تعارف کتاب: ’’شمعِ فروزاں‘‘

تعارف کتاب
(از قلم: فرخ سلطان محمود)

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین مئی جون 2015ء)

ضلع گورداسپور کے قصبہ ببّے ہالی میں حضرت حکیم اللہ بخش صاحبؓ مد رّ س ایک معروف متدیّن عالم اور حاذق طبیب تھے جو گردونواح میں بھی بہت عزّ ت و احترام سے دیکھے جا تے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ سے قبل ہی حضورؑ کی تحریرات کے مطالعہ کے نتیجہ میں حضورؑ کے علم و فضل، زہد و تقویٰ اور روحانیت سے متأثر ہو چکے تھے۔ آپؓ نے حضرتِ اقدس کی زیارت کا شرف حاصل کیا اور 1905ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ قصبہ میں آپؓ کی سخت مخالفت ہوئی جس میں پیش پیش وہاں کی مسجد کے پیش امام مولوی رحیم بخش صاحب تھے جو آخردَم تک احمد یت کے سخت مخا لف اور ہدایت سے محروم رہے۔ لیکن ان کے دو بیٹے محترم منشی سبحا ن علی صاحب (پیدائش 1903ء) اور محتر م منشی رمضا ن علی صا حب (پیدائش 1904ء) کو 1923ء میں قبول احمدیت کی توفیق عطا ہوئی۔ اس سعادت کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ ان بھائیوں کی بہن محترمہ زینب بی بی صاحبہ کی شادی محترم میاں چراغدین صاحب آف سیکھواں سے ہوئی تھی جو بعد میں احمدی ہوکر قادیان آبسے اور وہاں ایک ہوٹل کھول لیا۔ 1923ء میں ایک دن محترم منشی سبحان علی صاحب اپنی ہمشیرہ سے ملنے قادیان گئے تو اُس دن وہاں مخالفین کا بہت بڑا جلسہ ہورہا تھا۔ آپ بھی جلسہ میں چلے گئے۔ غالباً کسی ببّے ہالی سے آئے ہوئے شخص نے آپ کو قادیان میں دیکھ کر ببّے ہالی پیغام بھجوادیا کہ سبحان علی تو قادیانی ہوگیا ہے ۔ اس خبر سے سبھی سیخ پا ہوگئے اور آپ کے بھائی محترم منشی رمضان علی صاحب غصّہ میں اپنے بھائی کی خبر لینے اُسی وقت قادیان روانہ ہوگئے۔ بہن کے ہاں پہنچے اور بھائی سے کہا: سنا ہے تم قادیانی ہوگئے ہو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، اور غیراحمدی علماء کی جلسہ میں دھواں دار تقاریر کا حال بتایا۔ اور یہ بھی بتایا کہ رات کو احمدیوں کا بھی جلسہ ہورہا ہے۔ چنانچہ دونوں بھائی رات کو احمدیوں کے جلسہ میں بھی شامل ہوئے جس میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے خطاب فرمایا اور مخالف علماء کی تقاریر میں اٹھائے گئے سوالات کے قرآن اور حدیث کی روشنی میں کافی و شافی دلائل کے ساتھ اطمینان بخش جواب دئے۔ جلسہ کے بعد ان دونوں بھائیوں سمیت 36 سامعین نے حضورؓکے ہاتھ پر بیعت کرلی۔
