آنحضورﷺ کا مصائب میں صبر

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن 2026ء)

صبر و استقامت کے حوالے آنحضورﷺ کی سیرت روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍جنوری2014ء میں مکرم نصیراحمد شریف صاحب کے قلم سے پیش کی گئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی قبر پر رو رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ آپؐ کو پہچانتی نہ تھی اس لیے کہنے لگی کہ آپ کو میری مصیبت کی کیا پرواہ۔ حضورؐ جب چلے گئے تو اُس عورت کو بتایا گیا کہ یہ رسول اللہﷺ تھے (جن کے کئی بچے وفات پاچکے ہیں)۔ اس پر وہ پریشانی میں آپؐ کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ آپؐ کو پہچان نہ پائی تھی۔ آپؐ نے فرمایاکہ صبر تو وہی ہے جو صدمے کی ابتداء میں ہو۔
فقروفاقہ بہت بڑا ابتلا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے فقروفاقہ لوگوں کے سامنے بیان کیا تو اُس کا فقروفاقہ دُور نہ ہوگا اور جس نے اسے اللہ تعالیٰ کے آگے ہی بیان کیا تو جلد یا بدیر اللہ تعالیٰ اُسے رزق عطا فرمادے گا۔
آنحضورﷺ نے فرمایا کہ مجھے خدا کی راہ میں اتنا ڈرایا گیا کہ کسی اَور کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور مجھے خدا کی راہ میں اتنی اذیتیں دی گئیں کہ کسی اَور کو اتنی نہیں دی گئیں۔ مجھ پر تیس راتیں اور تیس دن اس طرح گزرے کہ میرے اور بلال کے لیے اتنا کھانا نہیں تھا جسے کوئی جاندار کھائے سوائے اس تھوڑی سی شے کے جسے بلال کی بغل چھپالیتی تھی۔
آنحضورﷺ نے جسمانی بیماری کو خطائیں معاف ہوجانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ آپؐ کے سامنے ایک بار کسی نے بخار کو گالی دی تو آپؐ نے فرمایا کہ اسے گالی نہ دو، بےشک یہ گناہوں کو اس طرح صاف کردیتا ہے جیسے آگ لوہے کی میل کچیل کو صاف کردیتی ہے۔
آنحضورﷺ طبعاً بہت صابر و شاکر تھے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ کی آخری بیماری میں آپؐ کی تکلیف سے زیادہ کسی کی تکلیف نہیں دیکھی۔
رسول کریمﷺ کی آخری بیماری میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ خدمتِ رسالت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو ہاتھ لگاکر عرض کیا کہ آپؐ کو تو بخار ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ مجھ اکیلے کو تمہارے دو آدمیوں کے برابر سخت بخار کی تکلیف ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ پھر آپؐ کو اجر بھی دُھرا ملے گا؟ فرمایا: ہاں۔ پھر فرمانے لگے کہ ایک مسلمان کو جب تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی خطائیں اس طرح معاف کردیتا ہے جیسے درخت کے پتے گرتے ہیں۔
آنحضورﷺ نے اپنے گیارہ بچوں کی وفات کا صدمہ یوں برداشت کیا کہ خود کفن دفن میں شامل ہوئے، آنکھیں نم تھیں لیکن کوئی شکوہ شکایت زباں پر نہیں تھی۔ ایک بیٹے کی پیدائش پر آپؐ نے اسے اپنے باپ ابراہیم کا نام دیا۔ یہ بچہ پرورش کے لیے ایک لوہار ابوسیف کی بیوی کے سپرد کیا۔ آپؐ کبھی کبھی اُس کے ہاں جاتے اور بچے کو منگواکر گلے لگاتے، پیار کرتے اور دعائیں دیتے۔ جب ابراہیم پر جان کندنی کی حالت طاری ہوئی تو آپؐ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ آپؐ نے فرمایا: آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، دل غمگین ہے مگر ہم وہی کہیں گے کہ جس پر ہمارا ربّ راضی ہے۔ اے ابراہیم! ہم تیرے جانے کی وجہ سے غمگین ہیں۔
آنحضورﷺ نے زندگی کے آغاز سے ہی اپنوں کی جدائی پر بےانتہا صبر کا نمونہ دکھایا۔ والدہ کی وفات، دادا کی وفات، پرورش کرنے والے چچا کی وفات، عزیز بیوی خدیجہؓ کی جدائی۔ حضرت خدیجہؓ کے بطن سے آپؐ کی نرینہ اولاد قاسمؓ، طاہرؓ اور طیب ؓکمسنی میں وفات پاگئے۔ ایک روایت کے مطابق گیارہ بچوں کا صدمہ آپؐ نے برداشت کیا۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول کریمﷺ کی دو بیٹیوں کے جنازوں میں شرکت کا موقع ملا۔ آپؐ قبر کے پاس تشریف فرما تھے اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
جب حضورﷺ کی صاحبزادی رقیہؓ فوت ہوئیں تو عورتیں رونے لگیں۔ تب آپؐ نے عورتوں کو نصیحت فرمائی کہ شیطانی آوازوں (یعنی چیخ و پکار) سے اجتناب کرو۔ پھر فرمایا کہ بےشک ایسے صدمے میں آنکھ کا اشکبار ہوجانا اور دل کا غمگین ہونا تو اللہ کی طرف سے ہے جو دل کی نرمی اور طبعی محبت کا نتیجہ ہے۔ لیکن ہاتھ اور زبان سے ماتم شیطانی فعل ہے۔
رسول اللہﷺ کی ایک بیٹی حضرت زینبؓ جب ہجرت کرکے مدینہ روانہ ہونے لگیں تو ایک بدبخت ھبار بن اسود نے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر آپؓ کے اونٹ پر نیزے سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں آپؓ کھڑے اونٹ سے گرگئیں اور شدید اندرونی چوٹ کی وجہ سے چند سال بیمار رہ کر وفات پاگئیں۔ اُن کی وفات پر آنحضورﷺ نے افسردگی سے فرمایا: یہ میری سب سے اچھی بچی تھی جو میری محبت میں ستائی گئی۔
سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اہل اللہ کے دو ہی کام ہوتے ہیں۔ جب کسی بلا کے آثار دیکھتے ہیں تو دعا کرتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں کہ قضاوقدر اس طرح پر ہے تو صبر کرتے ہیں۔
تبلیغ سے روکنے کے لیے رسول اللہﷺ کو ازحد اذیت دی گئی۔ ہر حربہ اپنایا گیا۔ حتّٰی کہ بیٹیوں کو طلاق تک دلوائی گئی۔ چنانچہ ابولہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے حضرت رقیہؓ اور حضرت امّ کلثومؓ کا نکاح بالترتیب ہوچکا تھا جنہیں اُن دونوں نے طلاق دے دی۔

جبل احد

تبلیغ کے جرم میں ایک بدبخت نے آنحضورﷺ کے گلے کی چادر کو بل دے کر آپؐ کا گلا گھونٹنا شروع کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے آخر اُس کو پرے ہٹایا اور روتے ہوئے کہا کہ تم ایک شخص کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے۔ اسی طرح خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے سجدے کی حالت میں آپ کے کندھوں پر ایک اونٹنی کی بچہ دانی ڈال دی گئی کہ آپؐ سر بھی نہ اٹھاسکتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ نے آکر یہ گند ہٹایا تو آپؐ سر اٹھاسکے۔
ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے پوچھا کہ کیا آپؐ کو کبھی جنگ اُحد والے دن سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: عائشہ! تیری قوم کی طرف سے مجھے بڑی بڑی سخت گھڑیاں دیکھنی پڑی ہیں۔ پھر آپؐ نے طائف کے حالات سنائے جب طائف کے رئیس عبدیالیل کے کہنے پر وہاں کے آوارہ لڑکوں نے آنحضورﷺ اور زیدبن حارثہؓ کو پتھر مار مار کر شدید زخمی کردیا گیا۔ لیکن ایسے میں بھی آپؐ میں عفو اور رحم موجزن تھا۔ فرمایا: اس سفر سے واپسی پر میرے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا ہے کہ ارشاد ہو تو مَیں پہلو کے دونوں پہاڑ ان لوگوں پر پیوست کرکے اس بستی کا خاتمہ کردوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، نہیں۔ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں میں خدائے واحد کی پرستش کرنے والے پیدا کردے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں