و شوکت سے چلتاہے؟نہیں ، اس میں پھر سوائے تباہی کے کچھ باقی نہیں رہتا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ پھر اس گھر کی بہتری کے کوئی سامان پیدا کر دے۔
بھائیو!آپ تواس بات پر بھی غور نہیں کرتے کہ چودہویں صدی کے ان ملاؤں نے ایک انسان کو دوسرے کا دشمن بنانے کے سوا کیا کیا ہے؟ یہ ہر روز یا ہر ماہ یا ہر سال کتنے بندوں کو اسلام کی تبلیغ کر کے اپنے اخلاقی نمونے سے اسلام میں داخل کرتے ہیں؟کتنے سکھوں یا عیسائیوں یا دیگر غیرمسلموں کو کلمہ پڑھا کر اسلام میں داخل کیا ہے؟ یا اور کوئی خاص کارنامہ اللہ اور اس کے رسول کےلئےسرانجام دیا ہے؟ہاں اس کے الٹ بہت کچھ کیا ہے۔ سنی نے اپنا ٹولہ بنایا اور وہابی کے خلاف بھڑكایا۔ وہابی نے اپنا ٹولہ تیار کیااوراہل تشیع کے خلاف بھڑکایا۔ اس طرح اسلام کو 72 حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد سب كو ایک دوسرے کا دشمن بنا ڈالا۔ جب یہ کامیابی مل گئی تو پھر سب نے مل کر جماعت احمدیہ پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہ لینے كی پابندی لگوادی۔ پھر ساتھ یہ فتویٰ بھی جاری کردیا کہ ان کو قتل کرنا اور ان کے گھر جلانا اور ان کا مال لوٹنا بہت بڑا جہاد ہے۔ یوں سب مسلمانوں کو اکساكرجماعت احمدیہ کا دشمن بنا دیا اور جھوٹ بول بول کر نفرتوں کی آگ بھڑکا دی۔ یہ ہے وہ خدمتِ اسلام جو ملاں نے آج تک کی ہے۔
اس کے برعکس جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی روشنی میں اور خلافت کے سائے میں رہ کر امن، بھائی چارہ، صبر اور دعاؤں کے ساتھ انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہوئے تبلیغ اسلام كا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ خدا کے فضل سے اب تک یہ جماعت 210ممالک میں پھیل چکی ہے اور ہر قوم سے اور ہر مذہب سے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے ہوئےاسلام احمدیت میں ہر سال،ہر ماہ بلکہ ہر دن داخل ہوتے آرہے ہیں۔ جماعت احمدیہ کی تعداد خدا کے فضل سے کروڑوں میں پہنچ چکی ہے۔ مخلوق نے تبلیغ پر پابندی لگا دی تو خالق نے MTA ٹی وی چینل دے دیا اور یہ الحمد للہ دیگر ذرائع تبلیغ كے علاوہ ہے۔ملاں نے کلمہ پڑھنے پر پابندی لگائی تو یہ کلمہ پڑھنے والے لاکھوں سے کروڑوں میں ہو گئے۔ السلام علیکم یعنی سلامتی کی دعا دینےپر پابندی لگا دی تو سارے پاکستان میں السلام علیکم کہنے کا رواج ہی ختم ہو گیا۔ شہروں میں دیکھیں دیہاتوں میں دیکھیں گلیوں میں دیكھیں بازاروں میں دیكھیں، کوئی کسی کے ساتھ سلام نہیں لیتا سوائے اس کے کہ کوئی کسی کا جاننے یا ملنے والا ہو۔ ہاں سلام لینے کا پکا رواج ہے تومركز احمدیت ربوہ میں یا پھر جہاں احمدی آبادیاں ہیں۔ احمدی خدا کے فضل سے اس سنت سے کبھی پیچھےنہیں ہٹ سکتے۔ پھر حكومت نے پاكستان میں مرکزی جلسہ سالانہ ربوہ پر پابندی لگائی تو اب خدا کے فضل سے ہر چھوٹے بڑے ملک میں سالانہ جلسے ہورہے ہیں۔ قرآن كریم پڑھنے پر پابندی لگائی تو قرآن کریم کی محبت اپنے سینوں میں بسائے ہوئےاحمدیوں نے سترسے زیادہ زبانوں میں قرآن كریم كا ترجمہ شائع كركے دنیا میں پھیلا دیااور باقی كئی زبانوں میں ترجمہ كا کام جاری ہے اور وہ بھی بڑی تیزی سے خلافت کے سائے تلے جلد مکمل ہو جائے گا، انشاء اللہ۔
اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ اسلام کی خدمت اور دین محمدی ﷺ کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لئے جہاد کون کر رہا ہے؟ یہ تن من دھن کی بازی کس نے لگائی ہوئی ہے؟ كیاان علماء سوء نے یا كہ یہ بیڑا جماعت احمدیہ نے اٹھایا ہوا ہے۔ اشاعت دین اسلام کی جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ڈالی ہے اس كی ادائیگی كے لئے جو کام آپ كی جماعت سرانجام دیتی ہے اس کا کچھ مختصر جائزہ ہمارے موجودہ خلیفہ المسیح حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ ہر سال جلسہ سالانہ یوکے میں اس ایک سال میں جماعتی ترقی کے حوالے سے ساری دنیا کے سامنے بیان فرماتے ہیں۔
خدا تعالی كے ان بے شمار افضال و عنایات کا بیان کرنا تو كسی انسان كے بس کی بات نہیں۔ یہ تو صرف شرپسند ملاں کے کرتوتوں کے ذکر میں دو چار سطور تحریر کر دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں کو حقیقی اسلام کی طرف ہدایت فرمائے۔آمین۔

خاکسار کو 1995ء میں جماعت احمدیہ کا مرکز ربوہ پہلی بار دیکھنے کی توفیق ملی۔ حضرت خلیفۃ المسیح حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ 1984ء میں لندن كو ہجرت فرما چکے تھے اس لئے کسی بھی خلیفۃ المسیح سے خاکسار ملاقات کا شرف نہ پا سکاتھا۔ پھر سال2003ء کے شروع میں ربوہ شفٹ ہوا تو دل میں بڑی شدت سے خواہش تھی کہ اے اللہ میاں كیا کبھی وہ دن بھی نصیب ہو گا کہ میں بھی خلیفۃ المسیح سے ملاقات کر سکوں گا۔ اگرچہ احمدیہ ٹی وی چینل MTA پر ہر روز حضور کو دیکھتے اور ان کے خطاب اور مجلس عرفان اور دیگر سب پروگرام دیکھتے اور سنتے تھےپھر بھی دل میں ملاقات كی خواہش تھی لیكن آپ سے ملاقات کے کوئی قوی امکان بھی نظر نہیں آتے تھے۔ پھر دل میں خیال آیا کہ اے اللہ تعالیٰ مجھے کوئی ایسا بندہ ہی مل جائے جس کا جسم حضور کے مبارک جسم سے لگا ہو تو میں اس کے ساتھ اپنا جسم لگا کر اپنی اس پیاس کو کم کر سکوں۔ خدا کا کرنا ایسا ہو اکہ ایک دن مسجد میں کسی نے باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ امام صاحب یعنی مکرم عطاءالمجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن آئے ہوئے ہیں۔

مولانا عطاءالمجیب راشد صاحب

میرے کانوں میں یہ بات پڑی تو میں نے آگے جا کر پوچھا کہ وہ کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس شخص نے كہا کہ یہ مجھے نہیں پتا۔ پھر خاکسار نے اپنے صدر صاحب حلقہ مکرم یوسف سلیم صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ دارالعلوم غربی حلقہ صادق میں ان کے عزیز ہیں وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ آپ مسجد صادق میں کسی نماز پر چلے جائیں وہاں مل جائیں گے۔ خاکسار دارالنصر غربی حلقہ اقبال میں رہتا تھا۔ سائیکل لے کر نماز عصر پر مسجد صادق چلا گیا لیکن امام صاحب وہاں موجود نہ تھے۔ واپس آگیا اورپھر مغرب کی نماز پر دوبارہ وہاں گیا پھر بھی وہ نہ مل سکے۔ پھر خاکسار نے اپنے صدر صاحب سے درخواست کی کہ جن صاحب كے ہاں امام صاحب ٹھہرے ہیں اگر وہ آپ کے جاننے والے ہیں تو ان سے امام صاحب سے ملنے کا دو تین منٹ کا ٹائم لے دیں۔ وہ کہنے لگے کہ امام صاحب كے یہ رشتہ دار بھی اپنے حلقہ كے صدر ہیں اور میرے پاس ان کا فون نمبر ہے میں انہیں کہہ دوں گا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ رابطہ ہوا ہے اوروہ کہتے ہیں کہ جب ٹائم ہو گا آپ کو فون پر اطلاع کر دیں گے۔ اسی طرح انتظار کرتے کرتے جمعۃ المبارک کا دن آگیا۔ خاکسار کو خیال آیا کہ جمعہ پر رش تو بہت ہوتا ہے لیکن ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نماز جمعہ سے فارغ ہو کر مسجد اقصیٰ کے ہال سے لوگ باہر جاتے رہے اور خاکسار تاک لگا کر کھڑا رہا۔ جب ہال میں لوگ تھوڑے رہ گئے تو ایک طرف امام صاحب نظر آگئے۔ خاکسار بھی جلدی سے جا کر کھڑاہو گیا۔ کچھ لوگ مل رہے تھے۔ اپنی باری پر خاكسار خوب گلے لگ کر دیر تک ساتھ چمٹا رہا۔
تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھاکہ حضور حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ اس دنیا سے رخصت فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ صدمہ کی کیفیت جو ساری دنیا کے احمدیوں پر اس وقت طاری تھی خاکسار بھی اس میں مبتلا تھا۔ اس کے بعد ایک دو ماہ گزرے ہوں گے کہ خاکسار کی اہلیہ کی طبیعت کچھ خراب ہوئی تو خاکسار انہیں فضل عمر ہسپتال لے کر گیا۔ ان دنوں ڈاکٹر نوری صاحب مریضوں کو چیک کرنے كیلئے ویزٹ پر ربوہ آتے تھے۔ ہم بھی ڈاکٹر نوری صاحب کو چیک کروانے کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔ مریضوں کا رش بہت ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب كے مریضوں کی پرچیاں بعض اوقات ڈیڑھ سو تک پہنچ جاتی تھیں۔ جب ہمارا نمبر آیا اور ہم میاں بیوی اندر داخل ہوئے اور ڈاکٹر صاحب كو السلام علیکم کہا تو وہ دیکھتے ہی اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے اور اسے پیچھے دھکیلا اور خاکسار کی طرف آكر گلے لگایا اور چمٹ کر پیار کیا اور پھر بڑی محبت سے بٹھایا۔ پھر مریضہ کو بڑی تسلی سے چیک کر کے دوائی تجویز کی اور فارغ کیا۔ اس سے پہلے خاکسار کبھی ڈاکٹر نوری صاحب سے نہیں ملا تھا اور نہ ان سے کوئی واقفیت تھی۔ یہ پہلی ملاقات تھی۔ سوچنے لگا كہ ڈاکٹر صاحب نے مریضوں کے اتنے رش كے باوجود یہ زائد ٹائم کیوں دیا۔ پھر یہ تکلف کہ ٹیبل سے اپنی کرسی پیچھے کر کے راستہ بنا کر میری طرف آئے اور گلے لگایا جبکہ پہلے کوئی جان پہچان نہیں تھی۔ خاکسار کا تو یقین ہے کہ یہ سب کچھ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے خدا نے کیا تھا جو دلوں کی حالت کو خوب جاننے والا ہے۔ مكرم ومحترم ڈاكٹر نوری صاحب وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ كی آخری علالت میں خدمت كی خاص توفیق ملی تھی۔
پھر اس قادر کریم نے اپنے خاص فضل سے 2004میں جلسہ سالانہ یوکے کے دنوں میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ملاقات کی سعادت عاجز كو عطا فرمائی۔ اس موقع پر دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر آیا۔ خدا تعالیٰ نے دیرینہ خواہش پوری فرمائی۔ پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کئی دفعہ سنا ہوا تھا کہ آپ کے چہرہ مبارک پر اتنا نور تھا کہ اندھیرے میں روشنی ہو جاتی تھی۔ لیکن پھر دل میں یہ بھی خیال پیدا ہوتا تھا کہ شاید یہ باتیں عقیدت اور محبت کے تقاضے میں کی جاتی ہوں۔ لیكن جب قریب سے خلیفہ وقت كے مبارک چہرہ كو دیکھا تو فوراً دل اس یقین سے بھر گیا کہ ضرور بہ ضرور ہمارے پیارے نبیوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ کے نور سے رات کو اندھیرے میں روشنی ہو جاتی ہوگی۔ اسی لئے تو خدا کے پیارے بندے حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ نے جب پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مبارک چہرہ دیکھا تو كہاتھا مرزا میں تیرے پر سارا قربان۔ اور اسی لئے تو سینکڑوں ہزاروں لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چہرہ مبارک دیکھ کر گواہی دی کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سكتا۔اور بعد میں آنے والے آپكی تصویر دیکھ کر اس صادق كو پہچانتے رہے اور آگے بھی پہچانتے رہیں گے انشاء اللہ۔
خاکسار نے سن 1974ء سے لے کر جو نشانات خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں روز روشن کی طرح پورے ہوتے دیکھے ہیں وہ سارے تو لکھے نہیں جاسکتے کیونکہ وہ تو تقریباً روزانہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ بڑے بڑے نشانات بیان کرچکا ہوں۔ اب دو چار مزید نشانات کا ذکر کرتا ہوں جن کا خاکسار ذاتی طور پر گواہ ہے۔
ہمار ے موجودہ امام ،حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جب ناظر اعلیٰ تھے تو خاکسار کو وقفہ وقفہ سے تین دفعہ مجلس شوریٰ ربوہ میں شامل ہونے کا موقع ملا تھا۔ شوریٰ تین دن جاری رہتی تھی۔ حضور كرسی صدارت پر تشریف ركھتے تھے اور ساتھ والی کرسی پر مکرم مرزا عبدالحق صاحب مرحوم بیٹھتے تھے۔ شوریٰ کے سب اجلاسات میں خاكسار حاضر رہتا او ردیكھتا رہتا۔تینوں دن یہی دیکھنے میں آتا رہا کہ ناظراعلیٰ صاحب خاموش ہیں۔ اگر کوئی بات کرنی ہوتی تو مکرم مرزا عبدالحق صاحب بولتے تھے۔ خاکسار نے یہ محسوس کرتے ہوئے کچھ معززین سے دریافت کیا کہ ناظر اعلیٰ صاحب بولتے کیوں نہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ زیادہ تر خاموشی کو پسند فرماتے ہیں۔ لیکن جب خدا تعالیٰ نے آپ كو اپنے لئے چن لیا اور خلافت کے منصب پر فائز فرمایا تو پھر دنیا نے دیكھا كہ كس طرح آپ نے دنیا کے ہر گوشے میں حق کی صدائیں بلند کیں۔ خطبات جمعہ تو خدا کے فضل سے معمول کے مطابق جاری و ساری ہیں اور ایم ٹی اے چینل پر لائیو نشر ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ آپ دنیا کے مختلف ممالك جیسےانڈیا، یورپ ، جاپان، افریقہ، امریکہ کینیڈا وغیرہ میں جا کر اسلام احمدیت کا پیغام پہنچا تے ہیں۔ دنیا كے مشرق سے مغرب تك اور شمال سے جنوب ہر خطے میں یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہر جگہ اللہ کا قرآن سنایا اور اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق ساری دنیا کو امن کی تعلیم دی اور انصاف کے ساتھ ایک دوسرے کےمعاملات نمٹانے کے طریق بتائے اور بتایا کہ دنیا خدا تعالیٰ کو بھول کر تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اورصرف اسلام ہی كی تعلیم ہے جس پر عمل کر کے دنیا تباہی سے بچ سکتی ہے۔ پھر یوکے کی پارلیمنٹ میں بھی حضور انور نے ایک سے زیادہ دفعہ خطاب فرمایا اور اسلام کی تعلیم بتائی اور فرمایا كہ حقیقی اسلام پر عمل کرتے ہوئے ہی دنیا امن میں آسکتی ہے۔ اسی طرح امریكن کیپیٹل ہل، یورپین پارلیمنٹ، کینیڈین پارلیمنٹ میں بھی خدا کے اس شیر نے قرآن کریم کی حقیقی تعلیم لوگوں کے سامنے پیش فرمائی۔ پھر یوکے میں مذاہب عالم کانفرنس میں خطاب فرما کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بلند کیا۔ اسی طرح امریکہ کا جلسہ سالانہ ہو یا کینیڈا کا ، یوکے کا جلسہ سالانہ ہو یا جرمنی کا،افریقہ کے کسی ملک کا جلسہ سالانہ ہو یا آسٹریلیا کا ، بنگلہ دیش كا جلسہ سالانہ ہو یا قادیان كا ، ہر ایك میں خو دجاكر یا ٹی وی پر براہ راست خطاب كے ذریعہ اسلام كی تعلیم لوگوں كو بتاتے ہیں۔غرض ساری دنیا میں اس جہاد کو جو قرآن کے ذریعہ ہوتا ہے، آپ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہاں ! جماعت احمدیہ کے موجودہ خلیفۃ المسیح ہی ہیں جنہوں نے یہ مقدس جہاد کرتے ہوئے دنیا میں اسلام کا ڈنكا بجایا ہوا ہے۔ یہ وہی خلیفۃ المسیح ہے جس کی طبیعت خاموشی پسند تھی اور آج وہ ساری دنیا میں لوگوں كو قرآن كریم کی طرف بلند آواز سے بلا رہا ہے۔
دیکھو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی گوشہ نشینی پسند فرماتے تھے لیکن جب خدا خود پکڑکر میدان میں لایا تو پھر جوعظیم کارنامے سر انجام دئیے وہ سب کے سامنے ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے غلامِ صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی خلوت پسند تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے باہر آنے کا حکم صادر فرمایا اور یہ شیرِ خدا مقابلہ پر نكلا تو ساری دنیا گواہ ہے کہ کیسے سب دشمنان اسلام کی زبانیں بند ہو گئیں۔ اس وقت اسلام غریب تھا اور عیسائیت عروج پر تھی اور ہندوستان كے ہزاروں مسلمان بلكہ ان كےسینكڑون مشائخ وخطیب بھی عیسائیت میں داخل ہو چکے تھے۔ لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صلیب ہی توڑ کر پارہ پارہ کر دی تو اس کے بعد سے اب تك خدا کے فضل سے بے شمار تعداد میں ہر مذہب سے لوگ اسلام احمدیت میں داخل ہوتے جارہے ہیں جن میں کثیر تعداد عیسائیوں کی بھی ہے۔ خاکسار نے ایک دن افسر جلسہ سالانہ یوكے سے دریافت کیا کہ اب تک جماعت احمدیہ کتنے چرچ مسجد بنانے كیلئے خرید چکی ہےتو انہوں نے بتایا کہ یوکے میں اب تک پانچ خریدے ہیں۔ یہ اسلام اور عیسائیت کی موجودہ حالت کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔
موجودہ حضور انور كے بارہ میں میں نے جو مختصر عرض کیاہے اس سے مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم اور حدیث میں ذکر ملتا ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔ حضرت مرزا مسروراحمد كو بھی خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔ اس پر اس سے بڑی محکم دلیل اور کیاچاہئے۔ یہ بات تو ہم نے اپنے سامنے اپنی زندگیوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہے اور ہم لوگ بھی گواہ بن چکے ہیں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔

اب خاکسار مختصر طور پر یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ خدا جس کو پسند کرتا ہے اس کے ساتھ ظاہر ہے محبت کا سلوک بھی غیرمعمولی فرماتا ہے۔ خاکسار نے دو خلفاء مسیح موعود کا دور خلافت دیکھا ہے، ایک موجودہ حضور انور كا اور ایک حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ كا۔ اُن کے زمانہ میں بھی دعاؤں کے لئے خط لکھے تھے اور میں اس بات کا گواہ ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اُن كی اکثر دعاؤں کو قبولیت بخشی تھی۔ صرف ایک دعا کا ذکر کردیتا ہوں جس كا اثر آج تک جاری و ساری ہے۔ وہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ضرورتیں پوری فرمائے۔ اس دعا کی قبولیت کی میری ساری اولاد بھی گواہ ہے کہ آج تک کوئی بھی ضرورت رکی نہیں۔