اگلے روز دونوں بھائی وا پس ببیّ ہا لی آگئے۔ گھر میں پتہ چل گیا کہ دو نو ں بیٹے قا د یا نی ہو گئے ہیں تو ایک کہرا م مچ گیا۔ شدید ڈانٹ ڈپٹ ہوئی۔ دونوں کے سسرال والوں کو بھی خبر ہوئی تو وہ آکر اپنی بیٹیوں کو اپنے گھر لے گئے اور کہا کہ جب تک لڑکے قادیانیت سے تا ئب نہیں ہو جاتے ہم لڑکیوں کو واپس نہیں بھیجیں گے۔ پھر دونوں بھائی ہجرت کرکے قادیان آگئے۔ پھر بہنوئی کی کوششوں سے دونوں بھائیوں کی بیویاں اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف اپنے خاوندوں کے پاس قادیان آگئیں۔
بعد میں محترم منشی سبحان علی صاحب نے کچھ عرصہ کے لئے ملتا ن میں بطور مدرّس کام کیا۔ وہیں ایک بیٹے (محترم عبدالسلام ظافر صاحب) کی پید ا ئش 27 جون 1929ء کو ہوئی۔ بیٹا ابھی چھ ماہ کا تھا کہ محترم منشی صاحب کی اہلیہ محترمہ کا انتقا ل ہوگیا اور بچہ کی پرورش اُس کے چچا محترم منشی رمضان علی صاحب اور اُن کی اہلیہ محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ نے کی جن کی اُس وقت اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ بعد میں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ وہ قادیان کے دفاتر میں ہی ملازم تھے۔ پھر منشی سبحان علی صاحب نے بھی خوشنویسی کا فن سیکھ کر اخبار الفضل میں بطور کاتب خدمت شروع کردی۔ اُن کی دوسری شادی محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ سے ہوئی جن سے چار بیٹیاں اور تین بیٹے پیدا ہوئے۔ 1943ء میں منشی صاحب کا تقرّر بشیرآباد اسٹیٹ سندھ میں زمینوں کی نگرانی اور حساب کتاب رکھنے کے لئے ہوا۔ وہاں چند ماہ بعد ان کی اہلیہ صرف 29 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ وہیں تدفین ہوئی اور بوجہ موصیہ ہونے کے کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگادیا گیا۔ پھر منشی صاحب اپنے بچوں کے ہمراہ دوبارہ قادیان آبسے۔
محترم میاں سبحان علی صاحب کی وفات 13 ا پر یل 1958ء کو بعمر 54سال ربوہ میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔ انہوں نے قریباً ایک سال سینے کے کینسر کی وجہ سے شدید تکلیف بڑے حوصلہ سے برداشت کی اور کبھی کوئی لفظ ناامیدی کا زبان سے نہیں نکالا۔ بچوں کی تربیت پر خا ص تو جّہ دیتے۔ طبیعت میں سادگی اورمتانت تھی۔ کم گو تھے۔ الفضل میں کتابت کے علاوہ پروف ریڈر کی ذمہ داری بھی ادا کرتے رہے۔ نہایت مخلص متّقی اور پرہیزگار انسا ن تھے۔ 1953ء کے فسادات میں الفضل اخبار پر پابندی لگ گئی تو اخبار کا عملہ کراچی کے رسالہ ’المصلح‘ میں منتقل کردیا گیا۔ وہاں ایک دوست نے (جو والی بال کے قومی کھلاڑی تھے) ان کو لاہور جانے کے لئے ریلوے ٹکٹ دیا اور بتایا کہ وہ ہر سال والی بال کے کھلاڑیوں کے لئے دو تین ٹکٹ مفت لے سکتے ہیں۔ آپ نے ٹکٹ لینے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ مَیں کھلاڑی نہیں ہوں اور ٹکٹ کا حقدا ر نہیں ہوں۔
