آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ تقویٰ اور اللہ کی معرفت رکھنے والے تھے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اللہ تعالیٰ نے اُسؤہ حسنہ قرار دیا ہے۔ دراصل آپ ؐ نے اپنے عمل سے ہرچیز کو اعتدال میں رکھتے ہوئے تقویٰ کے نہایت اعلیٰ نمونے دکھائے تاکہ آپؐ کے متبعین بھی ان راہوں کو آسانی کے ساتھ اختیار کر سکیں۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25جنوری 2012ء میں شاملِ اشاعت مکرم مظفر احمد درّانی صاحب نے اپنے مضمون میں آنحضور ﷺ کی پاکیزہ زندگی سے تقویٰ کی چند مثالیں پیش کی ہیں۔
٭ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کے بعض صحابہؓ نے دنیا سے بے رغبتی کے اظہار کے طور پر عمر بھر شادی نہ کرنے، ساری ساری رات عبادت کرنے اور ہمیشہ روزہ رکھنے کا عہد کیا۔ آپؐ نے انہیں فرمایا دیکھو مَیں نے شادیاں بھی کی ہیں، رات کو سوتا بھی ہوں،عبادت بھی کرتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوںاور اس میں ناغہ بھی کرتا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ تو اللہ کے رسول ہیں (یعنی ہم کمزوروں کو زیادہ نیکیوں کی ضرورت ہے)۔ تب آپؐ نے بڑے جلال سے فرمایا کہ تم میں سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والا اور اللہ کی معرفت رکھنے والا میں ہوں ۔(گویا میرے نمونہ کی پیروی تم پر لازم ہے۔ )
٭ آنحضور ﷺ کی خدا ترسی کا یہ عالم تھا کہ اپنے عزیزوں کو بتا دیا کہ تمہارے عمل ہی تمہارے کام آئیں گے مَیں یا میرے ساتھ تمہارا رشتہ کچھ کام نہیں آئے گا۔
٭ اللہ تعالیٰ کے غنا سے ہمیشہ آپؐ کو یہ خوف بھی دامنگیر رہتا تھا کہ نیک اعمال خدا کے حضور قبولیت کے لائق بھی ٹھہرتے ہیں یا نہیں ۔جیسا کہ قرآ ن کریم میں ارشاد ہے کہ سچے مومن و ہ ہیں جو اپنے ربّ کی خشیت کے سبب ڈرتے رہتے ہیں اور اپنے ربّ کی آیات پر ایما ن لاتے ہیں اور یہ لوگ جب بھی وہ خدا کے حضور کچھ پیش کرتے ہیں تو ان کے دل خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے ربّ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (المومنون58 تا61)
٭ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بادل یا آندھی کے آثاردیکھتے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا۔ مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی۔ مگر مَیں دیکھتی ہوں کہ آپ بادل دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اے عائشہ! کیا پتہ اس آندھی میں کوئی ایسا عذاب پوشیدہ ہو جس سے ایک گزشتہ قوم ہلاک ہو گئی تھی اور ایک قوم یعنی عاد نے عذاب دیکھ کر کہا تھا یہ تو بادل ہے ،برس کر چھٹ جائے گا مگر وہی بادل ا ن پر دردناک عذاب بن کر برسا۔
٭ حضرت عقبہؓ بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے ابواِھاب کی بیٹی سے شادی کی تو ایک عورت نے آکر کہہ دیا کہ اُس نے مجھے اور میری بیوی کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ ؓ نے کہا مجھے تو تم نے دودھ نہیں پلایا اور نہ ہی مجھے بتایا تھا۔ پھر عقبہؓ مکّہ سے یہ مسئلہ پوچھنے مدینہ آئے توآنحضور ﷺ نے فرمایا اب جب یہ کہا جا چکا ہے اور شک پڑ چکا ہے تو پھر تم کیسے میا ں بیوی رہ سکتے ہو۔ پھر آپؐ نے ان کو جدا کر دیا اورعقبہ نے دوسری شادی کرلی۔