اسی طرح موجودہ امام حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعاؤں كی قبولیت کے بھی کئی نظارے دیکھنے میں آئے۔ ان کابھی کچھ ذکر کر نا ضروری سمجھتا ہوں۔ خاکسار کا نواسہ مستنصر احمد 3سال کا تھا كہ اس كی اپنڈکس پیٹ میں پھٹ گئی اور پھٹنے كے اڑتالیس گھنٹے بعد جب بچہ بے ہوش ہونے کو پہنچ گیا تو ڈاکٹروں کو بیماری كی سمجھ آئی۔ سینٹ جارجز ہسپتال میں آپریشن ہوا۔ پھر آئی سی یو میں چار دن گزر گئے۔ مشینوں پر سارا نظام چل رہا تھا اور جسم پھول کر اتنا موٹا ہو چکا تھا کہ اصلی حالت سے تین گنا بڑھ ہوگیا تھا اور ڈاکٹر مایوس ہو گئے تھے۔ اس پر خاکسار نے پیارے آقا کو خط لکھااور حالت بتا كرعرض کی کہ حضور اپنے رب سے درخواست کریں کہ بچے کو معجزانہ طور پر زندگی عطا فرمائے۔ چوتھے روز حضور انور کا جواب موصول ہوا جس پر لکھا تھا کہ انشاء اللہ تعالیٰ خدا تعالیٰ صحت عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد بچے کی صحت اتنی تیزی سے بحال ہونی شروع ہوئی کہ ڈاکٹر خود حیرانگی کا اظہار کرتے تھے۔اب خدا کے فضل سے وہ بچہ بڑا ہو چکا ہے اور مکمل صحت مند ہے، الحمداللہ۔
ایک اور واقعہ یہ ہےکہ خاکسار کی اہلیہ صفیہ بی بی کو 2008 میں بائیں طرف فالج کا حملہ ہوا۔اس کے نتیجہ میں ایک بازو اور ایک ٹانگ متاثر ہوئے۔2011 میں لندن آ کر پھر شدید اٹیک ہوا جس سے وہ حصہ مزید مفلوج ہو گیا اور پھر تیسری دفعہ بھی اٹیک ہوا۔ ہسپتال سے فارغ ہو کر ویل چئیر پر حضورِ انور سے ملاقات کے لئے چلے گئے۔ حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا، کریٹیگس(ہومیو پیتھی دوا) لیا کریں اور اسے جاری رکھیں۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ روزانہ ایک میل سے زیادہ سیر کرتیں ہیں اور بہت حد تک صحت مند ہیں۔
یہ ہے خدا کا سلوک اپنے چنیدہ بندوں سے۔لہٰذا ہمارا اس بات پرمکمل ایمان ہے کہ اس زمانہ میں پوری دنیا سے خدا نے جس کو چنا ہے وہ ہے خلیفہ وقت حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح۔ اور ہر زمانہ میں خلیفہ ایک ہی ہوتا ہے۔
اب تھوڑا سا سوچیں کہ وہ سب مذاہب جو اسلام سے قبل تھے وہ تو پہلے ہی بگڑ چکے تھےاور خدا کو بھول چکے تھے۔ ان کو تو الگ رہنے دیں۔ اسلام كے اول دور میں اِن بگڑے ہوئے لوگوں میں سے جو نیک فطرت تھے وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ باقی سب کے سب انکار کر کے آج تک جہالت کی موت مرتے ہیں۔ اب یہ دورِ حاضر جو چل رہا ہے اور جو قیامت تک جاری رہے گا، یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دورِ ثانی ہے جو کہ امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ جاری ہونا مقدر تھا۔ جن لوگوں کو اسلام كا یہ دوسرا دور دیکھنا نصیب ہوا یعنی آج كی اسلامی دنیا، وہ اپنی حالت پر ذرہ بھی نظر نہیں کرتے کہ ہم کس کی امت کہلانے والے ہیں اور ہم کس اعلیٰ و ارفع نبی کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور کیا ہمارے عقائد اور اعمال اُسی اسلام کے مطابق ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھےاورکیا دنیا کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اسلام پیش فرمایا تھا جس پرآپ كی امت کہلانے والے آج عمل پیرا ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔ پہلے والا اسلام دن کی طرح روشن تھا اور آج كا ان لوگوں كا اسلام اندھیری رات كی طرح تاریك ہے۔ اسی لئے تو جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر صحابہ کرام کے سامنے اِس زمانہ كے اسلام کا نقشہ كھینچا تو صحابہ کرام رونے لگ گئے تھے اور عرض کی تھی یا رسول اللہ یہ اسلام جو اتنی تکلیفوں اور قربانیوں کے بعد ہمیں ملا ہے كیا اس کی یہ حالت ہو جائے گی؟ اس پر صحابہ کرام کو تسلی دیتے ہوئے آپ نے خوشخبری دی کہ اس وقت اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم یعنی محمدی مسیح کو کھڑا کر یگا جو اس زمانہ کا امام ہو گا او وہ امام مہدی یعنی خداكی طرف سے ہدایت یافتہ ہوگا اورلوگوں کو حقیقی اسلام کی طرف لے آئے گا۔ لیکن افسوس کہ لوگوں نے مسیح ابن مریم کے الفاظ سے دھوکا کھا کر امام زمانہ کو ماننے سے انکار کیا اور صرف انکار نہ کیا بلکہ حضرت مسیح پاکؑ اور ان پر ایمان لانے والوں پر وہ ظلم وستم کئے كہ خدا پناہ۔ اور یہ ستم ابھی تک جاری ہیں۔ظلم کرنے کا کوئی ایسا طریق نہیں جو انہوں نے چھوڑا ہو۔ پتھروں سے گڑھے میں گاڑ کر سنگسار بھی کیا۔یکے کے پیچھے باندھ کر اور گھوڑے کو دوڑاكر گھسیٹا گیا۔منہ میں گوبر بھی ڈالا۔ قتل کے جھوٹے مقدمے بھی بنائے۔ توہین رسالت کے جھوٹے مقدمے بنا کر جیلوں میں کئی کئی سال رکھا۔ کئی دفعہ گھر جلائے۔مال و متاع لوٹے۔آج تک سینکڑوں احمدیوں کو مختلف طریقوں سے شہید کیا۔ مختصر یہ کہ ہر طرح کا ظلم مجبور و بے كس احمدیوں پر کیا گیا۔ اور یہ ظلم کرنے والے کون تھے؟ وہ جو لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ صرف زبان سے پڑھتے ہیں۔ لیکن الحمد للہ کہ جماعت احمدیہ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی اسلام کا جھنڈا دنیا میں بلند کرنے کی غرض سے خدا نےقائم كی ہے، اس نے ان ظلموں کی وجہ سے خلافت کے سائے تلے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور اپنے مشن کو جاری و ساری رکھتے ہوئے ہمیشہ آگے ہی قدم بڑھایا۔
اب باقی سب کو چھوڑ کر پاکستان کے مسلمان کہلانے والے اپنی حالت پر نظر کریں۔ آئینہ آپ کے سامنے ہے۔اگر پاکستان میں چھان بین کركے آپ كو دس بیس دانشور جو مخلص ہوں اور جھوٹ نہ بولتے ہوں اورمتعصب نہ ہوں میسر آجائیں توان سے صرف ایک سوال کریں کہ آزادی سے کلمہ طیبہ پڑھنے والے یہ مسلمانوں میں جو پاکستانی کہلاتے ہیں اور پاکستان میں ہی رہتے ہیں كیا کوئی ایسا گناہ باقی رہتا ہے جو ابھی تك انہوں نے بحیثیت قوم نہ کیا ہو؟ خاکسار کو تو جہاں تک علم ہےو ہاں کچھ بھی نہیں بچا اور شائد وہ لوگ بھی جن سے یہ سوال ہو یہی جواب دیں گے۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے قبرستان بھی آپ لوگوں کے ہاتھوں سے ہی علیحدہ کروا دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو غیبوں کا مالک ہے وہ جانتا تھا کہ اس قوم پر تووہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ قبرستان كہ جہاں انسان كو موت یاد آجاتی ہے اسے بھی یہ قوم جرائم گاہ بنا لے گی۔آج ہر قسم کے اور سب سے گندےفعل زیادہ تر قبرستانوں میں ہوتے ہیں۔ اب بتاؤ کیا ملا آپ کو مولویوں کے کہنے پر حضرت امام مہدی و مسیح موعودعلیہ السلام کا انکار كر كے اور آپ اور آپ كی جماعت كی مخالفت اور اس پر ظلم و ستم کركے؟ ذرا پوچھیں ان مولویوں سے کہ آپ لوگوں کی زبانوں میں ایسا نیك اثر ہے اور آپ نے اپنی پاک و صاف تقریروں سے اور نیك نمونوں سے امت کی ایسی شاندار تربیت کی ہے کہ آج وہ گرتے گرتے کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی ہے اور جو کسر باقی رہتی تھی وہ پیروں فقیروں نے پوری کر دی۔
اے قوم اگراور کچھ نہیں کر سکتے تو كم از كم ملاّؤں کے چہروں سے جو آپ کے سامنے ہیں اور جنہیں ہر وقت آپ دیکھتے ہیں، ان چہروں سے ہی کچھ پہچاننے کی کوشش کرو كیونكہ خدا تعالیٰ نے ہمیشہ جھوٹے اور سچے کے چہروں کی واضح پہچان کروائی ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے شعور وفراست دی ہے وہ فورًا جان جاتے ہیں کہ یہ چہرہ ظالم اور جھوٹے کا ہے یا نیك اور سچے كا۔کیونکہ جھوٹے اور ظالم کے اندر کا گند ضرور اس کے چہرے پر نظر آتا ہے اور اس پر خدا سے دوری یعنی لعنت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جو خدا کے ساتھ قربت رکھتے ہیں ان کے اندر کا نور ان کے چہروں سےجھلكتا ہے۔ اِن دنوں تو یہ شرپسند ملاں بڑے شوق سےاور اکثر میڈیا پر اپنی شکلیں دکھاتے ہیں۔خدارا ان كی شکلوں کو دیکھ کر ہی پہچاننے کی کوشش کرو۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے متعلق واضح طور پر روایتوں میں ذکر ملتا ہے کہ رب کریم نے آپ كو ایسا نور عطا فرمایا تھا کہ اندھیرے میں روشنی ہو جاتی تھی۔ ایسا کیوں نہ ہوتا كیونكہ آپ سب سے زیادہ خدا کے قریب رہنے والے اور انسانوں بلکہ جانوروں پر بھی سب سے زیادہ رحم فرمانے والے تھے۔ یہ سب خدا کی شان ہے کہ اس نے پہچان کرنے کا یہ ایک بڑا آسان ذریعہ بنایا ہے جو ظاہری شکل میں سب کو عام دکھائی دیتاہے۔ لیکن شرط یہ ہے كہ دیکھنے والی آنکھیں اور دل و دماغ نیك نیت ہوں اور تعصب كے گند سے خالی ہوں۔ تب ضرور جھوٹ ا ور سچ کے درمیان فرق محسوس ہو گا۔ اسی لئے تو ابوجہل كو اور اس کےنائب اور مشیر اورہمنوا لوگوں كو جن کے سینے بغض اورتعصب اورجھوٹ اور گند سے بھرے ہوئے تھے ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک چہرہ جو سب نبیوں کے چہروں سے سے زیادہ روشن اور نورانی تھا،نظر نہ آیا، لیکن آپ كے چہرہ كا وہ نور نیك نیت اور غیر متعصب صحابہ كو نظر آگیا۔ ان ایمان لانے والوں کی سینکڑوں گواہیاں اس سب سے پیارے اور روشن ترین چہرے کے متعلق ہم تک پہنچی ہیں بلکہ انہوں نےآپ كے سارے حلیہ مبارک كی تفصیلات بھی محفوظ کر دی ہیں۔ لیکن شرط ایک ہی ہے کہ وہ نور نظر آئے گا نیك نیتی كے ساتھ ، بے تعصبی كے ساتھ اور خدا اور رسول پر سچے ایمان کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ بھی قرآن کریم میں بار بار فرماتا ہے كہ اے ایمان والو! اے ایمان والو۔ کیونکہ نصیحت سچا ایمان لانے والوں پر ہی اثر کرتی ہے۔
غرض اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے دنیا میں امن اور سلامتی کی حقیقی اسلامی تعلیم اجاگر کرنے کی غرض سے اپنے پیارے کو نازل فرمایا لیکن دنیا نے ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نعمت کو ٹھکرایا اور اپنے لئے آگ کو پسند کیا اور اس انکار کی وجہ سے یہ آگ دن بدن بھڑکتی رہی اور آج ساری دنیاكو لپیٹ میں لے رہی ہے۔ افسوس لوگ پھر بھی اسی آگ کو پسند کرتے ہیں۔ ہمارے پیارے خلیفۃ المسیح حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سب بڑی حکومتوں کو خطوط لکھ کر اور اپنے خطابات کے ذریعہ سے بھی واضح طور پر بار بار متنبہ کیا ہے کہ ابھی وقت ہے کہ آپ لوگ سنبھل سکتے ہیں، لیکن جلدی كریں كہ وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ اس طرح خدا کے فضل سے ہر خلیفۃ المسیح اپنے اپنے زمانہ میں اپنے فرائض ادا کرتے آئے ہیں اور کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