محترم عبدالسلام ظافر صاحب کو پرائمری پاس کرنے کے بعد 1942ء میں مدرسہ احمدیہ میں داخل کروادیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور اور چنیوٹ سے ہوتا ہوا یہ ادارہ احمدنگر میں آگیا ۔ جون 1948ء میں چند ماہ کے لئے ظافرؔ صاحب نے فرقان فورس میں خدمت سرانجام دی اور پھر دوبارہ احمدنگر جا معہ میں آگئے لیکن مولوی فاضل کے امتحان میں کامیابی نہ ہوئی تو اپنے والد محترم کے پاس لاہور آکر یونیورسٹی اورینٹل کالج میں دا خل ہوگئے۔ یہاں مولوی فاضل کے امتحان میں کالج میں دوسری اور یونیورسٹی میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ پھر ضلع منٹگمری (ساہیوال) کے سکولوں میں تدریس شروع کردی۔ اور دورانِ ملازمت ہی پرائیویٹ طور پر میٹرک اور F.A. کرلیا۔ شارٹ ہینڈ اور ٹائپنگ بھی سیکھ لی۔ ساہیوال کے قائد ضلع بھی رہے۔
1960ء میں آپ کی شادی محترمہ امۃالحمید صا حبہ بنت محترم میاں عبدالرحیم صاحب درو یش قاد یا ن کے ساتھ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔
ظافر صاحب کچھ عرصہ اوکاڑہ رہ کر پھر لاہور منتقل ہوگئے اور 1964ء میں B.A. کرکے سٹینوٹائپسٹ ملازم ہوگئے۔ پھر 1967ء میں M.A.(عربی) کرنے کے علاوہ M.O.L. (ماسٹر آف اورینٹل لر ننگ) کا ایوار ڈ بھی حا صل کیا۔ 1971ء میں احمدیہ سکول جوروؔ(سیرالیون) میں استاد مقرر ہوئے۔ سیرالیون میں اپنے پچیس سالہ قیام کے دوران آپ کو مختلف سکولوں میں گرانقدر خدمات کی توفیق ملی۔ فری ٹاؤن میں تین مسا جد کی تعمیر کی نگرانی کا بھی موقع ملا۔ 1995ء میں پاکستان آئے اور دو سال وکالت تبشیر میں متعین رہے۔ پھر نصرت جہاں اکیڈمی کے گرلز سیکشن میں طالبات کو پڑھایا۔ 2004ء میں آپ لندن آگئے اور ایک سال وقف عارضی کی توفیق پائی۔ جب جامعہ احمدیہ یوکے کا اجراء ہوا تو اس کے سٹاف میں آپ شامل ہوگئے اور بعد ازاں پرنسپل مقرر ہوئے۔ جلسہ سالانہ سیرالیون 2005ء میں خلیفۂ وقت کے نمائندگی کی توفیق ملی۔ عمرہ اور حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی۔ آپ کی کتاب ’’شمعِ فروزاں‘‘ ایک خودنوشت سوانح حیات (Auto Biography) کے علاوہ مجموعۂ کلام بھی ہے۔ رنگین خوبصورت سرورق اور اندرونی صفحات میں متعدد تصاویر کے ساتھ سوا دوصد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مصنّف نے اپنے خاندان اور ذاتی زندگی کے مختلف پہلو دلچسپ انداز میں پیش کئے ہیں نیز اپنی ستّر سے زائد منتخب نظموں کو اُن کے پس منظر کے ساتھ شامل کیا ہے۔ تحریر کا اندازِ بیان سادہ مگر پُرلطف ہے۔ واقعات قاری کے دل میں بھی ایمانی حرارت کی شمع روشن کردیتے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کی زندگی کی ابتداء نہایت دشوار حالات میں ہوئی اور اس کی عملی زندگی کا آغاز بھی یوں ہؤا کہ منزل کی طرف بڑھنے والا ہر قدم محنت شاقہ، عزم صمیم اور توکّل کی حلاوت سے عبارت ہے۔
