الیکٹرانک میڈیا کے نفسیاتی مسائل سے بچاؤ – جدید تحقیق کی روشنی میں

الیکٹرانک میڈیا کے نفسیاتی مسائل سے بچاؤ – جدید تحقیق کی روشنی میں
(فرخ سلطان محمود)

٭ نفسیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ جو بچے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ٹیلی ویژن پر گیمز کھیلے بغیر خود کو ہلکا پھلکا محسوس نہیں کرسکتے، ان کو جسمانی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ورنہ وہ مختلف ذہنی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے بچوں کو ہر قسم کی ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں میں شامل کیا جانا چاہئے۔ 3ہزار سے زائد بچوں پر کی جانے والی اس تحقیق کو برٹش سکول آف چلڈرن ہیلتھ سائنسز نے مکمل کیا ہے جس میں طبی، نفسیاتی اور تعلیمی ماہرین نے بچوں کا جائزہ لیا تھا۔ تحقیق کے مطابق الیکٹرونک آلات پر گیمز اور دیگر پروگراموں کی زیادتی بچوں کو جسمانی سطح پر سست الوجود بنا دیتی ہے جس سے ان کے اندر آگے بڑھنے کی صلاحیت مقصود ہوجاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سماجی سطح پر ایڈجسٹمنٹ میں مسائل کا شکار ہوکر وہ تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں اور آخر کار ان کی تعلیمی سرگرمیاں شدید طور پر متاثر ہونے لگتی ہیں۔
٭ برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپیوٹر گیمز، انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ سے دماغ کے کام کرنے کے انداز میں منفی تبدیلی واقع ہوتی ہے جس کے نتیجے میں موٹاپے کے علاوہ دماغ کے ایک مخصوص حصے کی کارکردگی بری طرح متأثر ہوسکتی ہے جس سے سوچ میں بچگانہ انداز پیدا ہوجاتا ہے۔ رائل انسٹی ٹیوٹ برطانیہ کی ڈائریکٹر لیڈی گرین فیلڈ نے برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کمپیوٹر گیمز کا مسلسل استعمال دماغ کو بچگانہ انداز کی سوچ کی طرف مائل کر سکتا ہے کیونکہ عملی زندگی میں انسان اپنی غلطی دہراکر نقصان اٹھانے سے باز رہتا ہے، لیکن کمپیوٹرگیمز کھیلنے والا غلطیوں کے باوجود مسلسل کھیل جاری رکھتا ہے اور اس سارے عمل کے نتیجے وہ اپنے ماحول پر توجہ نہیں دے پاتا اور دماغ کے مخصوص حصے کے صحیح طور پر نشو ونما نہ پاسکنے کے باعث اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔
لیڈی گرین فیلڈ کے مطابق کمپیوٹر گیمز کے مسلسل استعمال کے نتیجے میں دماغ کے ایک انتہائی پیچیدہ اور پختہ سوچ سے متعلق حصے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے جو تشویش ناک امر ہے۔ کیونکہ اگر دماغ کا یہ حصہ استعمال میں نہ لایا جائے تو یہ رفتہ رفتہ اپنا کام چھوڑ دیتا ہے جس سے دماغ بچگانہ یا کم تر سطح کی سوچ تک محدود ہوجاتا ہے اور ایسا انسان بالغ نظری اور پختہ فکر سے مستقل طور پر محروم ہوسکتا ہے۔ اِس منفی ذہنی تبدیلی کے نتیجے میں وہ شخص خطرات مول لینے کی جانب مائل ہونے لگتا ہے اور عاقبت نااندیش ہوجانے کے باعث نتائج کی پروا کئے بغیر زندگی بسر کرتا ہے۔ ایسا شخص خوراک کے معاملے میں بھی لاپروا ہوجاتا ہے جس سے موٹاپے کا شکار ہوکر بھی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
٭ ایک اَور رپورٹ میں طبی ماہرین نے کہا ہے کہ نوجوانی میں زیادہ دیر تک ٹیلی ویژن دیکھنے سے ڈپریشن لاحق ہوسکتا ہے۔ اور خاص طور پر لڑکوں میں اس کی شرح لڑکیوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ امریکہ میں ہونے والی اس تحقیق کے دوران ماہرین نے چودہ سے بائیس سال کی عمر کے 4 ہزار سے زائد صحت مند نوجوانوں کا جائزہ لیا جن میں سے زیادہ تر 6 سے 8 گھنٹے تک میڈیا نشریات سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ان نوجوانوں میں ڈپریشن کی شرح میڈیا کے ساتھ وقت گزارنے کے تناسب سے کم یا زیادہ دیکھی گئی جس سے طبی ماہرین نے اندازہ لگایا کہ ٹیلی ویژن ، انٹرنیٹ اور ریڈیو ڈپریشن میں اضافہ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس جائزے کے نتائج آرکائیوز آف جنرل سائیکیٹری میں شائع ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن دنیا بھرمیں ایسی معذوری کی ایک بڑی وجہ بن گیا ہے جو جان لیوا نہیں ہوتی ۔ اور جو نوجوان روزانہ اوسطاً ساڑھے آٹھ گھنٹے الیکڑانک میڈیا کے سامنے گزارتے ہیں تو ایسا کرنا بھی اُن میں ڈپریشن پیدا کرنے کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔
یونیورسٹی آف پٹس برگ کے سکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر برائن اور اُن کی ٹیم نے یہ مطالعہ کرنے کے بعد معلوم کیا ہے کہ سات سال میں ساڑھے سات فیصد نوجوانوں میں ایسی علامات پیدا ہوچکی تھیں جو ڈپریشن کے مرض جیسی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان الیکٹرانک میڈیا پر صرف کیے جانے والے وقت کو دوسری سماجی،تخلیقی یا کھیلوں کی سرگرمیوں پر صرف کریں تو اُن میں ڈپریشن پیدا ہونے کے امکانات میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رات کے وقت میڈیا کے سامنے وقت گزارنے سے نیند میں خلل پڑسکتا ہے جبکہ رات کی نیند معمول کی فکری اور جذباتی نشوونما کیلئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/hCHXZ]

اپنا تبصرہ بھیجیں