محترم خان بہادر سیّد محی الدین احمد صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ جون 2026ء)

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان 2 جنوری2014ء میں محترم الحاج خان بہادر سیّد محی الدین احمد صاحب (عرف بنّو بابو ایڈووکیٹ رانچی) کا مختصر ذکرخیر اُن کے بیٹے مکرم سیّد فرقان احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم خان بہادر صاحب کا شمار ہزاروں کیس جیتنے کی وجہ سے بھارت کے چوٹی کے وکلاء میں ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کشمیر کے وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ نے اپنی قانونی لڑائی کے لیے بھارت اور لندن کےوکلاء کی فہرست میں آپ کا نام سرفہرست رکھا ہوا تھا اور اپنے کیس کی دفاعی کونسل کا چیف بنایا ہوا تھا۔
محترم خان بہادر صاحب ایک خوبصورت اور پُروقار شخصیت کے مالک تھے۔ غریب پرور، یتیموں کے سرپرست، متقی اور علمی شخصیت تھے۔ وکالت کے ساتھ ساتھ لکھنے کا بھی شوق تھا۔ 1935ء میں اپنی کوٹھی ’’آشیانہ‘‘ سے The Sentinel کے نام سے ایک انگریزی اخبار شروع کیا۔ آپ کی وسیع و عریض کوٹھی اُس زمانہ میں گویا سیاحوں کا مرکز سمجھی جاتی تھی۔ سرکاری افسران اور جج و وکلاء مختلف مشوروں کے لیے وہاں آنا اپنی عزت افزائی سمجھتے تھے۔ کسی بھی خط پر اگر ’’بنوبابو۔ بہار‘‘ لکھ دیا جاتا تو وہ خط آپ کے گھر تک پہنچ جاتا۔ آپ کا ایک فارم ہاؤس ’’سملیہ‘‘ بھی تھا جس میں ایک بنگلہ، مسجد، گوال گھر، پولٹری فارم، امرود کا باغ وغیرہ موجود تھے۔ پن چکّی کے ذریعے وہاں بجلی پیدا کی جاتی تھی۔ اس علاقے کے لوگ آپ کے وہاں آنے کا انتظار کیا کرتے، آپ مشورہ اور مدد ہر ایک کو مہیا فرماتے۔ وہاں کے جو لوگ ملازمت کے لیے رانچی شہر کا رُخ کرتے تو کام ملنے تک آپ کی کوٹھی میں مقیم رہتے۔ تینوں وقت پچاس سے زائد افراد کا کھانا پکتا۔ خدمت گزاروں کی ایک بڑی تعداد ہمہ وقت مہمانوں کی خدمت کے لیے موجود رہتی۔
آپ ایک عابد و زاہد شخص تھے۔ پچاس سال میں کبھی بلاوجہ تلاوت قرآن کریم میں ناغہ کرتے نہیں دیکھا۔ مقدمات کے لیے سفر بھی درپیش رہتا لیکن نماز کی پابندی ہمیشہ قائم رہتی۔ جہاں نماز کا وقت ہوتا تو گاڑی رکوادیتے اور وضو کرکے اُسی اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے جیسے گھر پر ہوں۔ ہم نے ان کی زندگی میں بہت سے معجزات دیکھے۔ ایک بار دو موکل گھر پہنچے اور اگلے دن اُن کے مقدمے کی تاریخ پر جانے کے لیے اصرار کرنے لگے۔ ایک کے بیٹے کو سزائے موت کا سامنا تھا تو دوسرے کے بھائی کی عمرقید کا معاملہ تھا۔ ظاہر ہے کہ آپ جسمانی طور پر صرف ایک جگہ ہی جاسکتے تھے۔ دونوں اصرار کے ساتھ باقاعدہ رونے لگے اور منّت سماجت کے ساتھ درخواست کرتے رہے۔ اس پر آپ دلگیر ہوکر اپنے چیمبر سے اُٹھے اور پیچھے اپنے کمرے میں جاکر جائے نماز بچھائی اور سجدے میں چلے گئے۔ کتنی ہی دیر یونہی گزر گئی کہ اچانک ایک موکل کے گھر سے فون آیا کہ جج بیمار ہوگیا ہے اس لیے کل آنے کی ضرورت نہیں۔ ایسے کئی واقعات ہم نے مشاہدہ کیے جب خداتعالیٰ نے آپ کی دعائیں قبول فرماکر کسی خاص معاملے میں فوری آسانی پیدا فرمادی۔
1947ء میں کسٹوڈین نے جماعت احمدیہ بھارت کی ساری جائیداد کو Evacuee Property ڈیکلیئر کردیا تھا۔ اس کیس کو لڑنے کے لیے ہندوستان کے تین بڑے وکلاء کے نام حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں پیش کیے گئے تو حضورؓ نے آپ کے نام کا انتخاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے حضورؓ کے اس فیصلے کی خبر بذریعہ خواب آپ کو دے دی۔ چنانچہ اگلے روز جب قادیان سے محترم عبدالحمید عاجز صاحب اچانک رانچی میں آپ کے چیمبر میں پہنچے تو آپ نے اُن کے کچھ کہنے سے پہلے کہا کہ مَیں حضور کی بھیجی ہوئی فائل کا انتظار کررہا ہوں۔ بہرحال آپ کسٹوڈین جنرل کے ذریعے یہ معاملہ ہوم منسٹری تک لے گئے جہاں سے یہ پنڈت جواہر لال نہرو تک پہنچا۔ نہرو صاحب نے آپ کو چائے کی دعوت دی۔ آپ نے یہ دعوت قبول کرنے سے قبل اُن سے انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے کا وعدہ لیا۔ الحمدللہ کہ فیصلہ جماعت کے حق میں ہوا۔
آپ کی شخصیت روحانیت اور خدمت خلق کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے بارہا غریب موکلوں سے فیس نہیں لی۔ دوسری طرف بہار کے چیف منسٹر کرپوری ٹھاکر صاحب بھی آتے تو اُنہیں بھی آپ کی نماز کے ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑتا۔
28 نومبر1974ء کو آپ نے وفات پائی۔ آپ کو اپنے خاندان کا پہلا احمدی ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں