ملیریا – جدید تحقیق کی روشنی میں

ملیریا – جدید تحقیق کی روشنی میں
(اطہر ملک)

٭ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جنیاتی ثبوت موجود ہیں جن کے مطابق انسانوں میں مچھروں کے ذریعے پھیلنے والے ملیریا کے جراثیم بندروں سے آئے ہیں۔ خون کے ایک نمونے کے تجزیئے کے دوران امریکہ کی ایک ٹیم نے دریافت کیا کہ تمام دنیا میں انسانی ملیریز کے جرثومے فالسی پرم کی اصل جڑ بندروں میں پائے جانے والے ملیریا کا ایک جرثومہ ہے۔ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں ہونے والی ایک گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ یقینا یہ انواع 10 ہزار سال قبل اس وقت منتقل ہوئیں جب انسان نے زراعت کی طرف رخ کیا۔ انسانوں کے قدرتی جنگلات کو کاٹنے کی وجہ سے بندر اپنے گھروں سے محروم ہگئے اور دونوں انواع کو ایک دوسرے کے نزدیک آنے کا موقع ملا۔ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے جوہڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جسکی وجہ سے مچھروں کی افزائش کیلئے ایک سازگار ماحول پیدا ہوا۔
٭ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تیس کروڑ لوگ ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے نوّے فیصد کا تعلق افریقہ سے ہے۔ اندازے کے مطابق افریقہ میں ہر تیس سیکنڈ کے بعد ملیریا کی وجہ سے ایک بچے کی موت واقع ہوتی ہے۔ چنانچہ افریقہ میں ملیریا سے بچاؤ کے لئے مختلف اقدامات کئے جاتے رہے ہیں۔ اور کانگو میں جہاں بچوں کی پچیس فیصد تعداد ملیریا سے متأثرہ ہے، اس وقت تین لاکھ مچھردانیوں کی تقسیم جاری ہے جو ملک کی دس فیصد آبادی کے لئے کافی ہوں گی۔ یہ مچھردانیاں جاپان نے عطیے کے طور پر دی ہیں۔ جلد ہی مزید دو لاکھ مچھردانیاں بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کے مطابق کانگو کی ہر حاملہ عورت اور پانچ سال سے کم عمر بچے کو مچھردانی مہیا کی جائے گی۔
ایک دوسری خبر کے مطابق مچھلی سے ملیریا سے بچاؤ کے ذرائع تلاش کئے جارہے ہیں۔ چنانچہ ’’نیل تیلاپیا‘‘ نامی ایک مچھلی جو کینیا میں بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔ اور 1917ء میں یہ علم ہوچکا تھا کہ اس مچھلی کی غذا مچھر ہیں لیکن اب باقاعدہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملیریا سے بچاؤ کے لئے مچھروں کی تعداد پر قابو پانے کی خاطر اس مچھلی کی تیزی سے افزائش کی جائے گی۔ حشرات الارض کے تحقیقاتی ادارے ’’انٹرنیشنل سینٹر آف اِنسیکٹ فزیالوجی اینڈ ایکالوجی ‘‘ کے ماہرین نے تجرباتی طور پر کینیا کے مغربی علاقوں کے جوہڑوں میں اس مچھلی کو چھوڑ کر کچھ عرصے کے لئے مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس مچھلی نے مچھروں کے لاروے کو اس تعداد میں کھالیا جس کے نتیجے میں ملیریا پھیلانے والی مچھروں کی دو خطرناک اقسام میں 94فیصد کمی واقع ہوگئی۔ ادارۂ صحت کے مطابق مچھروں کی افزائش پر قابو پانے کے لئے مچھلیاں استعمال کرنے کی ترکیب اُن مچھروں کے خلاف خاص طور کارگر ثابت ہوسکتی ہے جن پر کیڑے مار ادویات اثر نہیں کرتیں۔
٭ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2005ء میں منتقل ہونے والی بیماریوں میں ملیریا کا شمار سرفہرست رہا تھا جبکہ امسال بھی دنیا میں تیس سے پچاس کروڑ افراد اس بیماری سے متأثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملیریا گرم مرطوب علاقوں کا مرض سمجھا جاتا ہے اور کم مدافعت رکھنے والے، کیموتھراپی کرنے والے ایڈز کے مریض اور ایسے افراد جن کی تلّی نکال دی گئی ہو اس بیماری کا آسان شکار ہوتے ہیں۔ ملیریا کی اقسام میں دماغی ملیریا زیادہ خطرناک ہوتا ہے جس کا شکار ہونے والے پہلے غنودگی اور اس کے بعد بیہوشی کا شکار ہوجاتے ہیں اور درست علاج نہ ہو تو ایک دو دن میں موت واقع ہوسکتی ہے۔
٭ لندن اسکول میں ایک تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ڈیوڈ بیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ ملیریا کے جرثومے پر کنٹرول اور اس کے مکمل خاتمے کے لئے نیا طریقہ دریافت کرلیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ملیریا پھیلانے والے مخصوص قسم کے مچھروں کو انڈوں میں ہی ہلاک کردیا جائے گا تاکہ اِن مخصوص قسم کے مچھروں کی افزائش ختم کردی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک مچھر انسان کو کاٹتا ہے تو انسانی خون سے ایک تولیدی خلیہ حاصل کرتا ہے جو مچھر کے خون میں پرورش پاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مچھر جب دوبارہ کسی انسان کو کاٹے تو وہ خلیہ اُس انسان کے خون میں داخل ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ خلیہ اُس شخص کو ملیریا میں مبتلا نہیں کرسکتا لیکن یہ اُس فرد کے جگر میں داخل ہوکر ملیریا کے جراثیم کو قبول کرنے کا رجحان پیدا کردیتا ہے جس کے بعد اُس شخص کو کبھی بھی مچھر کاٹ لے تو وہ ملیریا کا شکار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اگر ایسی کوئی دوا تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی جائے جو انسانی جسم میں ملیریا کے جراثیم کو قبول کرنے کا رجحان ختم کردے تو اس کے نتیجے میں بھی مچھروں کے کاٹنے سے ملیریا کے پھیلنے کا عمل ٹوٹ جائے گا۔
٭ آسٹریلوی ماہرین نے کہا ہے کہ ملیریا کے مریض کے مدافعتی نظام میں پروٹینز کا جو گروپ پیدا ہوتا ہے، اُس سے ملیریا کی ایک ویکسین تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ پروٹینز کے اسی گروپ کی وجہ سے بالآخر انسانوں میں ملیریا کے خلاف قوّت مدافعت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ ملبورن کے والٹر اینڈ ایلزاہال انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر جیمز بی سن کا کہنا ہے کہ مریض کے جسم میں پیدا ہونے والی پروٹینز سے ہی ملیریا کی ویکسین تیار کرنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔ یہ ویکسین ملیریا میں مبتلا ہونے والے مریضوں میں مدافعتی نظام کو مزید فعال کرنے میں مدد دے گی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس ویکسین کی تیاری میں کم از کم دس سال کا عرصہ درکار ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/BKQKR]

اپنا تبصرہ بھیجیں