طاعون كا نشان

خاکسار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان ہزاروں نشانات میں سے جو خدا تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ہی واضح طور پر ظاہر فرمائےصرف چند کا ذکر کیا ہے۔ ان میں ایک نشان طاعون کا بھی تھوڑا سا ذکر گزرا ہے۔ خاکسار اس کی كچھ مزید وضاحت کرنا چاہتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ جو لوگ سچاایمان رکھتے ہیں کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اورمیری تعلیم پر پورا پورا عمل كرتے ہیں یا اب ہی صدق دل سے میری طرف رجوع كریں گے ، ان کو طاعون سے بچایا جائے گا کیونکہ یہ خدا کا وعدہ ہے اور اس نے میرے پر الہام فرمایا ہے کہ( اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ) یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہے میں اسے بچاؤں گا۔ پھر حضور نے وضاحت فرمائی کہ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ الہام صرف اس ظاہری گھر میں رہنے والوں كے متعلق ہے جس میں مَیں رہائش رکھتا ہوں بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں میرے روحانی گھر میں داخل ہیں جس كے بچائے جانے كا خدائی وعدہ ہے۔
پھر آپ نے فرمایا کہ میر ی سچی پیروی کرنے کے لئے درج ذیل باتیں ہیں کہ
” وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم اور خالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔ وہ نہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا۔ وہ دکھ اٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اور مرنے سے پاک ہے وہ ایسا ہے کہ باوجود دور ہونے کے نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دور ہے۔ اور باوجود ایک ہونے کے اس کی تجلیات الگ الگ ہیں۔ انسان کی طرف سے جب ایک نئے رنگ کی تبدیلی ظہور میں آوے تو اس کے لئے وہ ایک نیا خدا بن جاتا ہے۔ اور ایک نئی تجلی کے ساتھ اس سے معاملہ کرتا ہے۔ اور انسان بقدر اپنی تبدیلی کے خدا میں بھی تبدیلی دیکھتا ہے۔ مگر یہ نہیں کہ خدا میں کچھ تغیر آجاتا ہے بلکہ وہ ازل سے غیر متغیر اور کمال تام رکھتا ہے۔ لیکن انسانی تغیرات کے وقت جب نیکی کی طرف انسان کے تغیر ہوتے ہیں۔ تو خدا بھی ایک نئی تجلی سے اس پر ظاہر ہوتا ہے۔ اورہر ایک ترقی یافتہ حالت کے وقت جو انسان سے ظہورمیں آتی ہے خدا تعالیٰ کی قادرانہ تجلی بھی ایک ترقی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے وہ خارق عادت قدرت اسی جگہ دکھلاتا ہے جہاں خارق عادت تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ خوارق اور معجزات کی یہی جڑ ہے۔ یہ خدا ہے جو ہمارے سلسلہ کی شرط ہے۔ اس پر ایمان لاؤ۔ اور اپنے نفس پر اور اپنے آراموں پر اور اپنے کل تعلقات پر اس کو مقدم رکھو۔اور عملی طور پر بہادری کے ساتھ اس کی راہ میں صدق و وفا دکھلاؤ۔ دنیا اپنے اسباب اور اپنے عزیزوں پر اس کو مقدم نہیں رکھتی مگر تم اس کو مقدم رکھو تا تم آسمان پر اس کی جماعت لکھے جاؤ۔ رحمت کے نشان دکھلانا قدیم سے خدا کی عادت ہے۔ مگر تم اس حالت میں اس عادت سے حصہ لے سکتے ہو کہ تم میں اور اس میں کچھ جدائی نہ رہے اور تمہاری مرضی اس کی مرضی اور تمہاری خواہشیں اس کی خواہشیں ہو جائیں۔اور تمہارا سر ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت مرادیابی اور نامرادی میں اس کے آستانہ پرپڑا رہے تا جو چاہے سو کرے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم میں وہ خدا ظاہر ہو گا جس نے مدت سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔كیاكو ئی تم میں ہے جو اس پر عمل كرے اور اسكی رضا كا طالب ہو جائے اور اسكی قضاء وقدر پر ناراض نہ ہو۔سو تم مصیبت كو دیكھ كر اور بھی قدم آگے ركھو كہ یہ تمہاری ترقی كا ذریعہ ہےاور اس کی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو۔ اور کسی پر تکبر نہ کرو گو اپنا ماتحت ہو۔اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔ غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔۔۔ بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو نہ ان کی تحقیر۔ اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو نہ خودنمائی سے ان کی تذلیل۔ اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔ خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو۔ اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ۔ او ردنیا سے دلبرداشتہ رہو۔اور اسی كے ہوجاؤ۔اور اسی کے لئے زندگی بسر کرو اور اس کے لئے ہر ایک ناپاکی اور گناہ سے نفرت کرو کیونکہ وہ پاک ہے۔ چاہیئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی۔اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔ دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو کہ وہ دھوئیں کی طرح دیکھتے دیکھتے غائب ہو جاتی ہیں اور وہ دن کو رات نہیں کر سکتیں۔ بلکہ تم خدا کی لعنت سے ڈرو جو آسمان سے نازل ہوتی اور جس پر پڑتی ہے اس کی دونوں جہانوں میں بیخ کنی کر جاتی ہے۔۔۔ تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔ تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔ اور بدبخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا۔ سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔۔۔ تم سچے دل سے اور پورے صدق سے اور سرگرمی کے قدم سے خدا کے دوست بنو تا وہ بھی تمہارا دوست بن جائے۔ تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو۔تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو۔ تم سچ مچ اس کے ہو جاؤ تا وہ بھی تمہارا ہو جائے۔ دنیا ہزاروں بلاؤں کی جگہ ہے جن میں سے ایک طاعون بھی ہے۔ سو تم خدا سے صدق کے ساتھ پنجہ مارو۔ تا وہ یہ بلائیں تم سے دور رکھے۔ کوئی آفت زمین پر پیدا نہیں ہوتی جب تک آسمان سے حکم نہ ہو۔ اور کوئی آفت دور نہیں ہوتی جب تک آسمان سے رحم نازل نہ ہو۔۔۔اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے اُن کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔ نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔ اور تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی۔بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔ اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔ اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا۔ اور آخر کار اُس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔ کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک کہ محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا۔‘‘ (کشتیٔ نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 10-14)
یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے محمدی سلسلہ کے لئے مسیح کا آنا ضروری تھا،اس پر بارہویں صدی تک کے مجددین اور صوفیاء اور اولیاء کرام سب کے سب متفق رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بہت ساری تحریروں میں ذکر کیا ہے کہ قرآن کریم میں جو ذکر ہے کہ ساری دنیا میں غلبہ اسلام ہوگا ،یہ غلبہ امام مہدی کے زمانہ میں ہونا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ضرور ہونا ہے کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔
اب پھر اصل ذکركی طرف آتا ہوں یعنی طاعون کا نشان۔یہ عذاب الٰہی سالہا سال چلتا رہا اور اس كی وجہ سے لاكھوں اموات ہوئیں۔ نیزبے شمار لوگ اللہ تعالیٰ کے اس عذاب سے خائف ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی تعلیم جو حضور نے حقیقی طور پر کھول کر بیان فرمائی ہے اس پر عمل کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچ گئے۔ آج کے زمانہ کےاكثر لوگوں کے باپ دادا اس نشان کے گواہ ہیں اور اس وقت کی گورنمنٹ کا ریکارڈ اور اخبارات کا ریکارڈ سب تاریخی ثبوت اس نشان كے بارہ میں موجودہیں۔ كیا یہ بات قابل غور نہیں کہ طاعون کے کیڑے نےجماعت احمدیہ کے لوگوں كا خاص طور پر خیال رکھا کہ یہ احمدی ہے اس کو نہیں کاٹنا۔ یہ ہے خدا کی شان اور اسكا نشان۔
چاند اور سورج گرہن کا نشان
دوسرا نشان چاند اور سورج کے گرہن کا ہے۔ اس نشان کے لئے بھی کسی لمبے چوڑے مطالعہ یا بہت زیادہ محنت کی ضرورت نہیں۔طاعون والا نشان زمین سے ظاہر ہوا یعنی زمین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام كی صداقت پر گواہی دی اور یہ دوسرا نشان آسمان سے ظاہر ہوا یعنی آسمان نے آپ كی سچائی كی گواہی دی۔ حدیثوں میں اس پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں کہ چاند کو پہلی رات كو اور سورج کو درمیانی تاریخ کو گرہن ہوگا اور رمضان کا مہینہ ہو گا اور دعویٰ کرنے والا موجود ہو گا یعنی امام مہدی علیہ السلام موجود ہوں گے۔ چنانچہ خدا نے اسی طرح اپنا یہ وعدہ پورا کر دیا۔ اس عظیم الشان نشان كے ظاہر ہونے پر ملاّں کی اور تو کوئی پیش نہ گئی صرف یہ کہنا شروع کر دیا کہ حدیث میں تو چاند كو اس کی پہلی تاریخ کو گرہن ہونے کا ذکر ملتا ہے لیكن یہ چاند گرہن تو تیرہ تاریخ کوہوا ہے۔ لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ ملاّں کو یہ بھول گیا کہ جب سے خدا نے یہ نظام شمسی( یعنی زمین و آسمان و سورج اور چاند ستارے وغیرہ) قائم كئےہوئے ہیں اس وقت سے خدانے چاند گرہن کی جو تاریخیں مقرر فرمائی ہیں وہ 15-14-13 (تیرہ چودہ پندرہ) ہیں۔ اسی طرح سورج گرہن کی جو تاریخیں مقرر فرمائیں ہیں وہ 29-28- 27 ہیں۔ اس طرح چاند گرہن کی پہلی تاریخ 13 بنتی ہے اور سورج گرہن کی درمیانی تاریخ یعنی 28۔ سو اسی طرح خدا نےجو سچے وعدوں والا ہے اپنے مہدی کے لئے یہ نشان واضح طور پر ساری دنیا کو دکھایا اور اپنے پیارے کا حق پر ہونا ظاہر فرمایا۔ آج یہ نشان بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس زمانہ كے اخبارات میں دیکھنا چاہیں یا محکمہ فلكیات والوں سے چیک کروالیں۔ یہ محکمہ کوئی احمدیوں کا تو نہیں ہے۔ جو نشان خدا کے ہوں وہ کبھی مٹ نہیں سکتے، وہ ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔

مصلح موعود بیٹا

جب ہندو اور عیسائی اور دیگر سارے مذاہب، اسلام کے خلاف کمربستہ تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام كا شاندار دفاع كر رہے تھے تو ان سب نے آپ کا گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی اور ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ،تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چالیس دن علیحدہ رہ کر چلّہ کیا اور خدا سے نصرت اسلام كیلئے رو رو کر دعائیں کیں کہ اے میرے خدا میری حالت سے تو خوب واقف ہے۔تیرے دین اسلام کے لئے جہاں تک میری طاقت ہے میں زورلگارہاہوں لیکن سب طاقتوں کا تو مالک ہے۔ میری مدد فرما اور کوئی ایسا نشان عطا فرما جو تیرے دین كی واضح فتح کے لئے کارگر ثابت ہو۔ یہ الفاظ میرے ہیں جن میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ مبارکہ کا تھورا سا مفہوم لکھنے کی کوشش کی ہے۔ آخر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح پاک کی دعا قبول فرماتے ہوئے یہ نشان عطا فرمایا کہ كہا میں تجھے تیری ہی ذریت سے ایك بیٹا دوں گا جس کا نام محمود ہو گا۔ اس بیٹے كے بہت سارے صفاتی نام بتائے گئے اور كہا گیا كہ وہ مصلح موعود ہو گا یعنی وہ دنیا کی اصلاح كے عظیم كام کرے گا۔
یہ عظیم بیٹا ہے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ یعنی جماعت احمدیہ كے دوسرے خلیفہ۔ خدا تعالیٰ نے جتنی بھی صفات اس بیٹے كی بتائی تھیں وہ سب کی سب آپ میں پوری ہوئیں۔ آپ کا دورِ خلافت تقریباً 52سال رہا۔ خدا کے فضل سے آپ نے بیسیوں تصنیفات تحریرفرمائیں۔بینظیرتفسیر قرآن لكھی جس كانام تفسیر كبیر ہے۔ جماعت احمدیہ کی تنظیمی بنیادیں قائم كیں۔ خاکسار پہلے لکھ چکا ہے کہ گویا کہ آپ كا دور خلافت ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت کا پورا نقشہ ہے۔ آپ نے 1965ء میں وفات پائی۔ ابھی کل کی یہ بات ہے۔کیا آپ سب لوگ اس نشان کو نہیں جانتے اور آپ کے والدین بھی اس پورے زمانہ کے گواہ نہیں ہیں ؟

خلافت حقہ احمدیہ

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میرے بعد خلافت شروع ہو گی اور وہ قیامت تک چلے گی۔ یہ پیشگوئی حدیث میں بھی موجود ہے۔ آج خلافت احمدیہ کو قائم ہوئے 110 سال ہونے كو ہیں اور آج ہمارے پانچویں خلیفۃ المسیح موجود ہیں۔ کیا کسی انسان کا یہ کام ہے کہ خلافت کو قائم کر سکے۔ خدا کے لئے خدا پر ایمان لاؤ اور ملاں کے نرغے سے نکل کر نجات كی فكر كرو اور اس كےلئے کوشش کرو۔ کیا ملاں كی ساری کہانی آپ کے سامنے نہیں چل رہی۔ كیاآپ سب كچھ دیکھ کر بھی اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنا چاہتے ہیں؟ہاں ہدایت یقیناً خدا کے پاس ہے۔

دو فرعون

پاکستان کے دو فرعون حاکموں كا عبرتناك انجام ، جس كا خاكسار ذكر كر آیا ہے، آپ سب كے سامنے ہے اور خاکساربھی چشم دید گواہ ہے۔ان دونوں نےاپنے اپنے دورِ حکومت میں جماعت احمدیہ پربے انتہا ظلم ڈھائے اور خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ امام اور اس کی جماعت کو رسوا کرنے کی کوشش كی تو خدا تعالیٰ نے انہیں ساری دنیا کے سامنے رسوائی كاعبرتناك نشان بنا کر اپنا قادر مطلق ہونے کا خوب ثبوت دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو

اے لوگو بتاؤ کہ اور کیا دیکھنا چاہتے ہو؟ خاکسار كو تو خدا تعالی نے 1974میں ان لوگوں کے یہ ظلم دكھا كر ہی فورًاہدایت کی طرف رہنمائی فرما دی تھی۔ یہ خدا کا فضل عظیم تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو بھی عقل عطا فرمائے اور گمراہ کرنے والے ملاّؤں کے چنگل سے نکلنے کی توفیق دے۔
دیکھو ہمارے پیارے مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگی میں 80سے زیادہ کتب لکھیں جو قرآن کریم سے اخذ کئے ہوئے خزانوں پر مشتمل ہیں۔ اس طرح آپ نے قرآن و سنت اور حدیث كا وہ سارا علم ہمارے لئے آسان کر دیا ہے جسكو ملاّں نے نہ سمجھ کر امت مسلمہ كے 72فرقے بنا ڈالے ہیں اور اسلامی دنیا کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا میں بھیج کر اسلام کو پھر اسی شكل میں پیش كیا ہے جس شكل میں یہ دین دور اول میں تھا۔ اب اسی حقیقی رنگ میں اسلا م كو دنیا کے سامنے پیش کر کے غلبہ حاصل ہونا ہے اور ہوكر رہےگا انشاء اللہ تعالی۔

اس آنے والے كے دو نام مہدی اورمسیح صفاتی نام ہیں۔ مسلمانوں کی اصلاح کے لئے وہ مہدی ہے۔عیسائیوں کی اصلاح اور انہیں اسلام میں لانے کے لئے وہ مسیح ہے۔ چونکہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے لیے مبعوث ہوئےہیں اس لیے انکا مہدی مسیح بھی اپنے آقا کی غلامی میں آکر ساری دنیا کی اصلاح كرنے اور سب عالم كو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے کے لئے مبعوث كیا گیا ہے۔ آج اس مہدی و مسیح کی نمائندگی میں اس کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہیں جو خدا کے فضل سے دن رات بڑے جوش اورمحنت سے اس مشن کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔ آپ نے آج ساری دنیا کے عیسائیوں کے پوپ کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ حکمرانِ امریکہ کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ ساری یورپین حکومتوں کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ اس کے علاوہ بھی جہاں تک بس چلتا ہے اسلام کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دی جارہی ہیں۔ خدا تعالیٰ بھی ان قربانیوں اور اس جہاد کو جو قرآن کے ذریعہ كیا جارہا ہے قبول فرماتے ہوئےاس جماعت كو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے رہا ہے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کو کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں لارہا ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان کہلانے والے 72فرقوں میں سے کروڑوں لوگ نکل کر آج تک جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے ہیں اور بڑی تیزی سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان نیك صفت لوگوں نے شریر ملاّں کی کرتوتوں کو دیکھ کر اورجماعت احمدیہ میں حقیقی اسلام کو دیکھ کر امام مہدی علیہ السلام کو پہچان لیا۔ ایسے لوگ نیک فطرت ہوتے ہیں اس لئےاللہ تعالیٰ ایسی سعید روحوں کو ضائع ہونے سے بچا لیتا ہے۔ اب پاکستان کے باسیوں کا کم از کم یہ حق تو ضروربنتا ہے کہ اپنے مذہبی رہبروں سے پوچھیں کہ یہ بات تو سب کے سامنے ہے کہ احمدیوں کی تعداد اب کروڑوں تك پہنچ گئی ہے اور ساری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔ یہ احمدی لوگ اگر باہر سے پاکستان جائیں یا وہ جو ابھی پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں، ان کو تو ملاں کلمہ پڑھنے نہیں دیں گے کیونکہ پاكستان میں احمدیوں كیلئے کلمہ پڑھنا قانونًا بند کر دیا گیا ہے۔ یہ کلمہ طیبہ بند کرنے کا فتویٰ کس نے جاری کیا؟ 72فرقوں کےملاّؤں نےاور بھٹو اور ضیاء الحق نے۔ آپ لوگ اپنے ملاّں سے یہ سوال نہیں کرتے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو لوگوں كو كلمہ پڑھاتےتھے۔ آپ تواسلام میں داخل کرتے تھے۔ آپ اسلام سے نکالتے نہیں تھے۔ کوئی ایک مثال پیش کریں کہ آپ نے کسی کو کلمہ طیبہ پڑھنے پر بین کیا ہو۔ اسی لئے كہتا ہوں كہ آج پاکستان میں سب برائیوں کی جڑ ملاں ہیں۔
خاکسار کواللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے احمدیت میں شمولیت کی توفیق تو 1974ء میں دی تھی لیكن معاشرے کےحالات ،گھر کے رہن سہن،پیشہ زمیندارہ کی وجہ سے کھیتوں وغیرہ میں مصروفیات اور ناپختہ عمراور کوئی استادمیسرنہ ہونے اورکسی قسم کی رہنمائی مہیا نہ ہونےكی وجہ سے احمدیت كے بارہ میں گہری معلومات نہ تھیں۔ آخر 1989ء میں خدا کے فضل سے ایسےحالات پیدا ہوئے کہ آہستہ آہستہ اس نے سب کچھ مہیا فرما دیا۔پھر جوں جوں علم بڑھتا رہا ایمان بھی پختہ ہوتا رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید فضل فرماتے ہوئے تبلیغ کا شوق پیدا فرمایا۔ اس طرح جو دوست زیادہ تعلق رکھتے تھے ان سے بات چیت جاری رہتی تھی۔ایک دوست عبدالحق رحمانی صاحب ہیں وہ بھی اکثر خاکسار کے ساتھ بات چیت کرتے رہتے تھے۔ ہمارا گھر گاؤں كے شمال مغرب میں اور وہ گاؤں کے مشرقی حصہ میں دوسری طرف رہتے تھے لیکن تقریباً ہر روزصبح یا شام ضرور ملتے تھے۔ خاکسار سے بات چیت سن کر پھر مولوی سے اس کا جواب پوچھتے۔ کافی عرصہ ایسا ہوتا رہا۔ ایک دن اسی طرح باتیں ہو رہی تھیں تو لمبا سانس لیا اور کہنے لگے کہ بھائی چوہدری اگر میں احمدیت قبول کر لوں اور اس وجہ سے دوزخ میں چلا جاؤں توكیا آپ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کہ چونكہ آپ مجھےاحمدیت كی دعوت دینے والے ہیں ، اس لئے اللہ تعالیٰ میری جگہ آپ کو دوزخ میں ڈالے اور مجھے اس سزا سے بری کر دے۔ ان کے اس سوال پر خاکسار نے عرض کی کہ صرف اور صرف احمدیت قبول کرنے کی حد تک یہ شرط مجھے منظور ہے، بلکہ آپ كی طرح کے اور بھی دوست اگر ہوں تو میں ان کی بھی یہ شرط قبول کرنے پر فخر محسوس کروں گا۔ لیکن احمدیت قبول کرنے کے بعد اگر آپ کی عملی حالت خراب رہے یا کسی قسم کے گناہ کے مرتكب ہوں ، تو ایسی صورت میں خاکسار ذمہ نہیں لے سکتا۔ یہ تو خدا جانتا ہے کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی۔ مجھے تو اپنا بھی نہیں پتہ کہ کس طرف جاؤں گا۔ لیکن اگر اللہ آپ کو صرف اور صرف حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مہدی و مسیح موعود ماننے کے نتیجہ میں جہنم دے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ خدا سے عرض كروں گا كہ اس کے بدلے یہ سزا مجھے دے اور آپ یعنی عبدالحق رحمانی صاحب کو اس سزا سے بری قرار دیدے۔ اس کے بعدخاکسار نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور اونچی آواز سے دعا کرنی شروع کی اور ساتھ عبدالحق رحمانی صاحب بھی شامل ہوئے۔
یہ واقعہ بیان كركے خاکسار یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس طرح رب کریم نے احمدیت جیسی نعمت عطا فرمائی اسی طرح پھر ایمان بھی اس نے عطا كیا جو کہ آج تک بڑھتا جارہا ہے الحمد للہ۔ لیکن جو عمل ہیں ان کے لئے صرف اور صرف خدا سے یہی دعا ہے کہ ہم تیرے مہدی کی طرف منسوب ہونے والوں میں شامل ہیں تو اپنے فضل سے اورخلیفہ وقت کی دعاؤں كے طفیل ہمیں معاف فرما دے۔پھر تو رحمان ہے رحیم ہے معاف فرمانے والا ہے۔ بڑے بڑے گناہگاروں کو معاف کرنے والا ہے، ہمیں بھی ان میں شامل فرما۔ آمین۔
یہ بھی غور کریں کہ ان نام نہاد علماء دین نے جو اسلام دنیا کے سامنے پیش کر کے لوگوں کو خاص کر مسلمانوں کو گمراہ کیا ہو ا ہے اس اسلام میں یہ ملاں یہ بھی كہتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے لئے وحی کا دروازہ مکمل طور پر بند ہے۔ شریعت مکمل ہو چکی ہے اور قرآن کے بعد اب اور کوئی کتاب نہیں آنی اس لئے اب وحی بند ہو چکی ہے۔یہ دلیل یہ ملاں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
جماعت احمدیہ کا بھی اس بات پرمکمل ایمان ہے بلکہ سب سے بڑھ کر ایمان ہے کہ شریعت مکمل ہے اور قرآن کریم کے بعد نہ کوئی اور کتاب ہے اور نہ کوئی نئی شریعت لے کر کوئی نبی آئے گا۔یہ بات توسو فیصد درست ہے۔ لیکن چونكہ اس شریعت کو پارہ پارہ کرتے ہوئے 72 حصوں میں تقسیم کرنیو الے آنے تھے ، اس لئے اس زمانہ کا نقشہ خدا نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح كردیا تھا اور آپ نے صحابہ کرام کے سامنے یہ سب كچھ بیان فرما نے كے بعد امام مہدی علیہ السلام کی خوشخبری بھی دی تھی اور فرمایا تھا كہ اس تفرقہ كے وقت وہ اسلام کو دوبارہ اصل شكل میں پیش كركے امت كو متحد کرے گا۔ یہ خدا کا وعدہ ہے۔
اب ذرہ سا بھی غور کرنے سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ اگر مہدی و مسیح کا ساتھ اللہ تعالیٰ نے دینا ہی نہیں اور خدائی مدد اس کے ساتھ ہی نہیں اورخدا نے کسی قسم کا رابطہ اس سے رکھنا ہی نہیں ،تو جونہی وہ دعویٰ کرے گا کہ میں وہی امام مہدی ہوں جس كا و عدہ دیا گیا ہے لوگ اسی وقت اس کا گلا دبا کر اسےختم کر دیں گے۔ کیونکہ ہمیشہ سے دنیا میں یہی دستور چلا آرہا ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کو برداشت نہیں کیا گیا جو یہ دعویٰ کرے کہ مجھے دنیا کی ہدایت کے لئےخدا نے بھیجا ہے۔ جب بھی کوئی خدا کی طرف سے آیا اسے پھولوں کے ہار کبھی بھی نہیں پہنائے گئے بلکہ کسی کو آگ میں جلانے کی کوشش کی گئی تو کسی کو صلیب دینے کی۔ کسی کو آرے سے چیرنے کی کوشش كی گئی تو كسی كو تلواروں سے قتل كرنے كی۔ سب کی جان لینے کی کوشش کی گئی۔ لہذا یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ سچے امام مہدیؑ کے ساتھ خدا ہو گا اور اگر ہوگا تو پھر اسے وحی بھی خدا کرے گا کہ دنیا سے گھبرا نا نہیں میں تمہارےساتھ ہوں۔
اس لئے اے میرے بھائیو! ان ملّا‏ؤں سے جان چھڑانے کی کوشش کرو۔ اور غور کرو کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ہر دور میں اورہر قوم میں سب نبیوں کی امتوں میں وحی کا سلسلہ اس نے جاری ركھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک چودہ سو سال کا فاصلہ ہے اور ان دونوں كے درمیان موسوی شریعت كے تحت بہت سےنبی آئے جو توریت کی ہی تعلیم دیتے تھے لیکن وحی کا سلسلہ جاری رہا۔ اب سب نبیوں سے افضل و اعلیٰ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اللہ تعالیٰ تو خیرِ امت كہتا ہے مگر چودھویں صدی كا بدقسمت اوربدنصیب ملاّں اس بہترین امت كو سب امتوں سے نیچے گرا تے ہوئے اس طر ح لوگوں كے سامنے پیش كرتا ہے کہ گویا اب اس امت کا کوئی والی وارث نہیں رہا بلكہ اس کی باگ ڈوراب ملاں كےہاتھ میں ہے۔ اب ہم اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ ملاّں نے جو نتیجہ نکال کر اس امت کے سامنے رکھا ہے اس كا تو یہ مطلب بنتا ہے کہ نعوذباللہ خدا تعالیٰ نے خود اس امت پر ظلم کیا ہے کہ باقی امتوں پر تو وحی کی نعمت جاری رکھی اور اس امت سے مکمل طو رپر چھین لی۔ شیطان اور ابلیس تو بارش کی طرح اس امت کی طرف اتارے لیکن ان شیطانوں کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ چھوڑا۔
میرے بھائیو! غور کرو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہندوستان كے لاکھوں كروڑوں مسلمانوں کو عیسائیت میں داخل ہونے سے اس وقت بچایا جبکہ ان میں سے ہزارو ں لاكھوں جن میں سے سینكڑوں مولوی اور خطیب تھے، پہلے ہی عیسائی بن بھی چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مہدی و مسیحؑ کو وحی کے ذریعہ سے قرآن کریم کے معارف خوب کھول کربتائے جن كے ذریعہ آپ نے عیسائیت كی یلغار كو روكا اور اس کے بعد جاكر مسلمان دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا شروع ہوئے۔ یہ دلائل کی جنگ عظیم تھی۔اس زمانہ میں ہندوستان میں مذاہب کا ایک دنگل لگا ہوا تھا جس میں عیسائیت اور ہندو آریہ اور دیگر مذاہب اسلام پر بیک وقت حملہ آور تھے۔اس کا اعتراف تو ڈاکٹر اسرار صاحب نے بھی کیا ہے کہ یہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی تھے جنہوں نے فلاں فلاں مناظرے میں عیسائیوں کو شکست فاش دی۔ سائل نے پوچھا كہ مرزا صاحب نے کس کی طرف سے عیسائیوں كو شکست دی تھی؟ ڈاکٹر صاحب نے كہا كہ اسلام کی طرف سے۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے كہا كہ فلاں مناظرے میں آپ نے ہندو آریوں کو شکست دی۔ سوال کرنے والا پھر پوچھتا ہے :کس کی طرف سے شکست دی؟ تو ڈاکٹر صاحب جواب میں کہتے ہیں اسلام کی طرف سے۔ اب دیکھو ڈاکٹر اسرار صاحب احمدیت کے مخالف رہے ہیں اور آپ کے ہی مولوی ہیں لیکن تاریخ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ مخالفین سے بھی تائید کرواتا ہے اور بعض اوقات ان کی زبانیں بھی سچ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بھی یہ سچ لکھنے پر مجبور ہوئے تھے۔اسی طرح اور بھی بہت ساری گواہیاں ہیں۔
وحی كے جاری ہونے كی بات ہورہی تھی۔اب دیکھو ہماری جماعت کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہیں۔ ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا: ” اِنِّیْ مَعَکَ یَا مَسْرُوْرُ”، کہ اے مسرور میں تیرے ساتھ ہوں۔ اُس وقت ہمارے موجودہ امام حضرت مرزا مسرو احمد صاحب تو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اب بتاؤ اور پوچھو مولوی سے کہ كیا خدا کی وحی اس امت کے لئے بند ہے؟ نہیں۔ یہ ملاں خود ہی اندھے اور بہرے ہیں اور ان کے دلوں پر خدا نے مہریں لگا دی ہیں اس لئے یہ دوسروں كو بھی اپنی طرح محروم ہی سمجھتے ہیں۔
جماعت احمدیہ کے تو ہزاروں لوگوں کو خدا کے فضل سے سچی خوابیں آتی ہیں اور ہزاروں لوگ سچی خوابوں کے ذریعہ سے مختلف ملکوں سے احمدیت میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ سلسلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام كے زمانہ سےجاری و ساری ہے۔ لیکن ظالم طبع اور شریر ملاّؤں اور ان کو پوجنے و الے سیاہ دل والوں کےقریب خدا تعالیٰ کا فرشتہ کیسے آسکتا ہے؟وہ اپنے حساب سے تو کہہ سکتے ہیں کہ وحی بند ہے کیونکہ وحی ہمیشہ پاکوں پر اترتی ہے، پلیدوں کے تو قریب بھی نہیں پھٹکتی۔ ہاں ایک بات ہے کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ شہد کی مکھی کو وحی ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو وحی ہوئی حالانکہ وہ نبی نہ تھیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام كی والدہ كو وحی ہوئی حالانكہ وہ نبی نہ تھیں۔ تو یہ بات تو واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ پاکوں کو پسند کرتا ہے۔ خدا كے بندو! تمہیں یہ بات كیوں سمجھ نہیں آتی كہ ہر وحی شریعت والی وحی نہیں ہوتی۔ بے شك شریعت والی وحی تو یقینًا بند ہے۔ مگر وحی كی ایك قسم خوشخبریوں اور بشارتوں اور قرآن وشریعت كی تشریح پر مشتمل ہوتی ہے جو جاری ہے اور كبھی بند نہیں ہو گی۔
خاکسار نے توجو کچھ دیکھا ہے وہ سب كچھ ایسے ہی ہے جیسے کوئی پاس کھڑا ہو کر دیکھ رہا ہو۔
1۔ اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا كہ مہدی کے زمانہ میں طاعون ہو گی جو کہ اس کے انکار کی وجہ سے عذاب الہی ہو گا۔ چنانچہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور ساری دنیا پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیشگوئی کی اور آپ كی صداقت كی گواہ بن گئی۔
2۔ قرآن کریم نے فرمایا اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا تھا کہ مہدی کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند اور سورج دونوں كا فلاں فلاں تاریخوں کوگرہن ہوگا۔ اور اسی طرح ہوا۔ اس پیشگوئی کی بھی ساری دنیا گواہ بنی اور قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پوری ہوئی اور ان كی سچائی ثا بت ہوئی۔
3۔ امام مہدی علیہ السلام کے مبارک وجود کی آمد كی پیشگوئی كرتے ہوئے ان کا حلیہ مبارک بھی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا نیز بتایا كہ اس کی اولاد ہو گی۔ دیکھیں اولاد تو شادی کرنے سے اکثر ہوتی ہے لیکن جس خاص کام کے لئے اولاد کا ذکر کیا یہ سب بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور آج ساری دنیا اس کی گواہ ہے۔
4۔ پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک اور اپنے حبیب کی زبان سے پیشگوئی کی کہ آخری زمانہ میں خلافت علیٰ منہاج نبوت جاری ہو گی اور اسی طرح ہوا۔
یہ سب باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ اور اس کے رسول کی پیشگوئیوں کے مطابق بیان فرمائیں جو سب کی سب آج ہمارے سامنے ہیں۔
اے بھائیو! خاکسار بھی آپ لوگوں کی دنیا سے علیحدہ ہو کر آیا ہے۔ اب اگرتم میں کوئی مجھے کہے کہ ہماری طرف واپس آجاؤ تو میں پسند كرونگا كہ اس كی بات ماننے یا اس قسم کا خیال بھی پیدا ہونے سے پہلے پہلے ہی موت آکر مجھے ملیامیٹ كردے۔ میں پسند کروں گا کہ جیؤں تو اسلام احمدیت کی خاطر اور مروں تو اسلام احمدیت کی خاطر۔ جولوگ تحقیق كر کے احمدیت میں شامل ہوتے ہیں ان كی غالب اكثریت کا یہی فیصلہ ہوتا ہے جو خاکسار نے عرض کیا ہے۔
اب خاكسار خدا کے فضل اور احمدیت کی برکت سے آنے والی بعض خوابیں بھی عرض کرتا ہے جو مختلف وقتوں میں دیکھی گئی تاكہ معلوم ہو كہ كس طرح خداتعالی اب بھی اپنے بندوں سے كلام كرتا ہے ۔
1- حافظ آباد میں ایک گاؤں موضع چھنیاں ہے۔ ایك دفعہ میرا بیٹا محمد عمران اپنا ٹریکٹر اور تھریشر مشین لے كر وہاں گندم کی کٹائی وغیرہ کے لئے گیا ہوا تھا۔ خاکسار بھی ایک دن اس کو ملنے کے لئے وہاں گیا اور دو تین دن وہاں ٹھہر ا۔ ایک رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ ایک اور بزرگ میرے پاس پہنچ کر صرف اتنا کہہ کر واپس چلے گئے ہیں کہ “نقصان ہو گیا ہے”۔ خاکسار ان کو پیچھے سے دیکھتا رہا مگر نہ پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور نہ خاکسار کچھ بولا۔ اس کے بعد بیدار ہو گیا اور اسی وقت سے فکر لگ گئی کہ یااللہ یہ کیا ہونے والا ہے۔ اسی فکرمندی میں دل سے دعائیں جاری رہیں۔ خاکسار نے یہ خواب صبح اپنے بیٹے اور اپنے ایک کزن محمد نواز کو سنایا اور کہا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ خیر کرے۔ میرا کزن کہنے لگا بھائی جی فکر نہ کریں خواب تو پورا بھی ہو گیا ہے۔ ہم نے صبح آکر ٹریکٹر کو دیکھا ہے وہ خراب ہو گیا ہے اور اب ہم اسے لے کر حافظ آباد ورکشاپ پر جارہے ہیں۔ خاکسار نے کہا کہ یہ خواب دنیا کے کسی معمولی سے نقصان کے لئے نہیں ہو سکتی۔ اس کےبعد فکرمندی میں کبھی سڑک کی طرف جانے والے راستہ كی طرف میری نظر اٹھ جاتی کہ شاید کوئی ہمارے گاؤں سے پیغام لے کر نہ آرہا ہو۔ ٹیلی فون کی سہولت نہ تھی۔ دن کے دس بجے كے قریب خاکسار کی نظر سڑک کی طرف گئی تو دیکھا کہ چھوٹا بیٹا محمد احمد ایک وین سے اتر کر تیز تیز چلتا ہوا ہماری طرف آرہا ہے۔ خاکسار نے فورًا آگے سے ہو کر پوچھا کہ کیا بات ہے؟ خیر ہے؟ اس نے بتایا کہ بابر فوت ہو گیا ہے۔ بابر میری سب سے چھوٹی ہمشیرہ کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس کی عمر اس وقت سترہ برس تھی۔ اس كی سات بڑی بہنیں ہیں۔ اس كی وفات اچانک ہوئی، پہلے بیمار بھی نہیں تھا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
2۔ خاکسار ربوہ میں مقیم تھا کہ 10اکتوبر 2010 کو برخوردار محمد عمران نے لندن آکر اسائیلم کیا۔ہوم آفس والوں نے اسے ڈیٹین(detain) کر لیا۔ فون پر بڑے بیٹے عاصم شہزاد سے اطلاعات پہنچتی رہیں۔ دن گزرتے گئے۔ ظاہر ہے ایک والد كے دل میں فکر تو رہتی ہے اور وہی فکر دعا کا بھی موقع پیدا کرتی ہے۔ اسی دوران اپنے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز سے بھی دعا کی درخواستیں جاری رہیں کیونکہ حقیقی دعا تو انہیں سے ملتی ہے۔ 29 اکتوبر2010ء کی رات خاكسار نے خواب میں ایک بڑا پرلطف اور پرسرور نظارہ دیکھا کہ ایک پرندہ میرے اوپر کوئی 15 یا 20 فٹ کی بلندی پر ایک جگہ کھڑا ہو کر اڑ رہا ہے اور بڑی پیاری انسانی زبان میں پکارتا ہے کہ اللہ کی شان بہت بلند ہے۔ اس پرندے کا قد فاختہ یا کبوتر جتنا لگتا ہے لیکن نیم سا اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسکی واضح شکل نظر نہیں آتی۔ پھر دل میں بڑی شدت سے خواہش پیدا ہوئی کہ اے اللہ اگر روشنی ہو تو میں اس پرندے کو اچھی طرح دیکھ سکوں۔ اس کے بعد بڑی تیز اور رنگین قسم کی روشنی کا نظارہ اسی جگہ پر ہوتا ہے لیکن پرندہ غائب ہو جاتا ہے اور اس كی جگہ پر انسانی شکل نظر آتی ہے جس نے اس طرح کا لباس پہنا ہوا ہے جیسا شوخ رنگ اور چمکیلا لباس بعض اوقات عورتیں پہنتی ہیں، لیکن اس كا چہرہ بہت خوبصورت مرد کا تھا۔ وہ اس پرندے کی جگہ پر ہوا میں تیرتا ہوا وہی الفاظ پکارتا رہا کہ اللہ کی شان بہت بلند ہے۔ جب وہ یہ الفاظ ایک دفعہ کے بعد دوسری دفعہ اور پھر تیسری دفعہ کہتا تو اس سے یہ سمجھ آتی تھی کہ اس سے بھی بلند، پھر اس سے بھی بلند ، اورپھر اس سے بھی بلند۔یعنی جتنی دفعہ وہ یہ کہتا تو اسكی مراد یہ ہوتی تھی كہ خدا کی شان اس سے بھی بلند ہے۔ پھر جب وہ یہ الفاظ کہتا تو خاکسار نے ساتھ یہ کہنا شروع کردیا کہ کون کہتا ہے کہ وہ قادر مطلق نہیں ہے؟ کون کہتا ہے کہ وہ قادر مطلق نہیں ہے؟ کون کہتا ہے کہ وہ قادر مطلق نہیں ہے؟
اس خواب کا حقیقی نظارہ خاكساركے اس تحریر كردہ نظارہ سے بہت بلند ہے كیونكہ خاکسار كے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے اس نظارہ کو پوری طرح بیان کر سکوں۔ اور میں اس خواب کی تعبیر کو بھی نہیں جانتا بلكہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ بہرحال اس خواب كے بعد اس قادر مطلق خدا كے قدرت سے عزیزم محمد عمران کا اسائیلم پاس ہوگیا اور اسے رہا كر دیا گیا۔ پھر اس کے بعد تینوں بیٹیوں کو بھی مع اپنے خاوندوں اور بچوں کے ویزے بھی ملتے گئے اور فورًا اسائیلم بھی ملتے گئے حالانكہ اس كی نہ کوئی توقع تھی اور نہ ہی دنیاوی اسباب تھے۔ الحمدللہ تقریباً عرصہ چھ ماہ میں سب کے سب لندن میں سیٹ ہوگئے۔
اے بھائیو! خدا را اتنا تو سوچو کہ اگر میرے جیسے جاہل اور نکمے آدمی کو خدا کی ذات کل ہونے والاواقعہ سے بذریعہ خواب آگاہ کرنے پر قادر ہے تو پھر جن کو وہ خود دنیا کی ہدایت اور اصلاح کے لئے مقرر فرمائے ان کو وحی اور الہام اور کشوف کے ذریعہ اپنے غیب سے کیوں تفصیلی اطلاعات نہ کرے گا؟ اور اگر اس طرح انہیں اطلاع نہ کرے گا تو پھر وہ کامیاب کیسے ہوں گے؟ اس لئے جب سے اس نے مخلوقات کا سلسلہ اس زمین پر جاری فرمایا ہے تب سے لے کر جب تک اس زمین پر اس کی مخلوقات رہے گی وہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے کسی نہ کسی رنگ میں وحی کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا اور کسی نہ کسی طریق سے ان میں اصلاح کرنے والے بھی آتے رہیں گے۔ وہ اپنے اس سلسلہ کو جاری رکھے گا اسی لئے اس خدا نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور امام مہدی علیہ السلام کے درمیانی عرصہ میں دینِ اسلام کو قائم رکھنے کی خاطر مجددین کا سلسلہ جاری کیا تھا۔
سن 2003ء میں حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات ہوئی۔ وفات كے دن صبح صبح خاکسار کی بیٹی حمیرہ کوثر روتی ہوئی نیند سے بیدار ہو ئی۔آنسو بہ رہے تھے اور کہنے لگی ابوجی ہمارے حضور فوت ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا اللہ خیر کرے۔ ایسے کیوں کہتی ہو۔ کہنے لگی: ابوجی میں نے واضح طور پر خواب میں یہ سب کچھ دیکھا ہے۔ ان دنوں حضور ماشاء اللہ بالکل تندرست تھے بلکہ گذشتہ رات کو ٹی وی پر حضور کا لائیو پروگرام بھی دیکھا تھا۔ مگر اسی دن گیارہ بجے حضرت مرزا طاہر احمدؒ کی وفات کی خبر آگئی۔
پھر ہمارے پانچویں خلیفہ کا ابھی انتخاب بھی نہیں ہوا تھا کہ لوگوں کو ان كی خلافت كے بارہ میں خوابیں آئیں حالانكہ وہ لوگ اس وقت آپ كا نام بھی نہ جانتے تھے۔ خواب سے ہی انہیں حضور كا نام معلوم ہوا تھا۔ وہ پوچھتے تھے کہ مرزا مسرور احمد صاحب کون ہیں جن كانام ہمیں خواب میں بتایا گیا ہے؟
یہ ہے اللہ کی شان۔ لیکن جن سے اللہ دور ہے ان کامعاملہ پھر اسی طرح ہے جو آج دنیا کے سامنے ہے۔یہ بات سچ ہے کہ ملاّں کے لئے واقعی سلسلہ وحی و كشف و الہام مکمل طور پر بند ہے اس لئے کہ اللہ پاک ہے، اس کا قرآن پاک ہے، اور جس پر قرآن پاک اتارا گیا وہ بھی پاک ہے۔ جبكہ ان ملاّؤں کے سینے سیاہ اور دل ہر قسم کے گند میں لت پت ہیں۔ ایسے وجودوں پر خدا تعالیٰ اپنے فرشتے نہیں اتارا کرتا کیونکہ وہ پاک ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے كہ یكایك خدا کی پاك وحی کا نزول آپ پرہوا اور دوران خطبہ ہی آپ اونچی اونچی فرمانے لگے يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ، يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ يعنی اے ساریہ ،پہاڑی کی اوٹ میں چلے جاؤ، اے ساریہ ،پہاڑی کی اوٹ میں چلے جاؤ۔ جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپ سے اس بارہ میں دریافت كیا تو آپ نے فرمایا خدا نے مجھے نہاوند میں ایرانیوں سے لڑنے والے اسلامی لشکر كا نظارہ دكھایا تھا اور میں نے دیكھا كہ اسلامی لشكر سخت خطرے میں ہے اسلئے میں اس كے كمانڈرسے مخاطب ہو گیا تھا اور میری آواز بھی خدا نے ان تك پہنچا دی ہے۔ آخر چند دنوں كے بعد اس لشكر سے قاصد نے آكر سارا قصہ سنایا جس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ كی بات كی سو فیصد تصدیق ہوگئی۔
یہ وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے بعد بھی وحی کے جاری و ساری رہنے کے قائل تھے اور ان سے خدا تعالیٰ مخاطب بھی ہوتا رہا۔
آج بھی خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ میں اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے كی وجہ سے اور خلافت کی برکات كے طفیل، ہزاروں کی تعداد میں نیک اورصالح موجود ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام نے اپنی تربیت سے بہت سارے ایسے صحابہ بھی بنائے جو یہاں تک بھی پہنچے کہ عین بیداری میں حضرت محمدﷺ سے ملاقات کا شرف حاصل کرتے تھے اور آج بھی خدا کے فضل سے بہت سارے موجود ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنے الہامات اور سچی خوابیں دکھاتا ہے۔اور ہمارے پیارے خلیفہ کی تو بات ہی کچھ اور ہے کیونکہ ان کو تو خدا تعالیٰ نے خود پسند فرما کر مقرر فرمایا ہے۔
اے بھائیو!دیکھو كہ آپ لوگوں کو زمانہ حال كے اپنے علماء دین سے جو نمونہ ملا ہے وہ کیا ہے۔ کیا آپ کو واضح طور پر نظر نہیں آتا کہ ان كا تو حال ہے” بغل میں چھری اور منہ میں رام رام”۔ آپ سب لوگ آج ملاّں کے کردار پر گواہ ہیں۔ ساری دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی لوگوں میں بداعمالیاں پیدا ہوئیں یا انہوں نے اپنے وقت کے نبی کے لائے ہوئے دین میں بگاڑ پیدا کیا توسب سے پہلے اس جرم میں اس وقت کے علماء نے قدم ركھا۔ پھر آہستہ آہستہ باقی لوگ اورحکومتیں بھی عدالتیں بھی، گلیاں اور بازار بھی بگڑتے رہے۔ خدا ہمیشہ سے ہی رحیم و کریم ہے اس لئے وہ پھر سے لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنا ہادی بھیجتا رہاہے۔ خاکسار بھی ان لوگوں میں ایك عرصہ تك اسی طرح ٹھوکریں کھاتا رہا ۔ آخر خدا نے اپنی رحمت خاص سے دستگیری فرمائی اور حقیقت تک پہنچنے اور اسے قبول كرنے کی توفیق دی۔بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو بیچارے اپنے مولوی کی بے حیائی اور گندی حرکات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگر صرف اتنا رد عمل یا غصہ دكھاتے ہیں کہ پھر اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ یا اگر وہ لوگ سنی ہوں تو اہلحدیث مولوی کی طرف اوراگر اہل حدیث ہو ں تو سنی مولوی کی طرف رخ کرلیتے ہیں۔ میں اپنے گاؤں میں بھی ان لوگوں کی كرتوتوں سے واقف ہوں۔جب بعض سے پوچھا کہ کیا ہوا تو انہوں نے بتایا کہ مولوی کو ہم نے خود گندی حرکات کرتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اب اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا۔ اب تو جب میڈیا پر كسی ملاں کی کرتوتیں نشر ہوتی ہیں تو میڈیا والےاس كے بھی “استاد” کو آن لائن لے کر پوچھتے ہیں کہ جی یہ قاری صاحب نے کیا کیا؟كیا بات ہے كہ اس طرح کے بہت سے کیسز آجكل ہو رہے ہیں؟مولویوں اور قاریوں کو تو اس طرح نہیں کرنا چاہیے؟ جواب میں اس سے بڑا “استاد” کہتا ہے كہ جی دیکھیں مدرسوں میں جو مولوی ہوتے ہیں ان کی سندیں چیک کر کے ان کو رکھنا چاہیے۔
یہ جواب ہوتا ہے بڑے مولوی صاحب کا۔ لوگو! خدا كیلئے کچھ تو غور کرو۔ كیا پرہیزگاری اور تقویٰ سند سے ملتا ہے؟ یا كیا سند سے برائی دور ہو جاتی ہے؟!
پھر مزید حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جو اینکر سوال کرر ہا ہوتا ہے وہ بھی اس بڑے مولوی صاحب كو نہیں کہتا کہ مولوی صاحب نیکی کرنے یا بدی کرنے سےسند کا کیا تعلق ؟ بڑی بڑی سندیں رکھنے والوں نے تو سب سے زیادہ ظلم کئے ہیں۔ ان بڑے بڑے مفتیوں نے ہی تو اسلام کا چہرہ مسخ کر کے اسلام کو دہشت گردی کا نام دلوایا ہے۔ یہ سارے کے سارے سند یافتہ ہی تو ہیں جنہوں نے امت اسلامیہ کو 72 حصوں میں تقسیم كیا ہے۔ پھر سب کے سب نے ایک دوسرے كے خلاف تقریری اور تحریری طور پر کفر کے فتوے جاری کئے ہوئے ہیں۔جب اس پر بھی تسلی نہ ہوئی اور ان كی بے چینی بڑھتی رہی کہ ہمارا کام تو ہمیشہ سے فتنہ ڈالنا ہے اب ہم فارغ تو نہیں رہ سکتے تو سب نے مشورہ کیا کہ ہمارا آپس کا تكفیر كاکام تو ایسے چلتا ہی رہے گا،چلیں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک دفعہ اکٹھے ہو جائیں۔اس طرح انہوں نے جماعت احمدیہ کو ملکی قانون كے لحاظ سے دائرہ اسلام سے باہر کیا۔ پھر مزید قانونی پابندیاں لگوائیں اور یوں لطف لیتے رہے۔
دین اسلام سے ان ملاؤں كی محبت دیكھنی ہے تو ان کے پیروكاورں كی اکثریت کے گھروں کا حال دیکھیں تا آپ كو پتہ لگےكہ ان کی فیملیوں میں کتنے افراد ہیں جن کو نماز کا صرف ترجمہ ہی آتا ہو بلکہ نماز کے عربی الفاظ ہی آتے ہوں۔ خاکسار نے تو ان ملاؤں کو بڑا قریب سے دیکھا ہے۔ آج سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے تو باشعور لوگ ملاّں كے بارہ میں كہتے تھے کہ یہ فلاں خرابی کر رہا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنےكے بعد تو ان ملّاؤں میں سے چنگاریاں نکلنی شروع ہوئیں اور ان کی آگ بھڑک اٹھی پھر ان کی آگ نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور خاص کر پاکستان کو۔دیکھو قرآن کریم نے تو چودہ سو سال پہلے فرما دیا تھا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ اور ان ملّاؤں کی اصلاح وہ فتنہ اور فسادہے جس سے بچہ بچہ واقف ہے۔ لیکن خدا کا قانون بھی شروع سے یہی ہے کہ آدم کے ساتھ ہی شیطان کو بھی چھوڑ دیا تا کہ وہ بھی قیامت تک اپنا کام جاری رکھے اور خدا والے بھی مقابلہ کرتے چلے جائیں۔
ہمارے گاؤں میں چار پانچ مولوی تھے اور تین ان کی مسجدیں تھیں جو سب كی سب جامع مسجدیں تھیں یعنی ان میں نماز جمعہ كیلئے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوتے تھے۔ اب ان مولوی حضرات نےلوگوں کی اصلاح کے لئے جو محنت کی اس کا حال سنئے۔ ہمارے گاؤں کے ایک نمبر دار تھے ان کو قرآن کریم کی وہ دعا بھی نہیں آتی تھی جس میں والدین اور ذریت کے لئے بھی دعا ہے اور جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہے۔ لوگوں نے جب اس سے كہا كہ نمبردار جی “رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلاۃِ وَمِنْ ذُرَّیَّتِی۔۔۔۔” چھوٹی سی دعا ہے آپ اس کو یاد کر لیں۔ اس نے آگے سے جواب دیا كہ “رَبِّ اجْعَلْنِیْ صرف کمّیوں (چھوٹے لوگوں) کے لئے ہے(نعوذباللہ)۔ ہمارے لئے اس کو پڑھنا ضروری نہیں۔
امت کے علماء کہلانے والوں کی یہ محنت ہے اور اسلا م سے محبت ۔ لیکن جہاں پر کھانے پینے اور مال و متاع کی امید ہو وہاں جا کر اپنے سر اور منہ پر بڑے بڑے رومال ڈال کر اور جھوم جھوم کر بڑے ترنم سے کلام پڑھتے ہیں۔ اورجتنا بڑا کوئی امیر آدمی فوت ہو جائے اتنی زیادہ تعداد میں قل یا ساتویں یا چالیسویں كے موقعہ پر اس كے گھر اكٹھے ہوتے اور خو ب خوب جوہر دکھاتے ہیں۔
جون 2014ء کی بات ہے کہ میرے ایک دوست جٹھول صاحب جو پاكستان ہائی کورٹ کے وکیل ہیں پاکستان سے لندن وزٹ کے لئے تشریف لائے۔ان کے ساتھ ان کے چار اور دوست بھی تھے جو سب وکیل تھے۔ یہ سب غیر احمدی دوست خاکسار کے پاس مہمان ٹھہرے۔جٹھول صاحب کے ساتھ خاکسار کے اس وقت سے خاندانی تعلقات ہیں جب میں ابھی احمدی نہیں تھا اور ہم مل کر الیکشن وغیرہ لڑا كرتے تھے۔ ان کا گاؤں ہمارے گاؤں کے بالکل قریب ہے۔ جب خاکسار احمدی ہوا توجٹھول صاحب کے والد صاحب بھی کچھ عرصہ بعد احمدی ہوگئے۔ خاكسار كو احمدیت كی وجہ سے مخالفت کاسامنا بھی کرنا پڑا لیکن جٹھول صاحب اور ان کے باقی بھائیوں نے آج تک ہمارا ساتھ نہ چھوڑا اس لئے ہم ان کی دل و جان سے قدر کرتے ہیں۔
تقریباً آٹھ نو دن یہ پانچ مہمان ہمارے ہاں ٹھہرے۔میری چھوٹی بیٹی نے اپنا گھر خالی کر کے ان مہمانوں کو رہائش کے لئے پیش کیا ہوا تھا۔برخوردار عاصم شہزاد انہیں دن بھر لندن کی سیاحت كرواتا جبکہ برخوردار محمد عمران کے ذمہ ان كی ضیافت كی خدمت تھی۔ کبھی صبح اور کبھی رات کو ان كی واپسی پر چھوٹا بیٹا محمد احمد اور خاکسار ان كے ساتھ پاکستان کے ملاّؤں کے متعلق اور ان مہمانوں کے اپنے شعبہ یعنی عدالتوں اور وکلاء کے کردار اور پاکستان کے سیاستدان لیڈروں اور حکومتوں کے متعلق گفتگو کرتے۔ جب ہم سوال کرتے کہ کیا یہی اسلام ہے اور كیاہمارے پیارے آقا حضرت رسول مقبول ﷺکی یہی تعلیم ہے جس میں آپ لوگ زندگی گزار رہے ہیں؟ تو ان مہمانوں کا جواب نفی میں ہوتا۔ پھر ہم ان کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور كے متعلق پیشگوئیوں كا، اور آپ كی اپنی پیشگوئیوں كا اور پھر اس حقیقی اسلامی تعلیم كا جو ہم جماعت احمدیہ کو آپ علیہ السلام كے ذریعہ سے ملی اور پھر جماعت احمدیہ كے عملی نمونہ كا ذكر كرتے تو یہ مہمان بہت خوش ہوتے اور کہتے کہ ہمیں اسلام اور احمدیت یعنی اُس اسلام كے بارہ میں الف ب سے بتائیں جس پرہمارے سلف صالح عمل پیرا تھے کیونکہ ہمیں بالکل علم نہیں ہے کہ ہم کیا ہیں اور کیوں مسلمان ہیں ؟ ہم انہیں نظام خلافت، احمدیت حقیقی اسلام، خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حقیقی ایمان رکھتے ہوئے دعاؤں کی قبولیت اور خلافت احمدیہ کے سائے تلے خدمت اسلام كے كاموں وغیرہ كے بارہ میں جہاں تک ممکن ہوتا معلومات مہیا كرتے۔ ایک دن امام صاحب بیت الفتوح مکرم نسیم احمد باجوہ صاحب مربی سلسلہ سے بھی ان کی میٹنگ کروائی۔خاکسار اور میری ساری فیملی ان دنوں بہت خوش تھے کہ خدا نے ہمیں یہ موقع عطا فرمایا ہے کہ ان پانچ مہمانوں کی مہمان نوازی کے علاوہ ہم انہیں خدا کا پیغام بھی پہنچائیں۔
اب دیکھو کہ پاکستان میں دین اسلام کے ٹھیکیدار ملاّؤں کا کردار اور اسكی دین اسلام سے محبت کہ اس نے اپنے خیال میں کروڑوں احمدیوں کو تو دین اسلام سے باہر کر دیا اور جو مسلمان باقی بچے تھے ان پر اس نےایسی شفقت فرمائی كہ ان کو دین اسلام کی ایسی تعلیم دی كہ باسو پنوں گاؤں کے نمبردار کو” رب اجعلنی ” والی دعا بھی نہ پڑھائی تا کہ وہ قرآن کی ایک دعا ہی سیکھ لیتا۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان كی ہائی کورٹ کے وکیل بھی پکار پکار کرکہہ رہے ہیں کہ ہمیں دین اسلام بتائیں اور الف ب سے شروع کركے بتائیں۔
ایک بات یہ ہے کہ دین اسلام صرف اور صرف مدرسوں کے نام پر سکھایا جاتا ہے۔ اب یہ چالاکی بھی ان ملاّؤں کی کھل کر سامنے آچکی ہے۔ ہر روز میڈیا پر تذکرے ہوتے ہیں کہ یہ بات مکمل طور پر ثابت شدہ ہے کہ ان کے مدرسوں سے دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے اوران ملاّں کے مدرسوں کی یہ تعلیم آج پاکستان کے ہر حصے میں پھیل چکی ہے جس کے خلاف پاکستان کی آرمی اپنی جان قربان کرنے میں مصروف عمل ہے۔ باقی ملاّں جو اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں خدا ان کو بھی بے نقاب کر کے سامنے لانے پر قادر ہے۔ ملاّں نے یہ ساری “ترقی” 1974ء کے بعد کی ہے! اس سے پہلے یہ شیطانی رفتار آہستہ تھی۔ اب جب تك ساری پاکستانی قوم اور حکومتیں ان گانٹھوں كو جو انہوں اپنے ہاتھوں سے لگائی ہیں، اپنے دانتوں سے نہ کھولیں گے اور اپنے رب کریم سے رو رو کر معافی نہ مانگیں گے اور اس کے مسیح محمدیؑ پر ایمان لا کر توبہ نہ کریں گے تب تک اس قوم کی تقدیر بدلتی نظر نہیں آتی۔ اس راستہ كی خبر ہمارے موجودہ خلیفۃ المسیح نے اور دیگر سب خلفاء نےبھی اور ان سے پہلے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دنیا كی ساری قوموں کو خواہ وہ کسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں ،بارہا دی ہے اور دیتے جارہے ہیں اور احمدیوں كو ساری دنیا كیلئے دعاؤں کی بھی تحریک اكثرکرتے رہتے ہیں۔ لیکن خدا جانتا ہے کہ کس کے لئے ہدایت ہے اور کس کے لئے تباہی۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے كہ آخری زمانہ میں ایمان ثریا ستارے پر بھی چلا گیا تو مسیح موعود اورامام مہدی اسے واپس لے آئے گا ۔ ( یہ حدیث کا مفہوم ہے)
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہم نے وہ زمانہ بھی ان لوگ کے ساتھ رہ کر دیکھا ہےجب ہمارے لئے ایمان واقعی ثریا پر تھا۔کیونکہ ہمارا اللہ تعالیٰ پر زبانی ایمان تو تھا لیکن دل میں یقین نہیں تھا۔ اور جب دل میں یقین نہ ہو تو ظاہر ہے ایمان کی شرطوں پر بھی یقین نہیں رہتا۔ جب ارکان ِایمان کا یہ حال تھا تو پھر ارکانِ اسلام کیسے درست ہو سکتے تھے۔ شادی بیاہ اور خوشی کے دیگر مواقع پر گانے سہرے اورناچ ہوتے ، یا زیادہ سے زیادہ خانقاہوں پر دلہا ماتھا ٹیک لیتا۔ کسی کے مرنے پر اس کے رشتہ دار برادریوں کو دور دراز سے اکٹھا کر تے جو بڑے بڑے ٹولوں کی شکل میں آتے اورمیت کے گھر کے قریب پہنچتے تو چھاتیاں پیٹتے ہوئے گھر میں داخل ہوتے۔میزبان بھی آگے سے بال نوچتے ہوئے اوربین کرتے ہوئے ان کا استقبال کرتے جن میں اکثریت عورتوں کی ہوتی۔ پھر میت كو غسل دینا، کفن پہنانا اور جنازہ پڑھانا مولوی کے بغیر نہیں ہو سكتا تھا۔ دیر ہو یا اندھیر مولوی آئے گا تو یہ کام ہو گا۔ میت كے ورثاء مولوی کے رحم و کرم پر ہوتے تھے۔یہاں ایک لطیفہ یاد آگیا جو ان ملّاؤں كی حقیقت كھولتا ہے۔ كہتے ہیں کہ ایك مولوی سے کسی نے پوچھا کہ فلاں شخص مرگیا تھا كیا اس کا جنازہ پڑھانے گئے تھے؟ مولوی کہنے لگا کہ گیا تو تھا لیکن وہ مجھے دانے کم دیتا تھا اس لئے میں نے بھی وضو کے بغیر ہی اس کا جنازہ پڑھایا ہے۔ یہ لطیفہ بہت بڑےالمیے كی طرف اشارہ كرتا ہے۔غرض حقوق اللہ یا حقوق العبادکی پہچان كسی كو نہ تھی۔ بے چارے ماں باپ ضعیف العمری میں ذلیل و خوار ہو کر مرتے اور اولادیں دنیا کے کاموں میں مصروف رہتیں۔ جب مر جاتے تو پھر مولویوں کی فوج بلا کر چالیس دن تک ان کے پیٹ بھرتے رہتے جب تک کہ مولوی یہ نہ کہہ دیتے کہ اب میت كو جنت مل گئی ہے۔ اسی طرح بھائی بہن کا حق اور بھائی بھائی کا حق نوچ نوچ کر کھاتے اور بے دریغ ایک دوسرے کا قتل بھی کرتے تھے۔ مسجدوں اورمدرسوں كا سب حال تو خاکسار تحریر کرنے سے قاصر ہے۔ ویسے اب تو آئے روز میڈیا پر سب كچھ ساری دنیادیکھ رہی ہے۔
یہ ایک دو مثالیں اس اسلام کی ہیں جو دوسروں كے ساتھ خاکسار كا بھی تھا اور جسے ابھی تك ساری دنیا اسلام کا نام دینے پر مصر ہے۔ اس دنیا نے جس نے ابھی تک خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان احکامات كا انكار كیا ہوا ہے جو امام مہدی ؑ نے دوبارہ اصل شكل میں دنیا كے سامنے ركھے۔ خاکسار کو جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی تو اس کے بعد ہی حقیقی اسلام کی پہچان بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی سب الہامی کتابوں فرشتوں اور آخرت کے دن پر دل سے یقین پیدا ہوا اور ایمان ثریا سے اتر کر دل میں داخل ہوا۔ پھر شرک و بدعت والی سب رسومات جاتی رہیں اور ایک نئی روحانی زندگی ملی۔ ملّاں ہزاروں جھوٹے الزامات آج تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت پر لگاتے آئے ہیں اور لوگوں کی عقلوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن جو بھی ان کے جھانسے سے نکل کر اس حقیقی اسلام کی تعلیم کو غور سے دیکھنے کی توفیق پائے گا وہ پھر کبھی بھی ملاں كے اندھیروں والے اسلا م كی طرف نہیں لوٹ سکتا۔ سیدھی سی بات ہے کہ جس چیز کی جان پہچان ہی نہ ہو اس سے انسان نفع یا نقصان کی کوئی توقع ہی کیا رکھے گا۔ یعنی جتنی زیادہ اور گہری خدا اور اس کے احکامات کی واقفیت ہوگی اتنا ہی زیادہ اس سے امیدیں بھی وابستہ کی جائیں گی اور اتنا ہی زیادہ جزا سزا پر یقین بھی محکم ہو گا۔ خاکسار کو پہلے تو دعا یا خدا سے مانگنے کا کبھی کوئی تصور بھی نہ تھا كیونكہ جب دل میں یقین ہی نہ ہو تو دعا کیسی۔ ہاں مولوی جو رسم کے طور پر ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کے ساتھ آمین کرنا ہم لوگوں نے سیکھا تھا۔یا پھر اکثر دیہاتوں میں یہ دیکھا كہ كسی كے فوت ہونے پر تعزیت كیلئے لوگ بیٹھتے تو جب کوئی وہاں آتا یا واپس جانے لگتا تو کہتا كہ آؤ دعا کر لیں۔ اس وقت وہ لوگ حقہ بھی پی رہے ہوتے تھے۔ جس كی حقہ پینے كی باری ہوتی وہ ایك ہاتھ سے حقہ تھامے رکھتا اور دوسرا ہاتھ اوپر کو پھیلا کر دعا بھی کرتا جاتا تھا۔ دعاختم ہوتے ہی سب پھر حقہ كا دور شروع كردیتے تھے۔ یہی عمل بار بار ہوتا ہے اور اس دعا سے مرنے والے کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ وہ كیا ہی مبارك گھڑی تھی جب خدا نے مجھے ان لوگوں كے اسلام سے نجات پا كر حقیقی اسلام پانے کی توفیق دی۔
دعا کا ذکر چل رہا تھا اور یہ كہ جب خدا پر ایمان ہی نہ ہو تو پھر مانگنا کیسا۔ دعا کس سے کرنی ہے۔ نماز بھی رسم۔دعا بھی رسم۔ دین بھی رسم۔ اسلام بھی رسم۔ اور عملی نمونہ کچھ یہود کا اور كچھ ہنود کا اور كچھ نصاریٰ کا۔ رہا دین تو وہ مولوی جانے اور اس کا کام۔اس لئے وحی بھی بند، الہام بھی بند۔ خدا صرف نام کا۔ عملاً وہ نہ خالق رہا نہ مالک! اب قیامت تک یہ امت بے شک اسی طرح بھٹکتی رہے۔یہ ہے ملّاں كا اور اس كے پیچھے لگنے والوں كا اسلام۔ لیکن جماعت احمدیہ کے لئے تو خدا نے یہ سب نعمتیں جاری رکھی ہیں۔ عسر میں ، یسر میں انہیں دعاؤں پر ایمان دیا۔ ان كی دعائیں قبول كیں اور كرتا رہے گا۔انشاء اللہ

وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم
اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار
(درِثمین)
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ آمین۔

خاکسار چوہدری اللہ دتہ پنوں
موضع باسو پنوں ،تحصیل پسرور، ضلع سیالکوٹ، پاکستان
حال مقیم لندن یو کے ، موبائل نمبر 07424737659

اپنا تبصرہ بھیجیں