مکرم ظافرؔ صاحب نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کو کسی تصنّع یا ملمّع کاری کے بغیر، اس انداز سے بیان کیا ہے کہ قاری بھی کئی پہلوؤں سے استفادہ کرسکتا ہے۔
آپ کے منظوم کلام نے آغاز سے ہی سخنوروں سے داد سمیٹی۔ حضور انور ایدہ اللہ نے ایک موقع پر آپ کو بڑا شاعر قرار دیا۔ آپ کے کلام میں سلاست، سادگی اور روانی نمایاں ہے۔ یہ دراصل بے ساختگی سے جذبات کا اظہار ہے اور اسی لئے تصنّع اور بناوٹ عنقا نظر آتی ہے۔ نمونۂ کلام ملاحظہ ہو:

حمد ساری اُسی کو زیبا ہے
جو ہے پروردگار سب جہانوں کا
وہی بِن مانگے سب کو دیتا ہے
وہی داتا ہے بے زبانوں کا
وہی روزِ حساب کا مالک
وہی حاکم ہے حکمرانوں کا
ایسی روشن صفات کے مالک
تُو ہی ملجا ہے ناتوانوں کا
…………………
داہنے ہاتھ میں اک آتشیں نامہ لے کر
وہی فاران کی چوٹی سے نمودار ہؤا
خود خدا واحد و قہّار ہؤا اس کی زباں
جب کہیں بھی وہ کبھی مائلِ گفتار ہؤا
رحمتیں اے شۂ لولاک ہزاروں تم پر
تیرے دَم ہی سے تو رنگین یہ گلزار ہؤا
…………………
اے مسیح قادیاں اے مہدیٔ آخر زماں
اے کہ جس کے نور سے حیران ہیں تاریکیاں
تیری تائیدوں میں تھے ارض و سما صبح و مسا
اے کہ جس کا ہر بیاں ہر قول تھا معجز نما
اے کہ جو اخلاق میں آقا کی اِک تصویر تھا
دشمنانِ دینِ احمدؐ کے لئے شمشیر تھا
تجھ پہ ہو رحمت خدا کی اے مرے ماہِ تمام
تجھ پہ ہوں لاکھوں سلام اے خادمِ خیر الانام
…………………
غلامِ احمدِ مختار کا لختِ جگر تُو ہے
کلیدِ کامرانی مثردۂِ فتح و ظفر تُو ہے
وہ جس کی دید کو آنکھیں ترستی تھیں زمانے کی
ہوئیں تاریکیاں کافور جس سے وہ قمر تُو ہے
وہ تو ہے جس کے دم سے کفر کی دنیا میں لرزہ ہے
خس و خاشاکِ باطل کے لئے برق و شرر تُو ہے
وہ جس کے فیض سے اقوامِ عالم برکتیں پائیں
مرے آقا ، مرے محمودؔ وہ عالی گُہر تُو ہے
…………………
کفرگڑھ میں بھی یہ ایمان ہے درویشوں کا
ربِّ کعبہ ہی نگہبان ہے درویشوں کا
اپنے مولا سے ہے کیا رشتۂِ الفت ان کا
وہ ہیں رحمان کے رحمان ہے درویشوں کا
اپنے مو لا کی ہی توحید کے گُن گا تے ہیں
سر اسی راہ میں قربان ہے درویشوں کا
…………………
فضا خموش گھٹا بھی ہے جھومتی آتی
ہے آرزو یہی ایسے میں یار آ جائے
کبھی تو قلبِ حزیں میں سکون ہو پیدا
خزاں رسیدہ چمن میں بہار آ جائے
پلا دے لا کے اے ساقی کہیں سے مَے ایسی
کہ جام ہاتھ میں دیکھوں خمار آ جائے
…………………
ہمّت تری بلند میرے نوجواں رہے
ایسا نہ ہو کہ ناؤ تیری درمیاں رہے
