اداریہ: حقیقی خوشی کا حصول …

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین مارچ و اپریل 2024ء)

خداتعالیٰ نے انسانی جبلّت میں جو قویٰ یعنی نشوونما کے مختلف ذرائع پوشیدہ رکھے ہیں اُن کا مقصد یہی ہے کہ ہر شخص اپنی خداداد صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی استعدادوں کو حتی المقدور ترقی دے کر نہ صرف اپنی دنیاوی زندگی میں ذاتی و اجتماعی حیثیت میں تسکین، آرام، بشاشت اور خوشی سے لطف اندوز ہوسکے بلکہ اپنی اخروی زندگی میں بھی سرخرو ہوسکے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں انسانی زندگی کے تمام تر پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ایسی جامع تعلیم بیان فرمائی گئی ہے جس پر عمل کرنے کی صورت میں انفرادی اور معاشرتی امن و سلامتی کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ نیز اس تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے آنحضورﷺ نے اپنی سنّت مبارکہ کے ذریعے جو اسوۂ حسنہ قائم فرمایا ہے اُس کی برکت سے اسلامی تعلیم کے تمام تر پہلوؤں پر عمل کرنا نہ صرف آسان نظر آتا ہے بلکہ اس تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنے والے اپنی زندگیوں میں ایک دلی انبساط اور روحانی برکات کو بھی محسوس کرسکتے ہیں۔

قرآن کریم کی پیشگوئی وَاِذَالصُّحُفِ نُشِرَتْ کی صداقت کی ایک دلیل آج پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا بھی ہے جس کے ذریعے دنیابھر کے مروّجہ علوم اور ان میں ہونے والی نئی تحقیق و اخبار کا ایک مسلسل دریا اس سرعت کے ساتھ رواں دواں ہے کہ اس کا احاطہ کرنا یا اس میں سے اپنی دلچسپی کی محض چند مفید معلومات کا اُچک لینا بھی کاردارد دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ایک مومن اپنے آقاﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں علم کے اس سمندر سے اپنی گمشدہ میراث یعنی حکمت کے موتی چنتا چلا جاتا ہے۔ جدید تحقیق میں بعض زاویے اسلامی تعلیمات سے اتنی مماثلت رکھتے ہیں کہ اُن پر غور کرنے سے اسلام کی صداقت اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی اہمیت عیاں ہوتی چلی جاتی ہے۔
علم نفسیات کی ایک شاخ یعنی علم ماورائے نفسیات (پیراسائیکالوجی) کے ماہرین نے کچھ عرصہ قبل کی جانے والی اپنی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ طبّی طور پر انسانی مُوڈ میں تسکین اور انبساط کی لہر پیدا ہونے میں چار ہارمونز بےحد اہمیت رکھتے ہیں جو مخصوص حالات کے زیراثر انسانی جسم میں قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر ہم خود ان ہارمونز (کے اپنے جسم میں اخراج) کا خیال رکھیں گے تو پھر یہ ہارمونز بھی ہمارے مُوڈ کا خیال رکھیں گے۔ یقین جانیے کہ بات صرف زاویۂ نظر کی ہے ورنہ حقیقی خوشی کے حصول کے سارے لوازمات تو ہمیں ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی عطا فرمادیے گئے تھے جن پر مہرِ صداقت آج کی اس جدید تحقیق نے ثبت کردی ہے۔ اپنی زندگی میں حقیقی خوشی کی نمو کے لیے اور اپنے مُوڈ کو بشاشت سے روشناس کروانے کے لیے اس خوبصورت تحقیق سے استفادہ کرنا ایک احمدی مسلمان کے لیے کس قدر آسان ہے۔ مثلاً

