اطاعت خلافت کے رُوح پرور واقعات

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 21؍ تا 31مئی 2021ء)

جلسہ سالانہ یوکے 2012ء کے موقع پر مکرم منیر احمد خادم صاحب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ قادیان کی ایک تقریر بعنوان ’’اطاعتِ خلافت کے روح پرور واقعات‘‘ مکرم عبدالغنی جہانگیر خان صاحب انچارج فرنچ ڈیسک لندن نے پڑھ کر سنائی۔

بعدازاں یہ تقریر مجلس انصاراللہ برطانیہ کے جریدے’’انصارالدین‘‘ لندن برائے جولائی اگست 2012ءکی زینت بنی۔
آیت استخلاف میں خلافت کی عظیم الشان اہمیت و برکات کا بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ برکات تب تک جماعت مومنین کو حاصل ہوتی رہیں گی جب تک وہ خلافت کی اطاعت کی رسّی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہیں گے۔ بصورت دیگر فاسق اور بدعہد قرار دیے جاکر تمام تر برکات سے محروم کردیے جائیں گے۔ آیت استخلاف سے پہلے والی آیت میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
حضرت عرباض بن ساریہؓ بیان کرتے ہیں ایک بار آنحضرت ﷺ نے ایک ایسا پُر اثر وعظ فرمایا کہ جس کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہ پڑے، دل ڈر گئے۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ ! یہ تو ایسی نصیحت ہے جیسے ایک الوداع کہنے والا وصیت کرتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مَیں تمہیں ایک روشن اور چمکدار راستے پر چھوڑے جارہا ہوں اس کی رات بھی اس کے دن کی طرح ہے سوائے بدبخت کے اس سے کوئی بھٹک نہیں سکتا۔ تمہیں میری سنت پر اور خلفاء راشدین المہدیّین کی سنّت پر چلنا چاہیے۔ تم اطاعت کو اپنا شعار بناؤ خواہ حبشی غلام ہی تمہارا امیر مقرر کردیا جائے۔ (مسند احمد)
حدیث مبارکہ ہے کہ اگر تُو رُوئے زمین پر خلیفۃاللہ کو دیکھے تو اس کی کامل اطاعت کرتے ہوئے اس سے چمٹ جا، چاہے تیرا جسم نوچ لیا جائے یا تیرا مال چھین لیا جائے۔چنانچہ آج جماعت احمدیہ اس نصیحت پر مضبوطی سے قائم ہے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ شام کے علاقہ میں مسلم افواج کے کمانڈر انچیف تھے لیکن حضرت عمر فاروق ؓنے خلیفہ بننے کے بعد بعض مصالح کی وجہ سے آپؓ کو معزول کرکے حضرت ابوعبیدہ بن الجرّاحؓ کو کمانڈرانچیف مقرر فرمادیا۔جب یہ اطلاع خالد بن ولیدؓ کو ملی تو آپ نے اطاعتِ خلافت کا شاندار نمونہ پیش کرتے ہوئے خود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ خلیفۃالرسول کی طرف سے ابوعبیدہ بن الجرّاح (اَمینُ الامّت) سپہ سالار مقرر ہوئے ہیں ان کی اطاعت کرو۔ آپؓ خود چل کر ابوعبیدہ کے پاس گئے اور انہیں سپہ سالاری سونپ دی۔ عسکری تاریخ میں شاذ ہی ایسی مثال ملے گی لیکن یہ سب خلافت کی اطاعت کے سبب ممکن ہوا کیونکہ صحابہ جانتے تھے کہ ساری کامیابیوں کا دارومدار اطاعتِ خلافت میں ہے۔
حضرت علی ؓکے زمانہ میں امیر معاویہؓ اور حضرت علیؓ میں بعض امور میں باہم اختلاف دیکھ کر روم کے بادشاہ نے اسلامی مملکت پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو امیر معاویہ ؓنے اُسے لکھا کہ ہوشیار رہنا ہمارے آپس کے اختلاف سے دھوکا نہ کھانا۔ اگر تم نے حملہ کیا تو حضرت علیؓ کی طرف سے جو پہلا جرنیل تمہارے مقابلہ کے لیے نکلے گا وہ مَیں ہوں گا۔
لیکن خلافت راشدہ کے بعد جب اطاعت کی رُوح ختم ہوگئی تو سپین کے مسلمان بادشاہوں نے مشرقی رومی حکومت سے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف اتحاد کیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے جس کے نتیجے میں دن بدن اِدبار اور ذلّت مسلمانوں کا نصیب بنتی چلی جارہی ہے اور یہ سلسلہ بالآخر تب ہی ختم ہوگا جب پھر مسلمان خلافت علیٰ منہاج نبوّت پر ایمان لاکر اس کی کامل اطاعت کو اپنی زندگیوں کا حصّہ بنالیں گے۔
آج پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اور اپنے مبارک وعدہ کے موافق ہم میں خلافت علیٰ منہاج نبوّت کے سلسلہ کو قائم فرمایا ہے۔ اور جیسا کہ آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے اطاعت کے اعلیٰ معیاروں کے مطابق ایمان و اعمال صالحہ کو اس کے قیام کی شرط قرار دیا ہے بفضلہ تعالیٰ جماعت احمدیہ اپنے ابتدا کے دنوں سے اس معیار پر قائم و دائم ہے۔ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسے خدام عطا فرمائے کہ اطاعت و وفا ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ آپؑ حضرت مولانا نور الدین خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے متعلق فرماتے ہیں :


’’ وہ ہر امر میں میری اس طرح پیروی کرتے ہیں جس طرح نبض حرکتِ قلب کی پیروی کرتی ہے۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد5 صفحہ581)
حضرت مصلح موعودؓ کو اطاعتِ خلافت کا سرٹیفکیٹ تو خود حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے بایں الفاظ عطا فرما یا:
’’میاں محمود بالغ ہے اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے … مَیں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار ہے کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔‘‘
(اخبار بدر 4 جولائی 1912ء)

حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ حضرت مصلح موعودؓ کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ خلافت اولیٰ کے زمانہ میں مَیں نے دیکھا کہ جو ادب و احترام اور جو اطاعت اور فرمانبرداری آپ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی کرتے تھے اس کا نمونہ کسی اَور شخص میں نہیں پایا جاتا تھا۔ آپ کے ادب کا یہ حال تھا کہ جب آپ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓکی خدمت میں جاتے تو دوزانو ہوکر بیٹھ جاتے۔ اور جتنا وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہتے اسی طرح دوزانو ہی بیٹھے رہتے۔ میں نے یہ بات کسی اَور صاحب میں نہیں دیکھی۔ اسی طرح آپ ہر امر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی پوری پوری فرمانبرداری کرتے۔
یہی حال حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ، حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا تھا۔ یہ سبھی خلفاء مسند خلافت پر متمکن ہونے سے قبل اپنے سے پہلے خلیفہ کی عزّت و احترام اور اطاعت و وفا میں بے مثال تھے۔
حضرت مسیح موعودؑ اطاعت کے عظیم الشان فوائد یوں بیان فرماتے ہیں :
’’اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور رُوح میں ایک لذّت اور روشنی آتی ہے۔ مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔‘‘
(الحکم10فروری1901ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں:
’’چاہیے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میّت غسّال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مُردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کر لو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر دیکھو کہ ہر روز ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔‘‘
(خطبہ عید الفطر جنوری 1903ء بحوالہ خطبات نورصفحہ131)
حضرت مصلح موعودؓ کا ارشاد ہے :
’’خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا:
’’خلفاءکی اطاعت کا حکم دراصل اس لیے دیا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ تمہیں رفعت بخشنا چاہتا ہے۔‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں:
’’خلافت کے خلاف بے ادبی کرنے والوں کا کبھی بھی مَیں نے نیک انجام ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ بھی تباہ ہوئے اور ان کی اولاد بھی تباہ ہوئی۔ اس لیے ہمیشہ کامل غلامی کے ساتھ خلافت کی اطاعت کا عہد کریں اور اس پر قائم رہیں۔‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دُنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہوجائیں…ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں ہی پنہاں ہے۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل23مئی 2003ء)
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ جماعت احمدیہ ایمان اور اعمالِ صالحہ کے تمام میدانوں میں خلافت کی کامل اطاعت و فرمانبرداری کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہے۔ اگر خلیفۂ وقت نے نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کی تو مساجد بھرنی شروع ہوگئیں۔ اگر مالی قربانی کی تلقین کی تو غرباء نے بھی قربانی کے وہ اعلیٰ معیار قائم کیے جو تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے رقم ہیں۔ غریب عورتوں نے اپنے گلے کے زیور اُتار دیے۔ امراء نے زمینیں اور جائیدادیں وقف کردیں۔ قرآن مجید پڑھنے کی تحریک کی تو بڑی عمر کے لوگوں نے بھی قرآن مجید باترجمہ پڑھنا شروع کردیا۔ حفظ قرآن کی تحریک کی تو بوڑھوں نے بھی قرآن مجید حفظ کرنا شروع کردیا۔اور پھر جانوں کی قربانی کا موقع آیا تو سینکڑوں نے خلیفۂ وقت کی محبت میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کردیے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دلوں کو گرما دینے والا ایک رُوح پرور واقعہ یُوں بیان فرمایا:
’’ہمارے ایک پُرانے بزرگ عبد المغنی خان صاحب نے علیگڑھ یونیورسٹی سے کیمسٹری کے ساتھ بی ایس سی کی۔ اس زمانے میں عام طور پر مسلمان لڑکے سائنس کم پڑھتے تھے۔ وائس چانسلر نے کہا تم نے یہ مضمون بھی اچھا لیا اور اعلیٰ کامیابی بھی حاصل کی ہے ہم تمہیں یونیورسٹی میں جاب دیتے ہیں۔ آگے پڑھائی بھی جاری رکھنا۔ ان کے والد صاحب نے کسی انگریز دوست سے سفارش کی ہوئی تھی اس نے بھی اُنہیں کسی اچھے جاب کی آفر کی پھر اُن کو یہ مشورہ بھی ملا کہ ہوشیار ہیں انڈین سول سروس کا امتحان دے کر اس میں شامل ہوجائیں۔ خان صاحب ان دنوں قادیان آئے ہوئے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا زمانہ تھا۔ تمام باتیں حضور کی خدمت میں پیش کیں اور ساتھ عرض کی کہ حضور مَیں تو دنیاداری میں پڑنا نہیں چاہتا۔ مَیں تو قادیان میں رہ کر اگر قادیان کی گلیوں میں مجھے جھاڑو پھیرنے کا ہی کام مل جائے تو اسے ان اعلیٰ نوکریوں کے مقابل پر ترجیح دوں گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ 22اپریل2011ء )
خلافت احمدیہ سے محبت و اطاعت کا عظیم واقعہ 1947ء میں اس وقت پیش آیا جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے حکم سے 313 درویشان کرام نے نہایت پُرخطر حالات میں اپنی جان کی بازی لگاکر قادیان دار الامان میں رہنے کو ترجیح دی۔ حضورؓ نے ان درویشان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’اب جو لوگ وہاں رہیں ان کو یہ سمجھ کر رہنا چاہیے کہ انہوں نے مکّی زندگی اور مسیح ناصری والی زندگی کا نمونہ دکھانا ہے۔ نصیحت اور تبلیغ اورضمیر کے سامنے اپیل کرنے سے کام لینا چاہیے۔ اور دُعا و گریہ و زاری اور انکساری سے کام لینا چاہیے۔ اور ظلم برداشت کرتے ہوئے ، ظلم کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے جب تک یہ طریق ہماری وہاں کی آبادی نہیں دکھائے گی دوبارہ قادیان کا صبح کرنا مشکل ہے۔‘‘
(بدر درویشان قادیان نمبر2011ء صفحہ19)
اسی طرح درویشانِ قادیان کو ایک پیغام میں فرمایا :
’’اگر سلسلہ کی ضروریات مجبور نہ کرتیں تو میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوتا۔ لیکن زخمی دل اور افسردہ افکار کے ساتھ آپ سے دُور اور قادیان سے باہر بیٹھا ہوں۔‘‘
(بدر ایضاً صفحہ 15)
ان درویشان کرام نے خلافت کی اطاعت میں محاصرے اور بائیکاٹ کی زندگی گزاری۔ اطاعتِ خلافت کے ان مجسّموں کی عظیم قربانیوں کو دیکھ کر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:
’’آپ لوگ وہ ہیں جو ہزارہا سال تک احمدیت کی تاریخ میں خوشی اور فخر کے ساتھ یاد رکھے جائیں گے اور آپ کی اولادیں عزت کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی اور خدا کی برکات کی وارث ہوں گی کیونکہ خداکا فضل بلاوجہ کسی کو نہیں ملتا۔‘‘
(بدر ایضاً صفحہ 48)
حضرت مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم 1977ء سے 2007ء تک ناظر اعلیٰ و امیر مقامی قادیان کے عہدۂ جلیلہ پر فائز رہے۔ اپنے جلیل القدر باپ حضرت مصلح موعودؓ کی وفات کی جدائی بھی برداشت کی لیکن خلافت کی محبت میں قادیان میں رہنے کا عہد خوب خوب نبھایا۔ حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ 1982ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی وفات ہوئی تو اس موقع پر بھی آپ ربوہ نہیں جاسکتے تھے۔ خلافت سے بےانتہا عشق تھا اور حضورؒ کی وفات کے اگلے روز ایک خط لے کراپنی اہلیہ اور بیٹی امۃالرؤوف کے پاس لائے کہ اس کو پڑھ کر اس پر دستخط کردو۔ اس میں بغیر نام کے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع کی بیعت کرنے کے متعلق لکھا تھا۔ تو بیٹی نے اس پر کہا کہ ابا ابھی تو خلافت کا انتخاب بھی نہیں ہوا۔ ہمیں پتہ نہیں کہ کون خلیفہ بنے گا تو کہتے ہیں کہ مَیں نے خلیفہ کا چہرہ دیکھ کر بیعت نہیں کرنی بلکہ مَیں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت کی بیعت کرنی ہے۔ تو یہ تھا خلافت سے عشق اور محبت اور اس کا عرفان۔
(ماخوذ از خطبہ فرمودہ 4؍مئی2007ء )
1923ء میں ملکانہ کے علاقے میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک شدّھی نے زور پکڑا تو امّت مسلمہ کی یہ حالت دیکھ کر حضرت مصلح موعودؓ کا دل بےقرار ہوا اور آپؓ نے خطبہ جمعہ میں اپنے خرچ پر ان علاقوں میں جاکر تبلیغ کے ذریعے ان مرتدّین کو اسلام میں لانے کا منصوبہ جماعت کے سامنے رکھا۔ آپؓ نے فرمایا :
’’ہر ایک کو اپنا کام آپ کرنا ہوگا۔ اگر کھانا آپ پکانا پڑے گا تو پکائیں گے۔ا گر جنگل میں سونا پڑے گا تو سوئیں گے۔ جو اس محنت اور مشقت کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں وہ آئیں۔ ان کو اپنی عزّت اپنے خیالات قربان کرنے پڑیں گے۔ ایسے لوگوں کی محنت باطل نہیں جائے گی۔ ننگے پیر چلیں گے۔ جنگلوں میں سوئیں گے۔ خُدا ان کی اس محنت کو جو اخلاص سے کی جائے گی ضائع نہیں کرے گا۔ اس طرح جنگلوں میں ننگے پاؤں پھرنے سے ان کے پاؤں میں جو سختی پیدا ہوجائے گی وہ حشر کے دن جب پل صراط سے گزرنا ہوگا ان کے کام آئے گی۔ مرنے کے بعد ان کو جو مقام ملے گا وہ راحت اور آرام کا مقام ہوگا۔‘‘
(الفضل 15 مارچ1923ء صفحہ 6)
اس تحریک پر جماعت نے والہانہ لبیک کہا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ، سرکاری ملازمین ، اساتذہ ، تُجّار غرضیکہ ہر طبقے سے فدائی دعوت الی اللہ کے لیے نکل آئے اور ا ن کی مساعی کے نتیجہ میں ہزاروں روحیں ایک بار پھر خدائے واحد کا کلمہ پڑھ کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قدموں میں جھک گئیں۔
حضورؓ کے خطبہ جمعہ سے اگلے روز ایک معمر بزرگ قاری نعیم الدین صاحب بنگالی جب حضور ؓمجلس میں تشریف رکھتے تھے تو انہوں نے اجازت لے کر عرض کیا کہ گو میرے بیٹوں مولوی ظلّ الرحمٰن اور مطیع الرحمٰن معلّم بی اے کلاس نے مجھ سے کہا نہیں، مگر مَیں نے اندازہ کیا ہے کہ حضورنے جو راجپوتانہ میں جاکر تبلیغ کرنے کے لیے تحریک کی ہے، شائد ان کے دل میں ہو کہ اگر وہ حضور کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کریں گے تو مجھے، جو اُن کا بوڑھا باپ ہوں، تکلیف ہوگی۔ لیکن مَیں حضور کے سامنے خدا تعالیٰ کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ مجھے ان کے جانے اور تکالیف اٹھانے میں ذرا بھی غم یا رنج نہیں۔ اور اگر یہ دونوں خدا کی راہ میں کام کرتے ہوئے مارے بھی جائیں تو مَیں ایک بھی آنسو نہیں گراؤں گا بلکہ خداتعالیٰ کا شکریہ ادا کروں گا۔ پھر یہی دونوں نہیں میرا تیسرا بیٹا محبوب الرحمٰن بھی اگر خدمت اسلام کرتا ہوا مارا جائے اور اگر میرے دس بیٹے ہوں اور وہ بھی مارے جائیں تو بھی مَیں کوئی غم نہیں کروں گا… اس پر حضورؓ نے اور احباب نے جزاک اللہ کہا۔
تحریک شدّھی کے دنوں ہی میں ایک احمدی خاتون نے حضورؓ کو لکھا کہ مَیں صرف قرآن مجید جانتی ہوں اور تھوڑا سا اُردو۔ مَیںنے اپنے بیٹے سے سُنا ہے کہ مسلمان مرتد ہورہے ہیں اور حضور نے وہاں جانے کا حکم دے دیا ہے۔ مجھے ابھی اگر حکم ہو تو فورًا تیار ہوجاؤں۔ بالکل دیر نہ کروں گی۔ خدا کی قسم اُٹھاکر کہتی ہوں ہر تکلیف اُٹھانے کو تیار ہوں۔
ایک غریب عورت جس کا گزارا جماعتی وظیفہ پر تھا حضور کے سامنے حاضر ہوکر یوں گویا ہوئی:
حضور! سر کا جو دوپٹہ ہے یہ بھی جماعت کا ہے ، میرے کپڑے بھی جماعت کے وظیفے کے بنے ہوئے ہیں۔ میری جوتی بھی جماعت کی دی ہوئی ہے۔ کچھ بھی میرا نہیں مَیں کیا پیش کروں۔ حضور صرف دو روپے ہیں جو جماعت کے وظیفے سے ہی مَیں نے کسی ضرورت کے لیے جمع کیے ہوئے تھے یہ مَیں پیش کرتی ہوں۔
حضورؓ نے یہ معمولی رقم قبول فرمائی۔اور دنیا نے دیکھا کہ خلافت کے متوالوں نے شدّھی کے رُخ کو اللہ کے فضل و کرم سے پلٹااور آج بھی اس دَورکی مخلص جماعتیں قائم ہیں۔
خلافت کی اطاعت میں جذبات کی عظیم الشان قربانی کا ایک قابل تقلید واقعہ یوں ہے کہ پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم سرفیروز خان نون کے رشتہ دار ملک صاحب خان نون مخلص احمدی تھے۔ کسی سبب سے وہ اپنے دو بھائیوں یعنی سر فیروز خان اور میجر ملک سردار خان سے ناراض ہوگئے اور تعلق منقطع کرلیے۔ سارے خاندان پر ملک صاحب خان کا رعب تھا۔ اس لیے اُن سے تو کوئی بات نہ کرسکا۔ البتہ سرفیروز خان نون حضرت مصلح موعودؓ کے پاس حاضر ہوئے کہ ہماری صلح کروائیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ملک صاحب خان نون کو طلب کیا اور فرمایا:
’’اتنی رنجش اور ناراضگی بہت نامناسب ہے۔ آپ پہلے سرفیروز خان صاحب کے پاس جاکر معذرت کریں اور پھر اپنے چھوٹے بھائی میجر سردار خان صاحب سے معافی مانگیں اور پھر آج ہی مجھے رپورٹ دیں۔‘‘
ملک صاحب خان بیان کرتے ہیں کہ حضور کے اس حکم سے میرے دل میں انقباض پیدا ہوا کہ حضور نے ناراضگی کی وجہ دریافت فرمائے بغیر چھوٹے بھائیوں کے سامنے مجھے جھکنے کا حکم دے دیا۔ تاہم میری مجال نہ تھی کہ تعمیل ارشاد میں تاخیر کرتا۔ چنانچہ پہلے سرفیروز خان صاحب کی کوٹھی پر حاضر ہوا۔ وہ بڑی محبت سے میری طرف لپکے اور زاروقطار روتے ہوئے کہنے لگے مَیں قربان جاؤں مرزا محمود پر جنہوں نے ہمارے خاندان پر یہ احسانِ عظیم کیا۔ جب مَیں نے ان سے معافی مانگی تو کہنے لگے آپ میرے عزیز ترین بڑے بھائی ہیں آپ مجھے خدا کے لیے معاف کردیں … پھر مَیں جلد ہی ان سے بمشکل اجازت لے کر میجر صاحب کے ہاں پہنچا وہ بھی خوشی اور ممنونیت کے جذبات سے مغلوب تھے۔ اُن کے اصرار پر بھی وہاں نہ رُکا کیونکہ حضور نے رپورٹ دینے کا حکم دے رکھا تھا۔ چنانچہ سیدھا حضور کے پاس پہنچا اور سارا ماجرا سُنایا۔ حضور بہت خوش ہوئے اور اپنے پاس بٹھاکر فرمایا: آپ کے لیے میرا یہ حکم دل پسند تو شاید نہ ہوا ہوگا کہ کسی قسم کی تحقیقات کرنے یا ناراضگی کی وجوہ معلوم کیے بغیر ہی آپ کو حکم دے دیا کہ جاؤ اپنی عمر سے چھوٹے بھائیوں سے معافی مانگو۔ وجہ یہ تھی کہ آپ نے میری بیعت کی ہوئی ہے۔ سرفیروز خان اور میجر سردار خان کے ساتھ تو میرے معاشرتی تعلقات ہی ہیں۔ وہ میرے حکم کے پابند تو نہیں، مگر آپ پابند ہیں۔ پھر حدیث ہے کہ جو اپنے رُوٹھے ہوئے بھائی کو منانے میں پہل کرے گا وہ پانچ سو سال پہلے جنّت میں جائے گا۔ یہ استعارہ کا کلام ہے مگر بہر حال اس حدیث کی رُو سے آپ ایک ہزار سال پہلے جنّت میں جائیں گے۔ پھر سوچ لیں کہ یہ کس قدر منافع کا سودا ہے۔

مکرم مولاناعطاء المجیب راشد صاحب بیان کرتے ہیں کہ انتخاب خلافت خامسہ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جب لوگوں کو مسجد میں کھڑے دیکھا تو فرمایا بیٹھ جائیں۔ حضور انور کی آواز جذبات سے مغلوب تھی اور مائیک بھی کچھ فاصلہ پر تھا۔ مَیں مائیک کے عین سامنے کھڑا تھا اس لیے مَیں نے مائیک پر اعلان کردیا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب احباب بیٹھ جائیں۔ احاطہ مسجد اور قریبی علاقہ اس وقت دس گیارہ ہزار احمدیوں سے بھرا پڑا تھا،جونہی حضور انور کا یہ ارشاد اُن کے کانوں تک پہنچا ، دس ہزار سے زائد کا مجمع اُسی وقت زمین پر بیٹھ گیا۔ ایم ٹی اے پر دکھایا جانے والا یہ نظارہ بہت ہی ایمان افروز تھا۔
پس اپنے امام کے اشارہ پر اُٹھنا اور بیٹھنا ہمیشہ سے ہمارا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کے عہد میں مولانا ظفر علی خان ایڈیٹر اخبار زمیندار نے لکھا:
احراریو ! کان کھول کر سن لو تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیںکرسکتے… مرزا محمود کے پاس قرآن کا علم ہے… مرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے ایک اشارہ پر اس کے پاؤں میں نچھاور کرنے کو تیار ہے۔
اپنی اس فرمانبردار جماعت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے 12؍مارچ 1944ء کو ایک جلسے میں فرمایا :
’’خدا نے مجھے وہ تلواریں بخشی ہیں جو کفر کو ایک لحظہ میں کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔ خدا نے مجھے وہ دل بخشے ہی ں جو میری آواز پر ہر قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مَیں اُنہیں سمندر کی گہرائیوں میں چھلانگ لگانےکے لیے کہوں تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہیں۔ مَیں اُنہیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرانے کے لیے کہوں تو وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرادیں۔ مَیں انہیں جلتے تنوروں میں کود جانے کا حکم دوں تو وہ جلتے ہوئے تنوروں میں کود کر دکھادیں۔ اگر خود کشی حرام نہ ہوتی، اگر خود کشی اسلام میں ناجائز نہ ہوتی تو مَیں اس وقت تمہیں یہ نمونہ دکھا سکتا تھا کہ جماعت کے سو آدمیوں کو مَیں اپنے پیٹ میں خنجر مارکر ہلاک ہوجانے کاحکم دیتا اور وہ سو آدمی اسی وقت اپنے پیٹ میں خنجر مار کر مرجاتا۔‘‘
جانی ومالی قربانیوں کی داستانیں تاریخ احمدیت میں جابجا رقم ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 7؍جنوری 2011ءکو خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا کہ
’’لیگوس (نائیجیریا) کے ایک مخلص احمدی الحاجی ابراہیم الحسن صاحب نے تین فلیٹس پر مشتمل اپنا ایک گھر بنایا اور اس سے ملحق ایک مسجد بھی بنائی۔ مسجد کے بارے میں ان کا ارادہ تھا کہ وہ اس کو جماعت کے حوالے کردیں گے۔ کہتے ہیں کہ ابھی مَیں اپنے اس نئے گھر میں شفٹ نہیں ہوا تھا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ پانچوں خلفاء اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے اُس گھر میں تشریف لائے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نےفرمایا یہی اس گھر کے افتتاح کی تقریب ہے اور کوئی تقریب نہیں ہوگی۔ پھر خواب میں ہی حضرت اقدس ؑمسجد سے ملحق عمارت، جس میں تین فلیٹس بنائے ہیں، اُن میں سے ایک فلیٹ میں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہ بھی مسجد کے ساتھ ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں نے ارادہ کیا کہ فلیٹس بھی مسجد کے ساتھ ہی جماعت کو دے دوں جن کی مالیت 90 ہزار پاؤنڈ بنتی ہے۔‘‘
گزشتہ سو سالوں میں خلافت احمدیہ کے پروانوں نے نہایت خوش دلی سے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے ہیں۔ اگرچہ انڈونیشیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈیا اور دیگر ممالک میں بھی یہ نذرانے پیش ہوئے لیکن اطاعتِ خلافت میں پاکستان کے فدائی پروانوں کی ایمان افروز داستانیں عجیب رنگ رکھتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیوں کواجیرن بنا دیا گیا ہے اور جو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کیے جا رہے ہیں۔ اُن کی انفرادی اور اجتماعی قربانیوں سے تمام دنیا کے احمدی اپنے ایمانوں کی مضبوطی حاصل کررہے ہیں۔ لاہور کی احمدیہ مساجد میں جب اسّی سے زائد احمدیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 31؍دسمبر 2010ء کے خطبہ جمعہ میں ایک عظیم الشان ماں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ
’’ایک طالب علم جسے دو گولیاں لگی تھیں جب اس نے زخمی حالت میں اپنی ماں کو فون کر کے بتایا کہ اس طرح گولیاں لگی ہیں اور خون بہ رہا ہے تو بہادُر ماں نے جواب دیا کہ بیٹا میں نے تمہیں خدا کے سپرد کیا۔ اگر شہادت مقدّر ہےتو جرأت سے جان خداکے حضور پیش کرنا۔ کسی قسم کی بزدلی نہ دکھانا۔ بہرحال اس بچے کو خدا نے محفوظ رکھا، آپریشن سے گولی نکال دی گئی۔ پس جس قوم کی ایسی مائیں ہوں جو اپنے بیٹوں کو شہادت کے لیے تیار کر رہی ہوں ایسی قوم کو غلبۂ اسلام کی منازل طے کرنے سے کون روک سکتا ہے!۔‘‘
ایک مرتبہ حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب ؓسے کسی نے پوچھا کہ آپ کی ترقیات اور کامیابیوں کا کیا راز ہے تو آپؓ نے بے ساختہ جواب دیا:
Because through all my life I was obedient to Khilafat
یعنی میری کامیابیوں کی وجہ یہ ہے کہ میں تمام زندگی خلافت کا مکمل مطیع اور فرمانبردار رہا ہوں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں