اطاعت خلافت کے نمونے

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8 دسمبر 2010ء میں مکرم نصیر احمد انجم صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں اطاعتِ خلافت کی قابل تقلید مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
٭ خلفاء کرام کا اپنا نمونہ تو یہ ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل کے متعلق حضرت مسیح موعودؑنے فرمایا تھا: ’’وہ ہر امر میں میری اس طرح پیروی کرتے ہیں جس طرح نبض حرکتِ قلب کی پیروی کرتی ہے‘‘۔
چنانچہ جب ایک مریضہ کو دیکھنے کے لئے حضور علیہ السلام کی اجازت سے آپؓ ایک قریبی گاؤں میں تشریف لے جانے لگے تو حضورؑ نے فرمایا کہ امید ہے آپ آج ہی واپس آجائیں گے۔ لیکن وہاں پہنچے تو موسم شدید خراب تھا۔ گھر والوں نے اصرار کیا کہ صبح تک انتظار فرمالیں تاکہ کسی یکّہ کا انتظام کردیا جائے۔ لیکن آپؓ نے اپنے آقاؑ کے الفاظ کو مقدّم رکھتے ہوئے طوفانی رات کی پرواہ کئے بغیر پاپیادہ واپسی کا سفر اختیار کیا اور فجر سے پہلے قادیان پہنچ گئے۔ فجر کی نماز پر حضورؑ نے آپؓ کے بارہ میں دریافت فرمایا تو آپؓ نے آگے بڑھ کر عرض کیا کہ مَیں واپس پہنچ گیا تھا لیکن پُرخطر راستہ کی کسی تکلیف کا ذکر تک نہیں کیا۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو اطاعت خلافت کا سرٹیفکیٹ تو خود حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بایں الفاظ عطا فرمایا تھا: میاں محمود بالغ ہے اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے … میں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار ہے کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔‘‘
٭ حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ حضرت مصلح موعودؓ کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ جو ادب اور احترام اور جو اطاعت اور فرمانبرداری آپ حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی کرتے تھے اس کا نمونہ کسی اَو رشخص میں نہیں پایا جاتا تھا۔ ادب کا یہ حال تھا کہ جب آپ حضرت خلیفۃالمسیح الاول کی خدمت میں جاتے تو دو زانو ہو کر بیٹھ جاتے اور جتنا وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہتے اسی طرح دو زانو ہی بیٹھے رہتے۔ مَیں نے یہ بات کسی اَور صاحب میں نہیں دیکھی۔ اسی طرح آپ ہر امر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی پوری پوری فرمانبرداری کرتے۔
٭ حضرت حکیم اللہ بخش صاحبؓ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت مصلح موعودؓ شکار کے لئے بیٹؔ آئے۔ لوگوں نے درخواست کی کہ ایک رات ہمارے پاس ٹھہریں مگر آپؓ نے جواب دیا کہ میں حضرت خلیفۃ المسیح سے ایک ہی دن کی اجازت لے کر آیا ہوں پھر کبھی آئوں گا تو رات ٹھہرنے کی اجازت لے کر آؤں گا۔ لہٰذا پھر جب آئے تو اپنا وعدہ پورا کیا۔ اس بات سے ہم نے خلیفہ کی اطاعت کا سبق سیکھا۔
٭ 1929ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر جلسہ گاہ حضرت مصلح موعودؓ کی افتتاحی تقریر کے وقت ہی چھوٹی پڑ گئی اور حضورؓ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ جلسہ گاہ وسیع کیوں نہ بنائی گئی۔ اس پر حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ کو خیال آیا کیوں نہ ہم آج رات ہی بھرپور وقار عمل کرکے پرانی جلسہ گاہ کی سیڑھیاں جن پر گیلیاں رکھی جاتی تھیں گرا کر نئی جگہ وسیع جلسہ گاہ بنا دیں تاکہ خلیفہ وقت کی خواہش پوری کر سکیں۔ چنانچہ سابقہ تعمیر شدہ جلسہ گاہ ہٹا دی گئی ۔ مستری آگئے۔ اینٹ اور گارا مستریوں کو دینا اور شہتیریاں رکھنا طلباء کی ڈیوٹی تھی۔ حضرت خلیفہ ثالثؒ ایک جفا کش مزدور کی مانند تمام رات کام کرتے رہے۔ اور ساتھ ہی ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانا۔ سردیوں کی سرد اور لمبی رات۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ خود فرماتے ہیں کہ: ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت جلسہ گاہ بڑی بنائی جا چکی تھی بس آخری شہتیری رکھی جا رہی تھی تو ہمارے کانوں میں صبح کی اذا ن کے پہلے اللہ اکبر کی آواز آئی۔ … جب حضرت مصلح موعود تشریف لائے تو آپ جلسہ گاہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔‘‘
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خلیفۂ وقت کی اطاعت اس واقعہ سے ظاہر ہے جس میں حضورؒ خود فرماتے ہیں کہ جن دنوں بنگلہ دیش (اس وقت مشرقی پاکستان) میں بہت ہنگامے ہو رہے تھے، مَیں کراچی میں تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے ایک کام میرے سپرد کیا اور حکم دیا کہ فوری طور پر چلے جاؤ۔ مَیں نے پتہ کروایا تو ساری سیٹیں بک تھیں … متعلقہ لوگوں نے کہا کہ بیس مسافر چانس پر ہیں اس لئے آپ کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مَیں نے کہا اور کوئی جائے نہ جائے میں ضرور جاؤں گا۔ چنانچہ مَیں ایئرپورٹ چلا گیا۔ کچھ دیر بعد اعلان ہوا کہ جہاز چل پڑا ہے اس پر سب لوگ چلے گئے۔ مَیں وہاں کھڑا رہا۔ مجھے یقین تھا کہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مَیں نہ جاؤں ۔ اچانک ڈیسک سے آواز آئی ایک مسافر کی جگہ رہ گئی ہے، کوئی ہے جس کے پاس ٹکٹ ہو؟ مَیں نے کہا میرے پاس ہے۔ انہوں نے کہا دوڑو، جہاز ایک مسافر کا انتظا ر کر رہا ہے۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلیفۂ وقت کی اطاعت کے بارہ میں آپ کی حرم محترم بیان فرماتی ہیں کہ آپ ہر معاملے میں حضورؒؒ کے ہر حکم کی پوری تعمیل کرتے۔ اُنیس بیس کا فرق بھی نہ ہونے دیتے۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ بیمار ہوئے تو آپؒ نے منع فرمایا تھا کہ کسی کے آنے کی ضرورت نہیں لیکن طبیعت کمزور تھی اور فکرمندی والی حالت تھی۔ میاں سیفی نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو فون پر صورتِ حال بتا کر کہا کہ اگر آپ آجائیں تو اچھا ہے۔ چنانچہ آپ لندن تشریف لے آئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے ملاقات کے لئے گئے تو حضورؒ نے دریافت فرمایا کہ کیسے آئے ہو؟ آپ نے جواب دیا کہ آپ کی طبیعت کی وجہ سے جماعت فکرمند ہے اس لئے پوچھنے کے لئے آیا ہوں۔ حضورؒ نے فرمایا کہ حالا ت ایسے ہیں کہ فوراً واپس چلے جاؤ۔ آپ نے فرمایا کہ بہت بہتر۔ اور پھر جو پہلی فلائٹ آپ کو ملی اس پر واپس لوٹ گئے۔ بعد میں حضورؒ نے میاں سیفی سے پوچھا کہ اس میں تو اتنی اطاعت ہے کہ یہ میرے کہے بغیر آ ہی نہیں سکتا یہ آیا کیسے؟ تب میاں سیفی نے حضورؒ کو بتا یا کہ ان کو تو میں نے فون پرآنے کو کہا تھا اس لئے آئے ہیں۔ اس پر حضور کو اطمینان ہوا کہ ان کی توقعات کے مطابق ان کے مجاہد بیٹے کی اطاعت اعلیٰ ترین معیار پر ہی تھی۔
٭ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ رقمطراز ہیں کہ حضرت خلیفہ اولؓ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت (اماں جانؓ) نے مجھے کہا کہ خدا تعالیٰ کی رضاجوئی کے لئے میں چاہتی ہوں کہ آپ کا کوئی کام کروں۔ حضورؓ نے ایک طالب علم کی پھٹی پرانی رضائی مرمت کے لئے بھیج دی۔ حضرت (اماں جان) نے نہایت خوشدلی سے اس رضائی کی مرمت اپنے ہاتھ سے کی اور اسے درست کرکے واپس بھیج دیا ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس خانوادہ کا ہر فرد اطاعتِ خلافت میں دوسروں پر سبقت رکھتا تھا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے ہیں: ’’مرزا صاحب کی اولاد دل سے میری فدائی ہے میں سچ کہتا ہوں کہ جتنی فرمانبرداری میرا پیارا محمود، بشیر، شریف، نواب ناصر، نواب محمد علی خان کرتا ہے تم میں سے ایک بھی نظر نہیں آتا۔ میں کسی لحاظ سے نہیں کہتا بلکہ مَیں ایک امر واقعہ کا اعلان کرتا ہوں۔ان کو خدا کی رضا کیلئے محبت ہے‘‘۔
٭ حضرت ابوعبداللہ کھیوہ باجوہؓ سیالکوٹی نے ایک بار حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ کوئی نصیحت فرمائیں۔ حضورؓنے فرمایا: مولوی صاحب (مَیں) نہیں سمجھتا کہ کوئی چیز کرنے کی ہو اور آپ کرنہ چکے ہوں۔ اب تو حفظ قرآن ہی باقی ہے۔ چنانچہ تقریباً65سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنا شروع کیا اور باوجود اتنی عمرہونے کے حافظ قرآن ہوگئے۔
٭ 1923ء میں مسلمانوں کو ہندوبنانے کی تحریک شدھی نے زور پکڑا تو حضرت مصلح موعودؓ نے بے قرار ہوکر 9مارچ کے خطبہ جمعہ میں احمدیوں کو اپنے خرچ پر ان علاقوں میں جاکر تبلیغ کرنے کی تحریک فرمائی۔ اس تحریک پر جماعت نے والہانہ لبیک کہا ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، سرکاری ملازمین، اساتذہ، تجار غرضیکہ ہر طبقے سے فدائی ان علاقوں میں تبلیغ کرتے رہے اور ان کی مساعی کے نتیجہ میں ہزاروں روحیں ایک بار پھر خدائے واحد کا کلمہ پڑھنے لگیں ۔
اس تحریک کے اعلان سے اگلے روز ایک معمر بزرگ قاری نعیم الدین صاحب بنگالی نے حضورؓ کی مجلس میں اجازت لے کر عرض کیا کہ گو میرے بیٹوں مولوی ظل الرحمن اور مطیع الرحمن متعلم بی اے نے مجھ سے کہا نہیں، مگر مَیں نے اندازہ کیا ہے کہ حضورؓ نے جو راجپوتانہ میں جن حالات میں رہنے کی شرائط پیش کی ہیں۔ شاید اُن کے دل میں ہو کہ اگر وہ حضور کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کریں گے تو اُن کے بوڑھے باپ کو تکلیف ہو گی۔ لیکن مَیں حضور کے سامنے خدا تعالیٰ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ مجھے ان کے جانے اور تکالیف اٹھانے میں ذرہ بھی غم یا رنج نہیں۔ مَیں صاف صاف کہتا ہوں کہ اگر یہ دونوں خدا کی راہ میں کام کرتے ہوئے مارے بھی جائیں تو اس پر مَیں ایک بھی آنسو نہیں گرائوں گا بلکہ خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کروںگا ۔ پھر یہی دونوں نہیں، میرا تیسرا بیٹا محبوب الرحمن بھی اگر خدمت دین کرتاہوامارا جائے اور اگر میرے دس بیٹے اَور ہوں اور وہ بھی مارے جائیں تو بھی مَیں کوئی غم نہیں کروں گا۔
اُنہی دنوں میں ایک احمدی خاتون نے حضرت مصلح موعودؓ کو لکھا کہ حضور! مَیں صرف قرآن مجید جانتی ہوں اور تھوڑا سا اردو۔ مجھے ابھی اگر حکم ہو تو فورا تیار ہوجاؤں ۔ بالکل دیر نہ کروں گی۔ خدا کی قسم اٹھا کر کہتی ہوں ہر تکلیف اٹھانے کو تیار ہوں۔
ایک غریب عورت جس کا گزارا جماعتی وظیفہ پر تھا حضور کے سامنے حاضر ہو کر یوں گویا ہوئی: دیکھیں یہ سر کا جو دوپٹہ ہے یہ بھی جماعت کا ہے ، یہ میرے کپڑے بھی جماعت کے وظیفے کے بنے ہوئے ہیں۔ میری جوتی بھی جماعت کی دی ہوئی ہے۔ کچھ بھی میرا نہیں، میں کیا پیش کرتی؟ حضور! صرف دو روپے ہیں جو جماعت کے وظیفے سے ہی مَیں نے اپنی کسی ضرورت کیلئے جمع کیے ہوئے تھے یہ پیش کرتی ہوں۔
٭ حضرت مصلح موعودؓ نے 1944ء میں اشاعت دین کے لیے اپنی جائیدادیں وقف کرنے کی تحریک فرمائی تو جماعت نے حسب روایت والہانہ اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے 12مارچ 1944ء کو فرمایا: ’’ہماری جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے ،ہماری جماعت ایک غریب جماعت ہے مگر جمعہ کے دن دو بجے میں نے یہ اعلان کیا اور ابھی رات کے دس نہیں بجے تھے کہ چالیس لاکھ روپے سے زیادہ کی جائیدادیں انہوں نے میری آواز پر خدمت دین کے لیے وقف کردیں جن میں پانچ سو سے زائد مربع زمین ہے اور ایک سو سے زیادہ مکان ہیں اور لاکھوں روپیہ کے وعدے ہیں‘‘۔
٭ مکرم مہر مختا ر احمدآف باگڑ سرگانہ کا عرصۂ حیات 1974ء میں مخالفین نے تنگ کر دیا تھا، آپ کے پُرجوش داعی اللہ ہونے کی وجہ سے برادری نے بھی سخت مخالفت کی اور مکمل بائیکاٹ کیا۔ آپ پہلے سے زیادہ اپنے ایمان میں پختہ ہو گئے اور مخالفین نے بھی اپنی معاندانہ کارروائیاں بڑھالیں۔ آپ نے بچوں کے حصول تعلیم اور پاکیزہ ماحول میں پرورش دینے کے لئے رقبہ فروخت کرکے ربوہ کے ماحول میں رقبہ ٹھیکہ پر لے کر فصل کاشت کرلی۔ جب حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ سے ملاقات کرکے یہ بتایا کہ باگڑسرگانہ سے زمین فروخت کرکے ربوہ کے جوار میں ٹھیکہ لے کر فصل کاشت کرلی ہے تو حضور انور نے فرمایا کہ علاقے کو خالی نہیں چھوڑنا تھا۔ اس پر آپ نے فوراً تعمیل کی۔ پہلے مالکِ رقبہ سے ٹھیکے کی رقم واپس طلب کی۔ لیکن اُن کے انکار پر آپ کھڑی فصل اور ٹھیکہ کی رقم لئے بغیر واپس اپنے وطن باگڑ سرگانہ آ گئے اور کوشش کر کے اپنی فروخت شدہ زمین مہنگے داموں خرید کی اور حضور انور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کے ارشاد کی تعمیل کر لی ہے۔
٭ حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ نے فقید المثال کامیابیاں حاصل کیں اور بام عروج تک پہنچے۔ کسی نے ایک مرتبہ آپؓ سے پوچھا کہ ان ترقیات اور کامیابیوں کا راز کیا ہے؟ آپؓ نے بے ساختہ جواب دیا:”Because through all my life I was obedient to Khilafat”. یعنی میری کامیابیوں کی وجہ یہ ہے کہ میں تمام زندگی خلافت کا مکمل مطیع اور فرمانبردا ررہا ہوں۔
٭ پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم سرفیروز خان نون کے رشتہ دار ملک صاحب خان نون مخلص احمدی تھے۔ کسی سبب سے وہ اپنے دو بھائیوں یعنی سر فیروز خان اور میجر ملک سردار خان سے ناراض ہو گئے اور تعلقات منقطع کر لئے۔ سارے خاندان پر ملک صاحب خان کا رعب تھا۔اس لئے ان سے تو کوئی بات نہ کر سکا۔ سر فیروز خان نون حضرت مصلح موعودؓ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہماری صلح کروائیں۔ حضورؓ نے ملک صاحب خان نون کو طلب کیا اور فرمایا ’’اتنی رنجش اور ناراضگی بہت نامناسب ہے آپ پہلے سر فیروز خان صاحب کے پاس جا کر معذرت کریں اور پھر اپنے چھوٹے بھائی میجر سردار خان صاحب سے معافی مانگیں اور پھر آج ہی مجھے رپورٹ دیں‘‘۔ ملک صاحب خان صاحب کہتے ہیں کہ حضورؓ کے اس حکم سے میرے دل میں انقباض پیدا ہوا کہ حضورؓ نے ناراضگی کی وجہ دریافت فرمائے بغیر ہی چھوٹے بھائیوں کے سامنے مجھے جھکنے کا حکم دے دیا۔تاہم میری مجال نہ تھی کہ تعمیل ارشاد میں تاخیر کرتا۔ چنانچہ پہلے سر فیروز خان صاحب کی کوٹھی پر حاضر ہوا وہ بڑی محبت سے میری طرف لپکے اور زار و قطار روتے ہوئے کہنے لگے میں قربان جائوں مرزا محمود پر جنہوں نے ہمارے خاندان پر یہ احسان عظیم کیا۔ جب مَیں نے ان سے معافی مانگی تو کہنے لگے کہ آپ میرے عزیز ترین بڑے بھائی ہیں آپ مجھے خدا کے لیے معاف کر دیں… پھر میں اُن سے بمشکل اجازت لے کر میجر صاحب کے ہاں پہنچا وہ بھی خوشی اور ممنونیت کے جذبات سے مغلوب تھے۔ اُن کے اصرار پر بھی وہاں نہ رُکا کیونکہ حضورؓ نے رپورٹ دینے کا حکم دے رکھا تھا چنانچہ سیدھا حضورؓ کے پاس پہنچا اور سارا ماجرا سنایا۔ حضورؓ بہت خوش ہوئے اور اپنے پاس بٹھاکر فرمایا: آ پ کے لیے میرا یہ حکم دلپسند تو شاید نہ ہوا ہو گا کہ کسی قسم کی تحقیقات کے بغیر ہی آپ کو حکم دے دیا کہ جائو اپنے سے عمر میں چھوٹے بھائیوں سے معافی مانگو ،وجہ یہ تھی کہ آپ نے میری بیعت کی ہوئی ہے۔ سر فیروز خان اور میجر سردار خان کے ساتھ تو میرے معاشرتی تعلقات ہی ہیں۔وہ میرے حکم کے پابند تو نہیں مگر آپ پابند ہیں۔ پھر حدیث ہے کہ جو اپنے روٹھے ہوئے بھائی کو منانے میں پہل کرے گا وہ پانچ سو سال پہلے جنت میں جائے گا۔ یہ استعارہ کاکلام ہے مگر بہرحال اس حدیث کی رُو سے آپ ایک ہزار سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ پھر سوچ لیں کہ یہ کس قدر فائدہ اور منافع کا سودا ہوا۔
٭ مکرم حافظ عبدالحلیم صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے محلہ میں ایک متمول اور مخلص خاندان رہتا ہے۔ مَیں نے انہیں ایک دن بے تکلفی میں یہ کہا کہ یہ جو آپ کے خاندان کو طرح طرح کی برکتیں اور نعمتیں میسر ہیں میرے خیال میں اس کے پیچھے مسجد کی تعمیر کا اجر شامل ہے۔ انہوں نے کہا اس بات میں تو کوئی شک نہیں لیکن ان فضلوں کے پیچھے ایک اَور بھی اہم بات ہے اور وہ خلیفۂ وقت کے حکم کی تابعداری اور نظام جماعت سے وابستگی کا حیرت انگیز نمونہ ہے۔ کہنے لگے خلافتِ ثالثہ کے ایام کی بات ہے کہ ہمارا اپنے رشتہ دار کے ساتھ مکان کا تنازعہ چل رہا تھا۔ جب معاملہ طول پکڑ گیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے ہمارے والد صاحب کو پیغام بھجوایا کہ مَیں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ یہ مکان فوراًخالی کردیں۔ چنانچہ آپ فوری طور پر مکان خالی کرکے بچوں اور سامان کو لے کر گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ بظاہر کوئی منزل نہ تھی۔ آپ کی نظر ایک ایسے ویران سے گھرپر پڑی جس کے دروازے چوپٹ کھلے تھے۔ چنانچہ آپ نے چاروناچار سامان وہاں رکھ دیا۔ اس مکان کی مالکن کو جب پتہ چلا تواس نے آکر جھگڑنا شروع کر دیا۔ میرے والد نے اسے ساری تفصیل بتائی اور کہا کہ یہ خالی مکان دیکھ کر یہاں تھوڑی دیر کے لئے رُکے ہیں، آپ فکر نہ کریں ہم آپ کو کرایہ دیا کریں گے اور جلد ہمارا کوئی بندو بست ہوجائے گا۔ اس پر اُس خاتون نے بخوشی مکان دینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ چند ماہ کے بعدحضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خصوصی شفقت سے دارالعلوم غربی میں پلاٹ الاٹ ہو گیا۔ تو درحقیقت ان ساری نعماء اور خوشحالی کے پیچھے امام وقت کے حکم کی اطاعت کی برکتیں ہیں۔ جس دن بظاہر ہم نے کسمپرسی کی حالت میں مکان کو خیر آباد کہا تھا دراصل وہی دن ہماری خوش بختی اور ترقی کا زینہ بن گیا تھا۔
٭ جب انتخاب خلافت خامسہ لندن میں ہوا تو انتخاب کے فوراًبعد وہاں موجود ہزاروں احمدیوں نے اطاعت خلافت کا ایک غیر معمولی نمونہ دکھایا جس کو ایم ٹی اے کے ذریعہ پوری دنیا میں دیکھا گیا۔ یہ نظارہ بہت ہی ایمان افروز تھا ۔
٭ اپنے اما م کے اشارے پر اٹھنا اور اشارے پر بیٹھنا ہمیشہ سے احمدیوں کا طرۂ امتیاز رہا ہے جس کا اقرار ہمارے دشمن بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود کے عہد سعادت میں شدید معاند احمدیت مولانا ظفر علی خان ایڈیٹر اخبار زمیندار نے لکھا: اے احراریو! کان کھول کر سن لو، تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔ مرزا محمود کے پاس قرآن کا علم ہے۔ مرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے ایک اشارہ پر اس کے پائوں میں نچھاور کرنے کو تیا ر ہے۔
٭ چنانچہ اپنی اس فرمانبردار جماعت پر بجا طور پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے 12 مارچ 1944ء کو ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ’’خدا نے کیسے کام کرنے والے وجود مجھے دئیے ہیں۔ خدا نے مجھے وہ تلواریں بخشی ہیں جو کفر کو ایک لحظہ میں کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔ خدا نے مجھے وہ دل بخشے ہیں جو میری آواز پر ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مَیں انہیں سمندر کی گہرائیوں میں چھلانگ لگانے کے لئے کہوں تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہیں۔ مَیں انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرانے کے لئے کہوں تو وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرا دیں۔ مَیں انہیں جلتے تنوروں میں کود جانے کا حکم دوں تو وہ جلتے ہوئے تنوروں میں کود کر دکھا دیں۔ اگر خود کشی حرام نہ ہوتی، اگر خود کشی اسلام میں ناجائز نہ ہوتی تو میں اس وقت تمہیں یہ نمونہ دکھا سکتا تھاکہ جماعت کے سو آدمی کو میں اپنے پیٹ میں خنجر مار کر ہلاک ہو جانے کا حکم دیتااور وہ سو آدمی اسی وقت اپنے پیٹ میں خنجر مار کر مر جاتا‘‘۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ok0pt]

اپنا تبصرہ بھیجیں