1۔ ماہرین کے مطابق ورزش کرنے پر ہمارا جسم درد سے نپٹنے کے لیے ایک خاص قسم کا ہارمون ’’اینڈورفنس‘‘ (Endorphins) خارج کرتا ہے تاکہ ہم تکلیف (درد) محسوس کرنے کی بجائے ورزش سے لطف اٹھا سکیں۔ یہ ہارمون اُس وقت بھی پیدا ہوتا ہے جب ہم کوئی لطیفہ پڑھتے یا سنتے ہیں یا مزاحیہ فلم دیکھتے ہیں یا خوشگوار مجلس میں شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے اس ہارمون کی اپنے جسم میں قدرتی خوراک پیدا کرنے کے لیے ہمیں روزانہ کم از کم 20منٹ تیز سیر یا ایکسرسائز کرنی چاہیے اور روزانہ کی بنیاد پر کچھ مزاحیہ تحریروں، ویڈیوز اور اچھے دوستوں کی مجالس سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے آنحضورﷺ کی سنّت مبارکہ اور حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے پاکیزہ عمل سے ہم راہنمائی لے سکتے ہیں۔
2۔ روزانہ کی بنیاد پر ہم کئی چھوٹے بڑے کام سرانجام دیتے ہیں لیکن جب بھی ہم کسی ایک کام کو مکمل کرلیتے ہیں تو تکمیل کے احساس کے نتیجے میں ہمارا جسم ایک خاص ہارمون ’’ڈوپامائین‘‘ (Dopamine) خارج کرتا ہے جو ہماری ذہنی تسکین کا باعث ہوتا ہے۔ جب گھر میں یا کام کی جگہ پر ہمارے کسی کام کی تعریف کی جاتی تو اسی ہارمون کے نتیجے میں ہم اپنے آپ کو ایک کامیاب اور اچھا انسان محسوس کرتے ہیں۔ پس اگر کام کی جگہ پر اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور گھروں پر سارا دن مصروف رہنے والی اپنی بیویوں، بیٹیوں اور دوسری بچیوں کے کام کی تعریف کی جائے تو وہاں کام کے نتیجے میں کسی مشقّت کی بجائے بشاشت کا احساس دکھائی دے گا اور ماحول میں مثبت تبدیلی کو ہر شخص محسوس کرسکے گا۔

یہ ہارمون اُس وقت بھی پیدا ہوتا ہے جب ہم کوئی نئی چیز خریدتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاپنگ کرنے کے بعد یا کوئی تحفہ یا انعام لینے کے بعد خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ باہمی تعلقات اور ماحول کو خوشگوار بنانے میں تحائف دینے کی کتنی اہمیت ہے جبکہ یہی بات آنحضورﷺ کی ایک حدیث مبارکہ میں بھی بیان ہوئی ہے۔
3۔ تیسرا خاص ہارمون ’’سیروٹونائین‘‘ (Serotonin) ہے۔ اس ہارمون کا اخراج تب ہوتا ہے جب ہم دوسروں کی ہمدردی میں اور مخلوق کے فائدے کے لیے کوئی کام کرتے ہیں۔ خدمتِ خلق سے خوشی کا جو احساس پیدا ہوتا ہے وہ اسی ہارمون کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس میں دوسروں کی راہنمائی کرنا، انہیں مفید معلومات فراہم کرنا، حل طلب معاملات میں مدد کرنا، کسی سائل کے سوالات کا جواب دے کر اُسے مطمئن کرنا بلکہ دوسروں کے خیالات کو (اپنی زبان سے یا محض اپنے نمونہ سے خاموش دعوت الی اللہ کرکے) نیکی، بھلائی اور خیر کی طرف راغب کرنا، ان سبھی امور سے سیروٹونائین پیدا ہوتا ہے اور اس کی خوشی ہم نے بارہا محسوس بھی کی ہوگی۔ اسی طرح والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اپنی چیزیں شیئر کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں اور اس کا بہترین طریق یہ ہے کہ شفقت علیٰ خلق اللہ کا عملی نمونہ پیش کریں۔ برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ زیرنظر تحریر بھی دوسروں تک پہنچاکر آپ نہ صرف اپنی قلبی بشاشت اورذہنی آسودگی کا سامان کرسکتے ہیں بلکہ اپنے ماحول کو بھی خوشگوار اور پُرمسرّت بناسکتے ہیں۔