ہو اس طرح سے زینۂ رفعت پہ گامزن
پیروں تلے زمیں نہ رہے آسماں رہے
اب تک تو غفلتوں میں ہی سوئے رہے فضول
اور سعئیِ ناتمام پہ ہی شادماں رہے
…………………
ان کی دیرینہ وفاؤں کو نہ جانے کیا ہؤا
مسکراتی سی اداؤں کو نہ جانے کیا ہؤا
وہ تو بدلے ہی تھے ظافر یہ سمجھ آتی نہیں
اب زمانے کی ہواؤں کو نہ جانے کیا ہؤا
…………………
مفلسی میں گیا وقار مرا
کون سنتا ہے حالِ زار مرا
آہ افلاس نے کیا رُسوا
ورنہ بندوں میں تھا شمار مرا
…………………
آن ہی پہنچی جو ہاتف سے ندائے الرّحیل
چل دئے فی الفور جانِ جاں سوئے جانانِ جاں
اک اداسی چھاگئی ہر سُو در و دیوار پر
بزمِ ہستی کا ہر اک ذرّہ ہؤا ماتم کناں
کون بھولے گا بھلا چھبّیس کی گھمبیر رات
کُوکھ سے جس کی ہوئی ہے قدرتِ ثانی عیاں
رحمتیں چھائیں غم و اندوہ کے بادل چھٹے
گلشنِ احمد میں آئی پھر بہارِ جاوداں
…………………
بیٹھے تھے جس کی دید کا ارماں لئے ہوئے
آنکھوں میں انتظار کی جھڑیاں لئے ہوئے
نکلا حِرا سے ہاتھ میں قرآں لئے ہوئے
تسکینِ دو جہان کا ساماں لئے ہوئے
قرآں خدا کے فضل کی باراں لئے ہوئے
اک لازوال چشمۂ عرفاں لئے ہوئے
…………………
شکرِ خدا نصیب ہے صد سالہ جوبلی
آقا مرے قبول ہو تبریک صد ہزار
بہرِ دعا جو آپ نے اپنے اٹھائے ہاتھ
ہر دل تھا درد مند اور ہر آنکھ اشکبار
کس باخُدا کی جلوہ فروزی ہوئی ہے آج
ہر سانس عِطر بِیز ہے ہر دم ہے خوشگوار
…………………
خلافت ہی سے ہے دینِ متیں کو تمکنت حاصل
سدا تائید و نصرت کے نظارے ہم نے دیکھے ہیں
رہیں گے بے خطر بڑھتے تلاطم خیز لہروں میں
کہ طوفانی بھنور میں ہی کنارے ہم نے دیکھے ہیں
عجب کیا ہے جو ابدالِ عرب امڈے چلے آئیں
کہ دستِ غیب کے خفیہ اشارے ہم نے دیکھے ہیں
…………………
لا جرم شاہد ہیں دارالذکر کے دیوار و در
کر گئے وعدہ وفا ، پیکر وفا کے ، وقت پر
خوں شہیدوں کا کبھی بھی رائیگاں جاتا نہیں
اُس کے ہر قطرے سے پھوٹیں گے کئی مثمِر شجر
جس سے تھا عہدِ وفا باندھا بلیٰ کہتے ہوئے
ہاں وہی ربِّ الستُ و خالقِ شمس و قمر
…………………
گر مرد ہیں قوّام قواریر ہیں نسواں
مت بھولیو سرکارِ دو عالم کا یہ فرماں
ہر خم ہی لگے اُن کا خمِ گیسوئے خمدار
لا ریب کجی میں بھی ہے اِک حسن کا ساماں
…………………
زندگی بخش ہیں لمحے تری رفاقت کے
برسرِعام ہیں چرچے تری شرافت کے
چارہ سازوں نے لا علاج کہا
کر دئے فیصلے تری علالت کے
غیب سے آئی لا تقنطوا کی صدا
ہوئے آثار ہویدا تری شفاعت کے
اپنے فضلوں سے زندگی دے دی
صدقے جاؤں میں اس عنایت کے
…………………
اب خیال آتا ہے کیوں عمر گنوا دی یونہی
کچھ تو اس عمر میں اپنا بھی سنوارا ہوتا
مجھ کو افسوس نہ انجام کا ہوتا ظافرؔ
وقت گر یادِ الٰہی میں گزارا ہوتا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں