صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب — نظم
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 12؍جنوری2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اکتوبر2014ء میں محترم محمد افضل خان ترکی صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے جو محترم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب کی وفات پر کہی گئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

تھا بادلوں میں شور بہت الامان کا
جس دن تھا سرخ سرخ سا رنگ آسمان کا
تاریکیاں کچھ کم نہ تھیں میرے نصیب کی
اِک اَور تارا بجھ گیا میرے جہان کا
غم اس قدر ہوا کہ مرے ہوش اُڑ گئے
وہ تھے اُجالا محفلِ ہستی کی جان کا
مرزا حنیف تھے مرے دل کے بہت قریب
وہ حوصلہ تھے ، شان تھے میری اُڑان کا
فرزند ارجمند تھے مصلح موعودؓ کے
اِک گوہر کمال ، محبت کی کان کا
ترکیؔ کہاں سے وجہِ سکون لاؤں ڈھونڈ کر
اُن کی جدائی کھا گئی آرام جان کا

نظم بہت اچھی ہے۔ جب ایک دفعہ یہ طاہر ہارٹ میں ایڈمٹ تھے تو انہوں نے رات کو نیند لانے کا ایک نسخہ بتایا تھا جو بہت کارگر تھا۔