٭ حضرت ابو قتادہؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں رسول کریم ﷺ کے ساتھ سفر حدیبیہ کے لئے نکلا تو آپؐ اور دیگر صحابہؓ احرام میں تھے مگر مَیں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ دورانِ سفر مَیں نے ایک جنگلی گدھا شکار کر لیا اور حضورؐ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میںاحرام سے نہیں تھا اس لئے آپؐ کی خاطر یہ شکار کرلیا۔ چونکہ حالتِ احرام میں خود شکار کرنا یا اس کی خاطر کسی کا شکار مارنا بھی جائز نہیں ۔حضورﷺ نے میرے اس فقرہ کی وجہ سے کہ’’میں نے آپ کی خاطر یہ شکار کیا ہے‘‘اس میں سے کچھ کھانا پسند نہ کیا البتہ صحابہؓ کو اس گوشت کے کھانے کی اجازت دے دی۔
٭ آنحضرت ﷺ فرماتے تھے مَیں بسااوقات گھر میں ایک کھجور بستر پر پڑی پاتا ہوں، بھوک کی وجہ سے اٹھا کر کھانے لگتا ہوں پھر خیال آتا ہے کہ صدقہ کی نہ ہو اور جہاں سے اٹھائی وہیں رکھ دیتا ہوں ۔
٭ رسول اللہ ﷺ کے ایک نواسے نے ایک دفعہ گھرمیں کھجور کا ایک ڈھیر دیکھا اور صدقہ کی ان کھجوروں میں سے ایک کھجور منہ میں ڈال لی۔آپؐ نے دیکھ لیا ، فوراًاپنی انگلی بچہ کے منہ میں ڈالی اور کھجور نکال کر باہر پھینک دی اور فرمایا اے بچے ! تم آل رسول ؐہو ہم صدقہ نہیں کھاتے۔
٭ ایک دفعہ آنحضور ﷺ نماز کے بعد خلاف معمول بڑی تیزی سے صحابہؓ کی صفیں چیرتے ہوئے اپنے گھر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد واپس آئے تو ہاتھ میں سونے کی ایک ڈلی تھی۔فرمایا کچھ سونا آیا تھا جو مستحقین میں تقسیم ہو گیا تھا ،یہ سونے کی ڈلی تقسیم ہونے سے رہ گئی تھی۔ نماز میں مجھے خیال آیا تو اسے جلدی سے لے آیا ہوں تاکہ قومی مال سے کچھ ہمارے گھر میں نہ پڑا رہ جائے۔
٭ حضرت عبد اللہ بن عمرؓحجۃ الودا ع کا یہ خوبصورت منظر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجر اسود پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور دیر تک روتے رہے۔ پھر اچانک توجہ فرمائی تو حضرت عمرؓ بن الخطاب کو پہلو میں کھڑے روتے دیکھا تو فرمایا اے عمر! یہ وہ جگہ ہے جہاں تقویٰ اللہ سے آنسو بہائے جاتے ہیں ۔
٭ حضرت عبد اللہ بن عمرؓنے ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے عرض کیا کہ رسول کریم ﷺ کی کوئی بہت پیاری بات سنائیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اُن کی تو ہر ادا ہی پیاری تھی۔ ایک رات میرے ہاں باری تھی۔ آپؐ تشریف لائے اور میرے ساتھ بستر میں داخل ہوئے۔ آپ ؐ کا بدن میرے بدن سے چھونے لگا تو فرمایا: اے عائشہ!کیا آج کی رات مجھے اپنے ربّ کی عبادت میں گزارنے کی اجازت دو گی ۔ مَیں نے کہا مجھے تو آپؐ کی خواہش عزیز ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھر آپؐ اٹھے، وضو کیا اور نماز میں کھڑے ہو کر قرآن پڑھنے لگے ۔پھر رونے لگے یہاں تک آپؐ کے آنسوئوں سے دامن تر ہو گیا۔ پھر آپؐ نے دائیں پہلو سے ٹیک لگائی، دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر کچھ توقّف کیا پھر رونے لگے۔ یہاں تک کہ آپؐ کے آنسوئوں سے زمین بھیگ گئی۔ صبح بلالؓ نماز کی اطلاع کرنے آئے تو آپؐ کو روتے پایا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ بھی روتے ہیں؟ حالانکہ اللہ نے آپ کو بخش دیا۔ فرمایا کیا مَیں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ پھر فرمایا:مَیں کیوں نہ روئوں جبکہ آج رات مجھ پر یہ آیا ت اتری ہیں: اِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ …۔ (آل عمران آخری رکوع)۔ یہ آیات پڑھ کر فرمایا :ہلاکت ہے اس شخص کیلئے جس نے یہ آیات پڑھیں اور ان پر غور نہ کیا۔