4۔ چوتھا ہارمون ’’آکسی ٹوسین‘‘ (Oxytocin) ہے جس کا اخراج جسم میں اُس وقت ہوتا ہے جب ہم جسمانی طور پر دوسروں کے قریب ہوتے ہیں اور انہیں اپنی محبت، چاہت اور تحفّظ کا احساس دلاتے ہیں۔ چنانچہ اپنے دوستوں سے ہاتھ ملانا، اُن کو محبت سے گلے لگانا، اپنے بچوں کو اٹھانا اور اُن سے کھیلنا وغیرہ وہ سارے امور ہیں جن کے نتیجے میں انسانی جسم اس ہارمون کو خارج کرتا ہے اور طبیعت میں خوشگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح عید جیسے اسلامی تہواروں پر اور خوشی کے دیگر مواقع پر اپنے پیاروں سے بغلگیر ہوکر خوشی کا اظہار کرنا، دوستوں کی کامیابیوں پر اُن کو گلے لگاکر مبارکباد دینا اور اسی طرح کسی غمزدہ کے دکھ درد کو بانٹنے کے لیے اس کو سینے سے لگاکر تسلّی دینا بھی اس ہارمون کو پیدا کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔
محترم قارئین! ذرا غور کیجیے کہ کیا یہ اُن اسلامی تعلیمات کا خلاصہ نہیں ہے جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہمیں قرآن کریم کی پاکیزہ تعلیم اور آنحضورﷺ کے بابرکت اُسوۂ حسنہ کے ذریعے دی گئی تھیں۔ اور آج ان کا اعادہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات اور خلفائے کرام کے ارشادات و خطبات کے ذریعے بھی مسلسل جاری ہے۔ کیونکہ یہی وہ تعلیمات ہیں جنہیں اپنی روزمرّہ زندگیوں میں جاری کرنے سے نہ صرف منفی خیالات بدظنّی، حسد اور لالچ سے بچا جاسکتا ہے بلکہ خداتعالیٰ کی رضا اور اُس کی مخلوق کی خوشنودی حاصل کرکے اپنی ذات، گھر اور معاشرے کو بھی خوشیوں اور امن و آشتی کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ وہ حدیث پیش نظر رکھی جائے جب آنحضورﷺ نے ایک صحابی کے کمرے میں روشن دان رکھے جانے کی وجہ دریافت فرمائی تو جواب ملا کہ روشنی اور ہوا کے لیے رکھا ہے۔ آپؐ نے کیا ہی خوبصورت ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں دنیاوی نعمتیں تو روشن دان رکھنے کے نتیجے میں حاصل ہو ہی جانی تھیں لیکن اگر تم اپنی نیت یہ کرلیتے کہ اذان کی آواز آئے گی تو ثواب بھی ہوجاتا۔ امرواقعی بھی یہی ہے کہ خدمت خلق کی راہوں پر عاجزی سے چلتے چلے جانے سے لے کر دعوت الی اللہ کے لیے نئے راستے تلاش کرنے تک، بےشک آنحضورﷺ کی صدق نیت سے اطاعت اور آپﷺ کی سنّت کی پیروی کرنا ہی ہمارے لیے رضائے باری تعالیٰ کے حصول کا ذریعہ، فلاح دارین کا باعث، دنیاوآخرت میں حقیقی کامیابی، امن، سکون اور خوشیوں کی ضامن ہوسکتی ہے۔


پس اپنے روزمرہ کام کرتے ہوئے اگر ہم یہ نیت رکھیں کہ اس کا مقصد اپنے اہل و عیال یا دوستوں کی بہتری ہے تاکہ خداتعالیٰ کی رضا حاصل ہو تو وہی کام جو جسمانی طور پر تکان اور مشقّت کا باعث بن سکتے ہیں، یعنی صرف زاویۂ نظر بدلنے سے انہی کاموں کی انجام دہی ہمارے لیے دلی تسکین کا سامان پیدا کرنے کے علاوہ ہمارے ماحول کو خوشگوار بناسکتی ہے۔

(محمود احمد ملک)

اپنا تبصرہ بھیجیں