٭ حضرت مطرّفؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مَیں نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، گریہ و زاری سے یوں ہچکیاں بندھ گئی تھیں گویا چکّی چل رہی ہے۔ اور ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز کی طر ح آپ ؐ کے سینہ سے گڑگڑاہٹ سنائی دیتی تھی۔
٭ کندہ قبیلہ کے وفد نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر کوئی نشانِ صداقت طلب کیا۔ آپ ؐ نے قرآن کریم کے اعجازی کلام کو پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسا کلام ہے جس پر باطل آگے سے نہ پیچھے سے کبھی بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ پھر آپؐ نے سورۃ الصافات کی ابتدائی آیات خوش الحانی سے پڑھ کر سنائیں (2-6)۔ یہاں تک تلاوت کرکے حضور ؐ رک گئے کیونکہ آواز بھرا کر گلوگیر ہو گئی تھی۔ آپؐ ساکت وصامت اور بے حس و حرکت بیٹھے تھے۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے جو آپؐ کی داڑھی پر گر رہے تھے۔ کندہ قبیلہ کے لوگ یہ عجیب ماجرا دیکھ کر حیران تھے۔ پوچھنے لگے کیا آپ اپنے خدا کے خوف سے روتے ہیں؟ فرمایا: ہاں اسی کا خوف مجھے رُلاتا ہے جس نے مجھے صراطِ مستقیم پر مبعوث فرمایا ہے۔ تلوار کی دھار کی طرح سیدھا مجھے اُس راہ پر چلنا ہے۔ اگر ذرا بھی مَیں نے اس سے انحراف کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا۔
٭ کبھی آپؐ روتے روتے خدا کے حضور عرض کرتے کہ اے اللہ مجھے آنسو بہانے والی آنکھیں عطا کر جو تیری خشیت میں آنسوؤں کے بہنے سے دل کو ٹھنڈا کر دیں، پہلے اس سے کہ آنسو خون اور پتھر انگارے بن جائیں۔
٭ ایک دفعہ سورج گرہن ہوا۔رسول اللہ ﷺ نماز کسوف پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ بڑے لمبے رکوع اور سجدے کئے۔ آپؐ اس قدر روتے تھے کہ ہچکی بندھ گئی۔ اس حال میں یہ دعا کر رہے تھے ’’میرے ربّ! کیا تُو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ جب تک مَیں ان لوگوں میں ہوں تو انہیں عذاب نہ دے گا ۔کیا تُو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان پر عذاب نازل نہ کرے گا ۔پس ہم استغفار کرتے ہیں‘‘۔
رسول کریم ﷺ اس وقت تک یہ دعا کرتے رہے جب تک سورج گرہن ختم نہ ہوگیا۔
٭ خشیت کی اس کیفیت کے باوجود رسول کریم ﷺ کی خدا ترسی کا یہ عالم تھا کہ اپنے مولیٰ کے حضور مناجات میں ا س کا تقویٰ اور خشیت مانگا کرتے ۔کبھی کہتے’’اے اللہ! میرے نفس کو اپنا خوف اور تقویٰ نصیب کر دے اور اِسے پاک کر دے۔ تجھ سے بڑھ کر کون اِسے پاک کر سکتا ہے؟ تو ہی اس کا دوست اور آقا ہے‘‘۔ کبھی یہ دعا کرتے ’’اے اللہ اپنی وہ خشیت ہمیں عطاکر جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے۔‘‘
٭ عرب میں بچیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا۔ ایک باپ نے جب خود اپنی بیٹی کو گڑھا کھود کر زندہ درگور کردینے کا واقعہ سنایا تو اسے سن کر آنحضرت ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ آپؐ نے فرمایا تم کیسے ظالم باپ ہو کہ تمہاری اپنی بیٹی تمہیں ابّا ابّا کہہ کر پکارتی رہی، پر تمہیں اس پر کوئی ترس نہ آیا۔
آپؐ کا تقویٰ اللہ اور انسانی ہمدردی ملاحظہ کیجئے کہ کئی سال پرانا واقعہ سن کر آپؐ زاروقطار رو دئے۔
٭ بھوک کے دنوں میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا۔ آپؐ نے اکیلے پینے کی بجائے حضرت ابوہریرہؓ سے فرمایا کہ مسجد نبوی کے درویشوں کو بھی بلا لاؤ۔حسب ارشاد ابو ہریرہؓ نےپہلے اُن سب کو دودھ پلایا، پھر خود پیا اور خوب پیا۔ آخر میں بقیہ دودھ آنحضرت ﷺ نے نوش فرمایا۔ آپؐ نے تقویٰ اللہ کے پیشِ نظر بھوکے مسکینوں کو اپنے آپ پر ترجیح دی۔بلکہ آپ ؐ نے تو بھوکی بچیوں کو آدھی آدھی کھجور کھلانے والی عورت کو بھی جنّت کی بشارت دی تھی۔
٭ آنحضرت ﷺ کا تقویٰ کا ہی انداز تھا کہ فرمایا: مَیں نماز پڑھا رہا ہوتا ہوں ، نماز کو لمبی کرنا چاہتا ہوں کہ نماز میں کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیتا ہوں تاکہ بچے کے رونے سے اس کی ماں کو تکلیف نہ ہو۔
٭ آنحضرت ﷺ اپنے تقویٰ کی بنا پر غریب صحابہؓ سے ملنے ، اُن کے ساتھ بیٹھنے اور ان سے پیار کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ ایک دن بازار سے گزرتے ہوئے اپنے ایک غریب صحابیؓ کو مزدوری کرتے ہوئے دیکھا جو پسینہ سے شرابور تھا۔ آپ دبے پاؤں گئے اور انتہائی محبت سے پیچھے سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
٭ مسجد نبوی میں ایک عورت جھاڑو دیا کرتی تھی۔ وہ فوت ہو گئی تو صحابہؓ نے جنازہ پڑھ کر اسے دفن کر دیا۔ صبح آنحضرت ﷺ کو علم ہوا تو بہت دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے کیوں اطلاع نہ دی؟ پھر صحابہؓ کے ساتھ اس غریب و مسکین عورت کی قبر پر تشریف لے جا کر اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
٭ آنحضرت ﷺ میں تکبر نام کو بھی نہ تھا۔ آپؐ بےسہارا عورتوں اور مسکینوں اور غریبوں کی مددکے لئے ہر وقت کمر بستہ رہتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے۔
٭ آنحضرت ﷺ غلاموں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں بھی تقویٰ اللہ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ آپ ؐ نے صحابہؓ کو یہ ہدایت فرما رکھی تھی کہ جو خود کھاؤ اپنے غلاموں کو بھی کھلاؤ اور جو خود پہنو انہیں بھی پہناؤ۔اور صحابہ کی زندگیوں میں اس نصیحت کا بڑا واضح رنگ نظر آتا۔
٭ لوگ اپنے غلاموں کا بیاہ کر دیتے اور جب چاہتے ان میں علیحدگی کرا دیتے، گویا ان بیچاروں کا کوئی حق ہی نہ تھا۔ چنانچہ جب ایک صحابی نے ایسا ہی کیا تو غلام نے آنحضور ﷺ کے پاس آکر شکایت کی تو آپ ؐ نے منبر پر چڑھ کر اعلان فرمایا کہ لوگ غلاموں کا نکاح کرکے پھر ان میں علیحدگی کرانا چاہتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ نکاح و طلاق کا حق مالک کو نہیں شوہر کو ہے۔
٭ ایک بار مالِ غنیمت کی تقسیم کے وقت رش کی وجہ سے ایک شخص آنحضرت ﷺ پر گرا۔ آپ ؐ نے دستِ مبارک میں پکڑی پتلی سی چھڑی کے ذریعہ اس کو روکا۔ چھڑی کا سرا اس کے چہرہ پر لگا جس سے اسے ہلکی سی خراش آگئی۔ تو آپ ؐ نے فرمایا آؤ مجھ سے انتقام لے لو۔ لیکن اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ؐ!میں نے معاف کر دیا۔
٭ عدل کے علمبردار کو خدا کی طرف سے بلاوا آیا تو آپ ؐ نے مرض الموت میں اعلان فرمایا: اگر کسی کا قرض میرے ذمہ ہو یا مَیں نے کسی کی جان و مال یاآبرو کو صدمہ پہنچایا ہو تو میرے جان و مال و آبرو حاضر ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں